ٹھوس پاک موقف ، جنرل اسمبلی اور ۔۔۔۔۔۔

پاکستان نے ہندوستانی وزیر خارجہ کی جموں کشمیر کو بھارتی ریاست قرار دینے اور دہشتگردی کے الزامات پر سخت رد عمل ظاہر کرتے کہا ہے کہ دہلی سرکار کی مقبوضہ کشمیر پر غاصبانہ تسلط سے انکار کی کوششیں تاریخ کے ساتھ مذاق ہیں ۔ جنرل اسمبلی میں پاکستانی مندوب ’’ بلال احمد ‘‘ نے اپنے خطاب کے دوران کہا کہ بھارت نے مقبوضہ ریاست میں اپنے غیر قانونی تسلط کو قائم رکھنے کے لئے سات لاکھ سے زائد فوج تعینات کر رکھی ہے اور بھارتی تسلط اور ریاستی دہشتگردی کے نتیجے میں ایک لاکھ سے زائد کشمیری شہید اور ہزاروں خواتین بیوہ ہو چکی ہیں ۔ خواتین کی عصمت دری وہاں روز مرہ کا معمول ہے اور یہ سب کچھ بھارت کی ریاستی دہشتگردی کی مثال ہے ۔ انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں نے مقبوضہ کشمیر میں چھ ہزار سے زائد اجتماعی قبروں کی موجودگی کی تصدیق کی ہے ۔ لہذا بہتر ہو گا کہ بھارتی حکمران کشمیر سے اپنی قابض فوج نکال کر کشمیریوں کو سلامتی کونسل کی قرار دادوں کے مطابق اپنی قسمت کا فیصلہ کرنے کی اجازت دے ۔ انہوں نے اپنی بات مزید آگے بڑھاتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور بھارت کے مابین کسی بھی ممکنہ بات چیت میں مسئلہ کشمیر ہمیشہ سر فہرست رہے گا ۔ اور اس مسئلے کو کسی بھی صورت الگ نہیں رکھا جا سکتا ۔ بھارت نے مذاکرات کے لئے جو بے سر و پا شرائط رکھی ہیں ، بھارتی حکمران خود بھی جانتے ہیں کہ یہ پاکستان کو کبھی بھی قبول نہیں ہوں گی ۔ اس صورتحال کا جائزہ لیتے مبصرین نے کہا ہے کہ تیس ستمبر کو جس موثر انداز میں وزیر اعظم نواز شریف نے عالمی برادری کے سامنے تنازعہ کشمیر کی اہمیت کو اجاگر کیا اور بھارت کے منفی کردار پر روشنی ڈالی ، اس کی اثر انگیزی کا اعتراف خود بھارت کے اندر بھی کیا جا رہا ہے ۔ تبھی تو سابق بھارتی سفارت کار ’’ راجیو ڈوگرہ‘‘ نے نواز شریف کے خطاب پر رد عمل ظاہر کرتے بھارت کے مختلف ٹی وی چینلز سے کہا کہ حالیہ برسوں میں کسی بھی پاکستانی سربراہ کی جانب سے اقوام متحدہ میں پاکستانی موقف اس زور دار اور موثر ڈھنگ سے پیش نہیں کیا گیا اس لئے بھارت سرکار کو چاہیے کہ پاکستانی موقف کے توڑ کے لئے سفارتی سطح پر موثر حکمت عملی اپنائے ورنہ آگے چل کر بھارت کے لئے مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔ یہاں اس امر کی وضاحت ضروری ہے کہ راجیو ڈوگرہ نہ تو عام بھارتی ہیں اور نہ ہی پاکستان کے حوالے سے کوئی نرم گوشہ رکھنے والی شخصیت ہیں ۔ موصوف اٹلی ، رومانیہ اور قطر میں بھارت کے سفیر رہ چکے ہیں ۔ علاوہ ازیں 1993 ، 1994 میں کراچی میں بھارتی قونصل جنرل کے طور پر کام کرتے رہے ہیں ۔ اور انہیں ہندو ستان کے اندر پاک بھارت امور کے ماہر کے طور پر جانا جاتا ہے ۔ بھارتی ڈپلومیسی یا سفارت کاری سے متعلق وہ درج ذیل دو کتابیں لکھ چکے ہیں ۔ پہلی کتاب ’’ فُٹ پرنٹس اِن فارن سینڈ ‘‘۔ یہ کتاب تارکین وطن اور امیگریشن کے مسائل کی بابت ہے اور 1997 میں شائع ہوئی ۔ اس کے بعد فروری 2015 میں ان کی کتاب ’’ ویئیر بارڈرز بلیڈز ‘‘ شائع ہوئی ۔ جو پاک بھارت تعلقات کے حوالے سے بھارتی موقف کا احاطہ کرتی ہے ۔ بہر کیف توقع رکھنی چاہیے کہ عالمی برادری خصوصاً اقوام متحدہ کے سبھی ملک اس عالمی تنظیم کی 70ویں سالگرہ مناتے ہوئے سلامتی کونسل کے ایجنڈے پر موجود تنازعہ کشمیر جیسے دیرینہ مسئلے کے منصفانہ حل کی جانب مثبت پیش رفت کریں گے اور دہلی کے حکمرانوں کو مجبور کیا جائے گا کہ وہ اپنی ہٹ دھرمی اور دلیل سے عاری موقف کو ترک کر کے تعمیری سوچ اپنائیں تا کہ دنیا کے دیگر خطوں کی مانند جنوبی ایشیاء میں بھی ترقی اور خوشحالی کا حقیقی سفر شروع ہو سکے ۔

چار اکتوبر کو روزنامہ پاکستان میں شائع ہوا ۔

( مندرجہ بالا تحریر مصنف کے ذاتی خیالات ہیں جس کے لئے اسلام آباد پالیسی ریسرچ انسٹی ٹیوٹ یا کوئی بھی دوسرا ادارہ ذمہ دار نہیں )

Tags:

About the Author

Post a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Top