بھارتی انتخابی شیڈول اور۔۔۔۔۔۔۔۔۔

5 مارچ 2014 کو بھارت کے چیف الیکشن کمشنر ’’V S SAMPAT ‘‘ نے 16 ویں لوک سبھا کے الیکشن کے شیڈول کا اعلان کیا جس کے مطابق آئندہ الیکشن 9 مراحل میں مکمل ہوں گے۔پہلے مرحلے میں 7 اپریل کو دو صوبوں کی 6 سیٹوں پر ،دوسرے مرحلے میں 9 اپریل کو 5 صوبوں کی 7 سیٹوں پر، تیسرے مرحلے میں 10 اپریل کو 14 صوبوں کی 92 سیٹوں پر ،12 اپریل کو چوتھے ،مرحلے میں 3 صوبوں کی 5 سیٹوں پر ،پانچویں مرحلے میں 17 اپریل کو 13 صوبوں کی 122 سیٹوں پر ،24 اپریل کو چھٹے مرحلے کے طور پہ 12 صوبوں کی 117 سیٹوں پر،30 اپریل کو 9 صوبوں کی 89 سیٹوں پر ،7 مئی کو سات صوبوں کی 64 سیٹوں پر اورنویں اور آخری مرحلے میں 12 مئی کو 3 صوبوں کی 41 سیٹوں پر ووٹ ڈالے جائیں گے ۔16 مئی کو ووٹوں کی گنتی ہو گی۔
واضح رہے کہ موجودہ یعنی 15ویں لوک سبھا کی مدت یکم جون 2014 کو ختم ہو رہی ہے لہذا نئی لوک سبھا 31 مئی تک وجود میں آنا ،بھارتی کی آئینی ضرورت ہے۔اس الیکشن میں 81.45 کروڑ ووٹر اپنا حقِ رائے دہی استعمال کریں گے۔پچھلی بار 2009 میں ہونے والے عام انتخابات میں 71.3 کروڑ ووٹرز تھے۔جس کا مطلب یہ ہوا کہ اس بار 10 کروڑ سے زیادہ نوجوان افراد ووٹ دینے کی عمر کو پہنچے ہیں اور ان میں سے 2.30 کروڑ 18 تا 19 برس کی عمر کے ہیں ۔یعنی کل ووٹرز کا 2.88 فیصد ہے ۔گذشتہ الیکشن میں یہ شرح 0.75 تھی۔یوں اس الیکشن میں 10 کروڑ سے زائد یہ نئے ووٹر ز آئندہ حکومت کی تشکیل میں فیصلہ کن کردار ادا کر سکتے ہیں۔یہاں اس امر کا ذکر بھی بے جا نہ ہو گا کہ پچھلے عام چناؤ میں کانگرس نے مجموعی طور پر 11.9 کروڑ ووٹ حاصل کیے تھے۔بی جے پی نے 7.8 کروڑ ووٹ حاصل کیے تھے۔مایا وتی کی بی ایس پی(بہو جن سماج پارٹی) نے 2.6 کروڑ اور سی پی آئی ایم نے 2.2 کروڑ ووٹ حاصل کیے ۔باقی کسی پارٹی نے 1 کروڑ سے زائد ووٹ حاصل نہ کیے۔الیکشن کمیشن نے لوک سبھا کی نشست پر انتخابی اخراجات کی حد اس بار 40 لاکھ سے بڑھا کر 70 لاکھ کر دی ہے۔واضح رہے کہ بھارت میں کانگرس ،بی جے پی ،سی پی آئی ایم ،سی پی آئی ،ملائم سنگھ کی سماج وادی پارٹی(ایس پی) اور مایا وتی کی بی ایس پی کو قومی سطح کی پارٹیوں کا درجہ حاصل ہے جبکہ باقی تمام پارٹیاں الیکشن کمیشن کے نزدیک علاقائی پارٹیاں ہیں ۔
؂ مبصرین کے مطابق فی الحال مقبولیت کے اعتبار سے بی جے پی سب سے آگے چل رہی ہے جس کے وزارتِ عظمیٰ کے امیدوارنریندر مودی ہیں۔ باقی امیدواروں میں کانگرس کے راہل گاندھی،مغربی بنگال کی وزیرِ اعلیٰ اور ترنمول کانگرس کی سربراہ ممتا بینر جی ،تامل ناڈو کی وزیرِ اعلیٰ AIDMK کی سربراہ جے للیتا ،ملائم سنگھ یادو ،بی ایس پی کی مایا وتی ،اڑیسہ کے وزیرِ اعلیٰ اور بی جے ڈی(بیجو جنتا دل) کے سربراہ نوین پٹنائک اور بہار کے وزیرِ اعلیٰ نتیش کمار اور عام آدمی پارٹی کے سربراہ اور دہلی کے سابق وزیرِ اعلیٰ ’’اروند کیجریوال بھی اس اعلیٰ ترین منصب کی دوڑ میں بڑی سنجیدگی سے شامل ہیں ۔33 فیصد ووٹروں کی عمر 28 سال سے کم ہے،ان میں سے 14.93 کروڑ 23 تا 28 سال عمر کے ہیں ۔
مبصرین کے مطابق آئندہ چناؤ میں سوشل میڈیا اہم کردار ادا کرے گا کیونکہ 2009 کے الیکشن میں 160 سیٹوں پر جیتنے والوں کا مارجن فیس بک اور ٹویٹر استعمال کرنے والے ان حلقوں کے افراد سے کم تھا۔ان میں سے بہار کے چار حلقے ،چھتیس گڑھ کے چار،مہاراشٹر کی 21 سیٹوں،گجرات کی 17 ،یو پی کی 14 ،کرناٹک کی بارہ ،تامل ناڈو کی 12 ،آندھرا پردیش کی 11 ،کیرالہ کی دس ،اور مدھیہ پردیش کی 9 سیٹیں شامل ہیں ۔اسی وجہ سے سبھی پارٹیاں سوشل میڈیا کا بھرپور استعمال کر رہیں ہیں ۔کیونکہ پہلی بار ووٹر بننے والے دس کروڑ میں سے 9 کروڑ سوشل میڈیا استعمال کرتے ہیں اور ان میں سے ایک تہائی افراد کا تعلق 5 لاکھ سے کم آبادی والے شہروں ،25 فیصد سے زائد کا تعلق دو لاکھ سے کم آبادی والے شہروں ہے۔ 2009 میں ایسی 75 سیٹیں کانگرس نے جیتیں اور 44 بی جے پی نے۔ ووٹنگ سے 48 گھنٹے پہلے جب ا نتخابی مہم ختم ہو جاتی ہے تب یہ سوشل میڈیا ان حلقوں کے نتائج پر اثر انداز ہو سکتا ہے ۔
بھارتی آبادی کا پندرہ فیصد مسلمان ہے اور لوک سبھا کی 35 سیٹوں پر مسلمان ووٹرز کی تعداد 30 فیصد سے زائد ہے جن میں سے 9 مغربی بنگال،8 یو پی،5 مقبوضہ کشمیر ،4 آسام،4 کیرالہ میں ہیں اور 38 سیٹوں پر مسلم آبادی 20 سے 30 فیصد کے درمیان جبکہ 145 سیٹوں پر مسلم آبادی 10 سے 20 فیصد کے درمیان ہے۔یوں کم از کم 218 سیٹیں ایسی ہیں جن پر مسلمان ووٹرز اثر انداز ہو سکتے ہیں۔بہر کیف یہ تو انتخابی نتائج ہی بتائیں گے کہ کس پارٹی کو ووٹر قبولیت بخشتے ہیں کیونکہ اس بار پہلی مرتبہ الیکشن کمیشن نے بیلٹ پیپر پر ایک نیا خانہ بھی شامل کیا ہے ۔جس میں ووٹر کو یہ اختیار دیا گیا ہے کہ وہ اس بات کا اظہار کر سکتا ہے کہ کوئی بھی امیدوار اس کو قابلِ قبول نہیں۔

13 مارچ کو ڈیلی صدائے چنار میں شائع ہوا۔

(مندرجہ بالا تحریر مصنف کے ذاتی خیالات ہیں جس کے لئے اسلام آباد پالیسی ریسرچ انسٹی ٹیوٹ یا کوئی بھی دوسرا ادارہ ذمہ دار نہیں )

Tags:

About the Author

Post a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Top