مودی سے ملاقات ۔۔۔۔ ایک جائزہ

مودی نے برسرِ اقتدار آنے کے بعد پوری کوشش کی کہ پاکستان کو سفارتی سطح پر عالمی برادری میں تنہا کر دیا جائے ۔ اس حوالے سے ایک جانب پچیس اگست 2014 کو ہونے والیu خارجہ سیکرٹری ملاقات کو یک طرفہ طور پر منسوخ کیا گیا تو دوسری جانب تقریباً چار ماہ تک ’’ ایل او سی ‘‘ اور ورکنگ باؤنڈری پر بلاجواز مسلسل فائرنگ کر کے اشتعال انگیزی کی روش اختیار کی ۔ علاوہ ازیں جنرل اسمبلی کے سالانہ اجلاس میں پاک وزیر اعظم سے ملاقات کرنے تک سے پرہیز کیا گیا ۔ اس کے ساتھ 26 اور 27 نومبر 2014 کو کھٹمنڈو ( نیپال ) میں سارک سربراہ اجلاس کے دوران دونوں وزرائے اعظم نے ایک دوسرے سے بات تک نہ کی اگرچہ بعد از خرابی بسیار مودی اور نواز شریف نے مصافحہ کیا ۔ اس تناظر میں دس جولائی کو سنگھائی تعاون تنظیم کی سائیڈ لائن پر مودی کی خواہش پر پاک وزیر اعظم نے ملاقات کی ۔ اس سے پہلے سولہ جون کو مودی نے خود نواز شریف کو فون کیا اور تین جولائی کو بھارتی خارجہ سیکرٹری نے دہلی میں پاک ہائی کمشنر سے اس ملاقات کی درخواست کی ۔ مذکورہ ملاقات کے بعد وطنِ عزیز میں اس حوالے سے دو مختلف نقطہ ہائے نظر سامنے آ رہے ہیں ۔ ایک جانب یہ کہا جا رہا ہے کہ مشترکہ بیان میں تنازعہ کشمیر کا ذکر تک نہیں ہے جو بھارت کی سفارتی کامیابی ہے ۔ اس کے علاوہ پاک وزیر اعظم کے استقبال کے لئے مودی ایک قدم بھی آگے نہیں بڑھے ۔ جبکہ دوسرے امکتبہ فکر کے خیال میں بھارت کو اس حوالے سے خاصی خفت کا سامنا کرنا پڑا ہے کیونکہ مودی اور ان کے ساتھی وزیروں کے تمام تر اشتعال انگیز بیانات اور رویوں کے باوجود پاکستان کی جانب سے باوقار اور مستحکم طرزِ عمل کا مظاہرہ کیا گیا جس کی وجہ سے دہلی سرکار کو شرمندگی کا سامنا کرنا پڑا کیونکہ گذشتہ مہینوں کے دوران ہی پاک چائنا اقتصادی راہداری کا شاندار معاہدہ عمل میں آیا ۔ اس کے ساتھ ساتھ چین کی جانب سے لکھوی معاملے میں سیکورٹی کونسل میں چین نے ویٹو کر کے گویا بھارت کے منہ پر چانٹا رسید کیا اور اس کے بعد نو جولائی کو چینی صدر سے ملاقات کے دوران مودی کی جانب سے اس حوالے سے تمام تر واویلے کے باوجود اسی روز بیجنگ میں چینی وزراتِ خارجہ نے لکھوی معاملے میں ایک بار پھر بھارتی موقف کو غلط ٹھہراتے ہوئے رد کر دیا ۔ علاوہ ازیں افغان حکومت اور طالبان کے مابین مذاکراتی اجلاس میں چین ، امریکہ اور پاکستان کے نمائندے تو شریک ہوئے مگر بھارت کی تمام تر خواہشات اور کوششوں کے باوجود امریکہ تک نے اسے گھاس نہ ڈالی ۔ اس پس منظر میں غیر جانبدار ماہرین کی رائے ہے کہ ’’ اوفا ‘‘ میں ہونے والے پاک بھارت سربراہ مذاکرات کا سنجیدگی سے تجزیہ کیا جانا چاہیے اور اس ضمن میں نہ تو خوشی کے شادیانے بجائےu5جانے چاہیں اور نہ ہی مایوسی اور ناکامی کا تاثر دیا جانا چاہیے ۔ بلکہ حقیقتاً کسی حد تک ا س حوالے سے پاکستان کا پلڑا بھاری نظر آتا ہے کیونکہ خارجہ سیکرٹری مذاکرات کو بھارت کی جانب سے منسوخ کیے جانے کے بعد پاکستانی حکومت کی اعلیٰ ترین قیادت کی جانب سے ایک سے زائد مرتبہ واضح پیغام دیا گیا تھا کہ اب اگر مذاکرات ہوں گے تو وہ صرف بھارت کی درخواست اور خواہش پر ہوں گے اور اپنے اس موقف پر پاکستان کامیابی سے ڈٹا رہا ۔ اسی کے ساتھ عالمی برادری کی موثر قوتوں نے بھی اس معاملے میں بالواسطہ اور بلاواسطہ دونوں طرح سے بھارت کو ہی موردِ الزام ٹھہرایا ۔ یہاں اس امر کا ذکر بھی بے جا نہ ہو گا کہ پاکستان کی جانب سے پہلے کبھی بھی اتنے موثر ڈھنگ سے پاکستان کے اندر ’’ را ‘‘ کی سرگرمیوں کا تذکرہ نہیں کیا گیا اور وطنِ عزیز میں جاری بد امنی کی ذمہ داری ٹھوس شواہد کے ساتھ اور اعلانیہ طور پر بھارت پر نہیں ڈالی گئی اور گذشتہ تین ماہ میں عسکری اور سیاسی قیادت دونوں کی طرف سے کھل کر بھارت اور ’’ را ‘‘ کا نام لیا گیا جس پر تلملا کر مودی ، ان کے وزیر دفاع اور وزیر خارجہ سمیت سب کی طرف سے بوکھلاہٹ اور بد زبانی کا مظاہرہ بار بار ہوا ۔ جون میں بھارتی وزیر خارجہ ’’ سشما سوراج ‘‘ دعویٰ کر رہی تھیں کہ پاکستان سے کسی بھی صورت مذاکرات نہیں کیے جائیں گے مگر چند ہی روز میں ان کے یہ سارے دعوے باسی کڑھی کا ابال ثابت ہوئے ، اسی وجہ سے بھارت کی بڑی اپوزیشن جماعت کانگرس کے ترجمان ’’ آنند شرما ‘‘ نے ’’ اوفا ‘‘ مذاکرات پر مودی کو سخت الفاظ میں ہدفِ تنقید بنایا ہے اور کہا ہے کہ ’’ اپنی انتخابی مہم کے دوران تو مودی جی بار بار فرماتے تھے کہ ’’ اب پاکستان کو مودی کے56 انچ سینے کا سامنا کرنا پڑے گا اور ہم آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کریں گے کیونکہ یہ منموہن سنگھ اور را ہل گاند ھی کا لاغر جسم نہیں جو پاکستان کے آگے جھک جائے گا ‘‘ ۔ کانگرسی رہنماؤں نے اپنی اس ملا قات کے بعد بی جے پی سے کہا ہے کہ اب مودی کا وہ 56 انچ والا سینہ اور بڑھکیں کدھر گئیں کہ وہ نواز شریف کی آمد سے قبل ہی ان کے انتظار میں بسر و چشم بیٹھے ہوئے تھے ‘‘ خود ’’ بی جے پی ‘‘ کے اتحادی ’’ بال ٹھاکرے ‘‘ کے بیٹے اور شیو سینا کے سربراہ ’’ اودت ٹھاکرے ‘‘ نے پاک وزیر اعظم سے مودی کی ملاقات کو بھارت کی بد قسمتی سے تعبیر کیا اور اسے بھارتی ووٹروں سے دھوکا قرار دیا ہے ۔ بہرکیف راقم کی رائے ہے کہ عالمی دباؤ کے ساتھ ساتھ خود بھارت کی اندرونی سیاست کے بعض عوامل نے بھی مودی کو اس ملاقات پر مجبور کیا جن میں سرِ فہرست ستمبر ، اکتوبر میں صوبہ بہار میں ہونے والے عام صوبائی انتخابات ہیں جہاں مسلمان ووٹرز 17 سے بیس فیصد کے درمیان ہیں ۔ مودی کو اندیشہ ہے کہ دہلی کے صوبائی انتخابات کی مانند یہاں بھی مسلمان ووٹ اجتماعی طور پر مودی کے خلاف اور ’’نتیش کمار‘‘ اور’’ لالو یادو‘‘ کے حق میں جا سکتے ہیں اور ’’ بی جے پی ‘‘ کا حشر ویسا ہی ہو سکتا ہے جیسا دہلی میں ہوا تھا ۔ یوں بھی مودی اب تیرہ ماہ پہلے جیسے مقبول نہیں رہے کیونکہ گذشتہ ایک برس میں معاشی میدان میں وہ اپنا ایک بھی وعدہ پورا نہیں کر سکے اور ان کی جماعت پر کرپشن کے بھی بہت بڑے الزامات سامنے آ چکے ہیں ۔ اس تمام کے باوجود یہ امر پیشِ نظر رہنا چاہیے کہ دونوں جانب کے نیشنل سیکورٹی ایڈوائزرز کی مجوزہ دہلی ملاقات سے پہلے وطنِ عزیز کے متعلقہ حلقوں کو زیادہ اور ٹھوس ہوم ورک کرنا ہو گا کیونکہ ظاہری طور پر انڈین نیشنل سیکورٹی ایڈوائزر ’’ اجیت ڈووال ‘‘ اپنے پاکستانی ہم منصب کی بہ نسبت زیادہ فعال ، پروفیشنل اور گھاگ ہیں اور بھارت کی تمام انٹیلی جنس ایجنسیاں عملی طور پر اس کو جوابدہ ہیں ۔ ایسے میں اگرچہ سرتاج عزیز کی اہلیت کی بابت کسی کو شک نہیں مگر پھر بھی ضرورت اس امر کی ہے کہ ان کا ہوم ورک اور ان کی ٹیم زیادہ مستعدی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ٹھوس شواہد کے ساتھ مذاکرات کے آئندہ دور میں شامل ہو ۔سبھی جانتے ہیں کہ کشمیر پاک خارجہ پالیسی کا بنیادی جزو ہے لہذا بہتر ہوتا کہ حالیہ ملاقات کے بعد یہ مشترکہ بیان کا حصہ ہوتا کیونکہ ان معاملات کی علامتی اہمیت سے انکار نہیں کی جا سکتا ۔ اس کے ساتھ ساتھ سفارتی اور میڈیا کی سطح پر کشمیر کے تنازعہ کی بنیادی حیثیت کو خاطر خواہ اہمیت دی جائے کیونکہ بھارتی حکمتِ عملی کا ایک جزو یہ بھی ہے کہ ستمبر کے اواخر میں اقوامِ متحدہ کے سالانہ اجلاس کے موقع پر اس کے قیام کی 70 ویں سالگرہ کے ضمن میں بھارت کا کردار ظاہری طور پر زیادہ پر امن نظر آئے اور اکتوبر میں نئی دہلی میں منعقد ہونے والی تمام افریقی ملکوں کی کانفرنس میں ہندوستان کا کردار عالمی سطح پر زیادہ موثر اور بھرپور نظر آئے تا کہ سیکورٹی کونسل میں مستقل سیٹ حاصل کرنے کا دیرینہ بھارتی خواب عملی شکل اختیار کر سکے ۔ توقع کی جانی چاہیے کہ پاکستان کے تمام مقتدر حلقے اور ادارے اس ضمن میں اپنی ذمہ داریاں زیادہ موثر اور فعال ڈھنگ سے نبھائیں گے ۔ تیرہ جولائی کو نوائے وقت میں شائع ہوا ۔ ( مندرجہ بالا تحریر مصنف کے ذاتی خیالات ہیں جس کے لئے اسلام آباد پالیسی ریسرچ انسٹی ٹیوٹ یا کوئی بھی دوسرا ادارہ ذمہ دار نہیں )

Tags:

About the Author

Post a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Top