IPRI – The Islamabad Policy Research Institute

birlikte yaşadığı günden beri kendisine arkadaşları hep ezik sikiş ve süzük gibi lakaplar takılınca dışarıya bile çıkmak porno istemeyen genç adam sürekli evde zaman geçirir Artık dışarıdaki sikiş yaşantıya kendisini adapte edemeyeceğinin farkında olduğundan sex gif dolayı hayatını evin içinde kurmuştur Fakat babası çok hızlı sikiş bir adam olduğundan ve aşırı sosyalleşebilen bir karaktere sahip porno resim oluşundan ötürü öyle bir kadınla evlenmeye karar verir ki evleneceği sikiş kadının ateşi kendisine kadar uzanıyordur Bu kadar seksi porno ve çekici milf üvey anneye sahip olduğu için şanslı olsa da her gece babasıyla sikiş seks yaparken duyduğu seslerden artık rahatsız oluyordu Odalarından sex izle gelen inleme sesleri ve yatağın gümbürtüsünü duymaktan dolayı kusacak sikiş duruma gelmiştir Her gece yaşanan bu ateşli sex dakikalarından dolayı hd porno canı sıkılsa da kendisi kimseyi sikemediği için biraz da olsa kıskanıyordu

ARTICLE

بھارت ۔۔ عیسائی اقلیت کی حالتِ زار

دیگر اقلیتوں کی مانند بھارتی عیسائی بھی سنگھ پریوار کے مظالم سے محفوظ نہیں ۔یوں تو پچھلے 67 برس سے سبھی اقلیتیں کسی نہ کسی طرح ہندو انہتا پسند گروہوں کے مظالم کا نشانہ بنتی رہی ہیں مگر چند ماہ سے تو انہیں بد ترین قسم کے استحصال کا سامنہ ic 3کرنا پڑرہا ہے۔گذشتہ دو ماہ سے دہلی میں چھ گرجا گھروں پر حملے کیے جا چکے ہیں ۔ اس سے پہلے بھی جب مارچ 1998میں ’’بی جے پی ‘‘کے مرکز دہلی میں برسراقتدار آئی تو بھارتی عیسائی بھی انتہا پسند ہندوؤں کے زیر عتاب آگئے تھے۔بھارتی مسلمان تو پہلے ہی متشدد ذہنیت کے ہاتھوں طرح طرح کی سختیاں جھیل رہے تھے مگر بھارتی جنتا پارٹی کے حکومت میں آنے کے بعد عیسائیوں کی زندگی بھی اجیرن کر دی گئی۔
یوں تو اس سے پہلے کی بھارت کی تاریخ پر نظر ڈالیں تو صاف پتہ چل جاتا ہے کہ ہندو اکثریت نے کبھی بھی بھارتی عیسائیوں کے وجود کو خوش دلی سے قبول نہیں کیا ۔اس امر کی اس سے بڑی دلیل اور کیا ہو گی کہ کوئی بھی بھارتی عیسائی اگر کسی بھی شعبہ میں کوئی اعلی مقام پیدا کرتا تو ہندو انتہا پسند گرہووں کی جانب سے اس کی کردار کشی کے لیے طرح طرح کے الزام لگانے کا سلسلہ شروع ہو جاتا تھا ۔یہاں تک کے ’’مدر ٹریسا‘‘ کو بھی نہیں بخشا گیا اور ہندو انتہا پسند تنظیموں کی جانب سے یہاں تک کہا گیا کہ یہ عورت بھارت میں عیسائیت کو فروغ دینے کی کوشش کر رہی ہے۔
اس کے علاوہ جب1998 کے اواخر میں مغربی بنگال سے تعلق رکھنے والے ماہر اقتصادیات ڈاکٹر ’’امرت سین‘‘ کو ان کی خدمات کے نتیجے میں جب’’نوبل انعام‘‘ سے نوازا گیا توہندو حلقوںic 1 نے اس پر خاصی نا پسندیدگی کا اظہار کیا،کیونکہ ’بی جے پی‘ اور اس کے نظریاتی حلقوں کی رائے تھی کہ موصوف اپنی تمام تر پیشہ وارنہ صلاحیتوں کو بھارت میں عیسائیت کے فروغ کے لیے استعمال کر رہے ہیں ۔
یہ الگ بات ہے کہ ڈاکٹر امرت سین کو نوبل انعام ملنے کے بعد خود وزیر اعظم ’واجپائی‘ نے انہیں خط لکھا کہ ’’وہ اپنی پارٹی کے گزشتہ روئیے کے حوالے سے ان سے معذرت کرتے ہیں‘‘۔
بہر کیف بھارت میں واجپائی کے حکومت سنبھالنے کے کچھ ہی عرصے بعد عیسائی اقلیت کے خلاف تشدد کی جو لہر پیدا ہوئی ،اس میں سنگھ پریوار کی تنظیموں’’وشو ہندو پرشید‘‘ اور ’’بجرنگ دل‘‘ نے نمایاں کردار ادا کیا۔ نومبر اور دسمبر1998 کے دوران بھارتی صوبوں گجر ات اور اڑیسہ میں درجنوں گرجا گھروں کو مسمار کر دیا گیا اور درجنوں عیسائیوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا گیا ۔اور قابل ذکر بات یہ ہے کہ ان دونوں صوبوں میں بی جے پی اور اس کے اتحادی صوبائی سطح میں بھی اقتدار میں تھے۔ہندو اور واجپائی حکومت ان مظالم سے خود کو یہ دلیل دے کر بھی بر ی الزمہ نہیں ہو سکتے کہ امن و امان قائم رکھنا صوبائی حکومت کی ذمہ داری ہے۔
سنگھ پریوار نے جہاں عیسائی اقلیت کے خلاف وشو ہندو پرشید‘ اور ’بجرنگ دل‘ کو استعمال کیا وہیں انتہا پسند ہندو وں نے ’ہندو جاگرمنچ ‘‘ اور دھرم رکھشا سمیتی‘‘ جیسی تنظیموں کی بنیاد صوبہ گجرات میں ڈالی جن کا مقصد صرف اقلیتوں کو ختم کر نا تھا ۔
1999ء کے پہلے ہفتے کے دوران صوبہ مہاراشٹر کے شہر ’’ناسک‘‘میں انتہا پسند ہندو رہنما ’ودیا شنکر بھارتی‘کی قیادت میں دس ہزار جنونی ہندووں کے اجتماع نے باقاعدہ ایک تقریب منعقد کرکے 37 عیسائیوں کو ڈرادھمکا کر ہندو مذہب اختیار کرنے پر مجبور کر دیا ۔اس حوالے سے ’نیشنل کونسل آف چر چز فار انڈیا ‘کے سربراہ ’راجا رتنم‘ نے احتجاج کرتے ہوئے سنگھ پریوار کے خلاف کافی سخت زبان استعمال کی اور کہا ؔ ؔ ؔ ؔ ’’ انتہا پسند ہندو اگر اپنی حرکتوں سے باز نہ آئے تو بھارت کے تقریبا چار کروڑعیسائی اپنی بقا کے لیے مسلح جد و جہد کا راستہ اپنا سکتے ہیں‘‘
مگر عیسائیوں کے خلاف مظالم میں کوئی کمی نہ آئی اور اڑیسہ کے گاؤں ’’منو ہر پور‘‘ میں عیسائی مشنری ڈاکٹر’’گراہم سٹنیلے‘‘ اور ان کے دو نوں معصوم بچوں کو ’بجرنگ دل‘ کے ’’داراسنگھ‘‘ اور اس کے ساتھیوں نے زندہ جلا دیا ۔حالانکہ یہ ڈاکٹر گزشتہ 30 سالوں سے اڑیسہ کے پسے ہوئے ہندووں کی ہر طرح سے خدمت کر رہا تھا ۔
اس کے بعد بھی بھارت میں عیسایوں کے خلاف تشدد کا سلسلہ جاری رہا اور 1999 کے آ خر میں جب تمام عیسائیوں کے مذہبی اور روحانی پیشوا’’پوپ پال‘‘ نے دہلی کا دورہ کیا تو انتہا پسند گروہوں نے پوپ کے اس دورے کی سخت مخالفت کی اور دہلی سمیت کئی مقاما ت میں پوپ کے خلاف مظاہرے ہوئے اور سنگھ پریوار کے دانشوروں نے برملا الزام لگایا کہ ’’پوپ کا یہ دورہ دراصل اُس عالمی سازش کا حصہ ہے جس کے مطابق عیسائیت کو اکیسویں صدی میں ایشیا میں سب سے بڑا مذہب بنانا اصل ہدف ہے ،اور اس ضمن میں چھوٹی ذات کے ہندووں کو عیسائی مذہب اختیار کرنے پر مجبور کیا جائے گا ‘‘
ان مظالم کی شدت کا اندازہ اس بات سے بھی کیا جا سکتا ہے کہ جب 26جنوری2001کو بھارتی صوبے گجرات میں ہو لناک زلزلہ آیا تھا جس میں بیس ہزار سے زائد بھارتی ہلاک اور لاکھوں بے گھر ہوگے تھے تو اس موقعے پر کرناٹک کے ایک عیسائی صوبائی وزیر ’’ٹی جان ‘‘ نے کہہ دیا تھا کہ یہ قدرت کی طرف سے اُن مظالم کی سزا ہے جو انتہا پسند ہندووں نے عیسائیوں پر روا رکھے ہیں ‘‘
ہندو ستان کے اس مسیحی کا یہ بیان کافی سنگدلانہ تھا جس کی وجہ سے اسی روز کرناٹک کے کانگرسی وزیر اعلی ’ایس ایم کرشنا ‘ نے انہیں وزارت سے بر طرف کر دیا تھا( یاد رہے کہ یہی ’’ ایس ایم کرشنا ‘‘ دو برس تک منموہن سنگھ کی کابینہ میں وزیر خارجہ کے منصب پر فائز تھے اور پاکستان کے دورے پر بھی آئے تھے ) ۔مگر غیر جانبدار حلقوں کی رائے ہے کہ ’ٹی جان ‘ کے اس بیان سے بخوبی اندزہ کیا جاسکتا ہے کہ ہندو ستاں میں مسیحی اقلیت ’’ آر ایس ایس ‘‘کے ہاتھوں ظلم سہتے سہتے کس نفسیاتی کیفیت میں مبتلا ہو چکی ہے ۔بھارت میں شدت پسند ہندوؤں کی جانب سے وہاں کی مسیحی اقلیت کے خلاف ہونے والے مظالم اور تشد د کی بابت تحقیق کرنے والے تجزیہ نگاروں کی رائے میں سنگھ پریوار کی جانب سے عیسائی قوم کے خلاف ہونے والے ان مظالم کی دیگر وجوہات کے علاوہ ایک وجہ یہ بھی ہے کہ ’سونیا گاندھی‘ کی جانب سے کانگرس کی قیادت سنبھالنے کو بی جے پی اپنے لیے ایک بڑا خطرہ سمجھتی ہے ۔
کیونکہ 1947ء کے بعد کم و پیش 45سال تک بھارت میں بر سراقتدار رہنے کے بعد کانگرس کی مقبولیت خاصی کم ہوگئی تھی ،اس وجہ سے بی جے پی کو موثر متبادل کے طو ر پر سامنے آنے کا موقعہ مل گیا ،مگر اپریل1998 میں سونیا گاندھی کے کانگرس کا صدر منتخب ہونے کے بعد بی جے پی کو خدشہ لاحق ہو گیا تھا کہ سونیا کی قیادت میں کانگرس اپنا کھویا ہوا مقام دوبارہ حاصل کر سکتی ہے اوریہ خدشہ اکتوبر2004 میں اس وقت حقیقت کی شکل اختیار کر گیا جب کانگرس 2014 تک مسلسل دس برس سونیا گاندھی کی قیادت میں بر سرِ اقتدار رہی ۔
ایسے میں بی جے پی کی یہ حکمت عملی نظر آئی اور ہنوذ آ رہی ہے کہ کانگرس کو اقتدار سے دور کھنے کا محض ایک ہی طریقہ ہے کہ سونیا گاندھی کے پیدائشی طور پر عیسائی ہونے کو ان کی سب سے بڑی کمزوری کے طور پر پیش کیا جائے اور ہندو اکثریت کو یقین دلایا جائے کہ عیسائی سونیا اور ان کے بیٹے راہل گاندھی کے ذریعے بھارت پر اپنا قبضہ کرنا چاہتے ہیں ،اس لیے ’’ہندو رام راجیہ‘‘ اور اکھنڈر بھارت‘‘ کا قیام اس وقت تک ممکن نہیں جب تک بھارتی عیسائیوں کو پوری طرح تہس نہس نہ کر دیا جائے ۔
یوں بھارت میں عیسائی اقلیت کا خاتمہ سنگھ پریوار کے ایجنڈے کا اہم نکتہ بن چکا ہے ۔ایسے میں مبصرین نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ آنے والے دنوں میں حکمران جماعت’بی جے پی‘ اور ہندو انتہا پسند گروہ بھارت کی مسیحی اقلیت کا استحصال کرنے کے لیے ہر قسم کے ہتھکنڈے اپنا سکتے ہیں اور مدر ٹریسا کی بابت موہن بھاگوت کا حالیہ بیان اور بی جے پی کی روش اس شبہے کو مزید تقویت دیتی ہے ۔

آٹھ مارچ کو روزنامہ پاکستان میں شائع ہوا ۔
( مندرجہ بالا تحریر مصنف کے ذاتی خیالات ہیں جس کے لئے اسلام آباد پالیسی ریسرچ انسٹی ٹیوٹ یا کوئی بھی دوسرا ادارہ ذمہ دار نہیں )

RELATED
ARTICLES.

Scroll to Top

Search for Journals, publications, articles and more.

Subscribe to Our newsletter