امن کی یلغار ۔۔۔۔۔۔۔۔

وزیرِ اعظم پاکستان نواز شریف 5 جون 2013 کو تیسری بار اقتدار میں آئے تو روزِ اول ہی سے ان کی خواہش اور کوشش رہی کہ بھارت کے ساتھ تعلقات میں بہتری آئے۔ اسی وجہ سے انھوں نے ہندوستانی وزیرِ اعظم کو اپنی حلفِ وفاداری کی تقریب میں شرکت کی دعوت بھی دی مگر بوجوہ ایسا ممکن نہ ہو سکا۔ اس کے بعد بھی گذشتہ مہینوں میں ایک سے زائد مرتبہ پاکستان کی اعلیٰ ترین قیادت نے دونوں ہمسایہ ملکوں کے مابین خوشگوار تعلقات کی ضرورت پر زور دیا۔ اقوامِ متحدہ جنرل اسمبلی کے سالانہ اجلاس کی سائڈ لائن ملاقاتوں میں 29 ستمبر کو پاک بھارت وزرائے اعظم کے مابین ملاقات ہوئی تو اس سربراہ کانفرنس میں پاکستان کی جانب سے باہمی تعلقات میں بہتری کی بات دوہرائی گئی۔

علاوہ ازیں وزیرِ اعظم کے خارجہ امور اور قومی سلامتی کے مشیر سرتاج عزیز نے اپنے دورہ بھارت کے دوران ایسے ہی خیالات کا اظہار کیا۔ اس کے بعد دسمبر 2013 کے دوسرے ہفتے میں پنجاب کے وزیرِ اعلیٰ نے بھارت کا دورہ کیا۔ انھوں نے بھارتی پنجاب کے وزیرِ اعلیٰ پرکاش سنگھ بادل کے ساتھ ایک سے زائد تقریبات میں حصہ لیا اور بھارتی وزیرِ اعظم منموہن سنگھ سے ملاقات کے دوران نہ صرف دورہ پاکستان کی دعوت دی بلکہ وزیرِ اعظم نواز شریف کا خصوصی پیغام بھی پہنچایا۔

اخباری اطلاعات کے مطابق وزیرِ اعظم پاکستان نے اس پیغام میں اپنے ہم منصب سے کہا ہے کہ دونوں ملکوں کے مابین جامع مذاکراتی عمل بحال کیا جائے اور سبھی شعبوں میں آپسی تعاون کو فروغ دیا جائے۔ شہباز شریف نے لدھیانہ اور امرتسر کا دورہ بھی کیا اور امرتسر میں واقع سکھ مذہب کی مقدس ترین عبادت گاہ دربار صاحب کی یاترا کی۔

اسی دوران انھوں نے میڈیا سے بات کرتے دونوں ملکوں کے عوام پر زور دیا کہ وہ تجارت،تعلیم اور صحت کے شعبوں میں باہمی تعاون اور مثبت انداز میں مقابلہ کریں کیونکہ اب جنگ و جدل کا دور گزر چکا۔ اس موقع پر پرکاش سنگھ بادل  نے بھی تقریباً ایسے ہی خیالات ظاہر کئے۔

اس کے بعد 24 دسمبر کو سرحدی مقام “واہگہ” میں دونوں ملکوں کی افواج کے ڈائریکٹر جنرل ملٹری آپریشنز کی ملاقات ہوئی اس میں بھارت کی نمائندگی لیفٹنٹ جنرل “ونود بھاٹیہ” نے کی جبکہ پاکستان کی جانب سے میجر جنرل “عامر ریاض” نے حصہ لیا۔ واضح رہے کہ( 1999) 14 سال کے طویل عرصہ کے بعد  یہ ڈی جی ایم او میٹنگ ہوئی۔

اس ملاقات کے بعد مشترکہ اعلامیہ جاری کیا گیا جس کے مطابق لائن آف کنٹرول پر جنگ بندی کے معاہدے پر سختی سے عمل کیا جائے گا اور ڈی جی ایم او میٹنگ باقائدگی سے ہوا کرے گی اور دونوں جانب کے مقامی کمانڈرز باہمی اعتماد سازی کے اقدامات کو یقینی بنائیں گے۔

غیر جاندار مبصرین نے اس پیش رفت کو انتہائی حوصلہ افزا قرار دیتے ہوئے امید ظاہر کی ہے کہ اس کے نتیجے میں نہ صرف علاقائی سطح پر استحکام پیدا ہو گا بلکہ عالمی امن و سلامتی کو بھی تقویت پہنچے گی۔

اس دوران 27 دسمبر کو دفترِ خارجہ پاکستان میں ایک نئی عمارت(صاحبزادہ یعقوب خان بلاک) کے افتتاح کے موقع پر وزیرِ اعظم نے اس امر کا اعادہ کیا ہے کہ ان کی حکومت کی ترجیحات میں بھارت،افغانستان،امریکہ سمیت سبھی ملکوں کے ساتھ امن اور دوستی پر مبنی تعلقات کا قیام اور چین کے ساتھ مثالی دوستی کو مزید پختہ کرنا ہے۔ مبصرین نے اس صوتحال کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے مختلف توقعات اور خدشات کا اظہار بھی کیا ہے اور رائے ظاہر کی ہے کہ بد قسمتی سے ماضی میں بھارتی قیادت کی جانب سے پاکستان کی امن کی خواہش کو کمزوری سے تعبیر کیا جاتا رہا ہے جس کی وجہ سے خاطر خواہ مثبت نتائج برآمد نہیں ہو رہے البتہ بہتری کی امید کی جانی چاہیے۔ توقع ہے کہ اس حوالے سے  دونوں ممالک کی سول سوسائٹی اور میڈیا ذمہ دارانہ کردار نبھائے گا اور بھارت کی عسکری اور سیاسی قیادت ماضی کی روائتی ہٹ دھرمی کی روش کو ترک کر کے مثبت اور تعمیری طرزِ عمل اختیار کرے گی۔ اور اس ضمن میں امریکہ سمیت موثر عالمی قوتیں اور بین الاقوامی رائے عامہ اپنا کردار منصفانہ ڈھنگ سے ادا کریں گی۔

(مندرجہ بالا تحریر مصنف کے ذاتی خیالات ہیں جس کے لئے اسلام آباد پالیسی ریسرچ انسٹی ٹیوٹ یا کوئی دوسرا ادارہ ذمہ دار نہیں ہے۔)

Tags:

About the Author

Post a Reply

Your e-mail address will not be published. Required fields are marked *

Top