IPRI – The Islamabad Policy Research Institute

birlikte yaşadığı günden beri kendisine arkadaşları hep ezik sikiş ve süzük gibi lakaplar takılınca dışarıya bile çıkmak porno istemeyen genç adam sürekli evde zaman geçirir Artık dışarıdaki sikiş yaşantıya kendisini adapte edemeyeceğinin farkında olduğundan sex gif dolayı hayatını evin içinde kurmuştur Fakat babası çok hızlı sikiş bir adam olduğundan ve aşırı sosyalleşebilen bir karaktere sahip porno resim oluşundan ötürü öyle bir kadınla evlenmeye karar verir ki evleneceği sikiş kadının ateşi kendisine kadar uzanıyordur Bu kadar seksi porno ve çekici milf üvey anneye sahip olduğu için şanslı olsa da her gece babasıyla sikiş seks yaparken duyduğu seslerden artık rahatsız oluyordu Odalarından sex izle gelen inleme sesleri ve yatağın gümbürtüsünü duymaktan dolayı kusacak sikiş duruma gelmiştir Her gece yaşanan bu ateşli sex dakikalarından dolayı hd porno canı sıkılsa da kendisi kimseyi sikemediği için biraz da olsa kıskanıyordu

ARTICLE

کشمیر ، کراچی اور ’’را

اپنے قیامِ کے روزِ اول سے پاکستان کی ہمیشہ سے خواہش اور کوشش رہی ہے کہ دنیا کے سبھی ملکوں خصوصاً اپنے ہمسایوں کے ساتھ برابری کی سطح اور عدم مداخلت کی بنیاد پر تعلقات استوار کیے جائیں اور اپنے اس مقصد میں پاکستان کو بڑی حد تک کامیابی بھی ملی کیونکہ عالمی برادری کے اکثر ممالک کے ساتھ تعلقات باہمی احترام اور دو طرفہ تعاون کی d0بنیاد پر خاصے خوشگوار ہیں مگر بد قسمتی سے بھارت کی شکل میں پاکستان کو ایسا ہمسایہ میسر آیا جس نے گذشتہ 68 برسوں میں وطنِ عزیز کو نقصان پہنچانے کے کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیا ۔ ہندوستان پاکستان کے خلاف تین مرتبہ کھلی جارحیت کا مرتکب ہو چکا ہے ۔ سرحد پار دہشتگردی کی اسی روش کے دوران 1971 میں پاکستان کو دو لخت کر دیا گیا اور بھارتی حکمران اس منفی طرزِ عمل کا فخریہ اعتراف بھی کرتے نظر آتے رہے ۔
اسی پس منظر میں تین جولائی کو بھارتی خفیہ ادارے ’’ را ‘‘ کے سابق سربراہ ’’ امر جیت سنگھ دلت ‘‘ ( اے ایس دلت ) نے کئی ایسے انکشافات کیے ہیں جس سے ایک بار پھر ثابت ہو گیا ہے کہ بھارت کے حکمران پاکستان کے اندرونی معاملات میں کھلی مداخلت کے مرتکب ہو رہے ہیں ۔ 
یاد رہے کہ تین جولائی کو موصوف نے بھارتی ٹی وہ چینل ’’ این ڈی ٹی وی ‘‘ پر خاتون بھارتی صحافی ’’ d2برکھا دت ‘‘ کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ ’’ را ‘‘ ، مقبوضہ کشمیر اور پاکستان کے اندر کئی حوالے سے مداخلت کا مرتکب ہو رہا ہے ۔ یہاں اس امر کا ذکر بے جا نہ ہو گا کہ ’’ اے ایس دلت ‘‘ 1999 تا 2001 ’’را ‘‘ کے سربراہ رہے اور اس کے بعد مئی 2004 تک اس وقت کے بھارتی وزیر اعظم ’’ اٹل بہاری واجپائی ‘‘ کے ساتھ بطور خصوصی معاون برائے پاکستان و مقبوضہ کشمیر تعینات رہے اور انہوں نے اپنی یاداشتوں پر مبنی کتاب ’’ کشمیر : دی واجپائی ایئرز ‘‘ تحریر کی ہے جس کی رونمائی سے پہلے انہوں نے برکھا دت کو یہ انٹر ویو دیا جس میں انکشاف کیا کہ بھارتی خفیہ ادارے ’’ را ‘‘ اور ’’ آئی بی ‘‘ ایک جانب مقبوضہ کشمیر کی تمام جماعتوں کو بڑے پیمانے پر رقم دیتے ہیں تا کہ وہ بھارت سے آزادی کی تحریک کو زیادہ فعال ہونے نہ دیں ۔ اسی ناپاک مقصد کے لئے ان تنظیموں کی بھی معالی معاونت کی جاتی ہے جو تحریکِ آزادی میں بہت فعال کردار ادا کر رہی ہیں ۔ دلت کے بقول کئی حریت لیڈروں کو مختلف مواقع پر رقم دی گئی تا کہ انہیں بھارت کی جانب ’’ راغب ‘‘ کیا جا سکے ( یہ ایک علیحدہ موضوع ہے کہ دہلی کے حکمرانوں کو اپنے ان مکروہ عزائم میں قابلِ لحاظ کامیابی حاصل نہ ہو پائی ) ۔ را کے سابق سربراہ نے یہ بھی کہا کہ اسی مقصد کی خاطر ’’ حزب الجاہدین ‘‘ کے کمانڈر ’’ سید صلاح الدین ‘‘ کے بیٹے کو میڈیکل کالج میں خصوصی کاوش سے داخلہ بھی دلوایا گیا تھا ( یہ ایک علیحدہ موضوع ہے کہ را کو راہِ آزادی کے ان مسافروں کو بھٹکانے میں کامیابی نہیں ملی ۔ سید صلاح الدین اور ان کے بیٹے ڈاکٹر واحد نے ’’ دلت ‘‘ کی بات کو جھوٹ کا پلندہ قرار دیا ہے ) ۔ 
اسی سلسلے میں یہ بھی کہا گیا کہ مفتی سعید بلا کے ’’ مے نوش ‘‘ ہیں بلکہ ’’ را ‘‘ کے چیف نے مفتی سعید کو ’’ مفتی وھسکی ‘‘ کے خطاب سے نوازا ۔ البتہ یہ ضرور کہا کہ اب وہ ’’ مے نوشی ‘‘ کو ترک کر چکے ہیں ۔ اس سے مقبوضہ کشمیر کے حالیہ کٹھ پتلی وزیر اعلیٰ کو شاید اندازہ ہو سکے کہ ان کے بھارتی آقا ان کا ذکر کس حقارت آمیز لہجے میں کرتے ہیں ۔ 
ایک موہوم سی توقع ہے کہ مقبوضہ ریاست کے یہ بھارت نواز حلقے شاید اس سے کچھ سبق حاصل کریں اور ملت فروشی کی اپنی روش کو آنے والے دنوں میں ترک کر دیں ۔ 
اسی انٹر ویو کے دوران ’’ را ‘‘ کے اس سابقہ باس نے کہا کہ ’’ ایم کیو ایم ‘‘ کے سربراہ ’’ الطاف حسین ‘‘ برطانوی خفیہ ادارے ’’ ایم آئی سکس ‘‘ کے مہمان ہیں ۔ موصوف نے ’’ ایم کیو ایم ‘‘ کو بھارت کی جانب سے مالی معاونت فراہم کرنے کے حوالے سے قدرے گول مول جواب دیا اور کہا کہ وہ اس کی تائید یا تردید کرنے کی پوزیشن میں نہیں کیونکہ وہ 11 برس قبل ریٹائرڈ ہو چکے ہیں گویا انہوں نے اس حوالے سے ’’ صاف چھپتے بھی نہیں سامنے آتے بھی نہیں ‘‘ والی پوزیشن اختیار کی ۔ مگر ان کی باڈی لینگوئج اتنی واضح تھی کہ صاف اندازہ ہو رہا تھا کہ ایم کیو ایم کی قیادت بھارتی کٹھ پتلی کا کردار ادا کر رہی ہے ۔ 
غیر جانبدار مبصرین نے توقع ظاہر کی ہے کہ پاکستان اور مقبوضہ کشمیر میں کھلی مداخلت کے اس اعتراف کو پاکستان کے متعلقہ حلقے اقوامِ متحدہ اور دیگر عالمی ’’ پلیٹ فورمز ‘‘ پر دہلی سرکار کا حقیقی چہرہ بے نقاب کرنے کے لئے صرف کریں گے ۔ بھارت کی داخلی سیاست کے محاذ پر بھی اس انٹر ویو نے کافی حلچل پیدا کر دی ہے کیونکہ اے ایس دولت نے اسی انٹر ویو میں کہا ہے کہ واجپائی نے 2002 میں گجرات میں ہونے والے مسلم کش فسادات کو بھارت کی بہت بڑی ناکامی اور غلطی سے تعبیر کیا تھا ۔ اسی وجہ سے کانگرس اور دیگر اپوزیشن جماعتیں ’’ مودی حکومت ‘‘ کو تنقید کا نشانہ بنا رہی ہیں کیونکہ یہ امر کسی سے پوشیدہ نہیں کہ گجرات میں مسلم نسل کشی کے دوران مودی وہاں کے وزیر اعلیٰ تھے ۔ 
اسی پس منظر میں مبصرین نے کہا ہے کہ آنے والے دنوں میں ’’ بی جے پی ‘‘ حکومت پر اندرونی اور بیرونی دباؤ مزید بڑھ سکتا ہے کیونکہ پچھلے کچھ دنوں سے وہ پہلے ہی سے کرپشن کے الزامات کی زد میں ہے ۔ 
اس ضمن میں یہ امر حوصلہ افزا ہے کہ چند روز قبل اقوامِ متحدہ میں پاکستان کی مستقل مندوب ’’ ملیحہ لودھی ‘‘ کو اسلام آباد بلایا گیا اور وزیر اعظم نے انہیں کہا کہ عالمی سطح پر بھارتی عزائم کو بے نقاب کرنے کے لئے بھرپور سفارتی مہم چلائی جائے ۔
غیر جانبدار تجزیہ کاروں کے مطابق چھ اور سات جون کو اپنے دورہ بنگلہ دیش کے موقع پر مودی نے پاکستان کو دو لخت کرنے کا جس فخریہ ڈھنگ سے اعتراف کیا تھا وہ بھی سرحد پار دہشتگردی کے حوالے سے خود بھارت کے خلاف ایک فردِ جرم کی حیثیت رکھتا ہے ۔ اس سے پہلے 22 مئی کو انڈین ڈیفنس منسٹر ’’ منوہر پریارکر ‘‘ نے جس طرح بھارت کی ریاستی دہشتگردی کی وکالت کی تھی ، وہ بھی کسی سے پوشیدہ نہیں اور گذشتہ چند ہفتوں سے مقبوضہ کشمیر میں بھارتی خفیہ اداروں نے جس طرح ’’ اخوان المسلمین ‘‘ اور ’’ مسلم مجاہدین ‘‘ کے نام سے فرضی تنظیمیں تشکیل دی ہے اور اپنے ان ایجنٹوں کے نام پر نہتے کشمیری عوام سے زندہ رہنے کا بنیادی انسانی حق چھینا جا رہا ہے اور رمضان کے مقدس مہینے میں جمعے کی نماز تک پڑھنے پر پابندی عائد ہے اور ساری حریت قیادت کو نظر بند کر دیا گیا ہے ، اس سے بھی بھارتی عزائم پوری طرح واضح ہو جاتے ہیں ۔ اس معاملے کی ٹائمنگ خاصی اہم ہے کیونکہ سبھی جانتے ہیں کہ تیرہ جولائی کو پوری کشمیری قوم یومِ شہداءِ کشمیر منا رہی ہے کیونکہ1931 میں اسی روز سری نگر میں جب اذان دینے پر پابندی لگائی گئی تو کشمیریوں نے اپنی دلیرانہ جدوجہد کا آغاز کیا تھا اور ڈوگرہ حکمرانوں نے اس کے بدلے میں اس روز درجنوں کشمیریوں کو شہید کر دیا تھا اور آج تلک اس تحریکِ آزادی میں ایک لاکھ کشمیری پنی جانوں کا نذرانہ پیش کر چکے ہیں ۔
امید کی جانی چاہیے کہ عالمی برادری ’’ را ‘‘ کے سابق چیف کے حالیہ اعترافات اور دہلی سرکار کی منفی روش کو سامنے رکھتے ہوئے اپنا اجتماعی انسانی فریضے نبھائے گی ۔ 

چھ جولائی کو نوائے وقت میں شائع ہوا۔ 
(مندرجہ بالا تحریر مصنف کے ذاتی خیالات ہیں جس کے لئے اسلام آباد پالیسی ریسرچ انسٹی ٹیوٹ یا کوئی بھی دوسرا ادارہ ذمہ دار نہیں )

RELATED
ARTICLES.

Scroll to Top

Search for Journals, publications, articles and more.

Subscribe to Our newsletter