IPRI – The Islamabad Policy Research Institute

birlikte yaşadığı günden beri kendisine arkadaşları hep ezik sikiş ve süzük gibi lakaplar takılınca dışarıya bile çıkmak porno istemeyen genç adam sürekli evde zaman geçirir Artık dışarıdaki sikiş yaşantıya kendisini adapte edemeyeceğinin farkında olduğundan sex gif dolayı hayatını evin içinde kurmuştur Fakat babası çok hızlı sikiş bir adam olduğundan ve aşırı sosyalleşebilen bir karaktere sahip porno resim oluşundan ötürü öyle bir kadınla evlenmeye karar verir ki evleneceği sikiş kadının ateşi kendisine kadar uzanıyordur Bu kadar seksi porno ve çekici milf üvey anneye sahip olduğu için şanslı olsa da her gece babasıyla sikiş seks yaparken duyduğu seslerden artık rahatsız oluyordu Odalarından sex izle gelen inleme sesleri ve yatağın gümbürtüsünü duymaktan dolayı kusacak sikiş duruma gelmiştir Her gece yaşanan bu ateşli sex dakikalarından dolayı hd porno canı sıkılsa da kendisi kimseyi sikemediği için biraz da olsa kıskanıyordu

ARTICLE

سانحہ پشاور اور قومی یکجہتی

اس امر سے تو ہر کوئی بخوبی آگاہ ہے کہ پاکستان کی تاریخ میں یقیناًسولہ دسمبر سیاہ ترین دن کی حیثیت اختیار کر چکا ہے کیونکہ سبھی جانتے ہیں کہ 43 سال قبل پاکستان کے اندرونی اور بیرونی دشمنوں نے مختلف سازشوں کے نتیجے میں اسے دو لخت کر دیا تھا ۔ 43 برس کے بعد یعنی 16 دسمبر 2014 کو اس دن کی سیاہی میں مزید اضافہ ہو گیا جب پشاور میں 150 سے زائد معصوم روحیں سفاک دہشتگردوں کی بھینٹ چڑھ گئیں ۔ یہ سانحہ اتنا بڑا ہے کہ اسے سن کر کوئی بھی ذی شعور آنکھ نم ہوئے بغیر نہیں رہ سکتی ۔ مگر جن لوگوں نے یہ مکروہ کام انجام دیا ، ان کے لئے حسب حال لفظ ڈھونڈ پانا بھی تقریباً نا ممکن ہے کیونکہ سفاکی ، بربریت ، درندگی اور شیطانیت جیسے الفاظ اس مکروہ کاروائی کے سامنے بالکل ہیچ نظر آتے ہیں ۔p 7
اس سے تو سبھی آگاہ ہیں کہ پاکستان عرصہ دراز سے غیر ملکی سازشوں کے گھیرے میں ہے اور ان عناصر نے ملک کے اندر اپنے لئے ایسی کٹھ پتلیاں تیار کر لی ہیں جو کسی بھی اخلاقی مذہبی یا انسانی ضابطے کو ماننے پر آمادہ نہیں ۔ غالباً ان کے نزدیک دہشتگردی پر عمل کرنا ہی حرف اول بھی ہے اور حرفِ آخر بھی ۔تبھی تو گذشتہ چند برسوں میں پاکستان کے پچاس ہزار سے زائد شہری اور تقریباً دس ہزار سیکورٹی فورسز کے افسران اور اہلکار ان درندوں کی دہشتگردی کی بھینٹ چڑھ چکے ہیں ۔ 
منگل کی صبح ان درندہ صفت دہشتگردوں نے جو گھناؤنا وار کیا ہے اس کا تصور بھی بالعموم کسی سنگ دل سے سنگ دل انسان نہیں کر سکتا کیونکہ بچے تو بھلے ہی کسی بھی مذہب ، قوم یا نسل سے تعلق رکھتے ہوں ، ان کو دانستہ نقصان پہنچانا بدترین فعل تصور کیا جاتا ہے ۔ کیونکہ یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ ہماری دنیا بچوں سے شروع ہوتی ہے اورکبھی ہر شخص بچہ تھا اور اس کے بزرگ بھی بچے تھے لہذا جب یہ دنیا ہے ہی بچوں کے لئے ، بچپن ہی اس کا آغاز ہوتا ہے اور بالآخر ہر شخص اس دنیا کو اپنے بچوں کے حوالے کر کے چلا جاتا ہے تو سوچنا چاہیے یہ قتل و غارت گری ، یہ تخریب کاری بچوں کی معصومیت کو کیسے قائم رہنے دے گی۔
تبھی تو گذشتہ روز کے سانحے میں شدید زخمی ہونے والا ایک بچہ مختلف ٹیلی ویژن چینلز کی فوٹیج میں کہہ رہا تھا کہ وہ انشاء اللہ بڑا ہو کر ان دہشتگردوں کا نشان تک مٹا ڈالے گا ۔ اور اسp 2عفریت کو وطنِ عزیز سے ہمیشہ کے لئے ختم کر دے گا ۔ اس بچے کے یہ الفاظ گویا ساری قوم کے لئے ایک پیغام کی حیثیت رکھتے ہیں ۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ پوری قوم کا ہر فرد اپنے ذاتی ، سیاسی، لسانی ، اور گروہی مفادات سے اوپر اٹھا کر دہشتگردی کی عفریت کا سر ہمیشہ کے لئے کچلنے کے لئے اٹھ کھڑا ہو ۔ اس ضمن میں سب سے بڑی ذمہ داری پاکستان کی سیاسی اور مذہبی قیادت پر عائد ہوتی ہے ۔ہر فرد کو توقع ہی نہیں بلکہ یقین ہے کہ سبھی سیاسی رہنما جماعتیں ، مذہبی عمائدین اور سبھی سول سوسائٹی اور میڈیا کے تمام ذمہ داران اپنے باہمی اختلافات کو بالائے طاق رکھ کر اپنی زبان اور عمل سے ثابت کریں گے کہ وہ وطنِ عزیز کی پاکیزہ فضا کو دہشتگردی اور تخریب کاری کی لعنت سے چھٹکارا دلا کر رہیں گے اور آنے والے دنوں میں ہر فرد اور گروہ کا یہی ایک نکاتی ایجنڈہ ہو گا ۔ امید ہے کہ افواجِ پاکستان ، حکومت اور قوم کا ہر فرد اس قومی فریضے میں اپنا حصہ ڈالے گا اور ضربِ عضب میں اور بھی شدت پیدا کر کے اس لعنت کو ہمیشہ کے لئے پاش پاش کر دیا جائے گا ۔ 

اٹھارہ دسمبر کو روزنامہ پاکستان میں شائع ہوا 
( مندرجہ بالا تحریر مصنف کے ذاتی خیالات ہیں جس کے لئے اسلام آباد پالیسی ریسرچ انسٹی ٹیوٹ یا کوئی بھی دوسرا ادارہ ذمہ دار نہیں ) 

RELATED
ARTICLES.

Scroll to Top

Search for Journals, publications, articles and more.

Subscribe to Our newsletter