افغانستان تا کراچی ۔۔ بھارتی مداخلت

گذشتہ ایک ہفتے میں اس امر کی تمام تفصیلات سامنے آ چکی ہیں کہ بھارتی خفیہ ادارے کس طرح عملی طور پر کراچی میں مداخلت کے مرتکب ہو رہے ہیں دوسری جانب تیئس مئی کو پاکستان اور افغانستان کے سیکورٹی اداروں کے مابین باہمی تعاون اور انٹیلی جنس شیئرنگ کے معاہدوں پر جب دستخط ہوئے تو سبھی امن پسند حلقوں نے اسے ایک تعمیری پیش رفت قرار دیا اور توقع ظاہر کی کہ آنے والے دنوں میں اس کے نتیجے میں علاقائی اور عالمی سطح پر امن و سلامتی کا ماحول پیدا ہو گا ۔ مگر دوسری جانب ٹھیک انہی دنوں حامد کرزئی کے سابق ترجمان ’’ اجمل ‘‘ نے اپنی تحریر کے ذریعے پاکستان کے خلاف خاصا زہر اگلا ۔ اس کے علاوہ کئی دوسرے افغان حلقوں کی جانب سے بھی منفی ردِ عمل سامنے آیا ۔ دہلی سرکارt5 کے پالیسی ساز حلقوں نے بھی پاکستان اور افغانستان کے مابین ہونی والی اس پیش رفت کی کھل کر مخالفت کی ۔
اسی پس منظر میں 3 جون کو بھارت سرکار نے ’’ سید آصف ابراہیم ‘‘ کو پاکستان اور افغانستان کے بارے میں وزیر اعظم مودی کا نمائندہ خصوصی مقرر کر دیا ۔ ان کی یہ تقرری تین برس کی مدت پر محیط ہے ۔ یہ امر قابلِ توجہ ہے کہ آصف ابراہیم یکم جنوری 2013 سے 31 دسمبر 2014 تک بھارتی خفیہ ادارے انٹیلی جنس بیورو کے سربراہ کے طور پر کام کرتے رہے اور انہیں بھارت کے نیشنل سیکورٹی ایڈوائزر ’’ اجیت ڈووال ‘‘ کا خصوصی اعتماد حاصل ہے کیونکہ ڈووال بھی 2003 سے 2005 تک انٹیلی جنس بیورو کے سربراہ کے طور پر کام کرتے رہے اور اسی حیثیت سے ریٹائر ہوئے تھے ۔ 
آصف ابراہیم کو بھارت میں رہنے والی اقلیتوں کے امور کا ماہر سمجھا جاتا ہے اور اکثر حلقے متفق ہیں کہ موصوف نے ’’انڈین مجاہدین ‘‘ کے نام سے بھارت میں ایک فرضی تنظیم کی تشکیل میں بنیادی کردار ادا کیا تا کہ اس تنظیم کے نام پر اپنے ایجنٹوں کے ذریعے شدت پسندی کی مختلف کاروائیاں کر کے بھارتی مسلمانوں ، پاکستان اور عالمِ اسلام کو بد نام کیا جا سکے ۔ موصوف 2007 سے 2011 تک لندن میں بھارتی ہائی کمیشن میں ’’ منسٹر فار کو آرڈینیشن ‘‘ کے منصب پر فائز رہے ہیں ۔ 
بھارتی اخبارات کے مطابق اس دوران در حقیقت وہ برطانیہ میں انڈین انٹیلی جنس بیورو کے سٹیشن چیف کی خدمات انجام دیتے رہے اور اسی مدت کے دوران انہوں نے نہ صرف خلیجی ملکوں میں کام کر رہے بھارت کے چھ لاکھ سے زائد افراد میں اپنے ایجنٹ پیدا کیے بلکہ برطانیہ میں بھی رہ رہے پاکستانیوں خصوصاً ’’ ایم کیو ایم ‘‘ کی قیادت کے ساتھ بھارتی تعلقات کو مزید پروان چڑھایا ۔
بادی النظر میں آصف ابراہیم کی موجودہ تقرری کا مقصد بھی یہی ہے کہ کسی بھی قیمت پر پاکستان اور افغانستان کے مابین نسبتاً بہتر ہو رہے تعلقات کو سبوتاژ کیا جائے اور اس کے ساتھ پاکستان کے اندر اپنے آلہ کاروں کے ذریعے دہشتگردی کو فروغ دیا جائے۔ ان کی موجودہ تقرری کے حکم نامے کے نوٹیفیکیشن میں باقاعدہ طور پر یہ بھی شق شامل ہے کہ موصوف بھارت میں’’ کاؤنٹر ٹیرر ازم‘‘ کی ذمہ داریاں نبھائیں گے ۔ علاوہ ازیں ’’ آئی ایس آئی ایس ‘‘ یعنی داعش کے بھارت میں بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کے تدارک کے لئے ایسے اقدامات اٹھائیں گے جس سے اس عالمی دہشتگرد تنظیم کی کاروائیوں سے بالواسطہ طور پر بھارتی مفادات کو تقویت پہنچے ۔ اسی لئے سرکاری طور پر موصوف کو ہدایت کی گئی ہے کہ بھارت میں داعش کی بڑھتی ہوئی مقبولیت کو سختی سے کچلنے کی بجائے بتدریج برین واشنگ کے ذریعے اس کا رخ پاکستان کو بدنام کرنے کی جانب موڑ دیا جائے ۔ مبصرین کے مطابق اس امر کا تجزیہ کریں تو یہ امر پوری طرح واضح ہو جاتا ہے کہ بھارتی حکمرانوں نے اجیت ڈووال اور آصف ابراہیم کے ذریعے جو حکمتِ عملی مرتب کرنے کا پروگرام بنایا ہے ، اس کا واضح مقصد بھارتی خفیہ اداروں کی جانب سے داعش کے سہولت کار کے فرائض انجام دینا ہے ۔ 
اس تمام پس منظر میں انسان دوست حلقوں نے رائے ظاہر کی ہے کہ اس مرحلے پر ضرورت اس امر کی ہے کہ پاکستان اپنی تمام تر صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے عالمی برادری کے سامنے بھارت کے ان تمام جرائم کی فہرست مدلل ڈھنگ سے پیش کرے تا کہ دہلی سرکار کے امن پسندی کے نام نہاد دعووں کی قلعی پوری طرح کھل سکے مثلاً 19 فروری 2007 کو سانحہ سمجھوتہ ایکسپریس میں بھارتی کردار کو پوری طرح بے نقاب کیا جائے اور اس ضمن میں اس سانحے میں جاں بحق ہونے والے پاکستانی شہریوں کی مکمل فہرست بمع تفصیلی کوائف کے سامنے لائی جائے اور دسمبر 2010 میں سوامی اسیمانند کے اس اقبالی بیان کی مصدقہ نقول حاصل کی جائیں جو موصوف نے دہلی کی ’’تیس ہزاری کورٹ‘‘ میں تعزیراتِ ہند کی دفعہ 164 کے تحت اعترافی بیان دیا تھا جس میں انڈین آرمی کے حاضر سروس افسر لیفٹیننٹ کرنل ’’ شری کانت پروہت ‘‘ میجر اپادھیا‘‘ ، ’’ پرگیہ ٹھاکر ‘‘ ، ’’ سوامی اگنی ویش ‘‘ اور سنجے جوشی سمیت سبھی 12 ملزموں کی کارگزاریوں کا حال شامل ہے اور اس میں ’’ آر ایس ایس ‘‘ کے موجودہ چیف موہن بھاگوت کا ذکر بھی شامل ہے ۔ 
دہلی کنٹونمنٹ میں ان دنوں جاری بھارتی فوج کے سویلین کلرک ’’ شیام داس ‘‘ کے خلاف جاری استغاثہ کی مصدقہ نقول بھی عالمی برادری کے سامنے لائی جائیں جن میں پاکستان کے اندر بھارتی فوج کی دہشتگردی کے شواہد موجود ہیں خصوصاً 8 مارچ 2011 کو فیصل آباد میں بم دھماکہ شامل ہے جس میں کئی معصوم شہری مارے گئے تھے ۔
چند روز قبل بھارتی خفیہ ادارے ’’ این آئی اے ‘‘ کی جانب سے سرکاری خاتون وکیل ’’ روہنی سیلیان ‘‘ کا بیان بھی شامل کیا جائے جس میں انہوں نے کہا ہے کہ مودی سرکار کے آنے کے بعد انہیں سرکاری طور پر یہ احکامات دیئے گئے ہیں کہ ہندو دہشتگردوں کے خلاف چل رہے مقدمات کی موثر ڈھنگ سے پیروی نہ کی جائے ۔
موصوفہ نے اس کے خلاف اپنا استعفیٰ بھی دے دیا ہے اور 27 جون کے انڈین ایکسپریس میں انڈین پنجاب کے سابق ڈی جی پولیس ’’ جولیو روبیرو ‘‘ نے انکشاف کیا ہے کہ نومبر 2008 میں ممبئی میں شدت پسندی کے واقعات سے پہلے مہاراشٹر کے اینٹی ٹیرارسٹ سکواڈ ’’ اے ٹی ایس ‘‘ کے چیف ’’ ہیمنت کرکرے ‘‘ نے انہیں بتایا تھا کہ سمجھوتہ ایکسپریس سمیت بھارت میں ہوئے دہشتگردی کے اکثر واقعات میں خود بھارتی ہندو دہشتگرد ملوث تھے ۔ 
ہندوستان کے ان تمام جرائم کی بابت ایک جانب سفارتی اور سول سوسائٹی کی سطح پر بھارت سے مطالبہ کیا جائے کہ مجرموں کو پاکستان کے حوالے کیا جائے ۔ اس ضمن میں قانونی ماہرین کی رائے سے پاکستانی اور بھارتی عدالتوں سے بھی رجوع کیا جانا چاہیے اور مجرموں تک رسائی کا مطالبہ کیا جائے ۔ 
توقع کی جانی چاہیے کہ سبھی متعلقہ حلقے اس ضمن میں اپنی ذمہ داریاں احسن طریقے سے نبھاتے ہوئے دہلی سرکار کے جرائم کی فہرست عالمی رائے عامہ اور یو این سمیت انسانی حقوق کے تمام عالمی اداروں کے سامنے لائیں گے تا کہ بین الاقوامی قوانین کے تحت بھارتی حکمرانو ں کے خلاف عالمی عدالتِ انصاف میں بھی ٹھوس شواہد کے ساتھ عدل کے حصول کی کوششوں کا آغاز کیا جا سکے ۔


انتیس جون کو نوائے وقت میں شائع ہوا ۔ 
( مندرجہ بالا تحریر مصنف کے ذاتی خیالات ہیں جس کے لئے اسلام آباد پالیسی ریسرچ یا کوئی بھی دوسرا ادارہ ذمہ دار نہیں ) 

Tags:

About the Author

Post a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Top