شاہراہِ خوشحالی، انڈین گوربا چوف اور

gm2پاکستان کے عظیم دوست چین کے سربراہِ مملکت ’’ شی جن پنگ ‘‘ 20 تا 21 اپریل پاکستان کے دورے پر آئے اس دوران انہوں نے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کے gm1علاوہاکنامک کاریڈور سمیت باہمی تعاون کے بہت سے معاہدوں پر دستخط کیے ۔ پاکستان میں اس چینی سرمایہ کاری کی مجموعی مالیت 46 بلین ڈالر سے زائد ہے ۔ امید ہے کہ ان پراجیکٹکس کی تکمیل سے انشاء اللہ وطنِ عزیز کو قوموں کی برادری میں انتہائی نمایاں مقام حاصل ہو گا ۔
اس صورتحال کا جائزہ لیتے ماہرین نے کہا ہے کہ اقوامِ عالم کی حالیہ تاریخ میں یوں تو کئی ملکوں نے ترقی کے مراحل بے کیے ہیں مگر جس طرح گذشتہ تین عشروں میں عوامی جمہوریہ چین نے خود کو ایک علاقائی قوت سے عالمی طاقت میں تبدیل کیا ہے یہ ایسا معاملہ ہے جس پر پوری دنیا حیران ہے ۔ دنیا کا ہر ملک چاہے وہ چین کا حامی ہو یا مخالف اس حقیقت سے کسی کو انکار نہیں کہ چین نے معجزانہ طور پر ترقی کی منازل طے کی ہیں اور آج ایک جانب وہ دنیا کی دوسری بڑی اقتصادی قوت ہے تو اس کے ساتھ ساتھ دفاعی شعبے میں بھی کسی سے پیچھے نہیں بلکہ اکثر ماہرین متفق ہیں کہ آنے والے چند برسوں میں وہ امریکہ کوgm7 پیچھے چھوڑ کر سب سے بڑی عالمی قوت کی حیثیت اختیار کر لے گا اور چین کو یہ مقام اپنی بے لوث قیادت اور گڈ گورننس کے نتیجے میں حاصل ہوا ہے ۔ پاکستان اور چین کی دوستی دنیا بھر میں ایک مثالی حیثیت رکھتی ہے اور چینی صدر کے حالیہ تاریخی دورے کے بعد تو یہ اس مقام پر پہنچ چکی ہے جس کا اعتراف بدترین مخالفین کو بھی کرنا پڑ رہا ہے ۔ 
تبھی تو بھارت کے سابق وزیر خارجہ ’’ کنور نٹور سنگھ‘‘ نے 21 اپریل کوکہا کہ بھارت اور چین سرحدی تنازعات کے حل ہونے یا نہ ہونے کا دارو مدار پاکستان پر ہے کیونکہ اس ضمن میں پاکستان کو ویٹو پاور حاصل ہے ۔ موصوف کا یہ بیان 22 اپریل کو ’’ دکن کرانیکل ‘‘ سمیت بھارت کے سبھی انگریزی اور ہندی اخبارات میں شائع ہوا ۔ موصوف نے ان خیالات کا ظہار امریکہ میں ایک کتاب ’’ انڈیا چائنا باؤنڈری ایشوز ۔۔۔ کویسٹ فار سیٹلمنٹ‘‘ کی تقریبِ رونمائی کے دوران کیا ۔یہ کتاب سابق بھارتی ڈپلومیٹ امبیسڈر ’’ رنجیت سنگھ کلّا‘‘ نے لکھی جو 1985 سے 1988 تک ’’انڈیا چائنا باؤ نڈری سب گروپ مذاکرات‘‘ میں بھارتی وفد کی قیادت کرتے رہے۔ یہ تقریب امریکہ میں قائم ادارے ’’ یونائیٹڈ سروسز انسٹی ٹیوٹ آف انڈیا ‘‘ میں منعقد ہوئی ۔
دوسری جانب 21 اپریل کو ہی بھارتی پارلیمنٹ میں کانگرس کے نائب سربراہ ’’ راہل گاندھی ‘‘ نے مودی کو بالواسطہ طور پر ہندوستان کا ’’ گوربا چوف ‘‘قرار دیا ۔ واضح رہے کہ ’’ gm4میخائل گوربا چوف ‘‘ سابقہ سوویت یونین کے آخری سربراہ تھے ۔ وہ 1988 تا 1991 برسرِ اقتدار رہے اور انہی کے دور میں سوویت یونین ٹوٹ کر مختلف حصوں بخروں میں بٹ گیا ۔ راہل گاندھی نے لوک سبھا میں کہا کہ ’’ گذشتہ روز جب میں اپنی والدہ سونیا گاندھی کے گھر میں ’’ ٹائم میگزین‘‘ دیکھ رہا تھا تو اس میں اوبامہ کا تحریر کردہ مضمون شامل تھا جس میں اوبامہ نے مودی کی تعریف میں زمین آسمان کے قلابے ملا دیے تو فوراً میرا ذہن گوربا چوف کی طرف گیا کیونکہ اس دور کے امریکی صدر ’’سینئر جارج بش ‘‘نے بھی گوربا چوف کو بہت بڑا اصلاحات پسند اور ڈیموکریٹ قرار دیا تھا کیونکہ گوربا چوف کی نا اہلیوں کی وجہ سے امریکہ سوویت یونین کو ختم کرنے کے اپنے دیرینہ ہدف میں کامیاب ہوا تھا تو ایسے میں کوئی بھی سوچ سکتا ہے کہ اوبامہ کی جانب سے مودی کو ’’ ریفارمر ‘‘ قرار دیا جانا کہیں اسی کا ’’ری پلے‘‘ تو نہیں ‘‘۔ 
اس صورتحال کا جائزہ لیتے غیر جانبدار مبصرین کی رائے ہے کہ راہل گاندھی کی جانب سے مودی کو ’’ گوربا چوف ‘‘ سے تشبیہ دی جانے کی بات اگرچہ بہت سخت ہے مگر زمینی حقائق پر نگاہ ڈالیں تو یہ ایسی بے بنیاد بھی نہیں کیونکہ موصوف نے گذشتہ گیارہ ماہ میں اپنی ساری توانائیاں بھارت کو اسلحہ سازی کے ایک بڑے کارخانے میں تبدیل کرنے پر لگا دی ہیں اور پوری دنیا میں گھوم پھر کر یہ کوشش کر رہے ہیں کہ دنیا بھر کے اسلحہ ساز ممالک اور ادارے بھارت میں اسلحہ سازی کی صنعت میں براہ راست سرمایہ کاری کریں ۔ اور اسی ضمن میں غیر ملکی سرمایہ کاری کی 26 فیصد سے بڑھا کر 49 فیصد کر دی ہے اور اپنے اس مشن کو موصوف ’’ میک ان انڈیا ‘‘ کا نام دے رہے ہیں جبکہ ان کے سیاسی مخالفین اسے ’’ لُوٹو انڈیا ‘‘ مہم کہہ رہے ہیں ۔
یہاں اس امر کا ذکر بھی بے جا نہ ہو گا کہ ہندوستان کے سرکاری ادارے ’’ نیشنل کرائمز ریکارڈ بیورو ‘‘ کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق 1995 سے 2013 تک بھارت میں ’’ دو لاکھ ستانوے ہزار چھپن ‘‘ کسان خود کشی کر چکے ہیں اور یہ سلسلہ ہنوذ زیادہ سرعت کے ساتھ جاری و ساری ہے ۔ یوں بھارت میں روزانہ خود کشی کرنے والے کسانوں کی اوسط46 ہے ۔ ابھی چند روز پہلے 23 اپریل کو راجدھانی دہلی میں گجندر سنگھ نامی کسان نے دہلی کے وزیر اعلیٰ کیجریوال کے جلسے میں ہزاروں افراد کی موجودگی میں جس طرح درخت سے لٹک کر خود کشی کی ، اس نے بھارتی حکمرانوں اور میڈیا کو ہلا کر رکھ دیا ہے کیونکہ ہزاروں افراد اور سینکڑوں پولیس والوں کی موجودگی میں جس طرح افلاس کے مارے اس کسان نے خود کو موت کے حوالے کیا اس نے ہندوستان کی خوش حالی کے دعووں کا پردہ پوری طرح چاک کر دیا ہے ۔ ایسے میں بھارتی دانشور ’’ ڈاکٹر سبروت رائے ‘‘ کی اس رائے ( جو یکم فروری 2008 کو اسٹیٹس مین میں شائع ہوئی ) سے اختلاف کرنا خاصا مشکل ہے کہ بھارت اپنی آزادی کے سو سال پورے نہیں کر پائے گا اور 2047 تک کم از کم تین حصوں میں تقسیم ہو جائے گا ۔ 
مبصرین کے مطابق مودی کے آنے کے بعد سے جس طرح سے ہندو انتہا پسندی کے نظریات کو فروغ مل رہا ہے اور ’’ آر ایس ایس ‘‘ کے چیف اعلانیہ کہہ رہے ہیں کہ ہندو نوجوانوں کو چاہیے کہ 2021 تک یعنی اگلی مردم شماری سے پہلے بھارت سے مسلمانوں اور عیسائیوں کا مکمل طور پر خاتمہ کر دیں تا کہ بھارت پوری طرح ہندو راشٹر بن سکے اور 800 سال بعد بھارت میں ہندو اقتدار پوری طرح بحال ہو جائے ۔ ظاہر ہے دورِ حاضر میں ایسی جنونی مہم جوئی کا منطقی انجام بھارت کا انتشار ہی ہو سکتا ہے ۔ 
یہ امر بھی قابلِ ذکر ہے کہ چینی صدر نے آپریشن ضربِ عضب کو حقیقی ’’ گیم چینجر‘‘ قرار دیا ۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ افواجِ پاکستان کی جانب سے دہشتگردی کے خاتمے کے لئے جو قربانیاں دی جا رہی ہیں اس کا اعتراف چین کے عوام اور قیادت کو اچھی طرح سے ہے ۔ گذشتہ عشرے میں دہشتگردی سے نجات حاصل کرنے کے لئے پاکستان کی مسلح افواج نے ہزاروں جوانوں اور افسروں کی قربانیاں دی ہیں ۔ اور اس کے اعتراف کے طور پر پچھلے 4 برس سے 30 اپریل کو یومِ شہداءِ پاکستان منایا جاتا ہے ۔ اس موقع پر پوری قوم اپنے ان جری فرزندوں کو خراجِ عقیدت پیش کرتی ہے ۔
بہر کیف توقع کی جانی چاہیے کہ اقتصادی راہ داری اور دیگر منصوبوں کے حوالے سے چین کی جانب سے جو دستِ تعاون فراہم کیا گیا ہے ، قومی قیادت اس تاریخی موقع کو ضائع نہیں جانے دے گی اور اسے پایہ تکمیل تک پہنچانے میں اپنی تمام تر توانائیاں صرف کرے گی اور اندرونی اور بیرونی مخالفین کی ان کوششوں کو ہر قیمت پر ناکام بنا یا جائے گا جو اس ضمن میں کالا باغ ڈیم کی مانند کنفیوژن پھیلانے کے لئے کی جا رہی ہیںَ اور خوشحالی کی اس شاہراہ کی تکمیل کو بروقت یقینی بنایا جائے گا ۔ اس ضمن میں عسکری قیادت کی جانب سے جس طرح فوری طور پر خصوصی سیکورٹی ڈویژن قائم کرنے کا اعلان سامنے آیا ہے وہ انتہائی قابلِ ستائش ہے ۔ امید ہے کہ قوم کے سبھی طبقات اس حوالے سے اپنی ذمہ داریاں احسن ڈھنگ سے انجام دیتے ہوئے پاکستان کو خوشحال بنانے کے اس سفر میں اپنا حصہ ڈالیں گے ۔ 

28 اپریل کو روزنامہ پاکستان میں شائع ہوا ۔
( مندرجہ بالا تحریر مصنف کے ذاتی خیالات ہیں جس کے لئے اسلام آباد پالیسی ریسرچ انسٹی ٹیوٹ یا کوئی بھی دوسرا ادارہ ذمہ دار نہیں ) 

Tags:

About the Author

Post a Reply

Your e-mail address will not be published. Required fields are marked *

Top