! نیپال میں مسلح مداخلت اور بھارتی توسیع پسندی

i1-e1450675374726پڑوسی ملکوں میں مداخلت عرصہ دراز سے بھارت کا شیوہ رہی ہے ۔ اپنی اسی روش کو آگے بڑھاتے ہوئے انتیس نومبر کو انڈین پیرا ملٹری فورسز ’’ ایس ایس بی ‘‘ کے تیرہ اہلکار نیپال اور بھارت کی بین الاقوامی سرحد عبور کر کے نیپال میں داخل ہو گئے جنہیں نیپال میں گرفتار کر لیا گیا ۔ یاد رہے کہ ’’ سشتر سیما بالا ‘‘( ایس ایس بی ) یعنی ’’ آرمڈ بارڈر فورس ‘‘ 1963 میں بنی تھی ۔ اس کی بنیادی ذمہ داری نیپال اور بھوٹان کے بارڈر پر تعیناتی ہے اور یہ متعلقہ ملکوں میں لیڈنگ انٹیلی جنس ایجنسی کے طور پر بھی کام کرتی ہے ۔ اس کے موجودہ سربراہ ’’ بی ڈی شرما‘‘ ہیں ۔ مکتی باہنی کی تشکیل میں بھی اس کا مرکزی کردار تھا ۔ اس فورس کا ہیڈ کوارٹر دہلی جبکہ پانچ ریجنل ہیڈ کوارٹر رانی کھیت ، لکھنؤ، پٹنہ ، سلی گڈی اور گوھاٹی میں ہے ۔ ۔
بھارت کی بڑھتی ہوئی اشتعال انگیزیوں کے بعد نیپال سرکار نے اپنے یہاں بیا لیس بھارتی ٹی وی چینلوں کی نشریات پر مکمل پابندی لگا دی ہے ۔ تفصیلات کے مطابق انڈین ’’ ایس ایس بی ‘‘ کے جو اہلکار نیپال میں داخل ہوئے ان کے نام حسب ذیل ہیں ۔ منوہر بورا ، انیل وڈ وشواس ، پون کمار ، روہن کمار ، رام پرشاد ، نریندر کمار ، پی داس ، سنی پٹیل ، منجیش ، منجو ماتو ، اشوک کمار ، نریندر سنگھ اور مورنے شیام ہیں ۔ نیپال میں برسر اقتدار جماعت ’’ سی پی این – یو ایم سی ‘‘ کے سیکرٹری جنرل ’’ پردیپ گاؤلی ‘‘ نے مودی سرکار کو وارننگ دیتے ہوئے کہا کہ وہ حال میں دونوں ملکوں کے باہمی تعلقات میں آئی کشیدگی کے خاتمے کے لئے سنجیدہ اقدامات کرے کیونکہ دہلی سرکار کو یاد رکھنا ہو گا کہ نیپال بھارت کے حاکمانہ اور دھمکی آمیز انداز کو کسی صورت قبول نہیں کری گا لہذا دہلی کو اپنا دھمکی آمیز رویہ تبدیل کرنا ہو گا ۔ کیونکہ نیپال کے داخلی معاملات میں مداخلت سے اگر بھارت نے پرہیز نہ کیا تو اس کے نتائج بہتر نہیں ہوں گے ۔
یوں بھی نیپال کے لوگوں نے اپنا نیا آئین اپنی مرضی سے کئی برسوں کی طویل جدو جہد کے بعد بنایا ہے ایسے میں بھارت ، نیپال کے رہنے والے’’ مدھیشی‘‘ باشندوں کو احتجاج اور تشدد پر اکسا رہا ہے ۔ بھارتی فوجیوں کی گرفتاری کی تفصیل کے مطابق پہلے دو بھارتی فوجی پوسٹ نمبر 120 اور 121 کے درمیان ’’ کھوٹہ منی ‘‘ کے قریب نیپالی علاقے میں داخل ہو گئے جہاں نیپالی گاؤں والوں نے انھیں پکڑ کر یرغمال بنا لیا ۔ بعد میں اپنے ساتھیوں کو رہا کرانے کے لئے مزید سات ہندوستانی فوجی وہاں پہنچے تو انھیں بھی دھر لیا گیا ۔ یہ بھارتی ’’ ایس ایس بی ‘‘ کی بھٹہ کمپنی سے تعلق رکھتے ہیں ۔ یرغمال بنانے کی اس خبر پر ’’ سکھانی کمپنی ‘‘ کے مزید چھ ہندوستانی سورما بڑے ہتھیاروں کے ساتھ نیپال میں داخل ہو گئے ۔ یہ بھی نیپالی گاؤں والوں کے ہتھے چڑھ گئے اور ان کا اسلحہ چھین کر نیپالی باشندوں نے انھیں بھی پکڑ لیا ۔
اس صورتحال کے بعد نیپال پولیس کے ’’ ڈی ایس پی ‘‘ ’’ بھیم دھال ‘‘ نے وہاں پہنچ کر ان بھارتی سورماؤں کو اپنے تحفظ میں لے لیا اور ان کا اسلحہ بھی نیپالی باشندوں سے واپس لر کر اپنے قبضے میں کر لیا ۔ اس دوران نیپال کی بہت سی سیاسی جماعتوں کے کارکن وہاں جمع ہو گئے اور انھوں نے بھارت مخالف نعرے لگائے اور کہا کہ دہلی سرکار کی اقتصادی ناکہ بندی کی وجہ سے ان کے بچے بھوکے مر رہے ہیں اس لئے ان بھارتی فوجیوں کو نہیں چھوڑا جائے گا ۔ اس واقعے کی اطلاع ملنے پر بھارتی ’’ ایس ایس بی ‘‘ کے کمانڈنگ آفیسر ’’ کامنی بالا ‘‘ کے علاوہ ’’ سکھانی ‘‘ اور ’’ جیا پوکھر ‘‘ تھانوں کے انچارج موقع واردات پر پہنچے اور منت سماجت کے بعد اپنے ’’ بہادر سورماؤں‘‘ کو چھڑا لیا گیا ۔
اس صورتحال کی وجہ سے دونوں ملکوں کے باہمی تعلقات میں مزید تلخی آ گئی ہے ۔ اس تناظر کا جائزہ لیتے مبصرین نے کہا ہے کہ بھارت کی جانب سے مختلف مواقع پر اپنے سبھی ہمسایہ ممالک میں مداخلت کی ایک طویل تاریخ ہے ۔ کسے علم نہیں کہ سری لنکا میں تامل ٹائیگرز کے نام سے دہلی سرکار نے دہشتگردوں کا ایک بڑا جتھا تیار کیا جس نے وہاں خانہ جنگی کی آگ بھڑکائی اور چھبیس سال کی طویل جدو جہد کے بعد 2009 کے اوائل میں سری لنکا کی فوج نے پاکستان کے تعاون سے اس شورش پر قابو پایا اور ’’ ایل ٹی ٹی ای ‘‘ سربراہ ’’ پربھارکرن ‘‘ مارا گیا ۔ مالدیپ میں بھی ایک سے زائد مرتبہ مسلح بغاوت کا ڈراما بھارتی ایما پر رچایا گیا ۔ ابھی چند ہفتے پہلے مالدیپ کے صدر ’’ یامین عبداللہ ‘‘ کی کشتی کو وہاں کی سمندری حدود کے اندر تباہ کرنے کی کوشش کی گئی ۔
اپریل 2000 میں بنگلہ دیش کی سرحد کے اندر داخل ہو کر بھی بھارتی فوج نے مسلح کاروائیاں کیں ۔ سکم اور گوا پر قبضے کی کہانی سے ساری دنیا واقف ہے ۔ اس کے ساتھ دسمبر 1971 میں انڈین آرمی نے جس طرح مسلح مداخلت کے ذریعے پاکستان کو دو لخت کیا وہ بھی بین الاقوامی تعلقات کی تاریخ میں بھارتی چہرے پر ایک بد نما داغ ہے اور سات جون 2015 کو مودی نے دورہ ڈھاکہ کے دوران پاکستان کو توڑنے کا اعلانیہ کریڈٹ بھی لیا ۔ تیئس مئی کو انڈین وزیر دفاع ’’ منوہر پریارکر ‘‘ نے بھی کھلے عام اعلان کیا کہ بھارت نے فیصلہ کیا ہے کہ تمام متنازع معاملات کے حل کے لئے دہشتگردوں کو استعمال کیا جائے گا اور نو جون کو میانمر کے اندر داخل ہو کر انڈین آرمی نے اپنے اس دعوے کو سچ کر دکھایا ۔
ایسے میں عالمی برادری سے ایک موہوم سی توقع ہی جا سکتی ہے کہ اس بھارت روش پر لگام ڈالنے کی سنجیدہ کوشش کی جائے گی ۔

چار دسمبر کو روزنامہ پاکستان میں شائع ہوا ۔

( مندرجہ بالا تحریر مصنف کے ذاتی خیالات ہیں جس کے لئے اسلام آباد پالیسی ریسرچ انسٹی ٹیوٹ یا کوئی بھی دوسرا ادارہ ذمہ دار نہیں )

Tags:

About the Author

Post a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Top