loader image

IPRI – The Islamabad Policy Research Institute

birlikte yaşadığı günden beri kendisine arkadaşları hep ezik sikiş ve süzük gibi lakaplar takılınca dışarıya bile çıkmak porno istemeyen genç adam sürekli evde zaman geçirir Artık dışarıdaki sikiş yaşantıya kendisini adapte edemeyeceğinin farkında olduğundan sex gif dolayı hayatını evin içinde kurmuştur Fakat babası çok hızlı sikiş bir adam olduğundan ve aşırı sosyalleşebilen bir karaktere sahip porno resim oluşundan ötürü öyle bir kadınla evlenmeye karar verir ki evleneceği sikiş kadının ateşi kendisine kadar uzanıyordur Bu kadar seksi porno ve çekici milf üvey anneye sahip olduğu için şanslı olsa da her gece babasıyla sikiş seks yaparken duyduğu seslerden artık rahatsız oluyordu Odalarından sex izle gelen inleme sesleri ve yatağın gümbürtüsünü duymaktan dolayı kusacak sikiş duruma gelmiştir Her gece yaşanan bu ateşli sex dakikalarından dolayı hd porno canı sıkılsa da kendisi kimseyi sikemediği için biraz da olsa kıskanıyordu

ARTICLE

چدمبرم،ملا ضعیف ملاقات اور کامن ویلتھ سربراہ کانفرنس

بھارت کے کثیر الاشاعت ہندی اخبار “بھاسکر” کی  12 نومبر کی اشاعت میں انکشاف کیا گیا ہے کہ ہندوستانی مرکزی وزیرِ خزانہ “چدم برم” نے گوا کی راجدھانی پانجی میں طالبان رہنما “ملا عبدالسلام ضعیف” سے ملاقات کی ہے۔

کئی بھارتی اخبارات نے اس ضمن میں حیرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایک جانب دہلی سرکار دہشتگردی کے خاتمے کے حوالے سے دعوے کرتے نہیں تھکتی،دوسری طرف طالبان رہنمائوں سے غیر اعلانیہ ملاقاتوں کا سلسلہ جاری ہے۔ اس ضمن میں حکومت کو اپنی پوزیشن کی کھل کر وضاحت کرنی چاہیے کیونکہ ملا ضعیف ماضی قریب میں طالبان کے سربراہ “ملا عمر” کے قریبی ساتھیوں میں شامل رہے اور ان کی حکومت میں اعلیٰ سفارتی اور سیاسی عہدوں پر کام کرتے رہے ہیں۔

غیر جانب دار تجزیہ کاروں کے مطابق بھارتی حکمرانوں کے قول و فعل میں بڑی حد تک تضاد رہا ہے اور اس حوالے سے پچھلے 66 برس کی  بھارتی تاریخ میں سے بہت سی مثالیں پیش کی جا سکتی ہیں۔ جیسا کہ ساری دنیا جانتی ہے کہ سری لنکا میں “تامل” علیحدگی پسند تحریک بھارت کے ایما پر ہی شروع کی گئی اور کئی برسوں تک دہلی سرکار نے “ایل ٹی ٹی ای” کو مالی مدد اور دہشتگردی کی تربیت فراہم کی مگر پھر 1986 میں تامل ٹائیگرز کے خلاف باقائدہ فوج کشی کی گئی اور اسی کے ردعمل کے طور پر سابق وزیر اعظم “راجیو گاندھی” تامل ٹائیگرز کی دہشتگردی کی نذر ہو گئے۔

مارچ 2012 اور مارچ 2013 میں “یونائٹد نیشن ہیومن رائٹس کونسل” (یو این ایچ آر سی) میں بھارت نے سری لنکا کے خلاف انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی قرارداد کی حمایت کی اور ایسا اس لئے کیا کہ مرکزی سرکار کی اتحادی تامل ناڈو کی علاقائی پارٹی “ڈی ایم کے” ایسا چاہتی تھی اور 13 تا 17 نومبر کو سری لنکا میں کامن ویلتھ سربراہ اجلاس میں بھی “منموہن سنگھ” اسی وجہ سے خود شریک نہیں  ہوئے اوراپنے وزیرِ خارجہ کو بھیجا۔

اسی  حوالے سے سری لنکا کے صدر ” راج پکشے” نے 14 نومبر کو ایک پریس کانفرنس میں  اپنے ملک پر تاملوں کے خلاف انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی پرزور تردید کی اور کہا کہ  37 برس میں سری لنکا میں جاری دہشتگردی میں ایک لاکھ سے زائد انسانی جانیں ضائع  ہوئیں جبکہ 2009 کے بعد سے یہ سلسلہ ختم ہو گیا۔ مبصرین کے مطابق سری لنکن صرر نے بھارت کا نام لئے  بغیر دہلی سرکار کے قول و فعل کے تضاد کو اجاگر کیا ہے۔ امید کی جانی چاہیے کہ آنے والے دنوں میں بھارتی حکمران ہر معاملے میں مثبت اور تعمیری روش اپنائیں گے۔

RELATED
ARTICLES.

Scroll to Top

Search for Journals, publications, articles and more.

Subscribe to Our newsletter