بلوچستان،غیر ملکی سازشیں اور۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

2013اب تاریخ کا حصہ بن چکا ہے۔ عالمی سطح پر اقوامِ امتحدہ نے بھی ڈرون حملوں کی کھل کر مخالفت کی جسے مبصرین پاکستان کی ایک بڑی سفارتی کامیابی سے تعبیر کر رہے ہیں۔ واضح رہے کہ پاکستان نے ہم خیال ملکوں کے تعاون سے اقوامِ متحدہ میں یہ قرار دار پیش کی تھی جسے جنرل اسمبلی نے 19 دسمبر 2013 کو متفقہ طور پر منظور کر لیا تھا۔جنرل اسمبلی نے اس قرار داد کے ذریعے کہا ہے کہ ڈرون حملوں میں زیادہ تر بے گناہ لوگ مارے جا رہے ہیں جس کی وجہ سے دہشتگردی میں اضافہ ہو رہا ہے۔اس قرار داد کو (انسانی حقوق اور بنیادی آزادی کے تحفظ) کا نام دیا گیا ہے۔اس میں عالمی برادری پر زور دیا گیا ہے کہ وہ ڈرون کے استعمال اور دہشتگردی کے خاتمے کے اقدامات اٹھاتے ہوئے اقوامِ متحدہ کے چارٹر ،عالمی قوانین اور حقوقِ انسانی کی پائیداری کرے۔
مبصرین کے مطابق یہ پاکستانی موقف درست اور بروقت ہے کیونکہ اس کھلے راز سے سبھی آگاہ ہیں کہ امریکی اور بھارتی خفیہ ادارے افغانستان کے راستے بلوچستان ،قبائلی علاقوں اور دیگر پاکستانی شہروں میں مختلف لسانی ،گروہی اور فر قہ وارانہ تشدد کو فروغ دے کر خانہ جنگی جیسی صورتحال پیدا کرنے کی مذموم سازشوں میں مصروف ہیں۔
دوسری جانب مشیرِ خارجہ نے بھارت سے کہا ہے کہ وہ افغانستان میں بعض قوتوں کی پشت پناہی کے ذریعے بد امنی کو فروغ دینے کی حکمتِ عملی ترک کر دے۔اس ضمن میں یہ امر قابلِ توجہ ہے کہ 2011 کے اوائل میں موجودہ امریکی وزیرِ دفاع ’’چک ہیگل‘‘ نے باقائدہ انکشاف کیا تھا کہ بھارت افغانستان کے ذریعے بلوچستان اور دوسرے پاکستانی حصوں میں مسائل پیدا کر رہا ہے۔اس کے علاوہ 9 دسمبر 2010 کو ’’وکی لیکس ‘‘ نے انکشاف کیا تھا کہ امریکی حکومت کے پاس اس امر کے ٹھوس ثبوت ہیں کہ بھارت بلوچستان اور وزیرستان میں دہشتگردی کی کاروائیوں میں ملوث ہے۔
16جولائی2009 کو ’’مصر‘‘ کے شہر ’’شرم الشیخ‘‘میں پاکستان اور بھارت کے وزرائے اعظم کے درمیان ملاقات کے بعد مشترکہ اعلامیہ میں منموہن سنگھ نے وزیرِ اعظم پاکستان یوسف رضا گیلانی کے اس موقف سے اتفاق کیا تھا کہ بلوچستان میں بھارتی کردار کے حوالے سے پاکستانی شکایات دور کرنے کی کوشش کریں گے ۔یاد رہے کہ اس موقع پر پاکستان کی جانب سے بلوچستان میں بھارتی مداخلت کے باقائدہ دستاویزی ثبوت بھارت کے حوالے کیے گئے تھے۔
غیر جانبدار مبصرین متفق ہیں کہ بلوچستان میں امریکی مداخلت بہت بڑھ گئی ہے کیونکہ امریکہ افغانستان میں اپنی ناکامی کی ساری ذمہ داری پاکستان پر ڈال کر عالمی سطح پر اپنی ساکھ بحال کرنا چاہتا ہے اور علاقے کے بعض دوسرے ملکوں کے ساتھ مل کر بلوچستان کے حصے بخرے کرنے کا خواہش مند ہے ۔ماہرین کے مطابق اس ضمن میں البتہ یہ امر قابلِ اطمینان ہے کہ ڈاکٹر عبدالمالک کی فعال قیادت میں وہاں کی صوبائی حکومت اور مرکزی حکومت کی سنجیدہ توجہ کے سبب مجموعی صورتحال میں بہتری کے آثار واضح ہیں مگر اس کو پوری طرح تسلی بخش قرار نہیں دیا جا سکتا ۔امید کی جانی چاہیے کہ مقتدر حلقے اور حکومتی ذرائع اپنی تمام تر توانائیاں صورتحال میں مثبت پیش رفت کے حصول کی خاطر صرف کریں گے اور معاشرے کے سبھی طبقات خصوصاً مذہبی جماعتیں ،میڈیا اور سول سوسائٹی اس ضمن میں اپنا قومی ،معاشرتی اور سیاسی فریضہ زیادہ موثر ڈھنگ سے ادا کریں گے۔تاکہ غیر ملکی سازشی قوتوں اور مقامی دہشتگرد عناصر کی حوصلہ شکنی ہو سکے اور پاکستانی خصوصاً بلوچستان کے عوام غیر ملکی سازشوں سے محفوظ رہیں۔
10 جنوری 2014 کو روزنامہ صدائے چنار میں شائع ہوا۔

( مندرجہ بالا تحریر مصنف کےذاتی خیالات ہیں جس کے لئے اسلام آباد پالیسی ریسرچ انسٹی ٹیوٹ یا کوئی بھی دوسرا ادارہ ذمہ دار نہیں)

Tags:

About the Author

Post a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Top