IPRI – The Islamabad Policy Research Institute

birlikte yaşadığı günden beri kendisine arkadaşları hep ezik sikiş ve süzük gibi lakaplar takılınca dışarıya bile çıkmak porno istemeyen genç adam sürekli evde zaman geçirir Artık dışarıdaki sikiş yaşantıya kendisini adapte edemeyeceğinin farkında olduğundan sex gif dolayı hayatını evin içinde kurmuştur Fakat babası çok hızlı sikiş bir adam olduğundan ve aşırı sosyalleşebilen bir karaktere sahip porno resim oluşundan ötürü öyle bir kadınla evlenmeye karar verir ki evleneceği sikiş kadının ateşi kendisine kadar uzanıyordur Bu kadar seksi porno ve çekici milf üvey anneye sahip olduğu için şanslı olsa da her gece babasıyla sikiş seks yaparken duyduğu seslerden artık rahatsız oluyordu Odalarından sex izle gelen inleme sesleri ve yatağın gümbürtüsünü duymaktan dolayı kusacak sikiş duruma gelmiştir Her gece yaşanan bu ateşli sex dakikalarından dolayı hd porno canı sıkılsa da kendisi kimseyi sikemediği için biraz da olsa kıskanıyordu

ARTICLE

مشن 44۔۔۔۔ جموں بمقابلہ کشمیر؟

مودی کی قیادت میں بھارت کی مانند مقبوضہ کشمیر میں بھی مذہبی تقسیم مزید گہری ہو گئی ہے اور یہاں بی جے پی کا قدم جمانے کا خواب حقیقت بنتا نظر نہیں آتا کیونکہ حالیہ الیکشن میں مقبوضہ وادی سے اسے محض تین فیصد ووٹ ملے ۔ بی جے پی کو چندkr9 سیٹوں پر حاصل کردہ ووٹوں کی کیفیت درج ذیل ہے۔ امیرہ کدل 11726 کے مقابلے 1359، اننت ناگ 16983 کے مقابلے 1175 ، بانڈی پورہ 25084 کے مقابلے 565 ، بٹ مالو 12542کے مقابلے 1304 ، بیج بہارہ 23581 کے مقابلے 1591 ، بڈگام 30090 کے مقابلے 880 ، چرار شریف 32849 کے مقابلے 845 ، حضرت بل 13234 کے مقابلے 2635 ۔
یاد رہے کہ ’’ بی جے پی ‘‘نے اپنی جیت کے لئے انتہائی مہنگی اور بھرپور انتخابی مہم چلائی مگر وادی میں اس سے کس قدر نفرت موجود ہے اس کا اظہار مندرجہ بالا ’’ بی جے پی کے حاصل کردہ ووٹوں سے لگایا جا سکتا ہے ۔ بہرحال اب اس پارٹی کی کوشش ہے کہ مقبوضہ ریاست میں پہلی بار کسی ہندو کو وزیر اعلیٰ بنایا جائے ۔ اس ضمن میں ’’ ڈاکٹر جتندر سنگھ ‘‘ نمایاں امید وار ہیں ۔
بہرحال مقبوضہ کشمیر میں نام نہاد انتخابات کا جو ڈھونگ پانچ مراحل میں رچایا گیا 23دسمبر کو اسکے انتخابی نتائج کا اعلان ہوا ،تو بتایا گیا کہ کل 87 نشستوں میں سے 28پیپلز ڈیموکریٹک kr 5پارٹی ’’ پی ڈی پی‘‘نے جیتیں۔جب کہ 25سیٹوں کے ساتھ بی جے پی دوسرے نمبر پر ،عمر عبداللہ کی نیشنل کانفرنس 15 کے ساتھ تیسرے جبکہ کانگرس بارہ نشستوں کے ساتھ چوتھے نمبر پر رہی ۔سات سیٹیں دیگر امیدواروں کو حاصل ہوئیں ۔ 87 کے ایوان میں حکومت سازی کے لیے کم از کم 44 ارکان کی ضرورت ہوتی ہے اسی وجہ سے بی جے پی نے اپنی انتخابی مہم کو کشمیر کا مشن 44 کا نام دیا تھا مگر نتائج پر نگاہ ڈالیں تو کوئی بھی اکیلی جماعت حکومت سازی کی پوزیشن میں نہیں۔
یہ نتائج اس امر کا اظہار ہیں کہ مقبوضہ کشمیر آنے والے دنوں میں ایک بڑے بحران سے گزرنے والا ہے ،نتائج واضح کرتے ہیں کہ یہ نام نہاد الیکشن ’’ایشوز‘‘کی بجائے مذہبی بنیادوں پر لڑے گئے ۔مودی کی سربراہی میں بی جے پی نے مذہبی گروہ بندی اتنی شدید کر دی تھی کہ وہ کشمیر اور لداخ کے خطوں میں ایک بھی سیٹ نہیں جیت پائی ،سبھی جانتے ہیں کہ مقبوضہ کشمیر در حقیقت تین علاقوں یعنی جموں،لداخ اور کشمیر کے خطوں پر مشتمل ہے،جموں میں مجموعی طور پرہندو اکثریت ہے اس ریجن کی 37 میں سے 25سیٹیں بی جے پی نے جیتیں،بی جے پی کے کامیاب امیدواروں میں 24ہندو اور واحد مسلم عبدالغنی کوہلی جموں ریجن کی کال کوٹے (جومسلم اکثریتی علاقہ ہے)جیت سکا ۔
’’ پی ڈی پی‘‘ نے اپنی28 میں سے 25سیٹیں کشمیر میں سے جیتیں جبکہ تین جموں کے راجوڑی ،پونچھ،اور درحال کے مسلم اکثریتی علاقوں سے حاصل کر پائی۔حالانکہ ’’ پی ڈی پی‘‘ کے سر پرست اعلی مفتی سعید نے گزشتہ چھ سال کا وقت اسی امید پر گزارا کہ وہاں ان کی پارٹی کی جڑیں مضبوط کی جا سکیں ۔
کانگرس کی حاصل کردہ بارہ سیٹوں میں سے تین لداخ کے بد ھ مت کو ماننے والوںِ ،چار کشمیر اور پانچ جموں کے مسلم اکثریتی علاقوں میں سے ملی ۔ کانگرس کے بارہ کامیاب امیدواروں میں سے دو بدھ مذہب کے ماننے والوں میں سے جبکہ دس مسلمان جن میں سے کارگل کی سیٹ سے اصغر کربلائی کامیاب ہوئے۔ جموں کے ہندو اکثریت کے علاقوں میں وہ ایک سیٹ بھی حاصل نہ کر پائی۔نیشنل کا نفرس کی کل پندرہ میں سے گیارہ کشمیر میں سے اور چار جموں میں سے ہیں۔ انتخابات سے پہلے بی جے پی کودوسروں کی طرح یہ ہی توقع تھی کہ چناؤ میں زیادہ تعداد میں ووٹ نہیں پڑے گا اور بی جے پی آسانی سے 44کا حدف پورا کر لے گئی مگر انڈین ٹی وی چینل ’’نیوز نیشن‘‘نے 24دسمبر کو اپنی رپوٹ میں انکشاف کیا کہ بی جے پی کی جیت کو روکنے کے لیے کشمیری مسلمانوں نے اپنے حلقے کے کسی بھی مضبوط مسلم امید وار کے حق میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا ۔بی جے پی کی اہم خاتون رہنما ’’ حنا بھٹ ‘‘ کے مطابق اسی وجہ سے بی جے پی کا مشن 44کامیاب نہیں ہوا۔
یہاں یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ چند ماہ پہلے ہوئے لوک سبھا انتخابات میں بی جے پی نے مقبوضہ کشمیر کی چھ میں تین سیٹیں حاصل کی تھیں ۔حالیہ چناؤ میں سے 87 میں سے 25یعنی 29فیصد سیٹیں ملیں ۔جو اس کی گرتی ہوئی مقبولیت کا مظہر ہے،سجاد لونkr کو ضلع ’’کپواڑہ‘‘کی سیٹ ہندواڑہ سے کامیاب قرار دیا گیا جب ان کے دوسرے ساتھی بشیر احمد ڈار بھی 151ووٹوں سے فاتح قرار پائے ۔پیپلز ڈیموکریٹ فرنٹ کے حکیم محمد یاسین کو خان صاحب سیٹ سے کامیابی ملی۔ انجینئر رشید، باقر ر ضوی اور پون گپتا آزاد امید وار کے طور پر کامیاب قرار پائے ۔جب کہ ’’ سی پی آئی ‘‘ کے ترگیامی کلگام سے جیتے۔
واضح رہے کہ مفتی سید 1989 میں بھارت کے مرکزی وزیرداخلہ تھے جب کہ انَ کی بیٹی ڈاکٹر روبیہ اغوا کر لی گئی تھی،ممتاز کشمیری رہنما یاسین ملک اور ان کے ساتھیوں پر اغوا کا الزام لگایا گیا تھا ۔مبصرین کے مطابق موجودہ نتائج 1983 جیسے ہیں ۔جب کہ کشمیر میں نیشنل کانفرنس نے 46 سیٹیں جیت لیں اور جموں سے کانگرنس نے 26سیٹیں جیت لیں اور یوں دہلی کے حکمرانوں کی پالیسیوں کے نتیجے میں مقبوضہ ریاست مذہبی بنیادوں یعنی ہندو اور مسلم کشمیرمیں بٹ کر رہی گئی تھی جس کی وجہ سے مقبوضہ کشمیر میں بڑے پیمانے پر تحریک آزادی کا آغاز ہوا جس میں ایک لاکھ کشمیری شہید ہو چکے ہیں ۔
ماہرین نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ حالیہ انتخابی نتائج بھی کسی ایسی ہی صورتحال کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتے ہیں۔ بہرحال جتندر سنگھ وزیر اعلیٰ بنے یا پھر عمر عبداللہ اور محبوبہ مفتی ، ملت فروشی کی اپنی خاندانی روایت کو مزید آگے بڑھائیں گے ، یہ بات طے ہے کہ کشمیری عوام بھارتی تسلط اور اس کے مہروں کو قبول کرنے پر آمادہ نہیں ہوں گے ۔ 
اس ضمن میں یہ امر بھی قابلِ ذکرہے کہ انڈین آرمی کے سابق چیف اور موجودہ مرکزی وزیر جنرل وی کے سنگھ 24 ستمبر 2013 کو کھلے عام اعتراف کر چکے ہیں کہ مقبوضہ کشمیر میں 1947 سے لے کر آج تلک جتنی بھی حکومتیں بنی ہیں ، وہ بھارتی فوج کے آشیر باد سے بنی اور قائم رہیں اور ان کی فنڈنگ بھی انڈین آرمی کرتی رہی ہے ۔ ایسے میں یہ امر تقریباً طے ہے کہ آنے والے دنوں میں مقبوضہ ریاست میں بھارت کے خلاف تحریک آزادی نئے جوش اور ولولے کے ساتھ فعال ہو سکتی ہے ۔

انتیس دسمبر کو نوائے وقت میں شائع ہوا ۔
( مندرجہ بالا تحریر مصنف کے ذاتی خیالات ہیں جس کے لئے اسلام آباد پالیسی ریسرچ انسٹی ٹیوٹ یا کوئی بھی دوسرا ادارہ ذمہ دار نہیں )

RELATED
ARTICLES.

Scroll to Top

Search for Journals, publications, articles and more.

Subscribe to Our newsletter