IPRI – The Islamabad Policy Research Institute

birlikte yaşadığı günden beri kendisine arkadaşları hep ezik sikiş ve süzük gibi lakaplar takılınca dışarıya bile çıkmak porno istemeyen genç adam sürekli evde zaman geçirir Artık dışarıdaki sikiş yaşantıya kendisini adapte edemeyeceğinin farkında olduğundan sex gif dolayı hayatını evin içinde kurmuştur Fakat babası çok hızlı sikiş bir adam olduğundan ve aşırı sosyalleşebilen bir karaktere sahip porno resim oluşundan ötürü öyle bir kadınla evlenmeye karar verir ki evleneceği sikiş kadının ateşi kendisine kadar uzanıyordur Bu kadar seksi porno ve çekici milf üvey anneye sahip olduğu için şanslı olsa da her gece babasıyla sikiş seks yaparken duyduğu seslerden artık rahatsız oluyordu Odalarından sex izle gelen inleme sesleri ve yatağın gümbürtüsünü duymaktan dolayı kusacak sikiş duruma gelmiştir Her gece yaşanan bu ateşli sex dakikalarından dolayı hd porno canı sıkılsa da kendisi kimseyi sikemediği için biraz da olsa kıskanıyordu

ARTICLE

میمن کا عدالتی قتل ؟

بھارت کی وزارتِ داخلہ نے اس امر کا اعتراف کیا ہے کہ سالِ رواں کی جنوری سے مئی تک کے پانچ ماہ کے دوران مسلم کش فسادات میں گذشتہ برس کے اسی دورانیے کی بہ نسبت خطرناک حد تک اضافہ ہوا ہے ۔ پچھلے سال یعنی 2014 کے پہلے پانچ ماہ کے دوران 232 فسادات ہوئے تھے جبکہ اس برس اس عرصے کے دوران 287 مسلم کش فسادات ہوئے اور یہ اعداد و شمار صرف چار بھارتی صوبوں یعنی مہاراشٹر ، مغربی بنگال ، ہریانہ اور یو پی کے ہیں ۔
مبصرین کے مطابق یوں تو دنیا بھر کے ذرائع پچھلے ایک برس سے اس امر کا اظہار کر رہے تھے کہ مودی حکومت کے بر سرِ اقتدار آنے کے بعد سے وہاں کی مذہبی اقلیتوں کے خلاف تشدد کے واقعات میں خطرناک حد تک اضافہ ہو چکا ہے ۔ مگر اس کے باوجود ’’ بی جے پی ‘‘ کے لیڈر ایسی باتوں کو پراپیگنڈہ قرار دیتے تھے مگر اب جبکہ خود ہندوستان کی مرکزی وزراتِ داخلہ کی جانب سے یہ اعتراف سامنے آیا ہے تو اس امر میں کوئی شک نہیں رہ گیا کہ دہلی سرکار مسلمانوں اور دیگر مذہبی اقلیتوں کے ضمن میں امتیازی اور متعصبانہ طرزِ عمل اختیار کیے ہوئے ہے۔ اسی ذہنیت کی تازہ مثال ممبئی سے تعلق رکھنے والے یعقوب میمن جنہیں 30 جولائی کو ناگپور جیل پھانسی کے پھندے پر لٹکا دیا گیا ۔ ان پر الزام تھا کہ وہ مارچ 1993 میں ممبئی میں ہونے والے بم دھماکوں کی سازش میں ملوث تھے ۔
یاد رہے کہ یعقوب میمن اعلیٰ تعلیم یافتہ تھے اور اس واقعے سے قبل ممبئی میں ایک بڑی فرم میں بطورِ چارٹرڈ اکاؤنٹنٹ کام کرتے تھے ۔ اس ضمنcc میں یہ امر قابلِ ذکر ہے کہ گذشتہ ساڑھے دس برس کے دوران پورے بھارت میں 1303 افراد کو سزائے موت سنائی گئی جس میں سے محض تین افراد کو پھانسی دی گئی ۔ 2012 میں اجمل قصاب اور نو فروری 2013 کو افضل گرو کو ۔ گویا اس طویل عرصے کے دوران پھانسی کی سزا پانے والے یہ تیسرے فرد ہیں ۔ اب کیا اسے محض اتفاق سمجھنا چاہیے کہ تینوں افراد مسلمان ہیں ۔
اس حوالے سے یہ بات بھی قابلِ توجہ ہے کہ 22 جولائی کو بھارتی نیوز سائٹ ’’ ریڈف ڈاٹ کام‘‘ پر را کے سابق چیف ’’ بی رمن ‘‘ کا تفصیلی انٹر ویو شائع ہوا جس میں لکھا گیا ہے کہ یعقوب میمن سزائے موت کا مستحق نہیں کیونکہ اس نے اپنے کراچی میں قیام کے دوران را کے ساتھ بہت تعاون کیا تھا ۔ بی رمن 1992 سے 1994 تک را کے پاکستان ڈیسک کے انچارج تھے اور انہوں نے یہ انٹر ویو 2007 میں ریکارڈ کروایا تھا لیکن کہا تھا کہ اسے ان کی موت کے بعد مناسب موقع پر شائع کیا جائے ۔ ’’ بی رمن ‘‘ جون 2013 میں فوت ہوئے تھے اور اب ان کے بھائی ’’ ڈاکٹر راگھون ‘‘ کی اجازت سے یہ انٹرویو شائع کیا گیا ہے ۔
دوسری جانب بھارتی لوک سبھا کے رکن اور مجلسِ اتحاد المسلمین ( ایم آئی ایم) کے سربراہ ’’ اسد الدین اویسی ‘‘ نے 24 جولائی کو بھارتی ٹی وی چینل’’ آج تک‘‘ کو انٹر ویو دیتے کہا کہ’’ 1991 میں راجیو گاندھی قتل ہوئے اور ان کے قاتلوں کو تا حال پھانسی نہیں دی گئی کیونکہ وہ مسلمان نہیں تھے ۔ اسی طرح 1995 میں بھارتی پنجاب کے وزیر اعلیٰ ’بے انت سنگھ ‘‘ کے قاتلوں کو بھی پھانسی نہیں دی گئی چونکہ وہ بھی مسلمان نہیں ۔ علاوہ ازیں برہمنی انصاف کا عالم یہ ہے کہ دسمبر 1992 اور جنوری 1993 میں ممبئی میں فسادات کے دوران نو سو مسلمانوں کو مارنے والے کسی ایک بھی شخص کو گرفتار تک نہیں کیا گیا حالانکہ جسٹس ’’’ شری کرشن ‘‘ رپورٹ میں 35 افراد کو بطورِ ملزم نامزد کیا گیا تھا ۔ اسی طرح مارچ 2002 میں گجرات کے شہر گاندھی نگر کے ’’ نرودہ پاٹیا ‘‘ میں 97 مسلمانوں کو زندہ جلا نے والے بابو بجرنگی اور مایا کوڈنانی کی سزائے موت عمر قید میں بدل کر انہیں ضمانت پر رہا کر دیا گیا ۔ اسی دوران عشرت جہاں اور ان کے ساتھیوں کو قتل کرنے والے ’’ امت شاہ ‘‘ کو نہ صرف رہا کیا گیا بلکہ ’’ بی جے پی ‘‘ کا صدر بھی بنا دیا گیا ۔ 1987 میں یو پی کے مقام ہاشم پورہ میں 47 مسلمانوں کو گولیاں مار کر ان کی لاشیں نہر میں پھینک دی گئیں مگر مارچ 2015 میں اس سانحے کے تمام ملزمان کو بھی با عزت بری کر دیا گیا ۔
آسام کے مقام ’’ نیلی ‘‘ میں قتل کیے جانے والے 3300 افراد میں سے کسی ایک کے بھی قاتل کو سزائے موت نہیں ملی اور ابھی چند روز پہلے مالیگاؤں ، اجمیر اور سمجھوتہ ایکسپریس میں دہشتگردی کے مرتکب ہندو افراد کی بابت بھی سرکاری وکیل کو کہا گیا ہے کہ ان کے خلاف موثر پیروی نہ کی جائے ۔ اس با ضمیر عیسائی خاتون وکیل ’’ روہنی سیلان ‘‘ نے دہلی سرکار کی اس اعلانیہ نا انصافی کے خلاف استعفیٰ دے دیا ہے ۔
اس کے علاوہ بھی بھارت میں مسلمانوں ، عیسائیوں اور دیگر مذہبی اقلیتوں کے خلاف نسل کشی کے واقعات اکثر و بیشتر پیش آتے رہے ہیں ۔کسے علم نہیں کہ جون اور اکتوبر 1984 میں مارے جانے والے ہزاروں سکھوں کے قاتلوں کو سزا نہیں ملی بلکہ جگدیش ٹائٹلر اور ’’ ہرکشن لعل بھگت ‘‘ کو بطورِ انعام وزارتوں سے نوازا گیا ۔ اسی طرح 1999 کے اوائل میں اڑیسہ میں عیسائی ڈاکٹر ’’’ گراہم سٹینلے ‘‘ اور ان کے بچوں کو اڑیسہ میں زندہ جلانے والا دارا سنگھ با عزت بری ہونے کے بعد بجرنگ دل کا بڑا لیڈر بنا پھرتا ہے ۔
اسی طرح 2002 میں گجرات میں جس شخصیت کی سرپرستی میں ہزاروں مسلمانوں کو تہہ تیغ کر دیا گیا اور جسے امریکہ اور برطانیہ نے اسی جرم میں ملوث ہونے کی وجہ سے اپنے یہاں کا وزٹ ویزہ تک دینے سے انکار کر دیا وہ شخصیت ان دنو ں دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت ہونے کی دعویدار ریاست میں وزیر اعظم کے منصب پر فائز ہے ۔ اور دنیا کی سب سے با اثر جمہوریت ہونے کے دعویدار امریکہ کے سربراہ اوبامہ انسانیت کے اس قاتل ( مودی ) گلے لگانے میں فخر محسوس کرتے ہیں ۔ البتہ حالیہ دنوں میں گوگل نے موصوف کو ’’ ٹاپ ٹین کرمنلز ‘‘ اور ’’ دنیا کا سب سے احمق ترین وزیر اعظم ‘‘ کا خطاب دیا ہے جس سے لگتا ہے کہ شاید عالمی سطح پر کسی حد تک حقائق کا ادراک شروع ہو چکا ہے ۔
توقع کی جانی چاہیے کہ اقوامِ متحدہ کے قیام کی سترہویں سالگرہ کے موقع پر نہ صرف حکومتِ پاکستان بلکہ دنیا بھر کے انسان دوست حلقے بھارتی حکمرانوں کے ان تضادات کو اجا گر کریں گے کیونکہ ایسے لرزہ خیز واقعات کسی چھوٹے ملک میں نہیں ہو رہے بلکہ اس بھارت میں ہو رہے ہیں جسے دنیا کے اکثر حلقے سب سے بڑی جمہوریت اور سیکولر ہونے کی سند دیتے نہیں تھکتے اور وہاں انسانی حقوق کی پاسداری کے نام نہاد ترانے گائے جاتے ہیں ۔ وطنِ عزیز پاکستان میں بھی کچھ حلقے خصوصاً الطاف حسین اور ان کے ہم نوا بھارت کو اپنی جنتِ گم گشتہ قرار دینے میں ذرا سی بھی عار محسوس نہیں کرتے ۔غالباً وہ بھی اپنی روش پر نظر ثانی کی ضرورت محسوس کریں گے ۔

اکتیس جولائی کو روزنامہ پاکستان میں شائع ہوا ۔

( مندرجہ بالا تحریر مصنف کے ذاتی خیالات ہیں جس کے لئے اسلام آباد پالیسی ریسرچ انسٹی ٹیوٹ یا کوئی بھی دوسرا ادارہ ذمہ دار نہیں )

RELATED
ARTICLES.

Scroll to Top

Search for Journals, publications, articles and more.

Subscribe to Our newsletter