مودی کا دورہ چین ۔۔۔۔ کیا کھویا کیاپایا ؟

 

سولہ مئی 2014 کو بھارتی لوک سبھا کے عام انتخابات کے نتائج آئے اور 26 مئی کو مودی نے وزیر اعظم کا عہدہ سنبھالا تھا ۔ یوں اپنی حکومت کا ایک برس مکمل کر چکے ہیںcm2 ۔ اسی پس منظر میں زیر نظر تحریر میں جائزہ لینے کی کوشش کی گئی ہے کہ خارجہ پالیسی کے محاذ پر وہ کہاں تک کامیاب ہوئے ۔ خصوصاً چین کے ساتھ تعلقات کے حوالے سے ۔
یہاں اس امر کا ذکر بے جا نہ ہو گا کہ جب سے موصوف نے اپنا منصب سنبھالا ہے ، وہ لگاتا ر غیر ملکی دورے کر رہے ہیں ۔ کافی عرصہ پہلے ایک ہندی فلم بنی جس کا نام ’’ اراؤنڈ دی ورلڈ ‘‘ تھا اور اس کا ’’ ٹائٹل سانگ ‘‘ بھی یہی تھا ۔ اسی پس منظر میں ایک بھارتی صحافی نے مودی کے دوروں پر تبصرہ کرتے کہا ہے کہ وہ دنیا کی سیر پر نکلے ہوئے ہیں اور جی بھر کر دنیا دیکھ رہے ہیں ۔
بہرکیف یہ تو ایک جملہ معترضہ تھا ، لیکن یہ حقیقت ہے کہ پچھلے بارہ مہینوں میں مودی نے اٹھارہ غیر ملکی cm1دورے کیے اور مجموعی طور پر اس سلسلے میں وہ ساٹھ دن یعنی دو ماہ ملک سے باہر رہے ۔ موصوف کا سب سے پہلا دورہ بھوٹان کا تھا اور تازہ ترین چین ، منگولیا اور جنوبی کوریا کا ہے ۔ مودی نے 14 سے 16 مئی تک چین کا دورہ کیا ، اس دوران وہ چینی صدر کے آبائی شہر ’’ شی آن‘‘سمیت’’ بیجنگ ‘‘ اور شنگھائی گئے ۔ ان کے اس دورے کا سرسری سا بھی جائزہ لیں توواضح ہو جاتا ہے کہ اگرچہ اقتصادی تعاون کے شعبے میں دونوں ممالک کے مابین تقریباً 22 ارب ڈالر کے معاہدے اور مفاہمت کی یاداشتوں پرcm دستخط ہوئے مگر سیاسی اور دفاعی حوالے سے مودی کو خاطر خواہ نتائج نہیں مل پائے ۔ جب وہ چودہ مئی کو چین پہنچے تو چین کے سرکاری ٹی وی ’’ سی سی ٹی وی ‘‘ نے اپنے تمام میڈیا پر بھارت کا جو نقشہ دکھایا اس میں مقبوضہ جموں کشمیر اور ارونا چل پردیش بھارتی نقشے شامل نہیں تھے ۔ جس کے ردعمل کے طور پر بھارتی میڈیا اور سفارتی حلقوں میں گویا ایک کہرام سا مچ گیا ۔
یوں اس دورے کے آغاز میں ہی چینی قیادت نے بالواسطہ طور پر اپنے عمل سے واضح کر دیا کہ مقبوضہ کشمیر اور ارونا چل پردیش پر بھارتی ناجائز تسلط سے متعلق چین کا موقف کیا ہے اور پاک بھارت تعلقات کے ضمن میں بھی چین کہاں کھڑا ہے ۔ مبصرین کے مطابق اس پیش رفت کو پاکستان کی سفارتی اور عسکری پالیسیوں کی ایک بڑی کامیابی قرار دیا جانا چاہیے اور ضرورت اس امر کی ہے کہ اس ضمن میں پاکستانی قیادت مزید تندہی سے اس پیش رفت کوآگے بڑھائے ۔
چین اور بھارت کے مابین سرحدی تنازعات کے حل کی جانب ذرا بھی پیش رفت نہیں ہو سکی اگرچہ بھارتی قیادت کی پوری خواہش تھی کہ چاہے برائے نام ہی سہی اس حوالے سے اسے کچھ فیس سیونگ مل جائے ۔ اسی کے ساتھ مقبوضہ کشمیر اور ارونا چل پردیش کے شہریوں کو چین کے ’’نتھی ویزہ‘‘ کا معاملہ بھی جوں کا توں ہے۔
واضح رہے کہ چین ان دونوں مقبوضہ علاقوں کے شہریوں کو چین کا ویزہ بھارتی پاسپورٹ پر نہیں دیتا بلکہ اس کے ساتھ ایک الگ کاغذ منسلک ہوتا ہے جس پر چین آنے کا اجازت نامہ درج ہوتا ہے ۔ اسے ’’سٹیپل ویزہ ‘‘ کانام دیا جاتا ہے ۔

 

علاوہ ازیں ’’ یو این سیکورٹی کونسل ‘‘ میں بھارت کی مستقل نشست کی حمایت بھی چینی قیادت نہیں کی جس کا اعتراف پندرہ مئی کو بھارتی سیکرٹری خارجہ ’’ جے شنکر ‘‘ نے بیجنگ میں ہندوستانی میڈیا سے بات چیت کے دوران کیا ۔ البتہ اسی روز یعنی پندرہ مئی کو بیجنگ میں یونیورسٹی کے سٹوڈنٹ سے اپنے خطاب کے دوران مودی نے چینی عوام اور حکومت سے اپیل کی کہ وہ اقوامِ متحدہ میں سلامتی کونسل کی مستقل نشست کے لئے بھارت کی حمایت کریں تو اس کا فائدہ نہ صرف چین بلکہ سارے ایشیاء کو پہنچے گا۔ البتہ دورے میں یہ طے ہوا کہ چین میں واقع ہندؤں کا مذہبی مقام ’’ جھیل کیلاش مانسروور ‘‘ جانے کے لئے اگلے ماہ یعنی جون سے محدود تعداد میں ہندو یاتری جا سکیں گے ۔ بھارت کے اکثر سفارتی اور سیاسی مبصرین نے مودی کا حالیہ دورہ چین کو بڑی حد تک ناکام قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ 17 تا 19 ستمبر 2014 کو چینی صدر کے دورہ بھارت کے دوران جن 20 بلین ڈالرز کے معاہدے ہوئے تھے ، اس حوالے سے بھی نتائج تاحال نہ ہونے کے برابر ہیں.

اٹھارہ مئی کے ٹائمز آف انڈیا نے انکشاف کیا ہے کہ مودی کے دورے کے محض دو دن بعد چین کے سرکاری اخبار ”گلوبل ٹائمز ” نے کہا ہے کہ” بھارتی وزیراعظم کی تمام تر خواہش اور کوشش کے باوجود وہاں غیر ملکی سرمایہ کاری کے امکانات نہ ہونے کے برابر ہیں کیونکہ بھارت کا مجموعی ماحول غیر ملکی سرمایہ کاری کے لئے انتہائی نامناسب اور غیر موزوں ہے”۔

۔ یوں بھارتی مبصرین اس امر پر متفق ہیں کہ 20 تا 21 اپریل چینی صدر کا دورہ پاکستان جتنا کامیاب تھا ، اسی قدر مودی کا دورہ چین ناکام ثابت ہوا ہے ۔
اس ضمن میں یہ امر بھی قابلِ توجہ ہے کہ سولہ مئی کو مودی شنگھائی سے دو روزہ دورے پر منگولیا پہنچے ۔ کسی بھی بھارتی وزیر اعظم کا منگولیا کا یہ پہلا دورہ ہے ، اگرچہ 1988 اور 2011 میں بھارتی صدور ’’ وینکٹ رمن ‘‘ اور ’’ شرمتی پرتی بھا پٹیل ‘‘ منگولیا کا دورہ کر چکے ہیں ۔ اکثر بھارتی مبصرین کے مطابق مودی کے دورہ منگولیا کا مقصدر در اصل چین کے ہمسائے میں اپنے نئے دوست تلاش کرنا ہے اور جس طرح بھارت کے ہمسایہ چھوٹے ممالک نیپال اور مالدیپ چین کے خاصے قریب ہیں ، اس طرح مودی خشکی سے گھرے منگولیا کو اپنے زیر اثر لانے کی خواہش میں چنگیز اور ہلاکو خان کی سرزمین پر پہنچے ہیں اور اسے ایک ارب ڈالر کی مدد کا بھی اعلان کیا ہے ۔
بہر کیف اس مقصد میں دہلی کے حکمرانوں کو کہاں تک کامیابی ہوتی ہے ، اس کا فیصلہ تو آنے والا وقت ہی کرے گا مگر اس تمام پس منظر میں ضرورت اس امر کی ہے کہ پاکستان کے تمام سفارتی اور سیاسی حلقے خطے میں رونما ہونے والی اس نئی پیش رفت پر نگاہ رکھیں تا کہ علاقائی اور عالمی سطح پر پاکستان کے قومی مفادات متاثر نہ ہوں ۔

اٹھارہ مئی کو نوائے وقت میں شائع ہوا ۔
(مندرجہ بالا تحریر مصنف کے ذاتی خیالات ہیں جس کے لئے اسلام آباد پالیسی ریسرچ انسٹی ٹیوٹ یا کوئی بھی دوسرا ادارہ ذمہ دار نہیں

 ) 

Tags:

About the Author

Post a Reply

Your e-mail address will not be published. Required fields are marked *

Top