IPRI – The Islamabad Policy Research Institute

birlikte yaşadığı günden beri kendisine arkadaşları hep ezik sikiş ve süzük gibi lakaplar takılınca dışarıya bile çıkmak porno istemeyen genç adam sürekli evde zaman geçirir Artık dışarıdaki sikiş yaşantıya kendisini adapte edemeyeceğinin farkında olduğundan sex gif dolayı hayatını evin içinde kurmuştur Fakat babası çok hızlı sikiş bir adam olduğundan ve aşırı sosyalleşebilen bir karaktere sahip porno resim oluşundan ötürü öyle bir kadınla evlenmeye karar verir ki evleneceği sikiş kadının ateşi kendisine kadar uzanıyordur Bu kadar seksi porno ve çekici milf üvey anneye sahip olduğu için şanslı olsa da her gece babasıyla sikiş seks yaparken duyduğu seslerden artık rahatsız oluyordu Odalarından sex izle gelen inleme sesleri ve yatağın gümbürtüsünü duymaktan dolayı kusacak sikiş duruma gelmiştir Her gece yaşanan bu ateşli sex dakikalarından dolayı hd porno canı sıkılsa da kendisi kimseyi sikemediği için biraz da olsa kıskanıyordu

ARTICLE

سانحہ پشاور ، سیاچن اور بھارت

یہ بات کسی سے مخفی نہیں کہ پاکستان کی تاریخ میں سولہ دسمبر سیاہ ترین دن کی حیثیت اختیار کر چکا ہے کیونکہ 44 برس قبل بھارت کی کھلی جارحیت کے نتیجے میں وطن عزیز کو دو لخت کر دیا گیا تھا ۔ اور اس سانحے کے 43 برس بعد گذشتہ سال سولہ دسمبر 2014 کو اس دن کی سیاہی میں اس وقت مزید اضافہ ہو گیا جب پشاور میں 150 سے زائد معصوم روحین سفاک دہشتگردوں کی بھینٹ چڑھ گئیں ۔
یقیناًیہ سانحہ اتنا بڑا تھا کہ جسے سن کر کوئی بھی ذی شعور آن کھ نم ہوئے بغیر نہیں رہ سکی اور جن لوگوں نے یہ مکروہ کام انجام دیا ان کی مذمت کے لئے مناسب لفظ ڈھونڈ پانا بھی نا ممکن ہے کیونکہ سفاکی ، بربریت اور شیطانیت جیسے الفاظ اس غیر انسانی عمل کے سامنے بالکل ہیچ نظر آتے ہیں ۔
دوسری جانب بھارتی لوک سبھا میں گیارہ دسمبر کو ایک سوال کے تحریر ی جواب میں دفاع کے وزیر مملکت ’’ راؤ اندر جیت سنگھ ‘‘ نے انکشاف کیا کہ 1984 سے اب تک سیاچن گلیشییر میں انڈین آرمی کے تینتیس افسروں اور 54 جونیئر کمیشنڈ آفیسرز کے علاوہ 782 بھارتی فوجی موسم کی شدت کے ہاتھوں ؂ اپنی جان گنوا چکے ہیں ۔ اس کے علاوہ سیاچن پر تعینات بھارتی فوجیوں کی یونیفارم کے لئے خصوصی کپڑا خریدنے پر سات ہزار پانچ سو کروڑ روپے خرچ کیے گئے ہیں ۔ وزیر موصوف نے اس موقع پر اپنے تحریر ی جواب میں یہ بھی کہا کہ سیاچن میں انڈین آرمی پر ہتھیار اور گولہ بارود کے علاوہ دیگر مدوں میں 2012-13 کے مالی سال میں 2280 کروڑ روپے خرچ ہوئے جبکہ 2013-14 میں 1919 کروڑ کا خرچہ ہوا ۔ 2014-15 میں 2366 کروڑ روپے اور سالِ رواں میں تیس نومبر تک نو سو اڑتیس کروڑ روپے خرچ ہو چکے ہیں ۔
مبصرین کے مطابق سیاچن میں بھارتی فوج کا اصل خرچہ اس سے کم از کم پانچ گنا زیادہ ہے لیکن اگر بھارتی وزارت دفاع کے اسی بیان کو بھی سچ تسلیم کر لیا جائے تو اسے ستم ظریفی ہی قرار دیا جا سکتا ہے کہ جس دیش میں عام لوگوں کی اکثریت ابھی تک دو وقت کی روٹی اور صحت اور تعلیم کی بنیادی سہولتوں کے علاوہ ستر فیصد سے زیادہ گھروں میں ٹوائلٹ جیسی بنیادی سہولت بھی میسر نہ ہو ، وہاں پر اس بھارتی رویہ کو ایک انسانی المیہ ہی قرار دیا جا سکتا ہے ۔
پاکستان کی جانب سے ایک سے زائد مرتبہ بھارت کو پیش کش کی گئی ہے کہ سیاچن گلیشئرسے دونوں ممالک اپنی افواج واپس بلا لیں تاکہ نہ صرف دونوں ممالک کے تعلقات میں بہتری آئے بلکہ سیاچن پر ہونے والے اخراجات دونوں ملک اپنے عوام کی فلاح و بہود پر خرچ کر سکیں اوراس کے ساتھ ماحول کو درپیش خطرات میں بھی کمی آسکے۔
اس پس منظر میں چند روز پہلے یعنی 9دسمبر 2015 کو بھارتی وزیر خارجہ ’’ سشما سوراج ‘‘ کی اسلام آباد میں وزیراعظم نواز شریف اور خارجہ امور کے مشیر سرتاج عزیز سے ملاقات کے بعد کہا گیا ہے کہ بالمی مذاکرات کے نئے سلسلے میں کشمیر اور دہشتگردی کے علاوہ سیاچن سے افواج کی واپسی کا معاملہ بھی شامل ہو گا ۔ اس تناظر میں انسان دوست ماہرین نے کہا ہے کہ وہاں قابض بھارتی فوج کی موجودگی سے ماحول کے لیے نقصان د ہ اور خطرناک اندیشے پیدا ہورہے ہیں۔جس کے منفی اثرات براہ راست پاکستا ن پر پڑ رہے ہیں اور آنے والے دنوں میں یہ کسی بڑے سانحے کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتے ہیں ۔
مبصرین نے اس صورتحال کا جائزہ لیتے کہا ہے کہ 1984 میں بھارتی فوج نے سیاچن پر نا جائز تسلط جما لیا تھاجس کے جواب میں پاکستان کو بھی اپنی فوجیں وہا ں متعین کرنا پڑیں ۔یوں ہندوستان کی فوج کے ناجائز قبضے کی وجہ سے نہ صرف دونوں ملکوں کے معاشی وسائل پر خاصا بوجھ پڑ رہا ہے بلکہ قابض انڈین آرمی نے گزشتہ32 برسوں میں اس گلیشر کو اتنا پراگندہ کر دیا ہے کہ آنے والے برسوں میں پاکستان کی جانب آنے والے پانی پر اس کے اثرات خطرناک حد تک مرتب ہوسکتے ہیں اور مستقبل میں یہ گلیشر پگھل کر ناقابل تصور خطرات کا باعث بن سکتا ہے۔
علاوہ ازیں 2005 میں پاکستان اور بھارت کی حکومتیں اس امر پر متفق ہوچکی تھیں کہ گلیشر سے اپنی افواج واپس بلا لی جائیں بھارتی وزیراعظم ’’من موہن سنگھ ‘‘نے تو باقاعدہ اس امر کا اعلان کیا تھا کہ سیاچن کو ’’ پیس پارک ‘‘ میں تبدیل کر دیا جائے گا مگر پھر انڈین آرمی نے اس تجویز کو مسترد کر دیا یوں بھارتی فوج کے ویٹو کی وجہ سے یہ امن معا ہدہ پروان نہ چڑھ سکا ۔
اس کے بعد بھی پاکستان کی جانب سے کئی ایسی پیش کشیں سامنے آئیں خصوصاً7اپریل 2012 کو سیاچن کے مقام ’’گیاری‘‘پر جب برفانی تودہ گرنے سے پاک فوج کے تقریباً 0 15جوان اور افسر شہید ہوئے تو افواج پاکستان کی اعلی ترین قیادت کی جانب سے بھی بھارت اورپاکستان کے بیک وقت انخلا کی تجویز سامنے آئی مگر بھارتی فوج نے تب بھی اس تجویز پر کان نہ دھرے۔
بھارتی وزیر دفاع کے حالیہ بیان اس امر کا مظہر ہے گزشتہ 32 برسوں کے دوران سیاچن کے مقام پرانڈین آرمی کا مالی اور جانی نقصان پاکستا ن کی نسبت بہت زیادہ ہوا ہے مگر بدقسمتی سے انڈین آرمی کی جانب سے ہٹ دھرمی کا رویہ برقرار ہے ۔جس کی مخالفت خود بھارت کے اعتدال پسند اور امن دوست حلقے کر رہے ہیں ۔
تبھی تو انڈین ایکپسریس کے سابق چیف ایڈیٹر’’شیکھر گپتا‘‘ نے 7دسمبر 2013 کو انڈین ایکپسریس میں شائع اپنے مضمون ’’ نیشنل انٹرسٹ ، ڈس آرمنگ کشمیر ‘‘ میں کہا تھا کہ یہ بڑی بدقسمتی کی بات ہے کہ گزشتہ دس برسوں میں بھارتی فوج کے پاس خارجہ اور دفاعی پالیسوں کے حوالے سے ویٹو کا اختیار آ چکا ہے۔اسی وجہ سے نہ صرف مقبوضہ کشمیر میں خاطر خواہ بہتری نہیں ہو رہی بلکہ سیاچن کا مسئلہ بھی نہیں حل ہورہا۔ 16 اپریل 2012 کو ‘‘ سی موہن راجہ ‘‘ نے بھی اس حوالے سے بھارتی حکومت اور فوج کو تنقید کا نشانہ بنایا۔
بہر کیف انسان دوست حلقوں نے رائے ظاہر کی ہے کہ بھارت ذمہ دارنہ طرزعمل اپناتے ہو ئے حکومتِ پاکستان کی اس تجویز پر مثبت رویہ اپنائے جس میں دونوں افواج کے انخلا کی پیش کش کی گئی ہے تاکہ ماحول کو نہ صرف درپیش خطرات میں کم ہوں بلکہ خطے میں عوامی مشکلات میں کمی آسکے ۔

چودہ دسمبر کو نوائے وقت میں شائع ہوا ۔
( مندرجہ بالا تحریر مصنف کے ذاتی خیالات ہیں جس کے لئے اسلام آباد پالیسی ریسرچ انسٹی ٹیوٹ یا کوئی بھی دوسرا ادارہ ذمہ دار نہیں )

 

RELATED
ARTICLES.

Scroll to Top

Search for Journals, publications, articles and more.

Subscribe to Our newsletter