! سافٹ امیج ۔ ۔ پاک بھارت موازنہ

سبھی جانتے ہیں کہ پاکستان اور بھارت بیک وقت آزاد ہوئے ۔ مگر عالمی سطح پر بوجوہ بھارت خود کے حوالے سے ایک سافٹ امیج بنانے میں کامیاب رہا ہے حالانکہ زمینی حقائق پر نگاہ ڈالیں تو صورتحال مختلف بلکہ قطعی متضاد نظر آتی ہے ۔ داخلی سیاست کے معاملے کو ہی دیکھ لیں تو پاکستان میں آج تک کسی بھی مذہبی جماعت کو ووٹ کے ذریعے اقتدار میں آنے کا موقع نہیں ملا ۔ جبکہ تمام تر سیکولر ازم کے دعووں کے باوجود بھارت میں ’’ بی جے پی ‘‘ جیسی انتہا پسند نظریات کی حامل جماعت پہلی بار مئی 1996 میں اقتدار میں آئی ۔ یہ الگ بات ہے کہ یہ اقتدار محض تیرہ دن کا ثابت ہوا ۔ اس کے بعد مارچ 1998 میں واجپائی کی قیادت میں دوبارہ اس پارٹی نے حکومت بنائی جوتیرہ ماہ تک قائم رہی ۔ تیسری مرتبہ ستمبر 1999 میں واجپائی کی سربراہی میں ہی اس پارٹی نے حکومت بنائی اور پورے ساڑھے چار سال تک حکومت میں رہی ۔ اس کے بعد مئی 2014 میں مودی کی قیادت میں اس جماعت نے واضح اکثریت سے اپنے بل بوتے پر حکومت بنائی جو تاحال جاری ہے ۔
اس سے بخوبی واضح ہو جاتا ہے کہ دونوں ممالک میں سے کس کے عوام انتہا پسند نظریات اور کہاں کی اکثریت اعتدال پسند ہے ۔ مغربی میڈیا پاکستانی حکومت اور عوام کی اکثریت کو اکثر و بیشتر مذہبی انتہا پسند ثابت کرنے کی تگ و دو میں مصروف رہتا ہے مگر اگر صرف خارجہ پالیسی کے میدان میں دیکھیں تو پاکستان کے سب سے گہرے اور دوستانہ تعلقات عوامی جمہوریہ چین کے ساتھ ہیں ۔ اور یہ تعلقات اس حد تک ٹھوس ہیں کہ دنیا بھر میں ایک مثال کی شکل اختیار کر چکے ہیں ۔ اور پاکستان میں سیاسی تبدیلیوں اور سیاسی موسموں کے تغیر و تبّدل اور مختلف حکومتیں بر سرِ اقتدار رہنے کے باجود چین کے ساتھ تعلقات میں رتی بھر بھی فرق نہیں پڑا ۔ غالباً یہ امر ہی پاک حکومت و عوام کے سافٹ امیج کو ثابت کرنے کے لئے کافی ہے ۔
پارلیمنٹ میں بھی خواتین نمائندگی کے معاملے کو بنیاد بنائیں ، تب بھی پاکستان بھارت سے کہیں آگے نظر آتا ہے ۔ پاکستان کی قومی اسمبلی میں عرصہ دراز سے خواتین نمائندگی کا کوٹہ مقرر کیا جا چکا ہے ۔ اور ساٹھ خواتین ان نشستوں پر اپنی صنف کی نمائندگی کرتی ہیں ۔ ان کے علاوہ بہت سی خواتین براہ راست الیکشن لڑ کر بھی اسمبلی کی ممبر منتخب ہوتی آئی ہیں ۔ جبکہ بھارت میں پارلیمنٹ میں خواتین نمائندگی کا بل گذشتہ بائیس برسوں سے اٹکا ہوا ہے ۔ اور اس کی منظوری اسی لئے ممکن نہیں ہو رہی کہ بعض سیاسی حلقوں کی جانب سے اس کی سخت مخالفت کی جا رہی ہے ۔
اقلیتوں کے تحفظ کی بابت بھی پاکستان بھارت سے کہیں بہتر ہے ۔ ایک جانب بھارت میں پچیس ہزار سے بھی زائد اقلیت کش فسادات ہو چکے ہیں اور موجودہ مودی حکومت کے دور میں بھی اقلیت کش فسادات میں ستائیس فیصد اضافہ ہوا ہے ۔ جبکہ پاکستان میں گذشتہ ساڑھے اڑسٹھ برس کے دوران شاید ایک بھی واقعہ ایسا نہیں ہوا جسے مروجہ اور مسلمہ معنوں میں فساد کے زمرے میں آتا ہو ۔
ٍ سبھی جانتے ہیں کہ چائلڈ لیبر بھارت میں سکہ رائج الوقت کی حیثیت اختیار کر چکی ہے اور نومبر 2014 میں اسی ضمن میں بھارت کے ’’ کیلاش ستھیارتھی ‘‘ جو ایک این جی او ’’ بچپن بچاؤ اندولن ‘‘ کے سربراہ ہیں ، انھیں چائلڈ لیبر کی نشاندہی اور خاتمے کی کوششوں کے شعبے میں ’’ نوبل انعام ‘‘ دیا گیا تھا ۔
پڑوسی ملکوں میں مداخلت کے ضمن میں بھی بھارتی کردار اتنا داغ دار ہے ، جو کسی تعارف کا محتاج نہیں اور اسی وجہ سے اپنے تمام ہمسایوں چین ، پاکستان ، سری لنکا ، بنگلہ دیش ، نیپال ، بھوٹان ، مالدیپ ، میانمر مختلف اوقات میں بجا طور پر دہلی سرکار پر اپنے اندرونی معاملات میں مداخلت کا الزام لگا چکے ہیں ۔
مثلاً کسے نہیں علم کہ بھارت مسلح مداخلت کے ذریعے پاکستان کو دو لخت کر چکا ہے اور چین سے 1962 میں کھلی جنگ لڑ چکا ہے ۔ سری لنکا میں بھارت کی جانب سے خانہ جنگی کی بھڑکائی گئی آگ 1983 تا 2009 تک جاری رہی ۔ 1988 اور 2015 میں نیپال کی اقتصادی ناکہ بندی کی گئی ۔ مالدیپ میں فوجی بغاوت کے بہانے سے کھلی مداخلت کی گئی ۔ بھوٹان اور بنگلہ دیش کے ضمن میں بھی اس بابت ایک لمبی اور داغدار تاریخ ہے ۔ جون 2015 میں میانمر کے اندر بھارتی افواج نے داخل ہو کر سرجیکل سٹرائیک کی اور ہمسایہ ملکوں میں مداخلت کا یہ سلسلہ ہنوذ جاری ہے ۔
یہاں یہ امر بھی قابلِ ذکر ہے کہ جنوبی ایشیاء میں بھارت واحد ملک ہے جس نے اپنے قیام کے بعد اپنی جغرافیائی حدود میں اضافی کیا اور ’’ گوا ‘‘ ، ’’ سکم ‘‘ ، ’’ دکن حیدر آباد ‘‘ ، ’’ جوناگڑھ ‘‘ اور ’’ مقبوضہ کشمیر ‘‘ پر قوت کے زور پر قبضہ کیا ۔ ایک جانب پاکستان میں مذہبی انتہا پسندی کے بہت سے ملزموں کو سزائے موت دی گئی جبکہ بھارت میں گذشتہ بیس برسوں میں صرف چار افراد تختہ دار پر لٹکائے گئے جن میں سے تین مسلمان اور ایک اچھوت ہندو تھا ۔ غیر ملکی خواتین کی آبرو ریزی بھارت میں آرڈر آف دی ڈے بن چکی ہے ۔ دوسری طرف پاکستان میں سیر و سیاحت کی غرض سے آنے والے غیر ملکی سیاحوں کی تعداد میں قابلِ ذکر حد تک مسلسل اضافہ ہو رہا ہے ۔ بھارتی معاشرہ خود پر ہونے والی تنقید کا ایک لفظ بھی برداشت کرنے کو تیار نہیں جس کے مظہر حالیہ مہینوں میں عدم رواداری کے بہت سے واقعات ہیں ۔ دادری سے لے کر جواہر لعل نہرو یونیورسٹی تک واقعات کا ایک طویل سلسلہ ہے سجسے تقریباً ہر ذی شعور بخوبی جانتا ہے ۔ دوسری جانب پاکستان میں اظہار رائے کی آزادی کا یہ عالم ہے کہ بسا اوقات میڈیا اور سول سوسائٹی کے بہت سے حلقے خود احتسابی کی حدود سے بھی آگے نکل کر خود مذ متی کی روش پر عمل کرتے ہیں مگر با حیثیت مجموعی حکومت یا عوام کی جانب سے کسی قسم کا منفی ردِ عمل ظاہر نہیں کیا جاتا ۔
اس کھلے راز سے بھی ہر کوئی آگاہ ہے کہ پوری اسلامی دنیا میں سے پہلی خاتون وزیر اعظم بھی پاکستان میں ہی منتخب ہوئیں ۔ حالیہ مہینوں میں بھی اعتدال پسند نظریات پر عمل کرتے ہوئے سیاسی و عسکری قیادت اور عوام کی جانب سے بہت سی اصلاحات کا عمل جاری ہے ۔ اس تمام تجزیے کے باجود بھی اگر عالمی حلقے پاکستان کی بہ نسبت بھارت کو سافٹ امیج کا حامل قرار دیں تو یہی کہا جا سکتا ہے :
یہ جہان ہے اندھے لوگوں کا
اے چاند ! یہاں نہ نکلا کر

چودہ مارچ کو نوائے وقت میں شائع ہوا ۔

( مندرجہ بالا تحریر مصنف کے ذاتی خیالات ہیں جن کے لئے اسلام آباد پالیسی ریسرچ یا کوئی بھی دوسرا ادارہ ذمہ دار نہیں )

Tags:

About the Author

Post a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Top