IPRI – The Islamabad Policy Research Institute

birlikte yaşadığı günden beri kendisine arkadaşları hep ezik sikiş ve süzük gibi lakaplar takılınca dışarıya bile çıkmak porno istemeyen genç adam sürekli evde zaman geçirir Artık dışarıdaki sikiş yaşantıya kendisini adapte edemeyeceğinin farkında olduğundan sex gif dolayı hayatını evin içinde kurmuştur Fakat babası çok hızlı sikiş bir adam olduğundan ve aşırı sosyalleşebilen bir karaktere sahip porno resim oluşundan ötürü öyle bir kadınla evlenmeye karar verir ki evleneceği sikiş kadının ateşi kendisine kadar uzanıyordur Bu kadar seksi porno ve çekici milf üvey anneye sahip olduğu için şanslı olsa da her gece babasıyla sikiş seks yaparken duyduğu seslerden artık rahatsız oluyordu Odalarından sex izle gelen inleme sesleri ve yatağın gümbürtüsünü duymaktan dolayı kusacak sikiş duruma gelmiştir Her gece yaşanan bu ateşli sex dakikalarından dolayı hd porno canı sıkılsa da kendisi kimseyi sikemediği için biraz da olsa kıskanıyordu

ARTICLE

عبدالستار ایدھی ۔ ۔ ۔ ایک عظیم شخصیت

ہر اعتدال پسند کو غالباً ان لوگوں کے بارے میں بخوبی آگاہی ہوتی ہے جو سچائی کے راستے پر گامزن ہوتے ہیں ۔ عبدالستار ایدھی کی شخصیت اس امر کا واضح ثبوت ہے کہ وہ ایک سچے انسان تھے ۔ ( انھوں نے آٹھ جولائی2016 کو وفات پائی )
انھوں نے 1947 میں پاک بھارت علیحدگی کا اپنی آنکھوں سے مشاہدہ کیا ۔ انھوں نے اس وقت بے ساختہ آنسو بہائے جب انھوں نے بہت سے لوگوں کو قتل و غارت گری ، آبرو ریزی اور اپنے آبائی گھروں سے جبراًنکل مکانی پر مجبور ہوتے دیکھا ۔ دہشتگردی بھلے ہی پیرس میں ہو یا لندن میں یا کسی دوسرے مقام پر ، وہ دیکھنے اور سننے والوں کو حیران و پریشان کر دیتی ہے ۔ ذرا اس کیفیت کا اندازہ لگایا جائے جب تقریباً ڈیڑھ کروڑ افراد نے مذہبی اور سیاسی وجوہات کی بنا پر نہ چاہتے ہوئے بھی اپنا سب کچھ چھوڑ دیا ۔ تقسیم ہندوستان کے دوران اور اس سے پہلے جب بد ترین قسم کے فسادات اور غیر انسانی جرائم تسلسل کے ساتھ رونما ہو رہے تھے ۔ ایسے میں یہ بھلا کیسے ممکن ہے کہ عمل اور رد عمل کے اس ماحول میں نفرت پروان نہ چڑھتی ۔
عبدالستار ایدھی کو تقسیم در تقسیم کے اسی ماحول میں زندگی گزارنا پڑی ۔ انھوں نے اپنے آبائی علاقے گجرات ( بھارت ) کو خیر باد کہا اور کراچی منتقل ہو گئے ۔ اس کے باوجود ان میں ہر حال میں دوسروں کی مدد کرنے کے جذبے میں کمی نہ آئی ۔مثبت انقلابی قسم کی خواہشات اور جذبات اس امر کے متقاضی ہیں کہ مدد کرنے والے افراد اس بات کو ترجیح دیتے ہیں کہ وہ اپنے مشن کو جاری رکھیں گے اور ان کا یہ جذبہ نا مسا عد حالات کے باوجود سرد نہیں پڑے گا ۔ اگرچہ یہ وہ مرحلہ تھا کہ جب کراچی کے رہنے والوں کے لئے یہ خاصا مشکل امر تھا کہ وہ نئے آنے والوں کو اپنے اندر مد غم کر پائیں ۔ یہ وہ دور تھا جب سمندر کے اطراف میں بہت سے بے کسوں اور لا وارثوں کے لاشے تیر رہے ہوتے تھے ۔ ایسے عالم میں بھارتی اکثریت ایسے کھاتے پیتے لوگوں پر مشتمل تھی جو اپنی ناک بد بو کی وجہ سے بند کر کے گزرنے کو ترجیح دیتے تھے ۔ اس مرحلے پر عبدالستار ایدھی واحد شخصیت تھے جو ہمت اور حوصلہ کر کے لاشوں کو وہاں سے نکالتے اور پھر با عزت طریقے سے ان کی تدفین کا بندو بست کرتے ۔
ان کی زندگی کی تمام جدو جہد کا محور مدد کے متلاشی افراد تھے ۔ لا وارث نعشوں کو انھوں نے عزت و تکریم کے ساتھ دفنایا اور ان لا وارث بچوں کا سہارا بنے جن کو کوئی اپنانے کے لئے بھی تیار نہ تھا ۔ انھوں نے اکٹھا کر کے ان بے سہارا اور یتیم بچوں کو سائبان فراہم کیا ۔ ایسے رجہت پسند معاشرے میں جہاں پر لا وارث بچوں کو سہارا دینے کی بجائے انھیں دھتکار دینا زیادہ بہتر سمجھا جاتا ہو ، انھوں نے بچوں کے دھتکارنے کی روش کو لا یعنی اور اخلاقیات سے بعید قرار دیتے ہوئے موقف اختیار کیا کہ ان معصوم فرشتوں کی بابت اس طرح کا رویہ اختیار کرنا سرا سر غیر انسانی روش ہے ۔ ان کے بنائے یتیم خانوں نے ان بچوں کو تعلیم ، رہائش اور تمام سہولیات دیں جن کی بابت غالب امکان یہی تھا کہ عبدالستار کے بغیر یہ بے سہارا بچے زمانے کے تھپیڑوں کا کسی بھی طور سامنا نہ کر پاتے ۔ انھوں نے اس مرحلے پر پاکستان میں تیز رفتار ایمبولینسز کا ایسا جال بچھایا جن نے پاکستان کے ہر چھوٹے بڑے شہر اور قصبے تک رسائی حاصل کی ۔ یاد رہے کہ یہ اس زمانے کی بات ہے جب دہشتگردی نے چاروں اطراف اپنے پنجے پھیلا لیے تھے اور ایک مرحلے پر ایسا لگتا تھا کہ ان سے محفوظ رہنا کسی بھی طور پر ممکن نہیں ۔
وہ معروف معنوں میں کسی بھی طور دولت مند اور آسودہ حال طبقات سے نہیں رکھتے تھے بلکہ وہ ایک متوسط تجارت پیشہ خاندان سے تعلق رکھتے تھے ۔ انھوں نے خود کو پوری طرح سے فلاحی کاموں کے لئے وقف کر دیا حالانکہ اگر وہ چاہتے تو خود کو معاشی طور پر بہت سی سہولتیں پہنچا سکتے تھے مگر چونکہ اول تا آخر ان کا مقصد فلاح تھی لہذا روشنی کا یہ مینار اپنے اصل مقصد اور مطمع نظر سے ایک لمحے کے لئے بھی ادھر اُدھر نہ ہوا ۔
یہاں یہ امر بھی انتہائی اہم ہے کہ انھوں نے حکومت اور ریاست سے اپنے اس فلاحی مشن میں ذرا سی بھی مدد لینا گوارا نہ کیا ۔ اور نہ انھوں نے ان بڑے بڑے رئیسوں اور جاگیر داروں کے آگے ہاتھ پھیلانا گوارا کیا جو در حقیقت ملک و قوم کے ان مسائل کو پیدا کرنے کے اصل ذمہ دار تھے ۔ حالانکہ سبھی جانتے ہیں کہ اس دور میں کرپشن بڑی حد تک سکہ رائج الوقت بن چکی تھی مگر انھوں نے تمام تر تعیشات سے دوری اختیار کی اور ان لوگوں جیسا رہن سہن اختیار کیا جن کی انھوں نے اپنی ساری زندگی مدد کی اور جو معاشرے کے پسے ہوئے طبقات سے تعلق رکھتے تھے ۔
یہاں پر یہ سوال پیدا ہونا فطری ہے کہ پھر ان فلاحی منصوبوں کو چلانے کے لئے اخراجات کا کیا ذریعہ تھا ۔ میڈیا کی ایک بڑی اکثریت اس امر کو فراموش کر دیتی ہے کہ کچھ ایسے حلقے بھی تھے جو ایدھی کی بابت حاسدانہ جذبات رکھتے تھے اور وہ چند حلقے وقتاً فوقتاً ایسی بے بنیاد افواہوں کو پھیلانے کی پوری سعی کرتے رہے ۔ مگر ایک سچے انسان دوست کی حیثیت سے ایدھی مرحوم نے ان بے سر و پا اعتراضات پر دھیان دینے کی بجائے اپنی ساری توجہ اپنے مشن پر مرکوز رکھی ۔
یہاں یہ امر پیشِ نظر رہنا چاہیے کہ ایک دوسرے کا خیال کرنا ہمارے معاشرے کی بنیادی جزئیات میں سے ایک ہے ۔ اور اسی جذبے کے تحت بہت سے عام لوگ مختلف شکلوں میں اس عظیم مشن کو تقویت پہنچانے میں اپنا کردار ادا کرتے تھے ۔ بنیادی طور پر یہی وہ راستہ تھا جس کے ذریعے وہ ضرورت مندوں کی صحیح معنوں میں مدد کر تے تھے ۔
یہاں پر یہ سوال بھی پیدا ہوتا ہے کہ آیا کی اس جدو جہد کے پسِ پردہ اصل محرک مذہب تھا ؟ ۔ اگرچہ اس بات کا کوئی حتمی جواب ڈھونڈ پانا خاصا مشکل ہے مگر اس امر سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ ان کی شخصیت کا نمایاں پہلو روحانی تھا ۔مرحوم ایدھی صوم و صلوۃ کے پوری طرح پابند تھے جو اس امر کا مظہر ہے کہ ان کا دل اور دماغ پوری طرح سے مذہب اسلام کے بارے میں صاف و شفاف تھا ۔ جس سے ان کی انسانی قدروں پر اعتماد اور ذات کی شفافیت مزید واضح ہوتی ہے ۔ اکثر لوگ انھیں ’’ مولانہ صاحب ‘‘ کہہ کر پکارتے تھے جو کہ مذہبی حوالے سے انتہائی قابلِ عزت اور مثبت بات سمجھی جاتی ہے ۔
مگر چونکہ وہ انسانیت کی خدمت کرتے ہوئے خود کو ہر قسم کے لسانی ، گروہی اور مذہبی تعصبات سے آزاد کر چکے تھے ، اس وجہ سے معدو دے چند حلقے بعض اوقات ان کی بابت مختلف نوع کے تحفظات کا اظہار کرتے نظر آتے تھے ۔ وہ ایک سے زائد مرتبہ ان خیالات کا اظہار کرتے رہے کہ وہ انسانیت کی خدمت پر بھرپور یقین رکھتے ہیں اور انھوں نے تمام عمر اپنے عمل سے اس بات کو ثابت کیا اور آخری سانسوں تک انسانی قدروں کو فروغ دیا ۔ didier-chaudet-iran-mتحریر: ڈیڈیئر شودت:فرانس کے صحافتی اور تحقیقی حلقوں میں یہ مغربی مصنف ایک معتبر نام کے حامل ہیں۔ وہ افغانستان، پاکستان، ایران اوروسطی ایشیائی امور کے ماہر ہیں اور ’’سینٹر فار انیلے سس آف فارن افیئرز‘‘ میں ڈائریکٹر ایڈیٹنگ کے طور پر کام کر رہے ہیں۔ اس کے علاوہ وہ مختلف اوقات میں ’’نیشنل انسٹی ٹیوٹ فار ساوتھ ایشین سٹڈیز سنگا پور‘‘، ’’پیرس کے انسٹی ٹیوٹ آف پولیٹیکل سٹڈیز‘‘، ’’فرنچ انسٹی ٹیوٹ فار انٹر نیشنل ریلیشنز‘‘ اور ’’یالے یونیورسٹی‘‘ میں تحقیق و تدریس کے شعبوں سے وابستہ رہے اور ’’اپری‘‘ (اسلام آباد پالیسی ریسرچ انسٹی ٹیوٹ) سے ’’نان ریزیڈنٹ سکالر‘‘ کے طور پر وابستہ ہیں۔ (ترجمعہ: اصغر علی شاد

چھبیس اگست کو روز نامہ پاکستان میں شائع ہوا ۔

(مندرجہ بالا تحریر مصنف کے ذاتی خیالات ہیں جن کے لئے اسلام آباد پالیسی ریسرچ انسٹی ٹیوٹ یا کوئی بھی دوسرا ادارہ ذمہ دار نہیں

 

RELATED
ARTICLES.

Scroll to Top

Search for Journals, publications, articles and more.

Subscribe to Our newsletter