!بھارتی مسلمانوں کی زبوں حالی۔ ۔

انھی دنوں پاکستان اور بھارت اپنے اپنے ایامِ آزادی منا رہے ہیں۔ اس پس منظر میں مبصرین نے کہا ہے کہ یہ کوئی راز کی بات نہیں کہ بھارت کے سیکولر ازم کے تمام تر دعووں کے باوجود بیس کروڑ کے قریب ہندوستانی مسلمان آج دوسرے ہی نہیں بلکہ تیسرے درجے کے شہری کے طور پر اپنی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔
کچھ عرصہ قبل ایک انسان دوست بنگالی ہندو دانشور نے ’’ بی بی سی ‘‘ کی ہندی سروس میں ہندوستانی مسلمانوں کی زبوں حالی کا تذکرہ کرتے کہا تھا کہ ’’بلاشبہ بھارت میں ڈاکٹر ذاکر حسین،فخرالدین علی احمد اور ڈاکٹر عبدالکلام کو سربراہ مملکت کے طور پر فائز کیا گیا اور ممبئی کی فلم انڈسٹری میں بھی چند مسلمان اداکار اہم مقام کے حامل رہے ہیں مگر اس سے آگے ہندوستانی مسلمانوں کے ضمن میں کوئی اچھی خبر ڈھونڈنے سے بھی نہیں ملتی ‘‘۔
یاد رہے کہ سابق بھارتی وزیرِ اعظم ’’منموہن سنگھ‘‘ نے 9 مارچ 2005 کو جسٹس راجندر سچر کی سربراہی میں مسلمانوں کا احوال جاننے کے لئے جو کمیٹی بنائی تھی اس نے 30 نومبر 2006 کو اپنی رپورٹ پیش کر دی ۔کانگرس اور منموہن سنگھ دس سالہ عہدِ اقتدار گزار کر رخصت بھی ہو چکے مگر بھارتی مسلمانوں کی حالت پہلے سے بھی کئی گنا بدتر ہو چکی ہے اور مودی بھی اپنے عہدِ اقتدار کا سوا تین سالہ عرصہ گزار چکے ہیں مگر نوبت یہاں تک پہنچ چکی کہ ’’ بی جے پی ‘‘ کے اتحادی ’’اشوک سنگھل ‘‘ اعلانیہ کہہ رہے ہیں کہ اگر، مسلمان بھارت میں رہنے کے خواہش مند ہیں تو فوری طور پر بابری مسجد،متھرا کی عید گاہ مسجد اور بنارس کی عالم گیری مسجد سے دستبردار ہو جائیں تا کہ ان مقامات پر بالترتیب رام جنم بھومی مندر،کرشن جنم بھومی اور شیو مندر بنائے جا سکیں۔اگر ایسا نہ ہوا تو بھارت سے مسلمانوں کا نام و نشان تک مٹا دیا جائے گا۔
’’ وی ایچ پی ‘‘ کے ’’پروین تگوڑیا‘‘ کا فرمان ہے کہ مسلمان اگر گجرات میں ہونے والی نسل کشی کو بھول بھی چکے ہیں تو مظفر نگر میں کچھ عرصہ قبل ہونے والے اپنے قتلِ عام کو یاد رکھیں وگرنہ انجام کے خود ذمہ دار ہوں گے‘‘۔
بھارتی سپریم کورٹ کے حاضر سروس جج ’’جسٹس انیل دوبے‘‘ نے 2 اگست کو کہا کہ ’’اگر میں ڈکٹیٹر حکمران ہوتا تو پورے بھارت میں پہلی جماعت سے ہندو دھرم کی مذہبی کتابیں گیتا،مہابھارت اور رامائن کی تعلیم ہر بچے کے لئے لازمی قرار دے دیتا‘‘۔BJP کے ’’ گری راج سنگھ ‘‘ کہتے ہیں کہ جسے مودی سے پیار نہیں وہ پاکستان چلا جائے ۔
ا س صورتحال کا جائزہ لیتے مبصرین نے کہا ہے کہ دلچسپ مگر افسوس ناک امر یہ ہے کہ بھارتی وزیرِ اعظم مودی جو حکومت سنبھالنے سے پہلے اندرونِ بھارت یا دنیا میں ہونے والی ہر چھوٹی بڑی پیش رفت پر ٹوئیٹر کے ذریعے اپنا موقف ظاہر کرنا گویا مذہبی فریضہ سمجھتے تھے مگر بھارتی مسلمانوں کے خلاف جاری تازہ بیان بازی اور مسلم کش فسادات پر بالکل چپ سادھے ہوئے ہیں ۔
دوسری جانب مودی گیتا کو بھارت کا قومی صحیفہ قرار دے رہے ہیں اور 21 جون کو یوگا ڈے مناتے ہوئے مودی کے ساتھی سبھی بھارتی اقلیتوں کو کو تلقین کرتے نظر آئے تھے کہ سورج کو نمسکار کر کے اپنے دن کی ابتدا کریں وگرنہ انہیں بھارت چھوڑ دینا چاہیے ۔ ایسے میں بھارتی مسلمان اگر مزید پریشانی میں مبتلا نہ ہوں تو کیا کریں ۔
یاد رہے کہ 2014 کے بھارتی انتخابی نتائج سے لے کر اب تلک صرف یو پی میں 1491 چھوٹے بڑے مسلم کش فسادات ہو چکے ہیں۔
بہرحال امید کی جانی چاہیے کہ ایامِ آزادی مناتے ہوئے بھارت کے حکمران اپنی اقلیتوں کی اس زبوں حالی کا سدِ باب کرنے کے لئے موثر کوشش کریں گے اور عالمی رائے عامہ بھارت اور کشمیر کے مسلمانوں اور دوسری اقلیتوں کے مصائب دور کرنے کی کوشش کرے گی ۔وگرنہ یہی سمجھا جائے گا کہ بھارت بھی اسرائیل کی مانند مذہبی اقلیتوں کی نسل کشی کی ریاستی پالیسی کا حامی ہے۔ایسی صورتحال میں آنے والے دور میں معاملات وہی منطقی رخ اختیار کر سکتے ہیں جس کے خدشات انسان دوست حلقے ظاہر کرتے آئے ہیں کہ اندیشہ ہے کہ ہندوستان کے طول و عرض میں ہندو مسلم فسادات بڑے پیمانے پر شروع ہو جائیں۔
اس ضمن میں یومِ آزادی مناتے ہوئے وطنِ عزیز کے ہر فرد کو نہ صرف شکر ادا کرنا چاہیے بلکہ اپنی ساری توانائیاں ملک و ملت کی بھلائی کے لئے صرف کرنے کا عہد کرنا ہو گا ۔
دس اگست کو روز نامہ پاکستان میں شائع ہوا
۔( مندرجہ بالا تحریر مصنف کے ذاتی خیالات ہیں جن کے لئے اسلام آباد پالیسی ریسرچ انسٹی ٹیوٹ یا کوئی بھی دوسرا ادارہ ذمہ دار نہیں )

Tags:

About the Author

Post a Reply

Your e-mail address will not be published. Required fields are marked *

Top