زعفرانی دہشتگردی اوربھارتی تضادات

17جنوری2014 کو حکمران جماعت کی سربراہ’’سونیا گاندھی‘‘نے دہلی میں آل انڈیا گانگرس کمیٹی کے خصوصی اجلاس سے خطاب کرتے ہندو انتہا پسند نظریات کو بھارتی سلامتی کے لئے سب سے بڑا خطرہ قرار دیا ۔ انھوں نے BJP یا نریندر مودی کا نام لیے بغیر بھارتی سیکولر ازم کو درپیش مسائل کے خلاف جدوجہد کرنے کا عزم ظاہر کیا۔اسی پس منظر میں مبصرین کا کہنا ہے کہ پاکستان کی اگرچہ ہمیشہ ہی یہ کوشش رہی ہے کہ ہمسایہ ملکوں سمیت دنیا کے سبھی ممالک کے ساتھ برابری کی سطح پر خوش گوار تعلقات قائم رکھے جائیں مگر وزیرِ اعظم نواز شریف تو اپنا منصب سنبھالنے کے بعد روزِ اول ہی سے اس مقصد کے حصول کے لئے اپنی تمام تر توانائیاں صرف کر رہے ہیں۔

اسی سلسلے میں16 اور 17 جنوری 2014 کو دہلی میں پاک بھارت وزرائے تجارت کے مابین مذاکرات ہوئے جن میں پاکستان کی نمائندگی وزیرِ تجارت’’خرم دستگیر‘‘ جبکہ بھارت کی طرف سے تجارت کے وزیر’’آنند شرما ‘‘ نے کی۔سارک کے دوسرے ممالک بھی ان مذاکرات کا حصہ ہیں ۔مبصرین کے مطابق ان مذاکرات سے عین پہلے 13 جنوری کو بھارتی آرمی چیف جنرل بکرم سنگھ نے نہ صرف 10 پاکستانی فوجی اہل کاروں کو شہید کرنے کا دعوی کیا بلکہ پاکستان پر LOC کی خلاف ورزیوں کا الزام بھی لگایا۔
پاکستانی دفترِ خارجہ کی ترجمان محترمہ’’ تسنیم اسلم‘‘ اور ISPR نے ان بھارتی الزامات کو منفی اور اشتعال انگیز قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا۔واضح رہے کہ اس سے کچھ روز پہلے بھارتی وزیرِ داخلہ ’’شوشیل کمار شندے‘‘ نے الزام لگایا تھا کہ ’’داؤد ابراہیم‘‘ پاکستان میں ہے اور بھارت اس ضمن میں خاطر خواہ اقدامات اٹھائے گا۔
مبصرین نے بھارت کی سیاسی اور عسکری قیادت کے اس رویے کو غیر ذمہ دارانہ اور حقائق کے منافی قرار دیتے رائے ظاہر کی ہے کہ اس سے ہندوستانی بالا دست طبقات کے تضادات اور دوہرے معیاروں کا پتہ چلتا ہے وگرنہ کسے معلوم نہیں کہ محض ایک برس قبل یعنی 19 جنوری 2013 کو آل انڈیا کانگرس کمیٹی AICCکے سالانہ اجلاس منعقدہ جے پور (راجستھان)،میں بھارتی وزیرِ داخلہ ’’شوشیل کمار شندے‘‘ نے انکشاف کیا تھا کہ بھارت میں ہونے والی دہشتگردی میں BJP اور RSS کی حامی انتہا پسند ہندو تنظیمیں ملوث ہیں اور ان شدت پسند ہندو گروہوں نے بھارت کے اندر دہشتگردوں کو تربیت دینے کے تربیتی مراکز قائم کر رکھے ہیں جہاں پر دہشتگردی کی کاروائیوں اور اسلحہ اور گولہ بارود کے استعمال کی ٹریننگ دی جاتی ہے۔
انھوں نے اس ضمن میں یہ اعتراف اور انکشاف بھی کیا کہ سمجھوتہ ایکسپریس،حیدر آباد دکن کی مکہ مسجد،مالیگاؤں بم دھماکہ اور اجمیر شریف درگاہ میں ہونے والی دہشتگردی میںیہی ’’بھگوا‘‘ ہندو دہشتگرد ملوث تھے۔
پاکستان نے اس بھارتی اعتراف کے سرکاری اعلان کے بعد دہلی حکومت سے مطالبہ کیاتھا کہ وہ سمجھوتہ ایکسپریس دہشتگردی کی نئے سرے سے تحقیقات کروائے ۔
دوسری جانب بھارت میں BJP اور اس کے ہم نوا اپنی حکومت اور وزیرِ داخلہ کے خلاف واویلا کرتے رہے ہیں کہ انھوں نے ایسی حقیقت کا اعتراف کیوں کیا ۔ماہرین کے مطابق سابق پاکستانی وزیرِ داخلہ ’’رحمان ملک‘‘ اور دیگر زعماء ایک سے زائد مرتبہ کہہ چکے ہیں کہ پاکستانی سبھی علاقوں خصوصاً بلوچستان میں جاری شدت پسند کاروائیوں میں بھارت سرکاری سطح پر ملوث ہے۔
اس تمام صورتحال کا تجزیہ کرتے مبصرین نے کہا ہے کہ پچھلے چند برسوں کے دوران جس طرح بھارت نے کئی پاک فوجیوں کو شہید کیا اور الٹا پاک افواج ،حکومت اور عوام کے خلاف نا زیبا الزامات کی بوچھاڑ کی ،وہ ایک قابلِ مذمت روش ہے۔
اس پر مستزاد یہ کہ انڈین پریمیئر ہاکی لیگ سے پاکستانی کھلاڑیوں کو ناروا ڈھنگ سے نکالا گیا اور گذشتہ برس خواتین کرکٹ ٹیم کے خلاف ایسی دھمکیاں اور دشنام طرازی کی گئی کہ سیکیورٹی خدشات کی بنا پر عالمی خواتین کرکٹ ٹورنامنٹ کے گروپ بی کے تمام میچ ممبئی سے اڑیسہ کے دارلحکومت ’’کٹک‘‘ منتقل کرنے پڑے ۔اس طرزِ عمل سے بخوبی اندازہ ہو جاتا ہے کہ بھارتی معاشرت میں سیکولرازم اور جمہوریت کو عملی طور پر کیا مقام حاصل ہے اور مذہبی دہشتگردی کا منبع کون سا ملک ہے ۔
امید کی جانی چاہیے عالمی ذرائع ابلاغ، پاکستان اوربھارت کی سول سوسائٹی اور انسانی حقوق کے عالمی ادارے اس جانب بھرپور توجہ دیں گے اور نہ صرف بھارت کے جمہوری اور نام نہاد سیکولر دعوؤں کو بے نقاب کیا جائے گا بلکہ مقبوضہ جموں کشمیر کے لوگوں کو ان کا پیدائشی حق (جس کا وعدہ پوری عالمی برادری نے سلامتی کونسل کی قرار دادوں کی شکل میں کر رکھا ہے)یعنی حقِ خود ارادیت کا موقع فراہم کیا جائے گا۔
علاوہ ازیں بھارتی حکمران روائتی ہٹ دھرمی ترک کر کہ مثبت طرزِ عمل اپنائیں تا کہ پاکستانی حکومت اور عوام کی ان کوششوں کو تقویت مل سکے جو باہمی تعلقات میں بہتری کے لئے کی جا رہی ہیں۔

(مندرجہ بالا تحریر مصنف کے ذاتی خیالات ہیں جس کے لئے اسلام آباد پالیسی ریسرچ انسٹی ٹیوٹ یا کوئی بھی دوسرا ادارہ ذمہ دار نہیں)

Tags:

About the Author

Post a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Top