گاندھی برسی ،شہدائے کشمیر اور۔۔۔۔۔۔۔

بزرگ کشمیری رہنما سید علی گیلانی اور دوسرے حریت رہنماؤں نے بھارتی فوج کی جانب سے 5 بے گناہ کشمیریوں کو حراست کے دوران شہید کرنے کے مقدمے کو ختم کرنے پر سخت تنقید کی ہے ۔تفصیلات کے مطابق BBC URDU NEWS کے شکیل اختر نے 25جنوری 2014 کو اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ مقبوضہ کشمیر عوام اور رہنماؤں نے انڈین آرمی کی جانب سے ’’پتھری بل‘‘ میں کشمیریوں کے قتلِ عام کے حوالے سے انڈین آرمی اور بھارتی سپریم کورٹ کے اس حکم پر سخت مایوسی اور غصہ ظاہر کیا ہے جس کے تحت 24 جنوری کو اس قتلِ عام کے ملزم بھارت کے اعلیٰ پانچ فوجی افسروں کے خلاف چل رہے مقدمے کو بند کر دیا گیا ہے ۔
اس صورت حال کے پس منظرمیں یہ امر اہم ہے کہ کئی بھارتی اخبارات میں یہ خبرنمایاں انداز سے شائع ہوئی ہے کہ بھارت میں زیرحراست اموات نے ایک انڈسٹری کی شکل اختیار کرلی ہے، اور یہ سلسلہ روز بروز شدت اختیار کرتاجارہا ہے۔ یاد رہے کہ گاندھی جی کی برسی 30جنوری کو ہے،انھیں 1948 میں اسی روز RSS کے ’’ناتھو رام گوڈسے‘‘ اور اس کے ساتھیوں نے قتل کر دیا تھا ،اس موقع پر ہر سال بھارت میں عدم تشدد کا پرچار کیا جاتا ہے جبکہ ناقدین کا کہنا ہے کہ زمینی حقائق یہ ہیں کہعدم تشدد کے تمام دعوؤں کے باوجود بھارت کے اکثر حصوں خصوصاً مقبوضہ کشمیر میں دہلی سرکار کی جانب سے سخت گیر پالیسیوں پر عمل جاری ہے ۔
اسی پس منظر میں مبصرین نے کہا ہے کہ دنیا بھر کے انسان دوست حلقے تسلیم کرنے لگے ہیں کہ بھارت مقبوضہ ریاست میں بدترین قسم کی ریاستی دہشتگردی کا مرتکب ہورہاہے۔ اسی لئے انسانی حقوق کے بعض عالمی اداروں اور خود بھارتی تنظیموں کے تعاون سے جورپورٹ سامنے آئی ہے اس میں انکشاف کیا گیا ہے کہ بھارت میں زیرحراست اموات کے سلسلے نے گویا ایک باقاعدہ انڈسٹری کی شکل اختیار کرلی ہے اور اس میںState Actorsکے ساتھ ساتھ Non State Actorsبھی برابر کے شامل ہیں اور خدشہ ہے کہ اگر یہ سلسلہ نہ رکا تو صورتحال مزیدگھبیر ہوسکی ہے۔
ماہرین کے مطابق بھار ت کی حکومتی دہشتگردی کا سب سے بڑاہدف نہتے کشمیری بنے ہوئے ہیں، اور ان کے خلاف ریاستی تشدد خطرناک رخ اختیار کرتاجارہاہے۔ تبھی تو اکثر کشمیری قائدین نے دہلی سرکار کی مذمت کرتے ہوئے اس سفاکانہ طرزعمل کوروکنے پرزوردیا ہے۔ مقبوضہ ریاست میں الگ الگ جلسے جلوسوں میں سیدعلی گیلانی، میرواعظ عمرفاروق، پروفیسر عبدالغنی بٹ،عباس انصاری، آغاسیدالموسوی، نعیم خان، ظفراکبراور شاہدلاسلام کے ساتھ ساتھ بہت سے کشمیری رہنماؤں نے شرکت کی، اور دہلی سرکار کوہدف تنقید بنایا۔
اس موقع پر حریت قائدین نے کسی مخصوص پارٹی یا فرد کا نام لئے بغیر بھارت نواز کٹھ پتلی طبقات کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے کہاکہ یہ گروہ ایک جانب تو کشمیریوں کے لئے نام نہاد خوشحالی اور خود کفالت کی باتیں کرتے نہیں تھکتے، اور صبح وشام نیاکشمیر کا راگ الاپاجاتاہے۔ مگر دوسری طرف ان دس ہزار گمشدہ کشمیری نوجوانوں کا ذکرتک نہیں کیاجاتا جنہیں دہلی سرکار اور اس کے آلہ کاروں نے یوں غائب کردیا ہے جیسے انہیں زمیں کھاگئی ہویاآسمان نگل گیاہو۔اس حوالے سے یہ بھی فیصلہ کیا گیا کہ ان گمشدہ ہزاروں افراد کے اہل خانہ کی جانب سے بہت جلد ایک رِٹ پٹیشن تیارکی جارہی ہے جسے اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرلOICکے جنرل سیکریٹری اور پاکستان اور بھارت کی پارلیمنٹ کو بھیجاجائے گا۔ اس میں ان مظلوم کشمیریوں کی دادرسی کی پرزور اپیل کی جائے گی۔
اس کے علاوہ دنیا بھر کے انسانی حقوق کے اداروں اور فعال تنظیموں کو بھی اس بابت دستاویزی شواہد ارسال کئے جائیں گے۔تاکہ دنیا پر واضح ہوسکے کہ بھارتی حکمران طبقات کے ان دعوؤں میں کہاں تک سچائی ہے کہ بھارت دنیا بھرکی سب سے بڑی جمہورت ہے ۔اس ضمن میں ساری صورتحال کاجائزہ لیتے ہوئے خود بھارت کے ہی کئی انسان دوست حلقوں نے رائے ظاہرکی ہے کہ ہندوستان کے پالیسی ساز طبقات کے لئے یہ افسوس کی بات ہونی چاہیے کہ انہوں نے دس ہزار سے زائد کشمیریوں کو لاپتہ کررکھا ہے۔ اس سے زیادہ انسانی حقوق کی پامالیوں کا تصور بھی شائد کسی مہذب معاشرے میں موجود نہیں۔
غیرجانبدار تجزیہ نگاروں کی رائے ہے کہ مقبوضہ کشمیرکا سرکاری ادارہ سٹیٹ ہیومن رائٹس کمیشن ایک سے زائد مرتبہ اس امر کا اعتراف کرچکا ہے کہ ریاست میں قابض بھارتی حکام کی جانب سے ہر طرح کی انسانی حقوق کی پامالیاں کی جارہی ہیں۔ایک لاکھ سے زائد نہتے کشمیری بھارت کی ریاستی دہشتگردی کی بھینٹ چڑھ چکے ہیں۔ ہزاروں خواتین بیوگی کے صحرا میں دھکیلی جاچکی ہیں، لاتعداد معصوم بچے اپنے والدین کے شفیق سایوں سے محروم ہوچکے ہیں۔ سینکٹروں نہیں بلکہ ہزاروں کشمیری بھارت کی مختلف جیلوں اور عقوبت گاہوں میں ناکردہ گناہوں کی سزابھگت رہے ہیں۔ انہیں دہلی کے حکمران ہر طرح کے ذہنی اور جسمانی تشدد کا نشانہ بنا رہیں۔ اس پرمستزاد یہ دس ہزارگمشدہ کشمیری نوجوان ہیں۔اس سب کے باوجود بھی اگر بھارت خود کو جمہوریت اور انسانی حقوق کا چمپیئن قراردینے پر مصرہے اور عالمی سطح پر ان ہندوستانی دعوؤں کو قابل بھروسہ گرداناجارہاہے تو اس صورتحال پر صرف افسوس اور حیرانی کا اظہارکیاجاسکتاہے، اور اسے شائد اجتماعی عالمی ضمیرکی بے حسی کے علاوہ شائد کوئی بھی دوسرانام دیناممکن نہیں۔
ایسے میں امید ہی کی جاسکتی ہے کہ 30 جنوری کوگاندھی جی کی برسی کے موقع پر عالمی امن کے خواہش مند مؤثربین الاقوامی ادارے اور شخصیات مقبوضہ ریاست میں جاری ہندوستان کی ریاستی دہشتگردی کے خاتمے کے لئے اپنا ٹھوس اور نتیجہ خیز کرداراداکرنے کی سنجیدہ کوشش کریں گی۔

(مندرجہ بالا تحریر مصنف کے ذاتی خیالات ہیں جس کے لئے اسلام آباد پالیسی ریسرچ انسٹی ٹیوٹ یا کوئی بھی دوسرا    ادارہ ذمہ دار نہیں )

Tags:

About the Author

Post a Reply

Your e-mail address will not be published. Required fields are marked *

Top