IPRI – The Islamabad Policy Research Institute

birlikte yaşadığı günden beri kendisine arkadaşları hep ezik sikiş ve süzük gibi lakaplar takılınca dışarıya bile çıkmak porno istemeyen genç adam sürekli evde zaman geçirir Artık dışarıdaki sikiş yaşantıya kendisini adapte edemeyeceğinin farkında olduğundan sex gif dolayı hayatını evin içinde kurmuştur Fakat babası çok hızlı sikiş bir adam olduğundan ve aşırı sosyalleşebilen bir karaktere sahip porno resim oluşundan ötürü öyle bir kadınla evlenmeye karar verir ki evleneceği sikiş kadının ateşi kendisine kadar uzanıyordur Bu kadar seksi porno ve çekici milf üvey anneye sahip olduğu için şanslı olsa da her gece babasıyla sikiş seks yaparken duyduğu seslerden artık rahatsız oluyordu Odalarından sex izle gelen inleme sesleri ve yatağın gümbürtüsünü duymaktan dolayı kusacak sikiş duruma gelmiştir Her gece yaşanan bu ateşli sex dakikalarından dolayı hd porno canı sıkılsa da kendisi kimseyi sikemediği için biraz da olsa kıskanıyordu

ARTICLE

سیاسی و عسکری قیادت کا عزمِ نو 

افواج پاکستان کے سپہ سالار نے کہا ہے کہ ’’ آئندہ نسلوں کو دہشتگردی سے پاک پاکستان فراہم کریں گے ۔ (انشاء اللہ ) ‘‘ انھوں نے ان خیالات کا اظہار آرمی میڈیکل کور کی ایک تقریب23 سے خطاب کے دوران کیا ۔ آرمی چیف نے کہا کہ کہ قدرتی آفات اور دہشتگردی کے خلاف فوجی آپریشنز میں پاک فوج کی میڈیکل کور کا کردار متاثرکن ہے ۔ اس سے پہلے گذشتہ چند دنوں میں وزیر اعظم نے ایک سے زائد مرتبہ اس موقف کا اظہار کیا کہ ’’ مسلح جتھوں اور پرائیویٹ لشکروں کا دور ختم ہو چکا ۔اب دہشتگردوں کو مذہب یا سیاست کی آڑ میں پناہ نہیں لینے دی جائے گی اور آخری دہشتگرد کے خاتمے تک پاکستانی قوم اور افواج کی جدو جہد جاری رہے گی‘‘ ۔
اس صورتحال کا جائزہ لیتے مبصرین نے کہا ہے کہ گذشتہ برس پندرہ جون سے پاکستان میں دہشتگردی کے خاتمے کے لئے ضربِ عضب کے نام سے آپریشن شروع کیا گیا ، تب سے پاک آرمی نے جس موثر طریقے230 سے شدت پسندی کے خلاف کامیابیاں حاصل کی ہیں اس کا اعتراف ساری دنیا میں کیا جا رہا ہے اور یہ آپریشن بالآخر تفریقِ رنگ و نسل اور کسی تعصب کے جاری ہے ۔ اس کے آغاز میں چند ایک مذہبی جماعتوں نے یہ تاثر دینے کی کوشش کی تھی کہ اس کا نشانہ صرف دینی جماعتیں بن رہی ہیں مگر جلد ہی زمینی حقائق سے ثابت ہو گیا کہ قومی سلامتی کے اداروں کے خلاف یہ الزام تراشی سرا سر بے جواز تھی ۔ اسی طرح گیارہ مارچ کو کراچی میں کئی دہشتگردوں کو رنگے ہاتھوں پکڑا گیا اور بہت بڑی مقدار میں اسلحہ اور گولہ بارود بھی بر آمد کیا گیا تو چند افراد اور تنظیموں کی جانب سے یہ موقف سامنے آیا کہ اس آپریشن کا ہدف کچھ مخصوص سیاسی جماعتیں ہیں ۔
مگر گذشتہ کئی دنوں سے یہ امر پوری طرح واضح ہو چکا ہے کہ حکومت اور قومی سلامتی کے اداروں کا اصل ٹارگٹ صرف دہشتگرد ہیں اور چاہے ان کا تعلق کسی بھی جماعت ، طبقے یا گروہ سے ہے، ان کو کچلنے کے لئے قانون نافذ کرنے والے ادارے بلا امتیاز کاروائی کر رہے ہیں ۔ اسی وجہ سے دھیرے دھیرے ریاستی اداروں کے خلاف جاری پروپیگنڈہ دم توڑتا جا رہا ہے ۔ 
اس تمام صورتحال کا جائزہ لیتے ماہرین نے کہا کہ اگرچہ امن و امان کی بحالی آئینی اعتبار سے خالصتاً صوبائی مسئلہ ہے مگر گذشتہ ایک عشرے سے چونکہ حالات کا بگاڑ خافی شدت اختیار کر چکا تھا اس لئے بلوچستان اور خیبرپختونخواہ نے اپنی امداد کے لئے ’’ ایف سی ‘‘ کی خدمات حاصل کیں، علاوہ ازیں کراچی میں رینجرز کافی عرصے سے خدمات انجام دے رہے ہیں مگر ماضی قریب تک خاطر خواہ ڈھنگ سے مثبت نتائج سامنے نہیں آ رہے تھے مگر جب سے جنرل راحیل شریف نے آرمی چیف کا منصب سنبھالا تو لگا کہ اگر234 عسکری اور سیاسی قیادت کے مابین کسی قوم کی ذہنی ہم آہنگی کی کمی تھی تو وہ خلیج بھی دور ہو گئی ہے اور اب ملک بھر کے عسکری اور سیاسی قائدین یکجا ہو کر پوری یکسوئی کے ساتھ ملک و قوم کے دشمنوں کا صفایا کرنے کی بابت کمر بستہ ہو چکے ہیں ۔ غالباً یہی وجہ ہے کہ گذشتہ چند مہینوں میں شدت پسندی کے خاتمے کے حوالے سے ٹھوس اور مثبت نتائج قابلِ رشک حد تک سامنے آنے لگے ہیں ۔ اسی وجہ سے تیئس مارچ 2015 کو ایک طویل عرصے کے بعد افواجِ پاکستان نے جس پروقار اور موثر ڈھنگ سے فوجی پریڈ کا مظاہرہ کیا اس نے بھی ایک جانب وطنِ عزیز کے دشمنوں کو دہلا کر رکھ دیا تو دوسری طرف قوم کے ہر خاص و عام میں ایک نیا جوش و ولولہ اور احساسِ تحفظ پیدا ہوا ۔
ایسے میں امید کامل ہے کہ انشاء اللہ آنے والے دنوں میں ملک دہشتگردی کے ناسور سے مکمل طور پر پاک ہو جائے گا ۔

اکتیس مارچ کو روزنامہ پاکستان میں شائع ہوا ۔
( مندرجہ بالا تحریر مصنف کے ذاتی خیالات ہیں جس کے لئے اسلام آباد پالیسی ریسرچ انسٹی ٹیوٹ یا کوئی بھی دوسرا ادارہ ذمہ دار نہیں ) 

RELATED
ARTICLES.