پاکستان ہی مسلم انڈیا ہے ؟؟ 

پاکستان کی آزادی کے بعد سے ہی یہ امر ہمارے ہاں بوجوہ کسی حد تک نظر انداز ہوتا رہا ہے کہ ہم اپنی خارجہ پالیسی میں ایران، افغانستان اور وسطی ایشیائی ملکوں کو وہ اہمیت نہیں دے پائے، جس کے وہ شاید متقاضی تھے۔ اس کی ایک وجہ غالباً یہ ہے کہ ہمارے ہاں جانے کیوں یہ متصور کر لیا گیا ہے کہ سینٹرل ایشین ممالک بشمول ایران اور افغانستان سے خصوصی تعلقات شاید کسی نہ کسی طور نظریہ پاکستان سے ٹکراؤ کے مترادف ہیں ۔ اس کی بنیادی وجوہات میں سے ایک افغانستان کی شاہ ظاہر شاہ حکومت کے ساتھ کشیدگی ، علاوہ ازیں پاکستان کا امریکی بلاک کا حصہ بننا شامل ہے جس کے فطری نتیجے کے طور پر روس کے ساتھ پاکستان کے تعلقات ابتداء ہی سے انتہائی دگردوں ہو گئے اور روس نے ہر ممکن ڈھنگ سے پاکستان کی مخالفت کی اور بھارت، روس اور افغانستان کے قریب سے قریب تر آتا چلا گیا۔
حالانکہ یہ امر کسی سے بھی مخفی نہیں کہ پاکستان ثقافتی اور تاریخی اعتبار سے ازبکستان، تاجکستان، ترکمانستان، قزاکستان، کرغیزستان، آرمینیا، آذر بائیجان سے صدیوں سے جڑا ہوا ہے۔ اس سچ سے بھلا کون انکار کر سکتا ہے کہ سمرقند، بلخ اور بخارا وغیرہ تاریخی ، مذہبی اور ثقافتی اعتبار سے پاکستان کے انتہائی قریب ہیں اور عام لوگ بھی ان مقامات اور شہروں کے نام سے خود کو نامانوس نہیں جانتے۔ مگر ہم اس جانب تاحال خاطر خواہ توجہ نہیں دے پائے اور اس صورتحال کا منطقی نتیجہ یہ نکلا کہ ہندوستان نے اس صورتحال کا بھرپور فائدہ اٹھایا اور اس نے اپنے قیام کے ابتدائی برسوں میں ہی وسطی ایشیائی ریاستوں سے اپنے ثقافتی، تجارتی روابط مستحکم بنیادوں پر استوار کر لئے۔ پھر جب آخر میں سابقہ سوویت یونین شکست و ریخت کا شکار ہو کر مختلف ریاستوں میں بٹ گیا، تب بھی بھارت کے سفارتی ،تجارتی اور ثقافتی رابطے اس خطے سے جوں کے توں قائم رہے۔ بلکہ ان وسطی ایشیائی ممالک کے ساتھ تعلقات مزید مضبوط ہوئے اور اس کے فوائد تاحال بھارت ہر سطح پر اٹھا رہا ہے۔
ایسے میں ضرورت اس امر کی ہے کہ پاکستان اپنی تمام توانائیاں اس امر پر صرف کرے کہ پوری دنیا بالعموم اور ایران، افغانستان اور وسطی ایشیائی ممالک بالخصوص خود کو ’’مسلم انڈیا‘‘ یعنی پاکستان کا حصہ ہونے پر فخر محسوس کریں ، اور تاریخ کے حوالے سے خود کو اس خطہ زمین کا حصہ سمجھنے میں میں کوئی عار نہ جانیں ۔ یہاں یہ بات بھی پیش نظر رہنی چاہیے کہ اس صورتحال کے نتیجے میں بظاہر سعودی عرب اور پاکستان کے برادرانہ تعلقات میں بھی کسی قسم کی دراڑ آنے کا احتمال نہیں ہے۔ اس امر میں تو کوئی شبہ نہیں کہ پاکستان بلاشبہ فوجی قوت کے اعتبار سے مسلم دنیا کا واحد ایٹمی طاقت رکھنے والا ملک ہے ۔ ایسے میں یہ امر ذہن نشین رہنا چاہیے کہ ’’پاکستان‘‘ کے لئے ’’مسلم انڈیا‘‘ کی اصطلاح کسی بھی طور نظریہ پاکستان سے متصادم نہیں ہے ، جس کی ایک بڑی مثال یہ دی جا سکتی ہے کہ بھارت کو ’’انڈیا، بھارت اور ہندوستان‘‘ تین ناموں سے پکارا جاتا ہے اور خود بھارتی آئین میں یہ بات مذکور ہے۔
اس پس منظر میں غالباً بآسانی یہ کہا جا سکتا ہے کہ ہندوستانی، انڈین یا بھارتی سامراج میں دنیا بھر میں انسانی حقوق کا سب سے منبع ہونے کے باوجود خود کو بڑی سمجھداری اور چالاکی سے انسانی حقوق کا چیمپئن قرار دے رکھا ہے حالانکہ زمینی حقائق کا اس سے دور کا بھی واسطہ نہیں۔ ایسے میں بھارت کے وسطی ایشیائی ممالک اور افغانستان و ایران سے قربت کی وجہ سے انڈین کلچرل ایمپئریل ازم موثر ثابت ہوتا ہے اور بھارت دنیا کو یہ تاثر دینے میں خاصی حد تک کامیاب رہا ہے کہ بھارت ایسی ثقافت اور روایات کی حامل ریاست ہے جس کے ثقافتی رشتے اس پورے خطے سے مضبوط بنیادوں پر استوار ہیں۔ ایسے میں یہ امر غالباً ایک محور کی حیثیت رکھتا ہے کہ ہم ’’ پاکستان دیٹ از مسلم انڈیا‘‘ کی تھیوری پر مضبوط توجہ مرکوز کریں اور کوشش کریں کہ ہر ممکن ڈھنگ سے اپنے ملکی مفادات کے پیش نظر نہ صرف بھارت کی اس ’’ثقافتی یلغار‘‘ کو ناکام بنانے کی سنجیدہ سعی کی جا سکے بلکہ اس ضمن میں منفی بھارتی روش کو طشت از بام کیا جائے۔ مگر یہ سب کچھ اس سلیقے اور قرینے سے کیے جانے کا متقاضی ہے کہ اس پر محض پراپیگنڈے کا گمان نہ ہو بلکہ زمینی حقائق کو ان کی اصل حالت میں پیش کیا جائے۔
مبصرین کی رائے ہے کہ ہمارے بیانیے کے اہداف نئے سرے سے متعین کئے جانا ازبس ضروری ہے، اور اس بابت پوری بحث کا مرکز یہی نکتہ ہونا چاہیے کہ ’’ پاکستان دیٹ از مسلم انڈیا‘‘ کی تھیوری نہ صرف قابل عمل بلکہ پوری طرح حقائق پر مبنی ہے، آئینی اور قانونی طور پر وطن عزیز کے لئے پاکستان کے ساتھ ساتھ مسلم انڈیا کی اصطلاح استعمال کیا جانا ہر لحاظ سے پاک دھرتی کے مفاد میں ہے اور یہ کسی بھی طور پاکستان یا نظریہ پاکستان سے متصادم نہیں۔سنجیدہ حلقے اس امر پر متفق ہیں کہ ہمیں اپنے بیانیے کی حقانیت پر پختہ یقین ہونا چاہیے ۔ اس سلسلے میں وطن عزیز میں ’’ڈی ریڈیکلائزیشن ‘‘ کے عمل کو مزید موثر اور تیز تر کیا جائے اور اس ضمن میں پرنٹ اور الیکٹرانک کے علاوہ سوشل میڈیا پر بھی خاطر خواہ توجہ مرکوز کی جائے۔

اٹھارہ اگست 2018 کو روزنامہ نوائے وقت میں شائع ہوا ۔

(مندرجہ بالا تحریر مصنف کے ذاتی خیالات ہیں جن کے لئے اسلام آباد پالیسی ریسرچ انسٹی ٹیوٹ یا کوئی بھی دوسرا ادارہ ذمہ دار نہیں)

 

Tags:

About the Author

Post a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Top