مقبوضہ کشمیر میں علیحدہ ہندو بستیاں

دو مئی کو بھارتی ہائی کمشنر کو دفترِ خارجہ میں طلب کیا گیا اور ورکنگ پاؤنڈری پر غلطی سے سرحد پار کر جانے والے پاکستانی شہری امانت علی کے قتل پر شدید احتجاج کیا گیا ihk townshipاور بھارت سے کہا گیا کہ مستقبل میں اسے اس طرح کے واقعات سے اجتناب کرنا ہو گا ۔ اس سے پہلے 30 اپریل کو دفترِ خارجہ کی ترجمان’’ محترمہ تسنیم اسلم ‘‘ نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں الگ زون قائم کر کے آبادی کے تناسب کو تبدیل کر نے کی بھارتی کوشش اقوامِ متحدہ کی منظور کردہ قرار دادوں کی کھلی خلاف ورزی ہے ۔ انہوں نے توقع ظاہر کی کہ دہلی سرکار ان عزائم سے باز رہے گی ۔ مبصرین نے ہندوستانی حکمرانوں کو قول و فعل کے بد ترین تضادات کا تذکرہ کرتے کہا ہے کہ اسے بد قسمتی ہی قرار دیا جا سکتا ہے کہ ایک سو پچیس کروڑ انسانوں پر حکومت کرنے والا بھارتی حکمران گروہ ہر معاملے میں دوہرے معیار اپنائے ہوئے ہیں ۔ 
ہندوستان کا یہ غیر انسانی رویہ صرف یہاں تک ہی محدود نہیں بلکہ سات اپریل کو بھارتی وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ اور مقبوضہ کشمیر کے کٹھ پتلی وزیر اعلیٰ مفتی کی دہلی میں ہوئی ملاقات کے بعد اعلان کیا گیا کہ مقبوضہ ریاست میں کشمیری پنڈتوں کے لئے علیحدہ بستیاں تعمیر کی جائیں گی ۔ ظاہر ہے یہ اتنا سنگین معاملہ ہے جس کے خلاف کشمیری عوام کے تمام طبقات کی جانب سے شدید رد عمل سامنے آیا اور تمام حریت پسند قائدین بشمول ’’ سید علی گیانی ‘‘ ، ’’ میرا واعظ عمر فاروق ’’ ، ’’ یاسین ملک ‘‘ ،’’ حزب المجاہدین کے سربراہ ’’ سید صلاح الدین ‘‘اور دیگر کی جانب سے دہلی سرکار کو وارننگ دی گئی کہ کشمیری عوام د ہلی سرکار کو کسی صورت اس امر کی اجازت نہیں دیں گے کہ وہ اسرائیل کی طرز پر مقبوضہ کشمیر میں بھی کشمیری برہمنوں کے لئے الگ بستیاں تعمیر کریں اور یوں دھیرے دھیرے اسرائیلی ماڈل پر ہی آبادی کا تناسب تبدیل کر کے کشمیریوں کو اپنے ہی وطن میں آہستہ آہستہ اقلیت میں تبدیل کر کے رکھ دے ۔ 
یاد رہے کہ 1989 میں تحریک آزادی میں شدت آنے کے بعد سے چند ہزار کشمیری پنڈت بھارتی سرکار کے ایما پر مقبوضہ ریاست سے چلے گئے تھے اور ’’ بی جے پی ‘‘ نے اپنے انتخابی منشور میں وعدہ کر رکھا تھا کہ حکومت میں آنے کی صورت میں ان کو واپس لا کر آباد کیا جائے گا ۔
اس ضمن میں قا بلِ توجہ امر یہ ہے کہ مقبو ضہ کشمیر کے کسی بھی ر ہنما نے یہ نہیں کہا کہ کشمیر ی پنڈ تو ں کو و ا پس نہیں آ نے د یا جا ئے گا بلکہ سب نے دعوت دی ہے کہ یہ لوگ واپس آ کر اپنے اپنے گھروں میں رہیں مگر چونکہ دہلی کے حکمر ا نو ں کا تو ا س سلسلے میں ا پنا ا یجنڈ ہ ہے اس لئے وہ اسرائیلی طرز پر الگ سے برہمن بستیاں آباد کرنے کے خواہش مند ہیں ۔ 
یہ امر بھی قابلِ ذکر ہے کہ عمر عبداللہ کی نیشنل کانفرنس اور جموں کشمیر پیپلز ڈیموکریٹک فرنٹ کے پنڈت ’’ بھوشن بزاز ‘‘ سمیت سبھی نے الگ بستیوں کی مخالفت کی ہے ۔ یوں اس بھارتی طرزِ عمل کے خلاف پورا مقبوضہ کشمیر سراپا احتجاج ہے ۔ دیکھنا یہ ہے کہ بھارتی حکمران اپنی ظالمانہ روش میں کوئی تبدیلی لاتے ہیں یا روایتی ہٹ دھرمی پر قائم رہتے ہیں۔ 
اس ضمن میں یہ امر بھی قابلِ ذکر ہے کہ پچھلے پندرہ روز کے اندر یعنی یک مئی اور پندرہ اپریل کو سید علی گیلانی اور مسرت عالم کے جلسوں میں مقبوضہ کشمیر کے شہریوں نے کھلے عام پاکستانی پرچم لہرائے اور بھارت سے آزادی حاصل کرنے کے عزم کی تجدید کی ۔ غیر جانبدار حلقوں کے مطابق اگر اس ساری صورتحال کے باوجود ہندوستان کے بالا دست طبقات نے آنے والے دنوں کے حوالے سے نوشتہ دیوار کو نہ سمجھا تو ظاہر ہے اس کی تمام تر ذمہ داری ہندوستان کی ہٹ دھرمی پر مبنی ذہنیت پر ہو گی۔ 

چار مئی کو روزنامہ پاکستان میں شائع ہوا ۔ 
( مندرجہ بالا تحریر مصنف کے ذاتی خیالات ہیں جس کے لئے اسلام آباد پالیسی ریسرچ انسٹی ٹیوٹ یا کوئی بھی دوسرا ادارہ ذمہ دارنہیں )

Tags:

About the Author

Post a Reply

Your e-mail address will not be published. Required fields are marked *

Top