IPRI – The Islamabad Policy Research Institute

birlikte yaşadığı günden beri kendisine arkadaşları hep ezik sikiş ve süzük gibi lakaplar takılınca dışarıya bile çıkmak porno istemeyen genç adam sürekli evde zaman geçirir Artık dışarıdaki sikiş yaşantıya kendisini adapte edemeyeceğinin farkında olduğundan sex gif dolayı hayatını evin içinde kurmuştur Fakat babası çok hızlı sikiş bir adam olduğundan ve aşırı sosyalleşebilen bir karaktere sahip porno resim oluşundan ötürü öyle bir kadınla evlenmeye karar verir ki evleneceği sikiş kadının ateşi kendisine kadar uzanıyordur Bu kadar seksi porno ve çekici milf üvey anneye sahip olduğu için şanslı olsa da her gece babasıyla sikiş seks yaparken duyduğu seslerden artık rahatsız oluyordu Odalarından sex izle gelen inleme sesleri ve yatağın gümbürtüsünü duymaktan dolayı kusacak sikiş duruma gelmiştir Her gece yaşanan bu ateşli sex dakikalarından dolayı hd porno canı sıkılsa da kendisi kimseyi sikemediği için biraz da olsa kıskanıyordu

ARTICLE

!سلک روٹ ، پاکستان اور مغربی دانشور ۔ ۔ ۔

تحریر : ڈیڈیئر شودت
اس مختصرتحریر کے ذریعے انیس کروڑ اٹھائیس لاکھ افراد پر مشتمل ملک ’’ پاکستان ‘‘ کی بابت سمجھنے اور سوچنے کی سعی کی گئی ہے ۔ آگے بڑھنے سے پہلے پاکستان کے جغرافیے کو جاننا ضروری ہے ۔ یہ ملک یوریشیا ، مشرق وسطیٰ اور بھارت کے درمیان واقع ہے ۔ حقیقت میں اس ملک کی حیثیت ایک محور جیسی ہے ۔ چین کی خواہش پر بننے والے نیو سلک روٹ اور ایشیاء کے استحکام کے لئے پاکستان بنیادی اہمیت کا حامل ہے ۔ اس ملک کو سمجھنے کے لئے مندرجہ ذیل نکات ذہن نشین رکھنا ضروری ہے ۔
زیر نظر تحریر کا مصنف کافی عرصہ ذاتی طور پر پاکستان میں رہا اور وہاں اعلانیہ طور پر عیسائی مذہب کے ماننے والے کی حیثیت سے مقیم رہا ۔ مگر عیسائی ہونے کی وجہ سے اسے کسی دقت کا سامنا نہیں کرنا پڑا ۔ حالانکہ جنوبی ایشیائی خطے میں عیسائی اقلیتوں کو یقیناًکچھ مسائل کا سامنا رہتا ہے ( خواہ بھارت میں ہندو انتہا پسندوں کی جانب سے یا پھر پاکستان میں شدت پسند مسلمانوں کی جانب سے ) ۔ ان شدت پسندوں کا نشانہ وہ مسلمان بھی بنتے ہیں جو جمہوریت کو بخوبی قبول کرتے ہیں ۔ پاکستان میں حملے کرنے والے دہشتگرد گروہوں کی مماثلت غالباً’’ کمبوڈیا ‘‘ کے بُدھسٹ کھیمر شدت پسندوں سے کی جا سکتی ہے جو مذہب کی بابت اپنا نظریہ پوری سوسائٹی پر تھوپنا چاہتے ہیں ۔ اور موجودہ پاکستانی معاشرے کو تباہ کرنے کے درپے ہیں اور ریاست کو عدم استحکام کا نشانہ بنانے کے خواہش مند ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ وہ پاک فوج کو نشانہ بناتے ہیں جو اس ریاست اور معاشرے میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے اس لئے ضروری ہے کہ بیرونی دنیا بھاری اکثریت پر مشتمل عام پاکستانیوں اور جہادی شدت پسندوں کو ایک جیسی سوچ کے حامل نہ سمجھے ۔ کیونکہ پاکستان کے عام شہری گذشتہ ایک عشرے سے دہشتگردی کے خلاف عالمی جنگ کی وجہ سے شدت پسندوں کے نشانے پر ہیں اور یہ دہشتگرد یقیناًرجعت پسندانہ شدید نظریات کے حامل ہیں ۔ اس لئے عالمی میڈیا کی توجہ با آسانی حاصل کرنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں ۔
مگر بیرونی دنیا یہ بھول جاتی ہے کہ یہ دہشتگرد گروہ اپنی تمام تر کوشش کے باوجود مساجد اور عوام کی اکثریت کو اپنا ہم نوا بنانے میں ناکام رہے ہیں اور میدان جنگ میں انھیں پاک فوج کے ہاتھوں ہذیمت کا سامنا ہے ۔ اسی وجہ سے یہ شدت پسند گروہ جھنجھلا کر تعلیمی اداروں اور ایسٹر جیسے تہواروں پر پارکوں اور دیگر پبلک مقامات پر نہتے شہریوں کو اپنا نشانہ بنا رہے ہیں ۔ یوں جیو پولیٹیکل لحاظ سے ہمیں نئے حقائق سے آگاہی حاصل کرنا ہو گی ۔
پاکستان 1947 میں وجود میں آیا ۔ 1947 تا 1948 بھارت سے انتہائی بد ترین اور متشدد ماحول میں اس کی علیحدگی عمل میں آئی مگر کشمیر جسے پاکستان کا حصہ بننا ہے یا پھر آزاد ملک کے طور پر وجود میں آنا ہے وہ تا حال آزاد نہیں ہو پایا کیونکہ پہلی پاک بھارت لڑائی میں بھارت نے اس پر قبضہ کر لیا تھا ۔ علاوہ ازیں افغانستان نے شروع ہی سے اقوام متحدہ میں پاکستان کی رکنیت حاصل کرنے کے معاملے میں رکاوٹیں کھڑی کیں کیونکہ وہ بھی پاکستان کے ایک حصے پر قبضے کا خواہش مند تھا ۔
اور پاک بھارت تیسری لڑائی میں بھارت نے قوت کے زور پر پاکستان کے ایک حصے کو الگ کر دیا جو اب بنگلہ دیش کے نام سے الگ ملک ہے ۔ اسی وجہ سے جنوبی ایشیاء کے یہ دونوں ملک یعنی بھارت اور افغانستان اسلام آباد کو اپنا مخالف گردانتے ہیں ۔ اسی پس منظر میں پاکستان کے سٹریٹجک مفادات بھی وابستہ ہیں اور اگر عالمی برادری خصوصاً مغرب دنیا کے اس خطے میں امن و استحکام کا حقیقی خواہش مند ہے تو اسے کسی بھی طور ان دونوں مسائل یعنی کشمیر اور افغانستان کا کوئی پائیدار حل ڈھونڈنا ہو گا ۔
یہی آخری نکتہ اس امر کا مظہر ہے کہ بظاہر آنے والے دنوں میں اس خطے کو پوری طرح پر امن دیکھ پانا مشکل ہو گا ۔ حالانکہ بر صغیر جہاں بہت سی ثقافتی مماثلتیں اور تضادات پائے جاتے ہیں اسی لئے بھارت اور پاکستان میں جیو پولیٹکس اور انسانیت باہم متصادم ہیں ۔ لہذ ا ہر ذی شعور کو بین الاقوامی تعلقات کے ضمن میں اتنا حقیقت پسند ہونا چاہیے کہ وہ صورتحال کو اس کے صحیح پس منظر میں سمجھے اور قبول کرے تبھی حالات کا بہتر تجزیہ ممکن ہو سکتا ہے ۔ یعنی اس خطے میں ایسی ریاستیں ہیں جہاں قانون کی صحیح حکمرانی نہیں ۔ جہاں کچھ طاقتور ہیں اور کچھ کمزور لہذااقتدار کی رسہ کشی ، اثر رسوخ اور بالا دستی کے حصول کی سیاسی کشمکش کے اس کھیل میں بالعموم عالمی امن و استحکام اور انسان بطور چارہ استعمال ہوتے ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ وہ دنیا کو نارمل طر یقے سے چلتے دیکھنے کے خواہش مند نہیں ۔
مگر بہر حال ان مسئلوں کا حل ہونا چاہیے بشر طیکہ دلیل اور منطق حاوی ہو لیکن اگر انسانی قدروں کو نقصان پہنچانے کی خواہش ہی حاوی ہو تو یہ روش انسانیت کو نقصان پہنچاتی ہے اور اگر ترجیحات میں صرف جغرافیائی سلامتی اور استحکام ہو تو اسے شاید انسانی حوالے سے تعمیری قرار نہیں دیا جا سکتا ۔
کیونکہ کہ مجوزہ سلک روٹ اور جنوبی ایشیاء کے اس خطے میں بیک وقت دہشتگردوں ، چین اور بہت سی قوتوں کے مفادات شاید وابستہ ہیں تو بد قسمتی سے ان محرکات نے ساری تصویر کو نیا رنگ دے دیا ہے ۔ اور انسانی قدریں کہیں کھو سی گئی ہیں ۔ مثلاً 1999 کا ذکر ہے کہ محمد جاوید نامی ہندوستانی نو جوان مسلم اقلیت سے تعلق رکھتا تھا اور اس کے بعض عزیز و اقارب کراچی میں رہتے تھے اور اسی دوران یہ جاوید اپنی والدہ کے ساتھ اپنے عزیزوں سے ملنے پاکستان گیا جہاں وہ ایک لڑکی سے ملا ۔ دونوں میں ربط و ضبط بڑھا جس نے محبت کی شکل اختیار کر لی ۔ وہ خاصا عرصہ فون وغیرہ کے ذریعے اس لڑکی سے رابطے میں رہا ۔ واپسی پر اس نے اپنے خاندان سے شادی کی بات کی ۔ شروع میں لڑکی کے والدین چاہتے تھے کہ وہ پاکستان میں آ کر رہے جبکہ جاوید کے والدین کی خواہش اس کے الٹ تھی ۔
آخر کار دونوں خاندانوں میں باہمی رضا مندی سے طے پایا کہ گڑیا نامی یہ لڑکی جاوید کے ساتھ ہندوستان میں ہی رہے گی ۔ لیکن تبھی حالات نے ایک نیا رخ اختیار کر لیا اور بھارتی سیکورٹی فورسز نے جاوید کو پاکستانی جاسوس قرار دیتے ہوئے گرفتار کر لیا اور بھارتی میڈیا کے سامنے بغیر کسی ثبوت کے دہشتگرد کے طور پر پیش کیا حالانک ااس بے چارے کا ایسے معاملات سے دور کا بھی تعلق نہیں تھا ۔ مگر چونکہ کارگل تنازعے کے بعد سے دونوں ممالک کے مابین سفر کرنے والوں کو مشکوک سمجھا جانے لگا تھا اس وجہ سے اس نوجوان کو گرفتار کرنا کوئی مشکل کام نہ تھا ۔ کیونکہ بھارتی حکام کا دعویٰ تھا کہ وہ دہشتگردی کے خلاف جنگ لڑ رہے ہیں ۔
بہر کیف جاوید ساڑھے گیارے سال تک جیل کی سلاخوں کے پیچھے رہا اور بالآخر خوش قسمتی سے ’’ بھارتی انصاف ‘‘ کے نتیجے میں اٹھارہ جنوری 2014 کو عدالت نے اسے بے گناہ قرار دیتے ہوئے بری کر دیا مگر تب تک یقیناًبہت دیر ہو چکی تھی ۔ وہ اپنی جوانی کے ساڑھے گیارہ سال جیل میں گزار چکا تھا اور اس دوران ہر قسم کا تشدد اور ذلت برداشت کرتا رہا ۔ مگر ایسا کیوں ہوا کیونکہ ریاست ہمسایہ ملک کے ساتھ حالت جنگ میں تھی ۔ لاتعداد دوسرے لوگوں کی مانند اس پر ہونے والے مظالم کی بھی کسی حوالے سے تلافی نہ کی گئی کیونکہ وہ دو ملکوں میں جاری دہشتگردی کے خلاف جنگ میں سہولت کار قرار دیا گیا تھا ۔ اگرچہ وہ اپنی زندگی دوبارہ شروع کرنے کی کوشش کر رہا ہے مگر لا تعداد لوگ ایسے حالات سے گذرنے کے بعد سچ مچ میں دہشتگرد بن چکے ہیں ۔ اس حوالے سے یہ غالباً سیکورٹی کا نیا اور منفرد پہلو ہے ۔ بہر کیف اس ساری صورتحال کے انسانی پہلوؤں پر بھی توجہ دی جانی چاہیے ۔
تحریر : ڈیڈیئر شودت : فرانس کے صحافتی اور تحقیقی حلقوں میں یہ مغربی مصنف ایک معتبر نام کے حامل ہیں ۔ وہ افغانستان ، پاکستان ، ایران اور وسطی ایشیائی امور کے ماہر ہیں اور ’’ سینٹر فار انیلے سس آف فارن افیئرز ‘‘ میں ڈائریکٹر ایڈیٹنگ کے طور پر کام کر رہے ہیں ۔ اس کے علاوہ وہ مختلف اوقات میں ’’ نیشنل انسٹی ٹیوٹ فار ساوتھ ایشین سٹڈیز سنگا پور ‘‘ ، ’’ پیرس کے انسٹی ٹیوٹ آف پولیٹیکل سٹڈیز ‘‘ ، ’’ didier-chaudet-iran-mفرنچ انسٹی ٹیوٹ فار انٹر نیشنل ریلیشنز ‘‘ اور ’’ یالے یونیورسٹی ‘‘ میں تحقیق و تدریس کے شعبوں سے وابستہ رہے اور ’’ اپری ‘‘ ( اسلام آباد پالیسی ریسرچ انسٹی ٹیوٹ ) سے ’’ نان ریزیڈنٹ سکالر ‘‘ کے طور پر وابستہ ہیں ۔ ( ترجمہ : اصغر علی شاد ) ‘‘۔
انیس جون کو روز نامہ پاکستان میں شائع ہوا ۔
( مندرجہ بالا تحریر مصنف کے ذاتی خیالات ہیں جن کے لئے اسلام آباد پالیسی ریسرچ انسٹی ٹیوٹ یا کوئی بھی دوسرا ادارہ ذمہ دار نہیں )

 

RELATED
ARTICLES.

Scroll to Top

Search for Journals, publications, articles and more.

Subscribe to Our newsletter