!افغانستان کی بگڑتی صورتحال اور فرانس

 31 مئی کو کابل میں دہشتگردی کے ایک بڑے حملے نے صفِ ماتم بچھادی ۔ اس حملے میں کم از کم 90 افراد مارے گئے اور 461 زخمی ہوئے۔ یاد رہے کہ صرف 2017 کے اوائل میں کابل میں گیارہ حملے ہوئے جس کے نتیجے میں 282 افراد ہلاک ہوئے ۔ان میں سے داعش کی کاروائیوں کے نتیجے میں پانچ حملوں میں 137 افراد مارے گئے ۔ دوسری جانب اس کے مقابلے میں طالبان کی کاروائیوں میں 63 افراد لقمہ اجل بنے ۔اور یہ بات خصوصی اہمیت کی حامل ہے کہ طالبان نے تازہ حملوں سے مکمل لا تعلقی ظاہر کی ۔ واضح رہے کہ گذشتہ تین سال سے افغانستان میں داعش کی موجودگی کے خدشات ظاہر کیے جا رہے تھے ۔
اس سے بظاہر یہ نتیجہ نکالاجا سکتا ہے کہ داعش ایک بین الاقوامی دہشتگرد تنظیم ہے جبکہ طالبان محض افغانستان تک محدود ہیں ۔ یاد رہے کہ طالبان صرف افغانستان میں اقتدار کے حصول کے خواہش مند ہیں ۔ مگرامر توجہ طلب ہے کہ این ڈی ایس اور دیگر افغان خفیہ اداروں کی جانب سے فوراً سے پیشتر حقانی نیٹ ورک کو اس حملے کے لئے موردِ الزام ٹھہرایا گیا اور فوری طور پر اس حملے کی ذمہ داری پاکستان کے سر مڑھنے کی کوشش کی گئی ۔ حالا نکہ شواہد کی عدم موجودگی کی بنا پر یہ بات کسی بھی طور نہیں کہی جا سکتی ۔ ہم ایک پچھلے آرٹیکل میں واضح کر چکے ہیں کہ ہمیں اس قسم کا موقف اختیار کرتے ہوئے انتہائی احتیاط برتنی چاہیے ۔
اس لئے بظاہر یوں لگتا ہے کہ اپنی کوتاہیوں کو چھپانے کے لئے غصے کا رخ پاکستان کی جانب موڑ دیا گیا ۔ مگر افغانستان کا یہ حربہ اس بار بالکل کام نہیں کرے گا ۔کیونکہ اس بات کی شہادت افغان میڈیا میں ہونے والی رپورٹنگ سے مل جاتی ہے کہ افغان عوام ، افغان حکومت سے انھیں اپنے ملک کے مرکز میں ہی سیکورٹی فراہم نہ کر پانے پر نالاں ہیں ۔ اب سوال یہ ہے کہ فرانس ایسی صورتحال میں کیا کردار ادا کر سکتا ہے ۔ یہ بات واضح رہے کہ فرانس کے تنِ تنہا کچھ بھی کرنے کے نتائج محدود ہوں گے ۔ لہذا یورپ کا اشتراک یا کم از کم فرانس جرمنی باہمی تعاون اس سلسلے میں لازمی درکار ہو گا ۔
اس صورتحال کے لئے کوئی بھی فرد ، جس نے افغانستان اور پاکستان میں خاصا وقت گزارا ہو ، یہ بات اچھی طرح جانتا ہے کہ اسلام آباد یا کابل میں جرمن اور فرانسیسی اثر و رسوخ یکساں اہمیت کا حامل ہے اور مختلف شعبوں میں نمایاں نظر آتا ہے ۔
جرمنی اور فرانس کا اشتراک خاصی اہمیت کا حامل ہے اور اگر اس میں دیگر یورپی قوتیں بھی شامل ہوں تو یہ مزید موثر ہو سکتا ہے ۔ اس لئے جرمن فرنچ اتحاد ہمیں افغانستان اور اس کے علاقائی مسائل کے حل کے لئے حکمت عملی مرتب کرنے میں خاصا معاون و مددگار ثابت ہو گا ۔
اگراس تازہ ہونے والی تمام پیش رفت کا جائزہ لیں تو یہ با آسانی سمجھا جا سکتا ہے کہ داعش اور تمام دیگر دہشتگرد قوتوں کے خلاف لڑائی جرمنی اور فرانس دونوں کی اولین ترجیح ہے ۔ اسی تناطر میں فرانس ، جرمنی اور یورپی تعاون آگے بڑھنا چاہیے ۔
قابلِ ذکر ہے کہ افغان حکومت نے گل بدین حکمت یار کے ساتھ دوبارہ مفاہمت کی پالیسی اپنا لی ہے ۔ اس لئے آنے والے دنوں میں ممکنہ طور پر طالبان میں سے کچھ افراد کو اونچے مناصب پر فائز کیا جا سکتا ہے اور یہ تب ہی ممکن ہے جب امن عمل آگے بڑھے ۔
اس کا مطلب یہ ہوا کہ اب یہ افغان حکومت پر منحصر ہے کہ وہ امن کس طرح حاصل کرنا چاہتی ہے ۔ اگر امریکیوں کی طرح سے انھوں نے بھی اس مسئلے کا محض فوجی حل نکالا تو یہ پریشان کن ہو گا ۔ کیونکہ یہ تو تب بھی ممکن نہ ہوا جب اوبامہ کے دور میں افغانستان پر امریکہ کی پوری گرفت تھی اور یہ مسئلہ بین الاقوامی سطح پر بھی زیادہ نمایاں تھا ۔
اور ایسے وقت میں یہ ایک بڑی غلطی ہو گی جب پہلے ہی ’’ شام‘‘ ، ’’ عراق‘‘ اور ’’یوکرائن‘‘ مغرب کے نزدیک زیادہ اہمیت کے حامل ہیں اور فرانس اور یورپ داعش کے خلاف ایک عالمی لڑائی کا حصہ ہیں ۔
گویا داعش افغانستان کے لئے تو خطرہ ہے ہی مگر یہ علاقائی سلامتی کے لئے بھی ایک بڑا چیلنج ہے ۔ لہذا داعش کے خلاف فرانس کے اس ممکنہ کردار کو عالمی سطح پر بھرپور طریقے سے پذیرائی مل سکتی ہے اور بڑے ممالک جیسے کہ چین اور روس کی جانب سے بھی اس عمل کو سراہا جائے گا ۔
ایسے میں افغان حکومت پر دباؤ بڑھانا بھی در حقیقت اس کی مدد کرنے کے مترادف ہی ہو گا ۔ یہ یاد رکھا جانا چاہیے کہ راتوں رات افغانستان کے حالات میں بہتری نہیں آ سکتی ۔ 1970 سے تاحال جاری خانہ جنگی کے نتیجے میں پیدا ہونے والی کرپشن اور دیگر معاشرتی برائیوں کو ختم ہونے میں خاصا وقت درکار ہے ۔ دوسری طرف کرپشن اور بری گورننس کے نتیجے میں ہونے والی سیکورٹی فورسز کی ناکامیوں سے بھی ہمیں بچنا ہو گا ۔ جعلی اور فرضی سپاہیوں کے سکینڈل داعش اور طالبان کے خلاف کابل حکومت کی کمزوریوں کو اجاگر کرتے ہے ۔
یاد رہے کہ 2016 کے وسط میں یہ بات فرض کی گئی تھی کہ 319595 فوجیوں کے ہوتے ہوئے افغانستان کا دفاع موثر ہو چکا ہے مگر ایسوسی ایٹڈ پریس AP سے حاصل کی گئی معلومات کے مطابق درحقیقت صرف 120000 افراد تعینات تھے ۔ اس لئے افغان حکومت کی اس ضمانت کے بغیر کہ مستقبل میں اس قسم کی سنگین بدعنوانیاں نہیں ہوں گی ، فرانس اور یورپ کی کاوشیں نتیجہ خیز ثابت ہونے کی امید نہیں کی جا سکتی ۔ اور اس بات کو بھی یقینی بنان ہو گا کہ کہ عمومی طور پر افغان حکام نہ صرف کرپشن میں کمی لائیں گے بلکہ انسانی حقوق کی پامالیوں سے بھی بچتے ہوئے شفاف طریقے سے کام کریں گے ۔
یہ بات انتہائی اہمیت کی حامل ہے کہ افغانستان صرف اپنی سر زمین پر حقیقی کنٹرول رکھتے ہوئے ہی امن حاصل کر سکتا ہے ۔اور اس حوالے سے حقیقی اور پیشہ وارانہ سیکورٹی فورسز اشد ضروری ہیں ۔
یوں حرفِ آخر کے طور پر کہا جا سکتا ہے کہ فرانس تب افغانستان میں بہتری لانے میں کامیاب ہو سکتا ہے جب کو افغانستان کے ساتھ ساتھ اس کے دو اہم پڑوسی ممالک ایران اور پاکستان کے ساتھ بہتر تعلقات رکھے ۔کیونکہ در حقیقت فرانس اور دیگر یورپی قوتوں کی جانب سے ان ممالک کی اہمیت کو تاحال خاطر خواہ ڈھنگ سے سمجھا ہی نہیں گیا ۔
کیونکہ یہی سب سے بڑی زمینی حقیقت ہے کہ اسلام آباد اور تہران کے تعاون کے بغیر افغانستان میں پائیدار امن ممکن ہی نہیں اور اس کی وجہ ان ممالک کی جیو پولیٹیکل صورتحال اور معاشی، مذہبی اور معاشرتی قدریں ہیں ۔ اب غالباً وقت آ گیا ہے کہ پیرس کو ایسے تجزیہ کاروں کی رائے کو رد کرنا ہو گا جو یہ سمجھتے ہیں کہ یہ خطہ اچھے اور برے لوگوں کے درمیان میدانِ جنگ ہے ۔12-Sept در حقیقت اس قسم کے غیر حقیقت پسندانہ تجزیوں نے رائے عامہ کو متاثر کیا اور یہی تجزیہ اس خطے کی موجودہ صورتحال کے ذمہ دار ہیں ۔تحریر: ڈیڈیئر شودت:فرانس کے صحافتی اور تحقیقی حلقوں میں یہ مغربی مصنف ایک معتبر نام کے حامل ہیں۔ وہ افغانستان، پاکستان، ایران اوروسطی ایشیائی امور کے ماہر ہیں اور ’’سینٹر فار انیلے سس آف فارن افیئرز‘‘ میں ڈائریکٹر ایڈیٹنگ کے طور پر کام کر رہے ہیں۔ اس کے علاوہ وہ مختلف اوقات میں ’’نیشنل انسٹی ٹیوٹ فار ساوتھ ایشین سٹڈیز سنگا پور‘‘، ’’پیرس کے انسٹی ٹیوٹ آف پولیٹیکل سٹڈیز‘‘، ’’فرنچ انسٹی ٹیوٹ فار انٹر نیشنل ریلیشنز‘‘ اور ’’یالے یونیورسٹی‘‘ میں تحقیق و تدریس کے شعبوں سے وابستہ رہے اور ’’اپری‘‘ (اسلام آباد پالیسی ریسرچ انسٹی ٹیوٹ) سے ’’نان ریزیڈنٹ سکالر‘‘ کے طور پر وابستہ ہیں۔ ترجمعہ: اصغر علی شاد

 

چوبیس جولائی کو روزنامہ پاکستان میں شائع ہوا ۔

 

( مندرجہ بالا تحریر مصنف کے ذاتی خیالات ہیں جن کے لئے اسلام آباد پالیسی ریسرچ انسٹی ٹیوٹ یا کوئی بھی دوسرا ادارہ ذمہ دار نہیں )

 

Tags:

About the Author

Post a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Top