پاک بھارت تعلقات

ہندوستان اور پاکستان کے تعلقات میں یوں تو گذشتہ 68 برسوں سے ہی کئی نشیب و فراز آئے ہیں جنہیں دیکھتے ہوئے دونوں ملکوں کے باہمی تعلقات کو کسی بھی طور قابلِ رشک قرار نہیں دیا جا سکتا مگر گذشتہ ایک برس میں پاک بھارت روابط میں خاصا بگاڑ پیدا ہوا ہے ۔ اسی پس منظر میں اسلام آباد پالیسی ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کے زیرِ اہتمام چار اگست کو دارالحکومت میں ایک کانفرنس منعقد ہوئی جس کا عنوان تھا ’’ پاکستان انڈیا ریلیشنز ۔۔۔۔ پوسٹ کانگرس اِیرا ‘‘ ۔
اس کانفرنس کے افتتاحی سیشن سے خطاب کرتے ہوئے اسلام آباد پالیسی ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کے سربراہ ’’ ایمبیسڈر سہیل امین ‘‘ نے اپنے خیر مقدمی کلمات میں کہا کہ 2013 میں پاکستان میں اپوزیشن جماعت بر سرِ اقتدار آئی تو 2014 میں بھارت میں اپوزیشن پارٹی ’’ بی جے پی ‘‘ کو واضح اکثریت سے حکومت میں آنے کا موقع ملا ۔ اس مرحلے پر عام توقع یہ کی جا رہی تھی کہ دونوں ملکوں کے تعلقات ایک نئے خوشگوار دور میں داخل ہو سکتے ہیں ۔ اس ضمن میں پاکستان کی جانب سے خاصے امید افزا طرزِ عمل کا مظاہرہ ہوا اور مودی کی حلفِ وفاداری کی تقریب میں نواز شریف باوجود کئی تحفظا ت کے شامل ہوئے مگر پچھلے 14 مہینوں کے واقعات پر نظر دوڑائیں تو دونوں ملکوں کے تعلقات کے ضمن میں مستقبل کے حوالے سے کسی بڑی خوش فہمی کو جگہ دیا جانا خاصا مشکل ہے ۔
مہمانِ خصوصی اور سابق سیکرٹری دفاع ریٹائرڈ لیفٹیننٹ جنرل ’’ آصف یاسین ملک ‘‘ نے بھی اس ضمن میں اپنے تجربے اور مشاہدے سے آگاہ کیا ۔ دیگر مقررین ایمبیسڈر ’’ خالد محمود ‘‘ ، ڈاکٹر محمد خان ، ڈاکٹر ’’عرشی سلیم ہاشمی ‘‘ نے بھی ’’ بی جے پی ‘‘ کی داخلی ساخت ، ’’ آر ایس ایس ‘‘ نظریات اور مودی کی شخصیت کی بابت سیر حاصل گفتگو کی اور دونوں ممالک کے تعلقات کے ماضی ، حال اور ممکنہ مستقبل کے بارے میں خاصی تفصیل سے روشنی ڈالی جس کا لبِ لباب تھا کہ اگرچہ دونوں ملکوں کے تعلقات کے حوالے سے مستقبل قریب میں خوش آئند توقعات کی گنجائش نہیں مگر اس کے باوجود جامع مذاکراتی عمل جاری رکھنے میں کوئی بڑی قباحت نہیں تا کہ عالمی برادری کے سامنے دہلی کے امن پسندی کے دعووں کو بخوبی بے نقاب کیا جا سکے ۔
اس حوالے سے دو طرفہ مذاکرات کی بجائے اگر موثر عالمی قوتیں ثالثی کا کردار ادا کریں تو شاید بہتر نتائج کی توقع کی جا سکتی ہے حالانکہ دہلی سرکار اس حوالے سے تیسرے فریق کی ثالثی کی کھل کر مخالف ہے اور خصوصاً ’’ آر ایس ایس ‘‘ نظریات کے حامل مودی سے کسی بڑے اور مثبت بریک تھرو کی توقع نہیں کی جا سکتی ہے کیونکہ مئی 2014 میں جب مودی بر سرِ اقتدار آئے تو ظاہری طور پر پاک بھارت تعلقات کے حوالے سے ان کے سامنے درج ذیل تین آپشنز موجود تھے ۔ (1 ) گذشتہ برسوں میں کانگرس کے زیرِ اہتمام جس قسم کے تعلقات چل رہے ہیں انہیں جوں کا توں برقرار رکھا جائے ۔ ( 2 ) ’’ بی جے پی ‘‘ کی سابقہ حکومت یعنی واجپائی کی مانند باہمی تعلقات میں بہتری کی جانب قدرے ٹھوس پیش رفت کی جائے اور جنوری 2004 میں سارک سربراہ کانفرنس کی سائیڈ لائنز پر واجپائی اور مشرف کے مابین کمپوزٹ ڈائیلاگ کا جو معاہدہ طے پایا تھا ، اسے احسن ڈھنگ سے دوبارہ جاری کیا جائے ۔ ( 3 ) ’’ آر ایس ایس ‘‘ کے نظریات اور گجرات میں مسلم نسل کشی کے حوالے سے مودی سرکار اپنی خصوصی شناخت پر عمل کرتے ہوئے پاکستان کے خلاف مزید جارحانہ روش اختیار کرے ۔
بد قسمتی سے مودی حکومت نے تیسرے آپشن پر عمل کرنے کی ٹھانی اور 25 اگست 2014 کو طے شدہ خارجہ سیکرٹری ملاقات کو نہ صرف منسوخ کیا بلکہ ’’ ایل او سی ‘‘ اور ورکنگ باؤنڈری پر بلا جواز گولہ باری کا ایسا سلسلہ شروع کیا جو ہنوذ وقفوں وقفوں سے جاری ہے ۔ علاوہ ازیں پاک فوج اور ’’ آئی ایس آئی ‘‘ کے خلاف بے بنیاد الزام تراشیوں کا لا متناہی سلسلہ شروع کر رکھا ہے اور 27 جولائی کا گورداسپور واقعہ اور پانچ اگست کا جموں – ادھم پور واردات بھی بظاہر اسی سلسلے کی کڑی نظر آتی ہے۔ اس کے علاوہ ’’ را ‘‘ اور دیگر بھارتی اداروں نے کراچی ، بلوچستان اور پاکستان کے دوسرے حصوں میں مداخلت کا جو ناقابلِ رشک سلسلہ شروع کر رکھا ہے وہ بھی کسی سے پوشیدہ نہیں ۔ اس پر مستزاد افغان طالبان مذاکراتی عمل اور پاک افغان تعلقات کو سبو تاژ کرنے کے ساتھ ساتھ پاک چین اقتصادی راہداری جیسے خالصتاً اقتصادی خوشحالی کے عظیم منصوبے کو ہدفِ تنقید بنایا جا رہا ہے ، ا س سے بھارت کے منفی عزائم کو بخوبی محسوس کیا جا سکتا ہے ۔
امید کی جانی چاہیے کہ پاکستانی عوام ، حکومت اور عسکری قیادت ہندوستانی عزائم کی بیخ کنی کے لئے مربوط مگر موثر ڈھنگ سے اپنی ذمہ داریاں نبھائے گی اور بنیادی ایشو کشمیر پر بھی خاطر خواہ توجہ مرکوز کی جائے گی ۔ علاوہ ازیں موثر عالمی قوتیں اور بین الاقوامی رائے عامہ بھی اس ضمن میں اپنا مثبت کردار ادا کرے گی تا کہ علاقائی اور عالمی امن کو فروغ حاصل ہو سکے اور جنوبی ایشیاء بھی امن و سلامتی اور ترقی کا گہوارہ بن سکے ۔

سات اگست کو ڈیلی پاکستان میں شائع ہوا ۔
( مندرجہ بالا تحریر مصنف کے ذاتی خیالات ہیں جس کے لئے اسلام آباد پالیسی ریسرچ انسٹی ٹیوٹ یا کوئی بھی دوسرا ادارہ ذمہ دار نہیں )

 

Tags:

About the Author

Post a Reply

Your e-mail address will not be published. Required fields are marked *

Top