IPRI – The Islamabad Policy Research Institute

birlikte yaşadığı günden beri kendisine arkadaşları hep ezik sikiş ve süzük gibi lakaplar takılınca dışarıya bile çıkmak porno istemeyen genç adam sürekli evde zaman geçirir Artık dışarıdaki sikiş yaşantıya kendisini adapte edemeyeceğinin farkında olduğundan sex gif dolayı hayatını evin içinde kurmuştur Fakat babası çok hızlı sikiş bir adam olduğundan ve aşırı sosyalleşebilen bir karaktere sahip porno resim oluşundan ötürü öyle bir kadınla evlenmeye karar verir ki evleneceği sikiş kadının ateşi kendisine kadar uzanıyordur Bu kadar seksi porno ve çekici milf üvey anneye sahip olduğu için şanslı olsa da her gece babasıyla sikiş seks yaparken duyduğu seslerden artık rahatsız oluyordu Odalarından sex izle gelen inleme sesleri ve yatağın gümbürtüsünü duymaktan dolayı kusacak sikiş duruma gelmiştir Her gece yaşanan bu ateşli sex dakikalarından dolayı hd porno canı sıkılsa da kendisi kimseyi sikemediği için biraz da olsa kıskanıyordu

ARTICLE

سانحہ سمجھوتہ ایکسپریس ،مودی کا فون اور۔۔۔

آmnt2ٹھ سا ل پہلے 18 اور 19 فرروی 2007کی درمیانی شب بھارتی صوبہ ہریانہ سے گزررہی سمجھوتہ ایکسپریس میں ہوئی دہشت گردی میں 80سے زائد پاکستانی زندگی کی بازی ہار گئے تھے جب کہ 150سے زائد شدید زخمی ہوگئے بھا رت کے سرکاری اعدادو شمار کے مطابق جاں بحق ہونے والے افراد کی تعداد 68 ہے یاد رہے کہ یہ ریل گاڑی دہلی سے لاہور آرہی تھی اور مسافروں کی بھاری تعداد پاکستانی تھی۔
اس سانحے کے وقوع پذیر ہونے کے بعدبھارتی ذائع ابلاغ نے اس کی ذمہ داری پاکستان کے کندھوں پر ڈال دی مگرقانون فطرت ہے کہ سچ کو بہر کیف ظاہر ہونا ہوتا ہے ۔اس لیے بعد میں خود ہندوستانی تحقیقات کے نتیجہ میںیہ بات سامنے آئی کہ اس وحشیانہ جرم میں حاضر سروس بھارتی فوجی افسر اور خفیہ ادارے براہ راست ملوث تھے۔ 
کرنل پروہت، میجر اپادھیا، سوامی اسیم آنند ،لوکیش شرما ،سند یپ ڈانگے،کمل چوہان کے خلاف یہ مقدمے تاحال جاری ہیں ۔اس کا ایک ملزم سنیل جوشی گرفتاری کے بعد پراسرار حالات میں قتل کر دیا گیا۔مبصرین کے مطابقmnt4 سنیل جوشی کو اس لیے قتل کر دیا گیاتا کہ منصوبے کے دیگر سرپرستوں کے نام نہ بتا سکے۔
لیکن 10فروری 2014کے ہندی اخبار بھاسکر میں نیوز رپوٹ شائع ہوئی تھی ۔جس میں ’’کارواں‘‘میگزین میں شائع سوامی آنند کے اس انٹرویو کی تفصیل شامل تھی جس میں اس نے خاتون صحافی’’لینا گیتا رگھوُناتھ ‘‘کو بتایا کہ اس سنگین جرم میں ’’ آر ایس ایس ‘‘ کے موجودہ سربراہ’’موہن بھاگوت‘‘کی رضامندی بھی شامل تھی۔یاد رہے کہ ’’ بی جے پی‘‘ ،’’ آر آر ایس ‘‘ کا سیاسی ونگ ہے اور اس حوالے سے موہن بھاگوت درحقیقت موجودہ بھارتی حکومت کے سر پرستِ اعلیٰ ہیں ۔ اس سے واضح ہو جاتا ہے کہ بھارت نے پاک فوج اور ’’ آئی ایس ایس ‘‘کے حوالے سے الزام تراشی کا جو بے بنیاد سلسلہ شروع کر رکھا ہے وہ حقائق کے بالکل برعکس ہے ۔ 
دوسری جانب 13 فروری کو وزیر اعظم نریندر مودی نے اپنے پاکستانی ہم منصب نواز شریف کو فون کیا اور ان سے دیگر باتوں کے علاوہ کہا کہ بھارتی سیکرٹری خارجہ پاکستان کا دورہ کرنے کے خواہش مند ہیں ۔ جواب میں پاکستان کی اعلیٰ قیادت کی جانب سے بھی بجا طور پر اس بھارتی پیش کش کا خیر مقدم کیا گیا ۔ اس تازہ پیش رفت کے ممکنہ محرکات کا جائزہ لیں تو بھارتی نقطہ نظر سے اس کے دو عوامل نظر آتے ہیں جن میں سے ایک تو بھارت کی داخلی صورتحال اور دوسری بین الاقوامی ۔ 
داخلی عوامل میں ایک تو دہلی کے حالیہ انتخابی نتائج ہیں جس میں ’’ بی جے پی ‘‘ کو بدترین شکست کا سامنا کرنا پڑا اور اکثر مبصرین متفق ہیں کہ ’’ بی جے پی ‘‘ کی شکست کی بنیادی وجوہات میں پاکستان کے حوالے سے جارحانہ پالیسی اور مسلمانوں اور عیسائیوں کے خلاف جاری مہم سرِ فہرست ہیں ۔ اس کی دوسری وجہ مقبوضہ کشمیر کے انتخابی نتائج ہیں کیونکہ ’’ بی جے پی ‘‘ ، ’’ پی ڈی پی ‘‘ کے ساتھ مل کر مقبوضہ ریاست کی صوبائی حکومت بنانے پر لگ بھگ تیار ہے اور اغلب امکان یہ ہے کہ 23 فروری تک یہ حکومت وجود میں آ جائے گی ۔ ’’ پی ڈی پی ‘‘ کی جانب سے ’’ بی جے پی ‘‘ کے ساتھ حکومت سازی کے لئے یہ شرط رکھی گئی تھی کہ پاکستان کے ساتھ پر امن مذاکرات کا آغاز کیا جائے اور غالباً اسی وجہ سے مودی نے مقبوضہ ریاست میں حکومت سازی کے لئے زمین ہموار کرنے کے لئے یہ قدم اٹھایا ہے ۔ 
خارجہ محرکات میں امریکی صدر اوبامہ کی جانب سے 27 جنوری کو دہلی میں اور 3 فروری کو امریکہ میں دو مختلف پروگراموں کے دوران بھارت میں جاری مذہبی انتہا پسندی کو ہدفِ تنقید بنانے کے ساتھ نیو یارک ٹائمز سمیت دیگر عالمی میڈیا کا کھل کر اس ضمن میں مودی کو ذمہ دار ٹھہرانا ۔
اس کے ساتھ یہ امر بھی اہم ہے کہ مودی کے فون کرنے سے محض 7 گھنٹے پہلے امریکی صدر اوبامہ نے پاکستانی وزیر اعظم کو فون کر کے آدھا گھنٹہ تک مذاکرات کیے اور امریکہ کی جانب سے خیر سگالی کا اظہار کیا گیا ۔ممکنہ طور پر مودی نے اوبامہ کے فون کی تقلید میں یہ قدم اٹھایا ۔ ان سب سے بڑھ کر چینی وزیر خارجہ کی پاکستان میں موجودگی کے موقع پر بھارت کی جانب سے یہ پیش رفت ظاہر کرتی ہے کہ عالمی طاقتوں کی جانب سے پاکستان سے تعلقات کی بحالی کے لئے موثر دباؤ موجود ہے ۔ 
اسی کے ساتھ ساتھ ’’ آئی ایس پی آر ‘‘ کے سربراہ میجر جنرل عاصم سلیم باجوہ نے 12 فروری کو واضح الفاظ میں کہا ہے کہ بلوچستان ، فاٹا اور پاکستان کے دیگر علاقوں میں جاری دہشتگردی بھارت کے ایما پر جاری ہے ۔ ان کے مطابق آپریشن ضربِ عضب کو ناکام بنانے کے لئے بھارت ایک جانب’’ ایل او سی ‘‘ اور سرحدوں پر اشتعال انگیزی کر رہا ہے اور دوسری جانب پاکستان کے اندر دہشتگردی کو ہر طرح سے فروغ دیا جا رہا ہے جس کے نتائج خطرناک ثابت ہوں گے ۔ 
اس تمام صورتحال میں توقع کی جانی چاہیے کہ بھارت اپنے مجموعی رویہ میں تعمیری تبدیلی لائے گا اگرچہ حقیقی معنوں میں اس کا امکان کم ہے پھر بھی اس خوش گمانی میں کوئی حرج نہیں کہ شاید بھارت اپنے داخلی مسائل اور عالمی رائے عامہ کے دباؤ پر اپنی دیرینہ روش میں خاطر خواہ ڈھنگ سے نظرثانی کرے گا ۔ مگر پاکستان کی حکومت ، عوام اور سول سوسائٹی کو دہلی کی ماضی کو مدِ نظر رکھتے ہوئے انتہائی محتاط اور مضبوط موقف اپنانا ہو گا کیونکہ گذشتہ چند ماہ سے پاکستان کی اسی حکمتِ عملی کی وجہ سے مودی کو مجبور ہو کر سیکرٹری خارجہ مذاکرات پر آمادہ ہونا پڑا ہے ۔ 

پندرہ فروری کو نوائے وقت میں شائع ہوا ۔ 
(مندرجہ بالا تحریر مصنف کے ذاتی خیالات ہیں جس کے لئے اسلام آباد پالیسی ریسرچ انسٹی ٹیوٹ یا کوئی بھی دوسرا ادارہ ذمہ دار نہیں )

RELATED
ARTICLES.

Scroll to Top

Search for Journals, publications, articles and more.

Subscribe to Our newsletter