چینی صدر کا دورہ اور منفی بھارتی روش 

چین کے صدر نے ۱۷ سے ۱۹ ستمبر تک بھارت کا دورہ کیا۔عالمی سطح پر امن پسند حلقوں کو توقع تھی کہ شاید اس دورے کے نتیجے میں علاقائی اور عالمی امن کو مزید استحکام حاصل ہو گا مگر بد قسمتی سے ہندوستان کے حکمرانوں نے اس سنہرے موقع کو اپنی روایتی ہٹ دھرمی اور دوہرے معیاروں کی بنا پر بڑی حد تک ضائع کر دیا اور اس دورے کے دوران لگاتار اشتعال انگیزیوں پر مبنی پالیسیوں کا عمل جاری رکھا جس کے نتیجے میں اس دورے کے اختتام کے محض ایک ہفتے کے اندر اندر بھارتی فوج نے ’’ لداخ ‘‘کی متنازع سرحد پر جارحانہ کاروائیوں میں مزید اضافہ کر دیا ہے ۔علاوہ ازیں 24 ستمبر کو دہلی میں قائم تھنک ٹینک ’’آبزرور ریسرچ فاؤنڈیشن ‘‘کے تحت ہونے والی میڈیا کانفرنس میں شرکت کے لئے آنے والے چینی اخبارات کے ایڈیٹروں کے ایک وفد کو کانفرنس کے انعقاد سے محض ۴۸ گھنٹے قبل بھارتی ویزہ دینے سے انکار کر دیا جس کی وجہ سے اس مذکورہ کانفرنس کے منتظمین کو آخری لمحات میں یہ کانفرنس منسوخ کرنی پڑی۔
اس تمام صورتحال کا جائزہ لیتے ماہرین نے کہا ہے کہ یہ کوئی راز کی بات نہیں کہ بھارتی حکمرانوں نے گذشتہ برسوں میں اپنے سبھی ہمسایہ ملکوں کے ساتھ تضادات پر مبنی طرزِ عمل کو اپنا وطیرہ بنائے رکھا ہے تبھی تو بھارتی وزیرِ اعظم نریندر مودی نے چین کے سربراہِ مملکت کے دورہ ہندوستان سے محض دو ہفتے قبل اپنی جاپان یاترا کے دوران (۳۱ اگست تا ۳ ستمبر) جاپان کی سرزمین پر چینی پالیسیوں پر نہ صرف کھلے الفاظ میں تنقید کی بلکہ یہاں تک کہا کہ ’’چین کو اپنی توسیع پسندانہ روش بدلنی ہو گی وگرنہ اس کے نتائج اس کے حق میں بہتر نہ ہوں گے بھارتی اور جاپانی میڈیا کے علاوہ دنیا بھر کے مبصرین نے اس موقع پر ہی خدشہ ظاہر کیا تھا کہ اگرچہ بھارتی وزیرِ اعظم نے سیدھے طور پر چین کا نام نہیں لیا مگر موصووف کا بالواسطہ اشارہ اتنا واضح تھا کہ کسی کو بھی اس بابت ذرا سا بھی شبہ نہ تھا کہ موصوف یہ دھمکی کسے دے رہے ہیں ۔
علاوہ ازیں ۱۳ سے ۱۵ ستمبر تک بھارتی صدر پرنب مکر جی نے ویت نام کا دورہ کیا اور اس دوران سمندر سے تیل نکالنے کے معاہدے پر دستخط کیے ،اس پر بھی چین کی جانب سے بجا طور پر نا پسندیدگی کا اظہار سامنے آیا کیونکہ یہ کوئی راز کی بات نہیں ۔کہ یہ سمندری حدود چین اور ویت نام کے درمیان متنازع ہیں ۔ایسے میں بھارتی صدر نے اپنے دورہ ویت نام کے دوران جو طرزِ عمل اپنا یا اور چینی مفادات سے متصادم جن معاہدوں پر دستخط کیے وہ صاف طور پر چین کو اشتعال دلانے والی حکمتِ عملی ہے۔
مگر اس کے باوجود چین کے حکمرانوں نے اپنے روایتی تحمل اور بردباری کا طرزِ عمل اپنائے رکھا اور اپنی جانب سے بھارت کے خلاف کوئی سخت بیان جاری نہیں کیا۔دوسری طرف چینی صدر کے دورہ مالدیپ اور سری لنکا کو بھارت کے سرکاری اور غیر سرکاری میڈیا نے بھارتی مفادات کے لئے ایک بڑا خطرہ قرار دیا۔یوں ایک طرح سے دورہ سے عین پہلے باہمی تعلقات کے ماحول کو بگاڑنے کی شعوری کوشش کی گئی۔
اس سے بھی بڑھ کر ۱۶ ستمبر کو مقبوضہ کشمیر کے متنازع علاقے لداخ میں میں بھارت چین سرحد پر انڈین آرمی نے جان بوجھ کر چینی افواج کے خلاف چھیڑ خانی کا سلسلہ شروع کر دیا اور اس کے ساتھ پورے بھارتی میڈیا نے چین کے خلاف انتہائی منفی پراپیگنڈہ مہم شروع کر دی ۔بھارتی الیکٹرانک میڈیا کے تمام بڑے چینلز مثلاً زی ٹی وی ، آج تک ،انڈیا ٹی وی ،نیوز نیشنِ ،نیوز ایکسپریس اور دور درشن میں چینی صدر کی آمد پر خیر سگالی کی فضا پیدا کرنے کی بجائے اپنی ساری توجہ چین کے خلاف بھارتی عوام اور عالمی برادری کو اکسانے پر صرف کرنا شروع کر دی۔کسی چینل پر لکھا تھا کہ ’’چین پر بھروسہ کیوں کریں‘‘،دوسرے نے ’’ہاتھ ملے پر دل نہیں‘‘،تیسرے نے ’’چین کے ناپاک ارادے‘‘ اور ’’ہندی چینی بھائی بھائی،پارٹ ٹو بھی ناکام ہو گا ‘‘ جیسے عنوانات کے تحت شر انگیز مہم چلائی ۔
بات یہیں تک رہتی تو شاید پھر بھی غنیمت تھا۔ ۱۸ اور ۱۹ ستمبر کو جب دہلی کے حیدر آباد ہاؤس میں چینی صدر مملکت اور بھارتی وزیرِ اعظم مودی کے مابین مذاکرات جاری تھے تو حیدر آباد ہاؤس کے باہر بھارت میں رہ رہے تبت کے باشندوں کو خاصی بڑی تعداد میں جمع کیا گیا جن کے ذریعے چینی صدر ،حکومت اور عوا م کے خلاف انتہائی زور دار مظاہرہ کروایا گیا اور اس دوران مظاہرین سے چینی قیادت کے بارے میں سخت نازیبا الفاظ استعمال کروائے گئے ۔اس صورتحال کا جائزہ لیتے انڈین ٹی وی چینل آج تک اور نیوز نیشن پر بھارتی تجزیہ کاروں راجیو ڈوگرا،اودھے بھاسکر اور کئی دوسروں نے تسلیم کیا کہ سخت سیکورٹی زون میں یہ مظاہرہ بھارتی حکومت اور سیکورٹی فورسز کی اجازت اور ایما کے بغیر کسی طور بھی ممکن نہ تھا ۔ریٹائرڈ میجر جنرل آشوک نے تو کہا کہ ’’چین بھارت کا لانگ ٹرم دشمن ہے اور پاکستان شارٹ ٹرم ‘‘
بہر کیف مبصرین نے کہا ہے کہ ایک بار پھر دہلی کے حکمران طبقات نے ثابت کیا ہے کہ وہ پائیدار امن کے قیام کے حوالے سے اپنے کسی بھی پڑوسی ملک کے ساتھ سنجیدہ اور مخلص نہیں کیونکہ اگر چین جیسی عالمی قوت جس کی باہمی تجارت بھارت کے ساتھ ۶۶ بلین ڈالرز سے زیادہ ہے اور جس کے سربراہ نے اپنے دورے میں بھارت میں مزید ۲۰ بلین ڈالرز کی سرمایہ داری کا وعدہ کیا ہے،اگر اس کے ساتھ بھی بھارتی حکمرانوں کا رویہ اس قسم کی جارحانہ روش پر مبنی ہے تو بخوبی اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ دیگر پڑوسی ممالک یعنی پاکستان،سری لنکا،نیپال،بنگلہ دیش،مالدیپ اور بھوٹان کے حوالے سے دہلی سرکار اور وہاں کی سیکورٹی اسٹیبلشمنٹ کہاں تک مخلص ہو سکتی ہے ؟

 

پچیس ستمبر کو روزنامہ اوصاف اور پاکستان میں شائع ہوا

(مندرجہ بالا تحریر مصنف کے ذاتی خیالات ہیں جس کے لئے اسلام آباد پالیسی ریسرچ انسٹی ٹیوٹ یا کوئی بھی دوسرا ادارہ ذمہ دار نہیں)

Tags:

About the Author

Post a Reply

Your e-mail address will not be published. Required fields are marked *

Top