!بھارتی انتخابی نتائج اور ۔ ۔

ہندوستان کے پانچ صوبوں ’’ مغربی بنگال ‘‘ ، ’’ تامل ناڈو ‘‘ ، ’’ کیرالہ ‘‘ ، ’’ آسام ‘‘ اور ’’ پانڈی چری ‘‘ میں چار اپریل تا سولہ مئی تک چھ مختلف مراحل میں عام صوبائی انتخابات ہوئے اور انیس مئی کو نتائج کے بعد پہلی نظر میں جو تصویر ابھرتی ہے وہ ظاہر کر کرتی ہے کہ 2014 کے لوک سبھا چناؤ کے بعد دو سال کی مدت میں کانگرس اپنی بنیاد مضبوط نہیں کر سکی ہے بلکہ اس کے بر عکس اس پارٹی کی جڑیں غیر معمولی طور پر سوکھتی چلی جا رہی ہیں ۔ اس کے بر خلاف ’’ بی جے پی ‘‘ بظاہر مضبوط ہو رہی ہے اور اس کے دائرہ کار میں وسعت بھی دیکھنے کو مل رہی ہے ۔ مغربی بنگال میں تو ممتا بینر جی کی تر نمول کانگرس کو دو تہائی سیٹوں کے ساتھ اکثریت ملی۔ تامل ناڈو میں جے للیتا نے دوبارہ جیت کر تاریخ رقم کی کیونکہ بتیس سال بعد وہاں کوئی بھی بر سرِ اقتدار پارٹی مسلسل پہلی بار اپنی حکومت بچا پائی ہے ۔
کیرالہ میں کانگرسی اتحاد ’’ یو ڈی ایف ‘‘ ( یونائیٹد ڈیمو کریٹک فرنٹ ) کو شکست فاش کا سامنا کرنا پڑا اور کیمونسٹ اتحاد ’’ ایل ڈی ایف ‘‘ ( لیفٹسٹ ڈیمو کریٹک فرنٹ ) کو واضح جیت ملی البتہ پانڈی چری میں کل تیس رکنی اسمبلی میں کانگرس پندرہ سیٹیں لے کر سنگل لارجسٹ پارٹی کے طور پر سامنے آئی ۔ لیکن چونکا دینے والے انتخابی نتائج آسام کے ہیں جہاں پر ’’ بی جے پی ‘‘ اپنے اتحادیوں ’’ آسام گن پریشد ‘‘ اور ’’ بوڈو لینڈ پیپلز فرنٹ ‘‘ کے ساتھ حکومت میں آ چکی ہے ۔ یوں شمال مشرقی بھارت کی کسی بھی ریاست میں ’’ بی جے پی ‘‘ پہلی بار حکومت بنانے میں کامیاب ہوئی ہے ۔result
یہاں یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ ایک جانب مغربی بنگال میں بھی ’’ بی جے پی ‘‘ جیسی انتہا پسند جماعت کو نہ صرف چند سیٹیں ملی ہیں بلکہ اس کے ووٹ بینک میں بھی اضافہ ہوا ہے ۔ دوسری طرف جنوبی بھارت میں کیرالہ اور تامل ناڈو جیسے علاقوں میں بھی اس کے ووٹ بنک میں اضافہ ہونے کے ساتھ ساتھ ان صوبوں میں بھی وہ چند سیٹیں حاصل کر کے اپنا کھاتہ کھولنے میں کامیاب رہی ہے جو آنے والے دور میں بھارتی سیکولر ازم اور سلامتی کے حوالے سے خطرے کی گھنٹی قرار دیا جا سکتا ہے ۔ یہ امر ذہن نشین رہے کہ بھارت میں آئیڈیالوجی کے میدان میں کیمونسٹ خیمے کا مقابلہ صرف ’’ آر ایس ایس ‘‘ سے ہی ہے اور ان دنوں سوچوں میں سے کون سی سوچ حاوی ہوتی ہے اس پر نہ صرف بھارتی بلکہ پورے جنوبی ایشیاء کے امن و سلامتی کا دار و مدار ہے ۔ کیونکہ اگر ’’ بی جے پی ‘‘ کی سوچ اسی طرح فروغ پاتی رہی تو داعش اور اس سے ملتی جلتی انتہا پسند قوتوں کو براہ راست فائدہ پہنچ سکتا ہے جس کے نتائج یقیناًعالمی امن کے لئے خوشگوار نہیں ہوں گے ۔
بہر کیف بیک وقت دو صوبوں ’’ آسام ‘‘ اور ’’ کیرالہ ‘‘ کا ہاتھ سے نکل جانا کانگرس کے لئے بہت بڑا جھٹکا ہے ۔ چار صوبوں اور وفاقی علاقے پانڈی چری کے انتخابی نتائج پر پہلی ہی نگاہ ڈالنے سے دو باتیں سامنے آتی ہیں ۔ پہلی یہ کہ کانگرس گذشتہ لوک سبھا چناؤ میں شرمناک شکست کے دو سال بعد بھی اس پوزیشن میں نہیں آ سکی جس سے یہ تاثر ابھر سکے کہ قومی سطح پر اس پارٹی کا احیاء ہو رہا ہے ۔ بلکہ اس کے خلاف آسام اور کیرالہ میں اقتدار گنوا دینا اور تامل ناڈو اور مغربی بنگال میں پستی کا سفر یہ ظاہر کرتا ہے کہ کانگرس ابھی تک بد حواسی کے عالم میں ہے اور اس کی واپسی کی کوششیں لا حاصل ثابت ہو رہی ہیں ۔ یا پھر بھارت میں ہندو انتہا پسندی کا عفریت اتنا طاقتور ہو چکا ہے کہ وہ دھیرے دھیرے ان علاقوں میں بھی اپنے پنجے گاڑ رہا ہے جہاں بظاہر پہلے اسے کمزور سمجھا جاتا تھا ۔
کیرالہ کے بر خلاف آسام میں کانگرس جس قابل رحم حالت میں پہنچ گئی ہے یہ خلاف توقع نہیں ہے کیونکہ اس نے آسام میں لوگوں کے تبدیل ہوتے مزاج کو سمجھنے کی کوشش نہیں کی اور یوں بھی وہاں پر ’’ ترن گگوئی ‘‘ کی قیادت میں کانگرس پندرہ سال سے بر سر اقتدار تھی ۔ اس نے سرکار کے خلاف پائی جانے والی بے اطمینانی پر بھی خاطر خواہ توجہ نہیں دی ۔ اس کے ساتھ ساتھ بہار جیسا سیاسی تجربہ آسام میں بھی لازمی تھا جس سے کانگرس نے گریز کیا جو آخر کار کانگرس سرکار کے تابوت میں آخری کیل ٹھونکنے کا سبب بنا ۔ ممکن ہے کہ کچھ لوگ اس سے اتفاق نہ کریں کہ آسام میں ’’ بی جے پی ‘‘ کی غیر معمولی کامیابی در حقیقت نام نہاد سیکولر جماعتوں کی اپنی سیاسی حماقتوں کا ثمر ہے لیکن اس امر کا اعتراف کرنا ہو گا کہ آسام میں ’’ بی جے پی ‘‘ ’’ فرش سے عرش تک ‘‘ ایسے نہیں پہنچ گئی بلکہ اس نے پہلے دہلی اور پھر بہار میں ہونے والی اپنی شکست فاش سے سبق حاصل کیا اور مذکورہ دونوں مقامات کے تلخ سیاسی تجربوں کی روشنی میں ’’ بی جے پی ‘‘ نے آسام کو اگلا نشانہ بنایا ۔ اور تبدیل شدہ سیاسی منظر نامے میں مضبوطی کے ساتھ قدم جمانے کی حکمت عملی اپنائی اور مقامی جماعتوں کے ساتھ اشتراک عمل کو اہمیت دینا ضروری سمجھا اور محض مودی کی مقبولیت پر تکیہ کرنے کی بجائے آسام کی صوبائی قیادت کو سامنے لانے پر زیادہ توجہ دی ۔ یوں شمال مشرقی بھارت کی سیاسی تصویر بدل ڈالنے میں اسے کامیابی ملی ۔
دوسری جانب کانگرس اور بدر الدین اجمل کی جماعت ’’ اے آئی ڈی یو ایف ‘‘ انا کے حصار میں قید رہے اور مل کر الیکشن چناؤ نہ لڑ پائے جس کا خمیازہ دونوں کو بھگتنا پڑا ۔ اسی کے ساتھ ساتھ ’’ بی جے پی ‘‘ نے انتخابی مہم میں دہلی اور بہار چناؤ کی مانند پاکستان کو ہدف تنقید بنانے کی بجائے اپنی ساری توانائی آسام میں موجود مبینہ بنگلہ دیشی تارکین کے خلاف مہم چلائی ۔ یہ ایک الگ موضوع ہے کہ آنے والے دنوں میں دہلی کی مودی سرکار بنگلہ دیش کی سرکار کے ساتھ چل رہے سیاسی ہنی مون کی رفتار کو برقرار رکھنے میں کس حد تک کامیابی حاصل کی ؟ ۔

اکیس مئی کو روز نامہ پاکستان میں شائع ہوا ۔

( مندرجہ بالا تحریر مصنف کے ذاتی خیالات ہیں جن کے لئے اسلام آباد پالیسی ریسرچ انسٹی ٹیوٹ یا کوئی بھی دوسرا ادارہ ذمہ دار نہیں )

 

Tags:

About the Author

Post a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Top