“رواداری کا فروغ بذریعہ ’’متبادل بیانیہ

برصغیر جنوبی ایشیا میں دنیا بھر کے مسلمانوں کا 33.51 فیصد آباد ہے اور یہ تعداد باقی تمام خطوں میں رہنے والے مسلمان بلحاظ خطہ سب سے زیادہ ہے۔ تقریباً سبھی حلقے اس امر پر متفق ہیں کہ کرہ ارض کے اس حصے میں اسلام پھیلانے میں بزرگان دین اور صوفیا کرام کا حصہ سب سے زیادہ ہے نہ کہ مسلمان فاتحین اور بادشاہوں کا۔ یوں یہ امر ہی اس حقیقت کا بین ثبوت ہے کہ پاکستان، بھارت اور بنگلہ دیش میں رہنے والی مسلم آبادی صوفیا کی تعلیمات سے بہت زیادہ متاثر ہے ۔
تاہم اس حوالے سے یہ امر غالباً زیادہ توجہ کا حامل ہے کہ اسلامی تعلیمات کسی بھی طور اس بات کی اجازت نہیں دیتیں کہ مذہب کو بنیاد بنا کر کسی بھی طبقے کے خلاف جبر و استبداد کا طرز عمل اختیار کیا جائے، لہذا ماضی میں اگر کسی بھی جانب سے اس قسم کی روش اپنائی گئی ہے تو اسے کسی بھی طور قابل ستائش نہیں قرار دیا جا سکتا بلکہ ہر سطح پر اس کی حوصلہ شکنی وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔ اس ضمن میں یہ بات خصوصی طور پر پیش نظر رہنی چاہیے کہ تمام علمی اور تحقیقی پلیٹ فارم پر شعوری کوشش کی جائے کہ سول سوسائٹی کے تمام حلقوں کی طرف سے قومی سطح پر ایسا بیانیہ تشکیل پا سکے جس کے نتیجے میں باہمی منافرت ، فرقہ وارانہ اور گروہی تعصبات کی حوصلہ افزائی کی بجائے ان کا خاتمہ ممکن ہو سکے ۔ اس حوالے سے ایسا ’’متبادل بیانیہ‘‘ تیار ہونا چاہیے جس کے ذریعے اس امر کو اس کی تمام تر جزئیات کے ساتھ واضح کیا جائے کہ اسلام میں تشدد ، جبر اور انتہا پسندی کسی بھی لحاظ سے قطعاً نا قابل قبول ہیں اور کوئی بھی معاشرہ یا ریاست اس طرز عمل کے فروغ کی اجازت نہیں دے سکتی، کیونکہ یہ قومی ریاست کی تشکیل کے بنیادی اصولوں کے منافی ہے۔ ایسے میں خصوصی طور پر پاکستانی معاشرے کا فرض اولین ہے کہ وہ تمام تر کوششوں کو بروئے کار لاتے ہوئے ’’متبادل بیانیے‘‘ کی تشکیل کو بنیادی ترجیحات میں شریک رکھے۔
دوسری جانب چند روز قبل کراچی کی چینی قونصلیٹ میں جو سانحہ پیش آیا اس کی کڑیاں براہ راست را اور این ڈی ایس سے جا ملتی ہیں۔ مصدقہ ذرائع کے مطابق راء اور NDS نے ہی اس سانحے کی پلاننگ، فنڈنگ اور سہولت کاری کی۔ واضح رہے کہ سانحے میں مرکزی نام حربیار مری اور اسلم بلوچ اچھو کے ہیں ‘ جبکہ باقی سہولت کاروں میں نام نہاد اور خودساختہ ’’کمانڈر‘‘ نور بخش مینگل‘ کریم مری‘ کمانڈر نثار‘ کمانڈر شریف و دیگر شامل ہیں۔
انسان دوست حلقوں کے مطابق اسے عالمی امن کی بد قسمتی ہی قرار دیا جانا چاہیے کہ بھارت ، امریکہ اور کابل انتظامیہ تسلسل کے ساتھ وطن عزیز کے خلاف بے بنیاد پراپیگنڈہ کرتی چلی آ رہی ہیں اور یہ سلسلہ ہے کہ رکنے کی بجائے ہر آنے والے دن کے ساتھ دراز سے دراز تر ہوتا چلا جا رہا ہے، ان طبقات کی جانب سے لگاتار پاکستان کے خلاف اس قدر زہریلا پراپیگنڈہ کیا جاتا ہے کہ الامان الحفیظ ۔
اس معاملے کا جائزہ لیتے سنجیدہ ماہرین نے کہا ہے کہ افغانستان پر قابض امریکی افواج نے پچھلے سولہ سال میں افغان عوام اور اس کے سبھی اداروں کا جو حشر کیا ہے وہ افغان تاریخ کا ایسا باب ہے جس پر وہاں کے عوام و خواص میں شاید ہی کسی کو فخر کا احساس ہوتا ہو۔ اس پر طرہ یہ کہ دہلی کی معاونت سے کابل انتظامیہ نے ماضی قریب میں افغانستان کی وہ حالت بنا دی کہ وہ ایک لحاظ سے عبرت کا نشاں بن کر رہ گیا ہے مگر بات یہیں تک محدود رہتی تو شاید پھر بھی غنیمت ہوتا مگر بھارتی خفیہ اداروں ’’را‘‘ اور ’’انڈین آئی بی‘‘ کی شازشوں اور NDS کی کارستانیوں کے نتیجے میں یہ خطہ ارض ٹرمپ، مودی اور اشرف غنی کے گٹھ جوڑ کی جولان گاہ بن کر رہ گیا ہے ۔(جاری ہے)
حالانکہ یہ امر کسی تعارف کا محتاج نہیں کہ پاکستان نے افغان عوام کی خاطر مدد اور ایثار کی جو تاریخ رقم کی وہ کسی سے ڈھکی چھپی نہیں البتہ اسے اس خطے کی بد قسمتی سے ہی تعبیر کیا جا سکتا ہے کہ مملکت خداداد پاکستان کی تمام تر کوششوں کا ثمر اسے یہ دیا جا رہا ہے کہ دہلی کے ایما پر ایک جانب سی پیک کے خلاف سازشوں کا لامتناہی سلسلہ جاری ہے تو دوسری طرف بلوچستان، فاٹا اور کراچی سمیت پاکستان کے کئی علاقوں میں بھارتی دہشتگردی کا عفریت منہ کھولے کھڑا ہے اور وطن عزیز کی بابت ہر قسم کی کہانیاں اور افسانے تراشے جا رہے ہیں اور امریکی حماقتوں کو چھپانے کیلئے ’’ڈو مور‘‘ کا بے سروپا راگ بند ہونے کا نام نہیں لے رہا۔
اس صورتحال کا جائزہ لیتے سنجیدہ مبصرین نے رائے ظاہر کی ہے کہ سبھی جانتے ہیں کہ اصل حقائق اس بھارتی، امریکی اور بعض دیگر طاقتوں کے پراپیگنڈے سے مختلف ہی نہیں بلکہ قطعاً متضاد ہیں اور اصل حقیقت تو یہ ہے کہ را، این ڈی ایس اور سی آئی اے پاکستان کے اندر تخریب کاری کو ہر ممکن ڈھنگ سے فروغ دینے کے لئے کوشاں ہیں اور اس ضمن میں ہر وہ حربہ آزمایا جا رہا ہے جس کا تصور بھی کسی مہذب معاشرے میں نہیں ہونا چاہیے۔
اسی تناظر میں بلوچستان میں دہشتگردی کی نئی لہر گذشتہ چند مہینوں سے جاری ہے اور اسی کے ساتھ ساتھ پاکستان کے دیگر علاقوں میں بھی اسی سلسلے کو پھیلایا جا رہا ہے۔ہندوستان نے ہتھیار اور اسلحہ کی خریداری کے جو بڑے بڑے معائدے کیے ہیں ان کا سیدھا مقصد ہی بھارت کے جنگی عزائم کی معاونت ہے۔ حالانکہ یہ امر بھی کسی سے پوشیدہ نہیں کہ پاکستان کی جری افواج نے بیتے چند برسوں میں دہشتگردی کے خاتمے کے حوالے جو کارنامے انجام دیئے۔ ان کا معترف ہر ذی شعور کو ہونا چاہیے ۔ اس بدیہی حقیقت سے بھی کوئی انکار نہیں کر سکتا کہ 7000 سے زائد افسر و جوان اپنی جانیں وطن کی حفاظت کے لئے نثار کر چکے ہیں اور ان کے ساتھ لگ بھگ 65000 سویلین پاکستانی شہری لقمہ اجل بنے۔ ایسے میں ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ پوری عالمی برادری اس امر کا اعتراف کرتی اور وطن عزیز کے کردار کو خاطر خواہ ڈھنگ سے سراہا جاتا مگر عملاً اس کے الٹ ہو رہا ہے اور الٹا پاکستان کو ہی موردِ الزام ٹھہرایا جا رہا ہے۔
یہ امر بھی پیش نظر رہنا چاہیے کہ ٹرمپ، مودی اور کابل انتظامیہ نے ڈو مور کی گردان کو اپنا دُم چھلا بنا رکھا ہے اور اٹھتے بیٹھتے اسی کا ورد کرتے رہتے ہیں۔ حالانکہ ’’کلبھوشن یادو ‘‘ جیسے دہشتگرد کی گرفتاری کے بعد بھی اگر دہلی اور این ڈی ایس اپنی پارسائی کے دعوے سے باز نہ آئیں تو اسے جنوبی ایشیاء کی بد قسمتی کے علاوہ بھلا دوسرا نام کیا دیا جا سکتا ہے مگر آفرین ہے بھارتی حکمرانوں اور کابل انتظامیہ پر کہ اپنی شرانگیزیوں پر بجائے نادم ہونے کے وہ اپنی چالبازیوں سے باز آنے کا نام ہی نہیں لے رہے۔
اس امر سے بھی سبھی آگاہ ہیں کہ بھارت اور چند دیگر ہمسایہ ممالک کی معاونت سے پاکستان میں بعض حلقے بھی اپنے مخصوص ایجنڈے کے تحت بلوچستان اور دیگر پاک علاقوں میں فرقہ وارانہ بنیادوں پر نسلی و لسانی تعصبات کو ابھار کر باہمی منافرت کو پھیلانے میں عرصہ دراز سے سرگرم ہیں۔ اگرچہ پاک افواج ردالفساد اور ضرب عضب کے ذریعے اس کے تدارک میں بڑی حد تک کامیاب رہی ہیں مگر اس کے باوجود مخالفین اپنے مکروہ عزائم میں کبھی کبھار بوجوہ کامیاب بھی ہو جاتے ہیں ۔
ایسے میں دعا ہی کی جا سکتی ہے کہ خدا وطن عزیز کو دہشتگردانہ ذہنیت کے حامل گروہوں کے شر سے محفوظ رکھے۔ البتہ یہ بات کسی حد تک اطمینان بخش ہے کہ کچھ روز قبل یو این سیکرٹری جنرل نے خطے میں امن کے قیام کی ضرورت پر زور دیا ۔ ایسے میں امید کی جانی چاہیے کہ اس ضمن میں عالمی برادری اپنی وقتی مصلحتوں کو خیرباد کہہ کر اپنا انسانی فریضہ نبھائے گی ۔ علاوہ ازیں قوم کے سبھی سوچنے سمجھنے والے حلقے اپنی قومی ذمہ داریوں کا بروقت احساس کرتے ہوئے نئے سرے سے قومی شیرازہ بندی کو ایک مضبوط و مربوط مہم کی شکل دیں گے۔

دو دسمبر 2018 کو روزنامہ نوائے وقت میں شائع ہوا۔
( مندرجہ بالا تحریر مصنف کے ذاتی خیالات ہیں جن کے لئے اسلام آباد پالیسی ریسرچ انسٹی ٹیوٹ یا کوئی بھی دوسرا ادارہ ذمہ دار نہیں)

 

Tags:

About the Author

Post a Reply

Your e-mail address will not be published. Required fields are marked *

Top