بھارتی سیکولر دعوے بے نقاب

ممتاز گلو کار ’’ غلام علی ‘‘ نے آٹھ اکتوبر کو ممبئی میں محفلِ غزل میں اپنے فن کا مظاہرہ کرنا تھا مگر شیو سینا کی مخالفت پر اس پروگرام کو رد کر دیا گیا اور اب دہلی کے وزیر اعلیٰ ’’ اروند کجریوال‘‘ نے غلام علی کو اپنے ہاں غزل گوئی کی دعوت دی ہے جو موصوف نے قبول کر لی ہے ۔ شیو سینا کے حوالے سے غلام علی نے کہا ہے کہ وہ اس کے رویے سے ناراض تو نہیں البتہ بہت دکھی ہیں ۔ تقریباً ڈیڑھ سو برس پہلے غالب نے hi2شاید ایسی ہی کسی صورتحال کے لئے کہا تھا کہ
اتنے شیریں ہیں تیرے لب گالیاں کہا کر بھی ۔۔۔ بے مزہ نہ ہوا
بہرحال اس واقعہ نے وطنِ عزیز میں بھارت کی مدح خوانی کرنے والوں کے لئے بہت کچھ پوشیدہ ہے ۔
دوسری جانب بھارتی وزراتِ داخلہ نے اکیس جولائی کو اعتراف کیا کہ 2015 کے پہلے پانچ ماہ میں پچھلے برس کی اسی مدت کے دوران ہوئے مذہبی تشدد اور فرقہ وارانہ فسادات میں 24.5 فیصد اضافہ ہوا ہے ۔ 2014 کے ابتدائی پانچ مہینوں میں 232 فسادات اور 26 لوگ مرے جبکہ موجودہ برس 287 فسادات اور 43 لوگ مرے ۔ ایمنسٹی انٹر نیشنل کی تازہ ترین رپورٹ بھی اس امر کی تصدیق کرتی ہے ۔ کہ گذشتہ سولہ مہینوں میں بھارت میں مسلمانوں اور اقلیتوں کے خلاف تشدد میں خطر ناک حد تک اضافہ ہوا ہے ۔ اس کے علاوہ چند ماہ پہلے یکم مئی کو یونائیٹڈ سٹیٹس کمیشن آن انٹر نیشنل ریلیجئس فریڈم نے بھی اپنی رپورٹ میں انکشاف کیا کہ مودی سرکار کے آنے کے بعد ہندو انتہا پسندی کو بہت زیادہ فروغ حاصل ہوا ہے ۔
اس صورتحال کا جائزہ لیتے ماہرین نے کہا ہے کہ کسی بھی واقعے یا عمل کو بالکل الگ کر کے یعنی ’’ آئی سولیشن ‘‘ میں نہیں دیکھا جا سکتا کیونکہ ہر چھوٹا بڑا معاملہ کسی نہ کسی طور اور کہیں نہ کہیں آپس میں جڑا ہوتا ہے ۔ ’’ بی جے پی ‘‘ کے چوتھی بار ووٹ کے ذریعے حکومت بنانا اپنے آپ میں اس بات کی دلیل ہے کہ بھارت چاہے سیکولر ازم کے کتنے ہی دعوے کرے ، زمینی حقیقت تو یہ ہے کہ وہاں ہندو انتہا پسندی کے نظریات ہر آنے والے دن کے ساتھ مضبوط تر ہوتے جا رہے ہیں ۔ تبھی تو 1984 کے لوک سبھا چناؤ میں ’’ بی جے پی ‘‘ کو محض دو سیٹیں ملیں مگر اگلے چناؤ یعنی 1989 میں ان سیٹوں کی تعداد 120 ہو گئی اور 1996 میں ’’ بی جے پی ‘‘ کی لوک سبھا سیٹیں 161 ہو گئیں اور سنگل لارجسٹ پارٹی کے طور پر اس نے پہلی بار حکومت بنائی ۔ 1998 کے چناؤ میں یہ سیٹیں بڑھ کر 178 ہوئیں باجپائی سرکار تیرہ ماہ چلی ۔ پھر 1999 کے مڈ ٹرم عام الیکشن میں 183 سیٹوں کے ساتھ یہ تیسری بار بر سرِ اقتدار آئی اور پورے ساڑھے چار سال تک حکومت کی ۔ 2004 میں اس کی سیٹوں کی تعداد 186 البتہ 2009 میں گھٹ کر 116 ہو گئی اور پھر مئی 2014 میں 282 سیٹیں حاصل کر کے ’’ بی جے پی ‘‘ پنے بل بوتے پر حکومت بنانے میں کامیاب ہو گئی اور ان 282 سیٹوں میں سے ایک بھی مسلمان نام شامل نہیں ۔
بہر کیف بھارت میں انتہا پسندی کی موجودہ صورتحال کو تب تک سمجھنا خاصا مشکل ہے جب تک اس کے اصل منبع ’’ آر ایس ایس ‘‘ کا جائزہ نہ لیا جائے ۔ ’’ آر ایس ایس ‘‘ نے دہلی میں وویکا نند انٹر نیشنل فاؤنڈیشن( وی آئی ایف ) کے نام سے ایک بڑا تھنک ٹینک قائم کر رکھا ہے جس کے تحت آٹھ دیگر ریسرچ سنٹر ہیں ۔ جو 2009 میں قائم ہوا اور اس کا بانی سربراہ ’’ اجیت ڈووال ‘‘ تھا ۔ مودی سرکار بننے کے بعد اسی ادارے کے سربراہ اجیت ڈووال نہ صرف نیشنل سیکورٹی ایڈوائزر بنائے گئے بلکہ ’’ وی آئی ایف ‘‘ کے ہی’’ پُشپند ر کمار مشرا ‘‘ کو مودی کا پرنسپل سیکرٹری اور ’’ پی سی مشرا ‘‘ کو ڈپٹی پرنسپل سیکرٹری بنایا گیا ۔ یوں در حقیقت بھارتی وزیر اعظم مودی کا پی ایم سیکرٹریٹ پوری طرح سے ’’ آر ایس ایس ‘‘ اور اس کے ذیلی ادارے ’’ وی آئی ایف ‘‘ کے کنٹرول میں ہے ۔ hi
اور یہی وجہ ہے کہ 2 تا 4 مارچ کو دہلی میں ہونے والے ’’ آر ایس ایس ‘‘ کے اجلاس میں مودی اور اس کے تمام وزراء نے اپنی پندرہ ماہ کی پراگرس رپورٹ پیش کی ۔ یوں بابری کی شہادت کے عمل سے لے کر دادری کے سانحے کو بخوبی سمجھا جا سکتا ہے ۔
اسی پس منظر میں بھارت میں ہندو انتہا پسندی جس تیزی سے بڑھ رہی ہے ، اس نے انصاف پر یقین رکھنے والے بھارتی شہریوں کو بھی ہلا کررکھ دیا ہے ۔ تبھی تو چھ اکتوبر کو بھارتی کی مشہور مصنفہ’’ نین تارا سہگل ‘‘ نے خود کو ملا ساھتیہ اکیڈمی ایوارڈ واپس لوٹانے کا فیصلہ کیا ۔ یاد رہے کہ نین تارا بھارت کے پہلے پردھان منتری جواہر لعل نہرو کی بھانجی ہیں ۔ وہ نہرو کی بہن ’’ وجے لکشمی پنڈت ‘‘ کی بیٹی ہیں ۔ اٹھاسی سالہ نین تارا نے ایک بیان جاری کر کے کہا کہ مودی سرکار بھارت کی سماجی وحدت کی حفاظت کرنے میں پوری طرح ناکام رہی ہے ، اس وجہ سے میں نے یہ میڈل لوٹانے کا فیصلہ کیا ہے ۔ نین تارا کو یہ ایوارڈ 1986 میں بھارت سرکار کی طرف سے ملا تھا ۔ یاد رہے کہ انہوں نے بیس سے زائد ناول اور دیگر افسانے لکھے ہیں اور وہ انگریزی زبان میں لکھنے والے بھارت کے چند مشہور ناول نگاروں میں شمار ہوتی ہیں ۔ ان کے انگریزی ناول ’’ رِچ ایز اَس ‘‘ پر انہیں یہ ایوارڈ ملا تھا ۔
انہوں نے دادری میں ہونے والی حالیہ انتہا پسند واقعات کا ذکر کرتے نریندر مودی کی خاموشی پر بھی سوال اٹھائے ہیں ۔ انہوں نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ ’’ جو بھی دانشور اس اندھے اعتقاد پر سوال اٹھاتے ہیں ، جو ہندو ازم کے خطرناک روپ جسے ہندو توا کہا جاتا ہے پر تنقید کرتے ہیں ۔ انہیں حاشیے پر دھکیلا جا رہا ہے ۔ انہیں ڈرایا جا رہا ہے یا پھر ان کو قتل کیا جا رہاہے ۔ لوگوں کے رہن سہن ، ان کے طرز زندگی کو جس حساب سے بدلنے کرنے کی کوششیں کی جا رہی ہے یہ سیدھی سیدھی انصاف کی ہار ہے۔
انہوں نے آگے یہ لکھا ہے کہ ’’ کرناٹک میں بولی جانے والی کنڑ زبان کے نامور مصنف اور ساھتیہ اکیڈمی ایوارڈ یافتہ پروفیسر ’’ کل برگی ‘‘ ، سماجی کارکن ’’ نریندر دابولکر ‘‘ اور گووند پنسارے ‘‘ کو قتل کر دیا گیا اور دوسروں کو دھمکی دی جاتی ہے کہ اگلا نمبر آپ کا ہے ۔
دوسری جانب بھارت کی مشہور صحافی ’’ تلوین سنگھ ‘‘ نے انگریزی اخبار انڈین ایکسپریس اور ہندی اخبار ’’ جن ستا ‘‘ میں مودی سرکار کی پالیسیوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ بھارت میں رہنے والی اقلیتوں پر جس حساب سے شدید ظلم ہو رہا ہے ، اس نے ساری دنیا میں بھارت کے منہ پر کالک مل دی ہے ۔ ‘‘ ایک دوسرے بڑے مصنف ’’ اشوک باجپائی ‘‘ نے بھی سات اکتوبر کو مودی سرکار کی پالیسیوں کی مخالفت میں اپنا ساھتیہ ایوارڈ واپس کرنے کا اعلان کیا ہے ۔
اسی کے ساتھ ساتھ پانچ اکتوبر کو یو پی کے مشہور وزیر ’’ اعظم خان ‘‘ نے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل ’’ بان کی مون ‘‘ کو خط لکھ کر درخواست کی ہے کہ بھارت میں بیس کروڑ سے زائد مسلمانوں اور دوسری اقلیتوں کی مخالفت ،ان کے خلاف جاری انتہا پسندی اور انسانی حقوق کی پا ما لیوں کو روکا جائے اور اس ضمن میں اقوام متحدہ فوراً اپنا رول نبھائے ۔
اس کے علاوہ امریکہ کے مشہور اخباروں ’’ نیو یارک ٹائمز ‘‘ اور ’’ واشنگٹن پوسٹ ‘‘ نے بھی بھارتی پالیسیوں اور بڑھ رہی ہندو انتہا پسندی کی مخالفت کی ہے ۔ بھارت کے نائب صدر حامد انصاری نے دہلی سرکار کو صلاح دی ہے کہ وہ سبھی شہریوں کے ساتھ ایک جیسا برتاؤ کرے کیونکہ گیارہ جون 2014 کو بھارتی پارلیمنٹ سے اپنا پہلا خطاب کرتے ہوئے مودی نے سبھی کو یقین دلایا تھا کہ کسی کے ساتھ زیادتی نہیں ہو گی اور اس بارے میں انھوں نے ایک سلوگن ’’ سب کا ساتھ ، سب کا وکاس ‘‘ بھی دیا تھا لیکن پچھلے سولہ مہینوں سے اس پر عمل نہیں ہوا ۔ حامد انصاری کے اس بیان پر بجرنگ دل کے ’’ سریندر جین ‘‘ ، ’’ وی ایچ پی ‘‘ کے ’’ پروین تگوڑیا ‘‘ نے شدید ردعمل ظاہر کیا ہے اور نائب صدر سے استعفیٰ مانگا ہے اور کہا ہے کہ انھوں نے یہ جو بیان دیا ہے یہ نائب صدر کی بجائے کسی فرقہ پرست رہنما کا اشتعال انگیز بیان لگتا ہے ۔
اس سارے معاملے میں بھارتی وزیر اعظم مودی نے پوری طرح چپ سادھ رکھی ہے اسی لئے بہار کے وزیر اعلیٰ نتیش کمار نے شاید ٹھیک ہی کہا ہے کہ ’’ مودی سرکار کے پاس نہ تو نیتی (پالیسی ) ہے ، نہ نیت ہے اور نہ نیتا ( رہنما ) ہے جس کی وجہ سے مستقبل میں بھارت کو برے دن دیکھنے پڑ سکتے ہیں جبکہ راہل گاندھی کا کہنا ہے کہ مودی کا سارا دھیان بیرون ممالک کے دوروں اور اپنے کپڑوں پر ہے ۔ انھوں نے اپنی امریکہ کے حالیہ چار روزہ دورے میں سولہ بار سوٹ بدلے ، اس لئے اس حکومت کو ’’ بی جے پی ‘‘ سرکار کی بجائے’’ سوٹ بوٹ والی سرکار ‘‘کہنا زیادہ مناسب ہو گا ۔بارہ اکتوبر کو نوائے وقت میں شائع ہوا ۔

( مندرجہ بالا تحریر مصنف کے ذاتی خیالات ہیں جس کے لئے اسلام آباد پالیسی ریسرچ انسٹی ٹیوٹ یا کوئی دوسرا ادارہ ذمہ دار نہیں )

 

Tags:

About the Author

Post a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Top