IPRI – The Islamabad Policy Research Institute

birlikte yaşadığı günden beri kendisine arkadaşları hep ezik sikiş ve süzük gibi lakaplar takılınca dışarıya bile çıkmak porno istemeyen genç adam sürekli evde zaman geçirir Artık dışarıdaki sikiş yaşantıya kendisini adapte edemeyeceğinin farkında olduğundan sex gif dolayı hayatını evin içinde kurmuştur Fakat babası çok hızlı sikiş bir adam olduğundan ve aşırı sosyalleşebilen bir karaktere sahip porno resim oluşundan ötürü öyle bir kadınla evlenmeye karar verir ki evleneceği sikiş kadının ateşi kendisine kadar uzanıyordur Bu kadar seksi porno ve çekici milf üvey anneye sahip olduğu için şanslı olsa da her gece babasıyla sikiş seks yaparken duyduğu seslerden artık rahatsız oluyordu Odalarından sex izle gelen inleme sesleri ve yatağın gümbürtüsünü duymaktan dolayı kusacak sikiş duruma gelmiştir Her gece yaşanan bu ateşli sex dakikalarından dolayı hd porno canı sıkılsa da kendisi kimseyi sikemediği için biraz da olsa kıskanıyordu

ARTICLE

!سولہ دسمبر ۔۔۔ تا ۔۔۔ سولہ دسمبر

غیر جانبدار مبصرین نے رائے ظاہر کی ہے کہ بھارتی حکمران نہ صرف کشمیریوں کے خلاف بھیانک انسانی جرائم میں ملوث ہیں بلکہ تمام عالمی ضابطوں اور بین الاقوامی قوانین اور روایات کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ہمسایہ ممالک میں مسلح مداخلت کے بھی مرتکب ہوتے رہتے ہیں ۔اس امر کی سنگین ترین مثال 16دسمبر 1971 کو پاکستان کو قوت اور سازشوں کے بل پر دو لخت کرنا ہے۔یہ بات کسی سے بھی غالباً مخفی نہیں کہ پاکستان کی تاریخ میں سولہ دسمبر سیاہ ترین دن کی حیثیت اختیار کر چکا ہے کیونکہ 47 برس قبل بھارت کی کھلی جارحیت کے نتیجے میں وطن عزیز کو دو لخت کر دیا گیا تھا ۔ اور اس سانحے کے 43 برس بعد سولہ دسمبر 2014 کو اس دن کی سیاہی میں اس وقت مزید اضافہ ہو گیا جب پشاور میں 150 سے زائد معصوم روحیں سفاک دہشتگردوں کی بھینٹ چڑھ گئیں ۔
اس صورتحال کا جائزہ لیتے مبصرین نے کہا ہے کہ یہ امر انتہائی توجہ کا حامل ہے کہ حالیہ دنوں میں ہندوستان کی پاکستان کے خلاف جاری دیرینہ سازشوں میں سرعت کے ساتھ اضافہ ہو ا ہے جس کا ثبوت اس امر سے ملتا ہے کہ چھ اور سات جون 2015 کو اپنے دورہ بنگلہ دیش کے دوران بھارتی وزیر اعظم مودی نے کھل کر اس امر کا اعتراف کیا تھا کہ مشرقی پاکستان کی علیحدگی اور بنگلہ دیش کے قیام کی خاطر بھارتی فوج نے اپنا خون بہایا ہے اور پاکستان کو دو لخت کرنے کے اس عمل پر مودی سمیت ہر بھارتی کو فخر ہے ۔
ماہرین نے کہا ہے کہ یوں تو اس کھلے راز سے ہر کوئی بخوبی آگاہ تھا کہ پاکستان کو توڑنے میں میں بنیادی کردار ہندوستان اور بھارتی فوج نے ہی ادا کیا تھا مگر ہندوستان کے وزیر اعظم نے ڈھاکہ میں اپنے اعترافی بیان میں جس انداز میں بین الاقوامی قوانین کا کھلم کھلا تمسخر اڑاتے ہوئے اس مکروہ جرم پر شرمندہ ہونے کی بجائے اس کا کریڈٹ لینے کی کوشش کی وہ اتنا قابلِ مذمت ہے جس پر تنقید کرنے کے لئے بھی مناسب الفاظ کا ڈھونڈ پانا خاصا مشکل ہے ۔
اس صورتحال میں اقوامِ متحدہ سمیت عالمی برادری کی موثر قوتوں کو آگے بڑھ کر اپنا کردار نبھانا ہو گا وگرنہ دوسرے ملکوں کے اندرونی معاملات میں مداخلت اور قوت کے زور پران کی جغرافیائی سرحدوں کو تقسیم کر دینا آنے والے دنوں میں آئے روز کا معمول بن کر رہ جائے گا اور عالمی امن بری طرح متاثر ہو گا ۔ اسی کے ساتھ ساتھ پاکستان کی حکومت کا فرض ہے کہ سفارتی محاذ پر دنیا بھر میں ہندوستان کی اس مکروہ روش کو بے نقاب کرے اور تمام عالمی اداروں اور بین الاقوامی میڈیا کے ذریعے بھارت کے امن پسندی کے نام نہاد دعووں کی حقیقت کا پردہ چاک کرے تا کہ دہلی کے حکمرانوں کی جمہوریت ، سیکولر ازم اور انسان دوستی کا اصل چہرہ دنیا کے سامنے آ سکے ۔
سبھی جانتے ہیں کہ16دسمبر 1971 کو پاکستان کے مشرقی با زو کا الگ ہو جانا یقیناًملکی تاریخ کا سب سے بڑا سانحہ ہے ،اور اس پر جتنا بھی افسوس اور غور و فکر کیا جائے وہ کم ہے تاکہ آ نے والے ادوار میں دشمن کی ان ریشہ دوانیوں کا خاطر خواہ ڈھنگ سے جواب دیا جا سکے۔دوسری جانب امن پسند حلقے اس بات پر متفق ہیں کہ سرحد پار دہشت گردی کی اس سے بڑی مثال گذشتہ نصف صدی میں شائد ہی کوئی دوسری ملے گی ۔اور اس بات سے کوئی انکار نہیں کر سکتا کہ’’ کراس بارڈر ٹیررازم ‘‘کسی بھی طور ایسا عمل نہیں جسے مستحسن قرار دیا جا سکے مگر المیہ یہ ہے کہ دہلی کا حکمران گروہ اس بابت زمینی حقائق سے چشم پوشی کی اپنی دیرینہ روش کو عرصہ دراز سے جاری رکھے ہوئے ہے اور اپنے نام نہاد سیکولرازم کا ڈھنڈورا پیٹتے نہیں تھکتا ۔
اس حوالے سے یہ امر خصوصی طور پر پیش نظر رہنا چاہیے کہ بھارت نے بڑی مہارت کے ساتھ خود پر سیکولرازم اور جمہوریت کا لبادہ اوڑھا ہوا ہے اور اس کے اس دعوے کو کسی حد تک سبھی حلقے قبولیت کا بھی شرف بخشے ہوئے ہیں۔ اسی تناظر میں غیر جانبدار طبقات کی رائے ہے کہ اس ضمن میں جہاں تک بھارتی سیکولرازم کے دعووں کا تعلق ہے تو بھارت کو دنیا کی سب سے بڑی ’’الیکٹورل ڈیموکریسی‘‘ کی حد تک تو تسلیم کیا جا سکتا ہے کیونکہ وہاں پر وقتِ مقررہ پر انتخابات ہوتے ہیں۔ البتہ یہ قطعاً ایک الگ معاملہ ہے کہ ان میں جمہوریت اور سیکولرازم کی اصل رو کہاں تک کارفرما ہے اور اسے کتنا معتبر قرار دیا جانا چاہیے، کیونکہ یہ بھی کوئی راز کی بات نہیں کہ بھارت میں دراصل آر ایس ایس کے زعفرانی جنون اور کانگرس کی ’’سافٹ ہندوتوا پالیسیوں‘‘کے مابین رسہ کشی جاری ہے اور یہ صورتحال نئی بھی نہیں بلکہ اس کے بیج تو تبھی بو دئیے گئے تھے جب اقوام متحدہ کی منظور کردہ قرار دادوں کے باوجود کشمیریوں کو استصواب رائے کا حق نہیں دیا گیا اور دہلی نے اس پر اپنا غاصبانہ تسلط جما رکھا ہے۔
مگر اپنے ابتدائی برسوں میں نہرو ظاہری طور پر کشمیریوں کی بابت اقوام متحدہ کی قرار دادوں پر عمل درآمد کا دعویٰ کرتے رہے مگر وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ بھارت اپنے سبھی وعدوں کو فراموش کر بیٹھا۔ کانگرس کی ان پالیسیوں میں پوری شدت تب پیدا ہوئی جب اندرا گاندھی نے اقتدار سنبھالا۔ تب تو گویا بھارت نے تمام ظاہری تکلفات کو بھی بالائے طاق رکھتے ہوئے پاکستان کو دولخت کر دیا اور اس ضمن میں واجپائی جیسے نسبتاً اعتدال پسند اور کانگرسی پالیسیوں میں فرق مکمل طور سے مٹ گیا جب واجپائی نے 1971 کی لڑائی کے فوراً بعد اندرا گاندھی کو ’’درگا ماتا‘‘ کے لقب سے نوازتے ہوئے انھیں خراج تحسین پیش کیا، اور وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ کانگرسی سیکولرازم اور بی جے پی و آر ایس ایس ایک ہی سکے کے دو رُخ بن کر رہے گئے اور یہ سلسلہ ہنوذ جاری ہے۔ تبھی تو پانچ صوبوں میں ہونے والی انتخابی مہم کے دوران راہل گاندھی اور مودی کے درمیان گویا یہ مقابلہ جاری تھا کہ دونوں خیموں میں سے کون بڑا ’’رام سیوک ‘‘ ہے۔ قابل توجہ ہے کہ انتخابی مہم کے دوران بی جے پی کا نعرہ تھا کہ ’’ جو رام کا نہیں، ہمارے کسی کام کا نہیں‘‘۔ دوسری طرف اپنی مہم کے دوران راہل گاندھی نے سومنات سمیت ہر چھوٹے بڑے مندر میں جا کر خصوصی پرارتھنا کی ۔ یوں 16 دسمبر 1971 اور 16 دسمبر 2014 سانحوں کی برسی مناتے ہوئے اس ساری صورتحال کو ذہن نشین رکھنا چاہیے اور ہر طریقے سے اپنی اصلاحِ احوال کی جانب بھی خاطر خواہ توجہ مرکوز کی جانی چاہیے ۔
ایسے میں یہ بلا جھجھک کہا جاسکتا ہے کہ ایک جانب بھارت نے مقبوضہ کشمیر میں بسنے والے ایک کروڑ سے زائد نہتے انسانوں پر عرصہ حیات تنگ کر رکھا ہے۔اور اس کے ساتھ ساتھ بھارت میں بسنے والے کروڑوں مسلمان ،سکھ،عیسائی،اور نچلی ذات کے ہندو دہلی کی ریاستی دہشت گردی کا عذاب مسلسل بھگت رہے ہیں ۔علاوہ ازیں پاکستان سمیت بھارت کے سبھی ہمسائے مختلف اوقات میں دہلی کی مسلح مداخلت ،اور سازشی روش کا نشانہ بنتے آئے ہیں اور یہ قابل مذمت سلسلہ ابھی تک جاری ہے۔

سولہ دسمبر 2018 کو روزنامہ نوائے وقت میں شائع ہوا۔
( مندرجہ بالا تحریر مصنف کے ذاتی خیالات ہیں جن کیلئے اسلام آباد پالیسی ریسرچ انسٹی ٹیوٹ یا کوئی بھی دوسرا ادارہ ذمہ دار نہیں)

RELATED
ARTICLES.

Scroll to Top

Search for Journals, publications, articles and more.

Subscribe to Our newsletter