IPRI – The Islamabad Policy Research Institute

birlikte yaşadığı günden beri kendisine arkadaşları hep ezik sikiş ve süzük gibi lakaplar takılınca dışarıya bile çıkmak porno istemeyen genç adam sürekli evde zaman geçirir Artık dışarıdaki sikiş yaşantıya kendisini adapte edemeyeceğinin farkında olduğundan sex gif dolayı hayatını evin içinde kurmuştur Fakat babası çok hızlı sikiş bir adam olduğundan ve aşırı sosyalleşebilen bir karaktere sahip porno resim oluşundan ötürü öyle bir kadınla evlenmeye karar verir ki evleneceği sikiş kadının ateşi kendisine kadar uzanıyordur Bu kadar seksi porno ve çekici milf üvey anneye sahip olduğu için şanslı olsa da her gece babasıyla sikiş seks yaparken duyduğu seslerden artık rahatsız oluyordu Odalarından sex izle gelen inleme sesleri ve yatağın gümbürtüsünü duymaktan dolayı kusacak sikiş duruma gelmiştir Her gece yaşanan bu ateşli sex dakikalarından dolayı hd porno canı sıkılsa da kendisi kimseyi sikemediği için biraz da olsa kıskanıyordu

ARTICLE

قومی سلامتی ۔۔۔۔۔اور منفی صحافت 

انیس  مارچ کو معروف صحافی حامد میر پر جو قاتلانہ حملہ ہوا اس کی مذمت سبھی طبقات نے کی اور یقیناً یہ واقعہ اس قابل تھا کہ اسے کسی بھی طور جائز نہیں ٹھہرایا جا سکتا مگر اس واقعہ کی آڑ لے کر ملک کے بعض حلقوں خصوصاً ایک نجی ٹی وی نے جو رویہ اپنایا اس کو محتاط ترین الفاظ میں بھی منفی صحافت  ہی قرار دیا جا سکتا ہے۔

کیونکہ یہ امر کسی سے بھی پوشیدہ نہیں کہ قومی سلامتی کے ادارے خصوصا آئی ایس آئی اور افواجِ پاکستان مخالف قوتوں کے دلوں میں کانٹے کی طرح کھٹکتی رہی ہیں۔اسی وجہ سے دنیا میں کوئی بھی ناخوشگوار واقعہ پیش آئے تو مغربی میڈیا خصوصاً بھارت کے تمام سرکاری اور غیر سرکاری عناصر اس کے تانے بانے آئی ایس آئی سے جوڑنے میں مصروف ہو جاتے ہیں ۔اور اس بار ان کی یہ ذمہ داری وطنِ عزیز کے بعض حلقوں نے گویا اپنے سر لے لی۔اور ابتدائی کئی گھنٹوں تک ایسا کہرام برپا کیا گویا زمین پھٹ گئی یا آسمان گر پڑا ہو۔

حالانکہ کسے معلوم نہیں کہ وطنِ عزیز گذشتہ بارہ برس سے بدترین دہشتگردی کی لپیٹ میں ہے۔اور دو مرتبہ سے زائد ملک کا سربراہ مملکت (جو آرمی چیف بھی تھا) بدترین حملوں کا نشانہ بنا۔دوبار وزیرِ اعظم رہ چکی شخصیت 27 دسمبر 2007 کو دہشتگردی کی بھینٹ چڑھ گئی۔کراچی کے کور کمانڈر اور وائس  چیف آف آرمی سٹاف ’’احسن سلیم حیات‘‘ اسی کراچی میں بدترین حملے کا نشانہ بنے مگر معجزانہ طور پر بچ گئے۔پاکستان آرمی کی میڈیکل کور کے سربراہ لیفٹنٹ جنرل ’’مشتاق بیگ‘‘ پنڈی کے مصروف ترین علاقے مال روڈ پر شہید کردیئے گئے۔ستمبر 2007 میں آئی ایس آئی کا ذیلی ہیڈ کوارٹر حمزہ کیمپ دہشتگردی کا نشانہ بنا۔علاوہ ازیں تربیلا غازی میں ایس ایس جی کیمپ پر حملہ،کامرہ ایئر بیس پر حملہ،کراچی میں مہران نیول بیس کے ساتھ ساتھ پاک فوج کا ہیڈ کوارٹر جی ایچ کیو راول پنڈی شدت پسندی کے نشانہ بنے۔اس کے ساتھ ملک کے طول و عرض میں پنتالیس ہزار نہتے شہری اور آٹھ ہزار قانون نافذ کرنے والے اداروں کے جوان اور افسر اس بے نام جنگ کی بھینٹ چڑھ چکے ہیں۔محض تین ماہ قبل اسی کراچی کی سڑکوں پر سی آئی ڈی کے دلیر اور جانباز ایس ایس پی ’’چوہدری اسلم‘‘ اپنی جان کی بازی ہار چکے ہیں۔مگر بھارت ،امریکہ،اسرائیل اور ان کے پاکستانی گرگے شاید یہ سمجھتے ہیں کہ پاکستان کے عوام اور سیکورٹی فورسز سے تعلق رکھنے والے جانبازوں کی رگوں میں انسانی خون کی بجائے پانی گردش کر رہا ہے لہذا ان کی اموات نسبتاً کم درجے کی ہیں۔

حالانکہ سابق وزیرِ داخلہ ’’رحمٰن ملک‘‘ نے 27 جون 2012 کو واضح الفاظ میں انکشاف کیا تھا کہ بھارت کے خفیہ ادارے بالواسطہ اور بلاواسطہ دونوں طرح سے بلوچستان ،کراچی اور دیگر پاکستانی علاقوں میں جاری دہشتگردی کو پروان چڑھا رہے ہیں اور دہشتگردوں کو بھارت سے کیے جانے والے ٹیلیفون پیغامات کی ریکارڈنگ بطورِ ثبوت دہلی سرکار کو فراہم کیے جا چکے ہیں۔

یہ امر بھی قابلِ توجہ ہے کہ 26 نومبر 2012 کو جب بھارت کے خفیہ ادارے ’’را‘‘ کے نئے چیف ’’آلوک جوشی‘‘ کی نامزدگی کا اعلان ہوا تو اس سے اگلے روز یعنی 27 اور 28 نومبر کو بھارت کے تمام انگریزی اخبارات بشمول انڈین ایکسپریس،ٹائمز آف انڈیا ،ہندوستان ٹائمز اور دی ہندو میں واضح طور پر لکھا گیا کہ آلوک جوشی نے پاکستان اور نیپال میں بہت سے کلیدی آپریشنز اپنی زیزِ نگرانی انجام دیئے ہیں۔اس لئے بطورِ انعام ان کو ’’را‘‘ کا چیف تعینات کیا گیا ہے اور وہ 30 دسمبر 2012 کو اپنی ذمہ داریاں سنبھالیں گے۔

اس مرحلے پر بھارت کے پرنٹ یا الیکٹرانک میڈیا کے کسی حلقے نے یہ سوال نہیں اٹھایا کہ بھارتی قوم کو بتایا جائے کہ آخر آلوک جوشی نے پاکستان اور نیپال میں کون سے کارہائے نمایاں انجام دیئے ہیں۔ظاہر سی بات ہے کہ موصوف یہاں ہسپتال ،سڑکیں اور سکول تو نہیں بناتے رہے بلکہ دہشتگردی کو فروغ دینے کے ساتھ ساتھ پاکستانی میڈیا میں اپنی پروردہ شخصیات کی پرورش میں ہی مصروفِ عمل رہے ہوں گے۔دوسری جانب وطنِ عزیز کے یہ چند مہربان آئی ایس آئی کے سربراہ کو قطعی بے بنیاد الزامات کے تحت ٹارگٹ کرنے میں مصروفِ عمل رہے ہیں، اس سے قومی سلامتی کے اداروں کے حوالوں سے دونوں جانب کے چند حلقوں کی سوچ کا موازنہ کیا جا سکتا ہے۔

 

3مئی کو نوائے وقت میں شائع ہوا

(مندرجہ بالا تحریر مصنف کے ذاتی خیالات ہیں جس کے لئے اسلام آباد پالیسی ریسرچ انسٹی ٹیوٹ یا کوئی بھی دوسرا ادارہ ذمہ دار نہیں)

 

RELATED
ARTICLES.

Scroll to Top

Search for Journals, publications, articles and more.

Subscribe to Our newsletter