سیکھنا ہو تو چین سے سیکھیں

اقوامِ عالم کے باہمی تعلقات کی جدید تاریخ میں پاک چین دوستی ایک ضرب المثل کی شکل اختیار کر چکی ہے مختلف تہذیبوں ،مذاہب اور نظامِ حکومت کے تضادات کے باوجود دو ملکوں میں دوستی کی ایسی مثال شاید ڈھونڈنے سے بھی نہ مل سکے۔
اسی پس منظر میں اسلام آباد پالیسی ریسرچ انسٹی ٹیوٹ (IPRI) کے زیرِ اہتمام 26 مارچ 2014 کو ایک سیمینار منعقد ہوا جس میں سینیٹ میں قائدِ ایوان ’’راجہ ظفر الحق‘‘ مہمانِ خصوصی تھے جبکہ سابق وزیرِ خارجہ ’’انعام الحق‘‘ نے صدارت کے فرائض انجام دیے۔مقررین میں سابق سیکرٹری خارجہ ’’سلیمان بشیر‘‘ (جو چند روز پہلے تک بھارت میں ہائی کمشنر بھی تھے) ،پاک چین امور کے ماہر ’’فضل الرحمن‘‘ اور پاکستان میں چین کے ڈپٹی چیف آف دی مشن تھے۔
IPRI کے سربراہ ریٹائرڈ ایمبیسیڈر’’سہیل امین‘‘ نے اپنے خیر مقدمی کلمات میں بتایا کہ چند روز پہلے وہ شنگھائی میں کسی کانفرنس میں حصہ لینے گئے تو ایک چینی ٹیلی ویژن چینل نے ان کا تفصیلی انٹر ویو کیا۔اس انٹر ویو کے اختتام پر انھوں نے اینکر پرسن سے کہا کہ آپ نے پورے انٹر ویو میں پاک چین تعلقات کے بارے میں تو ایک بات بھی نہیں پوچھی؟ ۔تو جواب میں اینکر پرسن نے کہا کہ پاک چین تعلقات کی نوعیت سے تو پوری دنیا آگاہ ہے لہذا اس پربات کرنے کی غالباً کوئی ضرورت نہیں۔پاک چین دوستی کی مثالی نوعیت کو غالباً اس سے بہتر الفاظ میں خراجِ تحسین پیش نہیں کیا جا سکتا۔
بہر کیف سبھی مقررین نے دونوں ممالک کے تعلقات کا مختلف حوالوں سے تفصیلی جائزہ پیش کیا۔جس کا لبِ لباب یہ تھا کہ حکومتی سطح پر تو یہ تعلقات قابلِ رشک حد تک بہتر ہیں لیکن ضرورت اس امر کی ہے کہ پاکستان اور چین کے عوام کے باہمی رابطوں کو فروغ دینے کا موثر لائحہ عمل مرتب کیا جائے ۔
یہاں اس امر کا تذکرہ بھی بے جا نہ ہو گا کہ چین نے گذشتہ چند عشروں میں عالمی سطح پر اقتصادی،دفاعی اور سفارتی شعبوں میں جو مقام حاصل کیا ہے اسے انٹر نیشنل ریلیشنز کی حالیہ تاریخ میں ایک معجزہ قرار دیا جا سکتا ہے اور ضرورت اس امر کی ہے کہ پاکستان کی حکومت اور عوام اپنے چینی بھائیوں کے تجربات سے خاطر خواہ استفادہ حاصل کریں اور اس دوستی سے بھرپور فائدہ اٹھاتے ہوئے وطنِ عزیز کو بھی انھی بلندیوں کی طرف لے جانے کی ٹھوس حکمتِ عملی مرتب کی جائے۔
بہر حال اس زمینی حقیقت سے تو کسی بھی اعتدال پسند اور غیر جانبدار تجزیہ کار کو انکار نہیں ہو سکتا کہ وطنِ عزیز پاکستان کے عوام اور سبھی حکومتوں کی ہمیشہ سے یہ خواہش رہی ہے کہ اپنے ہمسایوں سمیت دنیا کے تمام ملکوں کے ساتھ برابری،عدم مداخلت اور باہمی تعاون کی بنیاد پر اچھے تعلقات قائم کیے جائیں اور پاکستان کو اپنے اس مقصد میں بڑی حد تک کامیابی بھی حاصل ہوئی۔قوموں کی برادری میں زیادہ تر ملکوں کے ساتھ پاکستان کے تعلقات قابلِ رشک حد تک بہتر ہیں مگر پاک چین تعلقات گذشتہ کئی عشروں سے دنیا بھر میں مثالی نوعیت اختیار کر چکے ہیں ہیں کیونکہ اس دوستی کو نہ تو بدلتے ہوئے موسم متاثر کر سکے اور نہ ہی داخلی ،علاقائی اور عالمی سطح پر ہونے والی تبدیلیاں اس مثالی دوستی پر اثر انداز ہو سکیں گویا یہ تعلقات’’نصف صدی کا قصہ ہے دو چار برس کی بات نہیں ‘‘والا معاملہ ہے۔
تبھی تو چین کے سابق صدر ’’ہوجن تاؤ‘‘ نے چند برس قبل اپنے دورہ اسلام آباد کے دوران کہا تھا کہ ’’پاک چین دوستی نہ صرف سمندر سے گہری اور ہمالیہ سے بلند ہے بلکہ یہ شہد سے زیادہ مٹھاس پر مبنی ہے‘‘۔21 تا 22 مئی 2013 کو اپنے دورہ پاکستان کے دوران اس مثالی دوستی کا تذکرہ کرتے ہوئے چینی وزیرِ اعظم نے چند الفاظ کا مزید اضافہ کیا جب انھوں نے اسے ’’سونے سے زیادہ قیمتی اثاثہ قرار دیا‘‘
علاوہ ازیں وزیرِ اعظم محمد نواز شریف کے گذشتہ دورہ چین اور فروری 2014 میں صدر پاکستان ’’ممنون حسین‘‘ کے دورے سے اس باہمی دوستی کو مزید تقویت ملی ہے جس کے مثبت نتائج آنے والے دنوں میں دونوں ملکوں کے عوام پر خوش گوار اثرات مرتب کریں گے۔انشاء اللہ

(مندرجہ بالا تحریر مصنف کے ذاتی خیالات ہیں جس کے لئے اسلام آباد پالیسی ریسرچ انسٹی ٹیوٹ یا کوئی بھی دوسرا ادارہ ذمہ دار نہیں)

Tags:

About the Author

Post a Reply

Your e-mail address will not be published. Required fields are marked *

Top