دو طرفہ مگر لاحاصل مذاکرات ۔۔۔ایک جائزہ 

اکتوبر ۲۷ کو دنیا بھر کے کشمیری ’یوم سیاہ‘‘ منا رہے ہیں کیونکہ ۱۹۴۷ء میں اسی روز بھارت نے کشمیر پر اپنا نا جائز تسلط جمایا تھا ۔  ۔ اس صورتحال کا جائزہ لیتے مبصرین نے کہا ہے کہ پاکستان اور بھارت کے مابین یوں تو مذاکرات کا سلسلہ شروع ہوئے ۶۷ سال سے زیادہ کا وقت گزر چکا ہے مگر ۱۹۶۵ء کی لڑائی کے چند ماہ بعد پاکستان کے صدر ایوب خان اور بھارتی وزیرِ اعظم لعل بہادر شاستری کے مابین ۹ جنوری کو معاہدہ تاشقند پر دستخط ہوئے ( اس کے چند گھنٹے بعد بھارتی وزیرِ اعظم شاستری تاشقند میں ہی دل کا دورہ پڑنے سے فوت ہو گئے تھے ) اس کے چند برس بعد ۱۹۷۱ کی لڑائی کے بعد ۲ جولائی ۱۹۷۲ء کو بھارتی شہر شملہ میں بھٹو اور بھارتی وزیر اعظم اندرا گاندھی کے مابین شملہ معاہدے پر دستخط ہوئے جس میں یہ طے پایا کہ کشمیر کے تنازعہ سمیت سبھی حل طلب معاملات تو باہمی گفت و شنید کے ذریعے حل کیا جائے گا ۔ معاہدہ تاشقند اور شملہ معاہدے کو بالترتیب ۴۸ اور ۴۲ سال کا عرصہ گزر چکا ہے اور تبھی سے بھارت اور پاکستان کے مابین مختلف اوقات میں ہر سطح پر مذاکراتی عمل کا نہ ختم ہونے والال سلسلہ جاری و ساری رہا ہے مگر یہ سب مشق بڑی حد تک لا حاصل رہی ہے گویا شاید ایسی صورتحال کے لئے ہی کسی نے کہا تھا
نتیجہ نہ نکلا تھکے سب پیامی                                                                               یہاں آتے آتے وہاں جاتے جاتے

اور اب یہ باہمی مذاکرات تو گویا کسی حد تک ایک مذاق کی شکل اختیار کر گئے ہیں اور تقریباً ہر مذاکرات سے پہلے ہی خاص و عام کو کسی حد تک اندازہ ہوتا ہے کہ اس ضمن میں بھارتی موقف کیا ہو گا بقول غالب
قاصد کے آتے آتے ، خط ایک اور لکھ رکھوں                                    میں جانتا ہوں ، جو وہ لکھیں گے جواب میں

اس تمام پس منظر میں غیر جانبدار ماہرین نے رائے ظاہر کی ہے کہ اتنے طویل تجربات کے بعد غالباً اب وقت آ گیا ہے دو طرفہ مذاکرات کا سلسلہ پوری طرح ختم کر کے تنازعہ کشمیر کو واپس اقوامِ متحدہ میں موثر ڈھنگ سے اٹھایا talkجائے اور عالمی برادری سے کہا جائے کہ کشمیری عوام سے کیے گئے اس وعدے کو پورا کرے جو سلامتی کونسل کی متفقہ قرار دادوں کی شکل میں اگست ۱۹۴۸ء اور ۵ جنوری ۱۹۴۹ کو اقوامِ عالم نے کشمیری عوام سے کیا تھا ۔ واضح رہے کہ ان قرار دادوں کے مطابق پور ی دنیا نے کشمیری عوام کو یقین دلایا تھا کہ انھیں اپنے مستقبل کا فیصلہ خود کرنے کی خاطر استصوابِ رائے کا حق دیا جائے گا اور اس فیصلے میں خود بھارت کی حکومت بھی شامل تھی ۔
غالباً اسی صورتحال کا اداراک کرتے ہوئے ۲۶ ستمبر کو وزیرِ اعظم پاکستان نے جنرل اسمبلی کے سالانہ اجلاس میں اپنے خطاب کے دوران اقوامِ متحدہ پر زور دیا تھا کہ مسئلہ کشمیر کو حل کرنے کے لئے اپنا کردار ادا کرے۔ اس کے علاوہ پاکستان کی سول سوسائٹی اور سیاسی و عسکری قیادت نے بھی حالیہ دنوں میں ایک سے زائد مرتبہ عالمی برادری سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ جنوبی ایشیاء میں پائیدار امن کے قیام کے خاطر تنازعہ کشمیر کے حل کے ضمن میں کھل کر سامنے آئے ۔
مبصرین نے اسی پس منظر میں یہ بھی کہا ہے کہ پاک بھارت تعلقات کی ۶۷ سالہ تاریخ کا جائزہ لیں تو صاف نظر آئے گا کہ دونوں ممالک کے مابین اس تمام عرصے کے دوران صرف ایک ہی بڑا معاہدہ طے پا سکا ہے اور وہ ہے دریائی پانی تقسیم کا ’’سندھ طاس معاہدہ‘‘ اور ہر کوئی بخوبی جانتا ہے کہ یہ باہمی مذاکرات کی بجائے تیسرے فریق یعنی ورلڈ بنک کی وساطت سے طے پایا تھا۔
غالباً اس صورتحال کا ادراک کسی حد تک عالمی برادری کو بھی ہو رہا ہے ۔ تبھی تو ۱۱ ستمبر کو برطانوی پارلیمنٹ نے بھی تنازعہ کشمیر کے حل کی فوری ضرورت پر زور دیا۔ علاوہ ازیں پاک فوج کے سپہ سالار جنرل راحیل شریف نے ۱۸ اکتوبر ۲۰۱۴ پاکستان ملٹری اکیڈمی کاکول میں پاسنگ آؤٹ پریڈ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مسئلہ کشمیر کو وہاں کے عوام کی امنگوں اور اقوامِ متحدہ کی قرار دادوں کے مطابق حل ہو نا چاہیے اور خطے کا امن مسئلہ کشمیر کے حل کے ساتھ منسلک ہے ۔ بہر کیف امید کی جانی چاہیے کہ عالمی برادری اور اقوامِ متحدہ اس ضمن میں اپنی ذمہ داریاں نبھانے کی خاطر ٹھوس پیش رفت کرے گی ۔

اکتوبر 23 کو ڈیلی پاکستان میں شائع ہوا
)مندرجہ بالا تحریر مصنف کے ذاتی خیالات ہیں جس کے لئے اسلام آباد پالیسی ریسرچ انسٹی ٹیوٹ یا کوئی بھی دوسرا ادارہ ذمہ دار نہیں(

Tags:

About the Author

Post a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Top