مفتی سرکار کا مستقبل ؟

سولہ مارچ 1846 کو معاہدہ امرتسر وجود میں آیا تھا جس کے تحت ڈوگرہ حکمران ’’ گلاب سنگھ ‘‘ نے ریاست کشمیر کو 75 لاکھ روپے میں خرید لیا ۔ تب سے کشمیری قوم کے مصائب کا ایسا سلسلہ شروع ہوا جو تاحال ختم ہونے کا نام نہیں لے رہا ۔ تقریباً پونے دو سو سال کے اس سفر میں کشمیریوں نے ایسے ایسے مظالم سہے ہیں اور ایسے جاں گسل مراحل سے گزرے ہیں جس کے تصور سے ہی رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں ۔ مگر آفرین ہے اس قوم کے فرزندوں کے عزم و حوصلے پر کہ انھوں نے ظلم و جبر کے کٹھن اندھیروں میں بھی شمعِ آزادی کو روشن رکھا اور کوئی بڑی سے بڑی سفاکی راہِ آزادی کے ان متوالوں کو راستہ سے بھٹکنے پر مجبور نہیں کر سکی ۔
دوسری جانب 22 دسمبر کو دنیا بھر میں انٹر نیشنل واٹر ڈے منایا جا رہا ہے ۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ اس پس منظر میں بھارت نے پاکستان کے خلاف آبی جارحیت کا جو مذموم سلسلہ شروع کر رکھا ہے ، اسے بھی عالمی برادری سنجیدگی سے لے اور اس کے تدارک کے لئے عملی اقدامات اٹھائے جائیں ۔
علاوہ ازیں جدوجہدِ آزادیِ کشمیر کے تازہ پڑاؤ میں یکم مارچ کو بھارت کی حکمران جماعت بی جے پی اور مقبوضہ ریاست کی بھارت نواز سمجھی جانے والی جماعت ’’ پی ڈی یی ‘‘نے شراکتِ اقتدار کے معاہدے کے تحت دونوں پارٹیوں پر مشتمل نمائشی حکومت وجود میں آئی اور نمائشی وزیر اعلیٰ کے طور پر مفتی سعید نے وزارتِ اعلیٰ کا منصب سنبھالا جبکہ ’’ بی جے پی ‘‘ کے نرمل سنگھ نائب وزیر اعلیٰ مقرر کیے گئے ۔ اس کے ساتھ ساتھ 24 رکنی باقی کابینہ نے بھی حلف اٹھایا جس میں دونوں پارٹیوں کے بارہ ، بارہ افراد لیے گئے ۔ اس تقریب میں ہندوستانی وزیر اعظم’’ مودی ‘‘ ، ’’ لعل کرشن ایڈوانی ‘‘ ، ’’ وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ ‘‘ ، وزیر خزانہ ’’ ارون جیتلی ‘‘ کے علاوہ بھارتی حکومت کے اکثر سرکردہ افراد شامل تھے ۔ 
ظاہری طور پر ’’ بی جے پی ‘‘اور ’’ پی ڈی یی ‘‘ اپنے اپنے پتے کھیل رہی تھیں اور دونوں جانب کا خیال یہ تھا کہ وہ اپنے مقصد کے حصول کی خاطر دوسرے فریق کو بڑی ہوشیاری سے استعمال کرنے میں کامیاب ہو رہے ہیں کیونکہ ’’ بی جے پی ‘‘ اعلانیہ یہ تاثر دے رہی تھی کہ مسلم اکثریت کی ریاست جموں کشمیر میں بھی وہ حکومت بنانے میں کامیاب رہی ہے اور آگے چل کر آرٹیکل 370 کو ختم کر کے مقبوضہ ریاست کو عام بھارتی صوبے والا درجہ دے دیا جائے گا ۔ علاوہ ازیں ریاست میں آبادی کی شرح تناسب بھی تبدیل کر کے مسلمانوں کی اکثریت خاطر خواہ حد تک کم کر دی جائے گی ۔ 
دوسری جانب ’’ پی ڈی یی ‘‘کے سربراہ ’’ مفتی سعید ‘‘ کا غالباً اپنا بھی مخصوص ایجنڈہ تھا جس کے تحت وہ اپنی دانست میں ’’ بی جے پی ‘‘ کے کندھوں پر سوار ہو کر اپنے مقاصد حاصل کر سکتے تھے ۔ یہاں اس امر کا ذکر بے جا نہ ہو گا کہ بھارت کی داخلی سیاست پر نظر رکھنے والے حلقے جانتے ہیں کہ بھارتی اسٹبلشمنٹ مفتی سعید کو ’’سافٹ سیپرٹسٹ ‘‘ ( نرم علیحدگی پسند ) قرار دیتی ہے اور ظاہری طور پر مودی اور ان کے ہم نواؤں کو پہلا جھٹکا اس وقت لگا جب حلف اٹھانے کے فوراً بعد اخبار نویسوں سے گفتگو کرتے ہوئے مفتی سعید نے مقبوضہ ریاست میں ہونے والے انتخابات کے لئے پاکستان اور حریت رہنماؤں کا شکریہ ادا کیا کہ ان کی وجہ سے ریاست میں انتخابا ت کے ساز گار ماحول پیدا ہو پایا ۔ مفتی صاحب کے اس بیان پر ’’ بی جے پی ‘‘ کے اکثر حلقوں اور سارے بھارتی میڈیا نے خاصا شور مچایا اور کہا موقف اختیار کیا کہ کشمیر کے الیکشن کا کریڈٹ تو بھارتی سیکورٹی فورسز کو دیا جانا چاہیے تھا نہ کہ پاکستان اور حریت لیڈروں کو ۔ مگر ’’ بی جے پی ‘‘کے تمام تر ا حتجاج کے با و جو د ا گلے ر و ز یعنی 2 ما ر چ کو مفتی سعید نے کہا کہ میں ا پنے بیا ن پر قا ئم ہو ں ا و ر پا کستا ن ا س معا ملے میں ’’ سٹیک ہولڈر ‘‘ کی حیثیت رکھتا ہے ۔ ا س پر بھا ر تی پا ر لیمنٹ کے د و نو ں ا یو ا نو ں میں د و د ن ہنگا مہ چلتا ر ہا ۔
اسی روز ’’ پی ڈی یی ‘‘کے 8 ارکانِ اسمبلی نے مطالبہ کیا کہ شہید افضل گرو کی باقیات واپس کی جائیں ۔ یہ بھی ’’ بی جے پی ‘‘ کے لئے دوسرا بڑا جھٹکا تھا ۔
7 مارچ کو مفتی سرکار نے حریت لیڈر ’’ مسرت عالم ‘‘ کو رہا کر دیا جو 18 اکتوبر 2010 سے قید و بند کی صعوبتیں برداشت کر رہے تھے اور جن پر قابض بھارتی فوج نے الزام لگایا کہ 2010 میں مقبوضہ ریاست میں بھارت کے قبضے کے خلاف تحریک چلانے والوں میں سرِ فہرست تھے ۔ یاد رہے کہ اس تحریک کے دوران 115 کشمیری شہید کر دیئے گئے تھے ۔
9 مارچ کو لوک سبھا اور راجیہ سبھا میں ساری بھارتی اپوزیشن جماعتوں نے بہت بڑا ہنگامہ کیا جس پر مودی کو ذاتی طور پر وضاحت جاری کرنی پڑی کہ وہ ’’بھارت کی سلامتی ‘‘ پر آنچ نہیں آنے دیں گے اور اس ضمن میں مفتی سرکار سے وضاحت طلب کی جائے گی اور ’’ بی جے پی ‘‘ اس سلسلے میں کسی بھی حد تک جا سکتی ہے ۔ اس کے بعد 13 مارچ کومفتی سرکار نے حکم صادر کیا کہ مقبوضہ کشمیر کی تمام سرکاری عمارتوں اور سرکاری افسران کی گاڑیوں پر بھارتی جھنڈے کے ساتھ ساتھ جموں کشمیر کا جھنڈہ بھی ضرور لہرایا جائے ۔ اس حکم پر عمل نہ کرنے والوں کو سخت سزا دی جائے گی ۔ یہ حکم شام مقبوضہ ریاست کے جنرل سروسز محکمے کے سیکرٹری ’’ ایم اے بخاری ‘‘ کی جانب سے باقاعدہ نوٹیفیکشن کی صورت میں جاری ککیا گیا مگر مودی سرکار کے سخت رد عمل کے بعد محض 4 گھنٹوں بعد اس حکم کو واپس لے لیا گیا ۔ یوں اس شبہ کو تقویت ملتی ہے کہ دونوں فریق غالباً ’’نورا کشتی‘‘ کر رہے ہیں ۔ 
راقم کی رائے ہے کہ مستقبل قریب میں مفتی سعید کٹھ پتلی اسمبلی میں استصوابِ رائے اور کشمیر کے مستقبل کے متعلق ریفرنڈم کروانے کے حوالے سے قرار داد پیش کر سکتے ہیں اور غالباً سبھی مسلم ارکان ریفرنڈم کی قرار داد کی حمایت کر کے اسے منظور کرا سکتے ہیں اور جس کے نتیجے میں بھلے ہی مفتی سرکار کو برطرف کر دیا جائے لیکن نہ صرف تحریک کشمیر میں ایک نئی جان پڑ جائے گی بلکہ مفتی سعید کشمیری عوام کی نظر میں اپنا سیاسی قد بہت اونچا کر سکتے ہیں اور یوں بھارت کے لئے ناقابلِ تصور حد تک مشکلات کھڑی ہونے کا حقیقی امکان موجود ہے اور اس طرح سے ’’ بی جے پی ‘‘ ’’ خود آپ اپنے دام میں صیاد آ گیا ‘‘ کی عملی تفسیر بن کر رہ جائے گی ۔ 

پندرہ مارچ کو روزنامہ پاکستان میں شائع ہوا ۔
(مندرجہ بالا تحریر مصنف کے ذاتی خیالات ہیں جس کے لئے اسلام آباد پالیسی ریسرچ انسٹی ٹیوٹ یا کوئی بھی دوسرا ادارہ ذمہ دار نہیں )

Tags:

About the Author

Post a Reply

Your e-mail address will not be published. Required fields are marked *

Top