IPRI – The Islamabad Policy Research Institute

birlikte yaşadığı günden beri kendisine arkadaşları hep ezik sikiş ve süzük gibi lakaplar takılınca dışarıya bile çıkmak porno istemeyen genç adam sürekli evde zaman geçirir Artık dışarıdaki sikiş yaşantıya kendisini adapte edemeyeceğinin farkında olduğundan sex gif dolayı hayatını evin içinde kurmuştur Fakat babası çok hızlı sikiş bir adam olduğundan ve aşırı sosyalleşebilen bir karaktere sahip porno resim oluşundan ötürü öyle bir kadınla evlenmeye karar verir ki evleneceği sikiş kadının ateşi kendisine kadar uzanıyordur Bu kadar seksi porno ve çekici milf üvey anneye sahip olduğu için şanslı olsa da her gece babasıyla sikiş seks yaparken duyduğu seslerden artık rahatsız oluyordu Odalarından sex izle gelen inleme sesleri ve yatağın gümbürtüsünü duymaktan dolayı kusacak sikiş duruma gelmiştir Her gece yaşanan bu ateşli sex dakikalarından dolayı hd porno canı sıkılsa da kendisi kimseyi sikemediği için biraz da olsa kıskanıyordu

ARTICLE

!علاقائی استحکام میں ممکنہ پاک عمان کردار

(ڈیڈیئر شودت ( خصوصی تحریر
سال 2016کا آغاز سرد جنگ کی اسی خطرناک روش سے ہوا کہ سعودی عرب اور ایران کے مابین کھلی محاذ آرائی کچھ عرصے کے لئے جاری تھی ۔ ان دونوں ریاستوں کی کشیدگی نے یمن اور شام کی جنگی صورتحال میں گویا ایندھن فراہم کر دیا ۔ ہمیں( یورپ ) احساس کرنا ہو گا کہ کیسے اس چنگاری کو شعلہ بننے سے روکیں اور کسی بھی طور مذاکراتی عمل کی بحالی کا آغاز ہو اور یقینی طور پر اس کی ذمہ داری یورپ اور کچھ دوسری ریاستوں پر ہے ۔ یہ توقع رکھنا صحیح نہ ہو گا کہ فوری طور پر تہران اور ریاض ایک دوسرے پر اس حد تک اعتماد کر سکتے ہیں کہ باہمی تعلقات کی بحالی پر متفق ہو جائیں ۔ جب تک بیرونی قوتیں اس میں اپنا کردار ادا نہ کریں ۔ حالانکہ یہ بھی لازمی نہیں کہ واشنگٹن ، بیجنگ اور ماسکو جیسی عالمی قوتیں اس میں براہ راست شامل ہوں ۔اگر چہ ان کی بالواسطہ معاونت اس امر میں ضروری ہے ۔
البتہ ایسے ملک جو ثقافتی اور جغرافیائی لحاظ سے ایران سعودی عرب کے قریب تر ہیں ۔ وہ اس ضمن میں پاکستان اور عمان ان دونوں علاقائی قوتوں کے درمیان ایک پل کا فریضہ انجام دے سکتے ہیں ۔ اس سال کے آغاز میں تہران میں عمان کے سفیر کے بیانات مثبت اور حوصلہ افزا تھے جب انھوں نے کہا کہ ان کا ملک ایران اور سعودیہ کے باہمی سفارتی تعلقات کے منقطع کرنے کو پسند نہیں کرتا ۔ اس کا مطلب یہ بھی نہیں کہ عمان ایران کا حامی ہے بلکہ عمان کا موقف یہ ہے کہ خطے میں مجموعی استحکام سب کی ترجیح ہونا چاہیے ۔ عمان کی یہ پوزیشن سمجھ میں آنے والی بات بھی ہے کیونکہ یمن کو کئی حلقے سعودی عرب کا ’’ ویت نام ‘‘ قرار دیتے ہیں ۔ کیونکہ یمن میں داخلی انتشار خاصا زیادہ ہے ۔ ایسے میں ایران اور سعودیہ کی محاذ آرائی سے صرف القاعدہ اور داعش کو ہی مزید تقویت حاصل ہو سکتی ہے ۔
ریاض اور تہران کے غیر جانبدار سفارتی حلقے اس بابت عمان کے مخلصانہ جذبات کی نفی نہیں کرتے ۔ سلطنتِ عمان کی کوشش رہی ہے کہ شام اور یمن میں متحارب فریقین کے مابین بات چیت کا آغاز ہو سکے ۔ دسمبر 2013 میں عمان نے خلیجی تعاون کونسل کی عسکری حیثیت کو مزید مضبوط بنانے کی مخالفت کی تھی کیونکہ ایسی صورت میں ایران کے ساتھ کسی بھی ممکنہ لڑائی میں اس کو سعودیہ کے عسکری ونگ کی حیثیت اختیار کرنا پڑتی ۔ اس کے ساتھ ایران اور مغرب کے مابین ایرانی جوہری پروگرام کے حوالے سے بھی عمان نے مذاکراتی عمل میں خاصا سرگرم کردار ادا کیا تھا ۔ عمان کے سربراہ ’’ سلطان قابوس ‘‘ نے 2012 میں اپنے دارالحکومت میں ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات میں اہم کردار ادا کیا ۔ جس کی وجہ سے جولائی 2015 کا معاہدہ ممکن ہو سکا ۔
یہی وجہ تھی کہ مسقط میں ایرانی سفیر نے سرکاری طور پر مذاکرات کی کامیابی کے حوالے سے عمان کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ اس کی وجہ سے ایران اور خلیجی ریاستوں کے مابین تجارت کو فروغ حاصل ہو گا اور ساحلی شہری ’’ دگم ‘‘ کی وساطت سے ایران افریقہ اور مشرقی ایشیاء کو گیس بھی فراہم کرے گا اور اومان عمان سرمایہ کاری کے ذریعے اس کی معیشت کو مستحکم کرنے کی کوشش کرے گا ۔
ایران کے ساتھ ان اچھے قریبی روابط کے باوجود عمان کے امریکہ کے ساتھ عسکری تعلقات اور قربت میں کمی نہ آئی ۔ خطے میں عمان امریکہ کا قابلِ بھروسہ اتحادی ہے ۔ نہ صرف اس کی افواج امریکی ہتھیاروں سے لیس ہیں بلکہ اس کے فوجی اڈے بھی امریکی افواج کو میسر ہیں ۔
علاوہ ازیں ایران سے یہ تعلقات عمان کی اس راہ میں حائل نہ ہوئے کہ وہ ایران میں سعودی سفارت خانے پر ہونے والے حملوں کی مذمت نہ کرے ۔ اگرچہ وہ اس معاملے میں ایران سے سفارتی تعلقات منقطع کرنے کی حد تک نہ گیا ۔ ایسے میں ایک جانب اس نے ریاض سے اچھے تعلقات قائم رکھے اور خلیجی ریاستوں میں عمان غالباً واحد امریکی اتحادی ہے جو اس سرد جنگ جیسی صورتحال میں بھی ایران اور سعودیہ دونوں فریقوں کے ساتھ رابطے میں ہے اور یمن اور شام کے معاملے میں بھی ایک متوازن پالیسی قائم رکھنے میں کامیاب ہے ۔ واضح رہے کہ عمان نے یمن کے خلاف جنگ میں سعودی اتحاد میں شامل ہونے سے انکار کیا اور ایران سے تعلقات بھی منقطع نہ کیے ۔
تا ہم محض اپنے بل بوتے پر عمان ان دونوں ملکوں کو قریب لانے کی پو زیشن میں نہیں کیونکہ سعودیہ میں یہ تاثر کسی حد تک پختہ ہے کہ وہ ایران کے زیادہ قریب ہے ۔ ایسے میں کسی ممکنہ مفاہمتی عمل میں اس پر پورا تکیہ نہیں کیا جا سکتا ۔
اسی تناظر میں خطے کا ایک دوسرا اور زیادہ اہم ملک پاکستان ہے جو یہ کردار ادا کرنے کی پوزیشن میں ہے ۔ پاکستان کو عمان پر یہ سبقت بھی حاصل ہے کہ وہ اس کشیدگی سے کوئی خصوصی مفاد حاصل کرنا نہیں چاہتا ۔ کیونکہ جنوبی ایشیاء میں افغانستان اور بھارت کے حوالے سے اس کا کردار اہم ہے اور ایران اور ریاض دونوں کے مقابلے میں اس کے نزدیک بھارت اور افغانستان کے ساتھ تعلقات زیادہ اہم ہیں ۔ جبکہ عمان کی امن و امان اور اقتصادی خوشحالی سعودیہ اور ایران کے ساتھ تعلقات پر منحصر ہے ۔ ویسے بھی ایران سعودیہ تناؤ پاکستان کے لئے کسی فوری خطرے کی حیثیت نہیں رکھتا ۔
پاک آرمی چیف جنرل راحیل کی قیادت میں پاک فوج نے جہادی گروپوں اور پاک مخالف طالبان کو بڑی حد تک کچل کر رکھ دیا ہے ۔ جن کی وجہ سے پاکستانی عوام خود کو کافی مشکل میں محسوس کر رہے تھے ۔ وزیر اعظم نواز شریف اور جنرل راحیل شریف کے سعودی عرب اور ایران کے حالیہ دوروں نے خاص طور پر واضح کر دیا کہ پاکستان دونوں کے مابین حقیقی مفاہمت کا خواہاں ہے ۔ یوں بھی گذشتہ
کچھ عرصے میں پاکستان نے اپنے عمل سے ثابت کیا ہے کہ وہ ان دونوں ملکوں کی باہمی کشیدگی میں کم از کم فی الحال فریق بننے پر آمادہ نہیں ایسے میں بظاہر لگتا ہے کہ سعودیہ اور ایران کی خواہش ہے کہ پاک افواج سے بہتر تعلقات رکھے جائیں ۔ پاکستان کی سیاسی قیادت بھی یہی چاہتی ہے ۔ ویسے بھی پاک عسکری قیادت کا پاکستان کے قومی مفادات پر خاصا اثر و رسوخ ہے اور اس کی یہ خواہش واضح طور پر نظر آتی ہے ۔ پاک سیاسی قیادت ، آرمی اور انٹیلی جنس بھی اس معاملے میں ایک ہی صف میں نظر آتے ہیں ۔ پاکستان کے اس قومی عزم کی ایک بڑی وجہ مشرقِ وسطیٰ کے معاملات میں بھی جھلکتی ہے کیونکہ پاکستان کے قومی مفادات کے حوالے سے بھارت اور افغانستان کی صورتحال زیادہ اہم ہے ۔ ایسے میں سالِ رواں میں اگر سعودیہ اور ایران میں کشیدگی زیادہ بڑھتی ہے تو پاک قیادت کو بخوبی احساس ہے کہ یہ دونوں ملک پاکستان کی سر زمین کو اپنی اپنی پراکسی وار کے لئے استعمال کر سکتے ہیں ۔یوں بھی پہلے ہی سے یمن اور شام کی صورتحال بھی اسی امر کی عکاس ہے ۔
ایسے میں اگر یورپ محتاط طرزِ عمل نہیں اپناتا تو اس صورتحال کے منفی اثرات افغانستان پر پڑ سکتے ہیں ۔ مگر پاکستان اپنے قریبی حلیف چین کے تعاون سے افغانستان کے داخلی اتحاد اور امن و سلامتی کی صورتحال کی اصلاح کے لئے کوشاں ہے ۔ ایسے میں امریکہ اس عمل میں ایک مبصر کا کردار ادا کر رہا ہے ۔ جبکہ یورپ کسی حد تک اس عمل سے باہر ہے ۔( البتہ جرمنی پاکستان اور افغانستان میں اپنے اثر و رسوخ کے حوالے سے کچھ کردار ادا کر سکتا ہے ۔ )اگر سعودی عرب اور ایران کی کشیدگی بڑھتی ہے تو اس سے افغان داخلی امن اور سیاسی عمل متاثر ہونے کا احتما ل ہے اور افغان مذکراتی عمل کو بھی نقصان پہنچنے کا حقیقی اندیشہ ہے ۔
پاکستان کا دوسرا مفا د یہ ہے کہ سعودی ایران تناؤ کے بڑھنے سے پاکستان کے اندر فرقہ وارانہ منافرت بڑھ سکتی ہے کیونکہ ایسے میں دونوں ملک اپنے مالی اور میڈیائی عمل دخل سے فرقہ وارانہ کشیدگی میں اضافے کا سبب بن سکتے ہیں ۔ واضح رہے کہ پاکستان ایک اہم سنی ریاست ہے مگر اس کی شیعہ آبادی بھی دس سے پندرہ فیصد کے درمیان ہے ۔ یوں دنیا بھر میں تعداد کے اعتبار سے اسے دوسرا شیعہ ملک بھی قرار دیا جا سکتا ہے ۔
1979 کے خمینی انقلاب اور 1980 کی افغان جنگ کے نتیجے میں شیعہ سنی مخاصمت پہلے ہی سے بڑھی ہوئی ہے ۔ 2013 تک بیرونی قوتوں کی شہہ پر پاکستان میں فرقہ وارانہ منافرت خاصی بڑھی ۔ 1990 کے عشرے میں تو یہ نفرت فرقہ وارانہ دہشتگردی کی شکل اختیار کر گئی تھی اور پاک مخالف طالبان کو سنی اکثریتی حلقوں میں کسی حد تک پذیرائی بھی حاصل ہو گئی تھی جس سے پاکستان کی قومی سلامتی کے لئے خطرات پیدا ہو گئے اور نائن الیون کے بعد دہشتگردی کے خلاف جاری عالمی جنگ میں پاکستان کے ہزاروں شہری اور سیکورٹی فورسز کے اہلکار اور عہدے دار اپنی جانوں کی قربانی دے چکے ہیں ۔ اسی وجہ سے پاکستان کی خواہش اور کوشش ہے کہ سعودیہ اور ایران کے مابین تعلقات زیادہ کشیدگی کی شکل اختیار نہ کریں ۔ ویسے بھی اقتصادی اعتبار سے اس کے لئے یہ دونوں ملک اہم ہیں ۔ عالمی پابندیوں کے ہٹنے کے بعد ایران سے گیس پائپ لائن کی وجہ سے پاکستان میں توانائی کا بحران ختم ہو سکتا ہے ۔ جبکہ پر امن سعودی عرب میں بیس لاکھ سے زائد پاکستانی شہری اپنی روزی کما رہے ہیں جو اپنی کمائی پاکستان بھجواتے ہیں جس کی وجہ سے ملکی اقتصادیات کا پہیہ نسبتاً بہتر ڈھنگ سے چل رہا ہے ۔
ایسے میں کوئی شبہ نہیں کہ پاکستان پوری مسلم دنیا میں ایران اور سعودی عرب میں سب سے زیادہ اثر و رسوخ کا حامل ہے مگر اسلام آباد اور مسقط کو اپنی ان کوششوں میں مغرب کی حمایت کی ضرورت ہے ۔ ایسے میں یورپی یونین کا بھی فرض ہے اور اس کا مفاد بھی اسی میں ہے کہ وہ مشرق وسطیٰ میں استحکام کی خاطر پاکستان اور عمان کی کوششوں کو ہر ممکن تعاون فراہم کرے ۔
تحریر : ڈیڈیئر شودت . “فرانس کے صحافتی اور تحقیقی حلقوں میں یہ مغربی مصنف ایک معتبر نام کے حامل ہیں ۔ وہ افغانستان ، پاکستان ، ایران اور وسطی ایشیائی امور کے ماہر ہیں اور ’’ سینٹر فار انیلے سس آف فارن افیئرز ‘‘ میں ڈائریکٹر ایڈیٹنگ کے طور پر کام کر رہے ہیں ۔ اس کے علاوہ وہ مختلف اوقات میں ’’ نیشنل انسٹی ٹیوٹ فار ساوتھ ایشین سٹڈیز سنگا پور ‘‘ ، ’’ پیرس کے انسٹی ٹیوٹ آف پولیٹیکل سٹڈیز ‘‘ ، ’’ فرنچ انسٹی ٹیوٹ فار انٹر نیشنل ریلیشنز ‘‘ اور ’’ یالے یونیورسٹی ‘‘ میں تحقیق و تدریس کے شعبوں سے وابستہ رہے اور ’’ اپری ‘‘ ( اسلام آباد پالیسی ریسرچ انسٹیdc ٹیوٹ ) سے ’’ نان ریزیڈنٹ سکالر ‘‘ کے طور پر وابستہ ہیں ۔ ( ترجمعہ : اصغر علی شاد ) ‘‘
۔بارہ مئی کو روز نامہ پاکستان میں شائع ہوا
۔( مندرجہ بالا تحریر مصنف کے ذاتی خیالات ہیں جن کے لئے اسلام آباد پالیسی ریسرچ انسٹی ٹیوٹ یا کوئی بھی دوسرا ادارہ ذمہ دار نہیں )

 

RELATED
ARTICLES.