IPRI – The Islamabad Policy Research Institute

birlikte yaşadığı günden beri kendisine arkadaşları hep ezik sikiş ve süzük gibi lakaplar takılınca dışarıya bile çıkmak porno istemeyen genç adam sürekli evde zaman geçirir Artık dışarıdaki sikiş yaşantıya kendisini adapte edemeyeceğinin farkında olduğundan sex gif dolayı hayatını evin içinde kurmuştur Fakat babası çok hızlı sikiş bir adam olduğundan ve aşırı sosyalleşebilen bir karaktere sahip porno resim oluşundan ötürü öyle bir kadınla evlenmeye karar verir ki evleneceği sikiş kadının ateşi kendisine kadar uzanıyordur Bu kadar seksi porno ve çekici milf üvey anneye sahip olduğu için şanslı olsa da her gece babasıyla sikiş seks yaparken duyduğu seslerden artık rahatsız oluyordu Odalarından sex izle gelen inleme sesleri ve yatağın gümbürtüsünü duymaktan dolayı kusacak sikiş duruma gelmiştir Her gece yaşanan bu ateşli sex dakikalarından dolayı hd porno canı sıkılsa da kendisi kimseyi sikemediği için biraz da olsa kıskanıyordu

ARTICLE

ہندو اقلیت ، بھارتی پراپیگنڈہ اور حقائق

پاکستان جب سے معرضِ وجود میں آیا ہے اس کے خلاف بہت سی بیرونی اور چند اندرونی قوتوں کی جانب سے بے بنیاد پراپیگنڈہ کیا جاتا رہا ہے اور یہ پراپیگنڈہ ہمہ جہتی ہے۔ کبھی اس کے سیاسی اور سماجی اداروں کو حرف تنقید بنایا جاتا ہے تو کبھی معاشرت اور سماجی قدروں کی آڑ لے کر جھوٹے الزامات کا لامتناعی سلسلہ شروع کر دیا جاتا ہے اور یہ روش ہنوذ جاری ہے ۔
دورِ حاضر میں انسانی حقوق ایک ایسا موضوع ہے جسے دو دھاری تلوار کی مانند جس کے خلاف چاہے استعمال کیا جا سکتا ہے ۔ عالمی ذرائع ابلاغ پر چونکہ یہودی لابی بڑی حد تک قابض ہے اور ان کے فطری حلیف بھارت کا p h 4پاکستان کے بارے میں جو عناد ہے وہ بھی کسی سے پوشیدہ نہیں ۔ اسی لئے گذشتہ چند برسوں سے پاکستان میں رہ رہی اقلیتوں خصوصاً ہندو ؤں کے ضمن میں ایسے ایسے بے بنیاد فسانے تراشے جاتے ہیں جن کے ذریعے یہ ظاہر کیا جاتا ہے کہ انہیں یہاں پر مساوی شہری حقوق حاصل نہیں اور پاکستانی معاشرہ ان کے ساتھ امتیازی سلوک روا رکھے ہوئے ہے ۔
؂ اس صورتحال کا جائزہ لیتے غیر جانبدار مبصرین نے کہا ہے کہ زمینی حقائق اس بھارتی پراپیگنڈے کے قطعی برعکس ہیں ۔ کسے علم نہیں کہ ریٹائرڈ جسٹس بھگوان داس وطنِ عزیز کی ان معدودِ چند شخصیات میں شمار ہوتے ہیں جن کا احترام پاکستانی سوسائٹی کے سبھی طبقات اور اداروں میں پایا جاتا ہے ۔ وہ نہ صرف سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کے منصب پر فائز رہے بلکہ اس کے بعد’’ فیڈرل پبلک سروس کمیشن ‘‘ (FPSC ) کے چیئر مین کے طور پر خدمات انجام دینے کے بعد 2013 میں قومی اسمبلی کے عام انتخابات سے پہلے نگران وزیر اعظم کے طور ان کی تقرری پر پاکستان کی اکثر سیاسی جماعتیں اور ادارے متفق تھے مگر اس ضمن میں چند آئینی رکاوٹوں کے درپیش ہونے کی وجہ سے وہ اس منصب پر فائز نہ ہوئے اور حالیہ دنوں میں حکمران جماعت مسلم لیگ اور قومی اسمبلی میں لیڈر آف اپوزیشن کے مابین چیف الیکشن کمشنر کے تقرر کے طور پر ان کے نام پر مکمل اتفاق رائے ہو چکا تھا مگر بوجوہ انھوں نے یہ منصب سنبھالنے سے معذرت کر لی ۔
پاکستان میں اگرچہ ہندو آبادی کا تناصب ایک فیصد سے بھی کم ہے مگر پاکستان کی پہلی آئین ساز اسمبلی کے قائم مقام سربراہ ’’ جوگندر ناتھ منڈل ‘‘ تھے اور وہ قائد اعظم نے انہیں پاکستان کا پہلا وزیر قانون بھی بنایا تھا ۔ بعد کے مختلف ادوار میں بھی ’’رانا چندر سنگھ ‘‘ سمیت بہت سی شخصیات پاکستانی سیاست میں نمایاں مقام کی حامل رہیں ۔
فنون لطیفہ کے میدان کا جائزہ لیں تو پاکستان فلم انڈسٹری کی کامیاب ترین ہیرون ’’شبنم ‘‘ ہندو مذہب سے ہی تعلق رکھتی ہے ۔ اور ان کے شوہر ’’ رابن گھوش ‘‘ کرسچن ہیں ۔ سب سے بڑے فیشن ڈیزائنر ’’دیپک پروانی ‘‘ بھی ہندو مذہبp h 1 سے تعلق رکھتے ہیں۔ مقبول ترین کھیل کرکٹ پر نگاہ دوڑائیں تو ’’ انیل دلپت‘‘ اور ’’دانش کنیریا‘‘ کا نام بھی کسی سے پوشیدہ نہیں ۔ ’’ بھوانی شنکر چودھری‘‘ کا نام الیکٹریکل انجینئرنگ اور بزنس میں خصوصی اہمیت کا حامل ہے ۔
پاکستان کے ایک سابق چیف جسٹس ’’اے آر کارنیلیس ‘‘ (عیسائی ) جیسا کوئی معتبر نام کافی ڈھونڈنے سے ہی ملتا ہے ۔ایسے میں یہ کہنا کہ پاکستان میں ہندو ؤں کے ساتھ امتیازی سلوک کیا جاتا ہے ، یقیناًمضحکہ خیز بات لگتی ہے ۔
اس حوالے سے یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ 2012 میں اس بھارتی پراپیگنڈے سے متاثر ہو کر سندھ کے کچھ ہندو خاندان بھارت چلے گئے تھے ۔ وہاں ان کی حالتِ زار کے حوالے سے راجستھان سے شائع ہونے والے کثیر الاشاعت ہندی روز نامے ’’ دینک نو جیوتی ‘‘ نے 7 اگست 2014 کو اپنے صفحہ اول پر ’’ ڈاکٹر مدھو بینرجی ‘‘ کی خصوصی نیوز رپورٹ شائع کی جس کے مطابق پاکستان سے آئے ہندو خاندان جودھپور میں انتہائی بے بسی اور بے کسی کی زندگی گزار رہے ہیں ۔ جودھپور کے مقامی سیاسی حلقوں اور انتظامیہ کی ملی بھگت سے ان بے کس ہندوؤں کی بہو بیٹیوں کی عزت سے کھلواڑ روز مرہ کا معمول بن چکا ہے ۔جودھپور میں رہنے والے ان 33 ہندو خاندانوں کے گروپ لیڈر کا نام ’’چیتن رام ‘‘ ہے ، جو جودھپور شہر کے نواح میں وارڈ نمبر 62 ،محلہ ’’ انگ ناؤ ‘‘ نزد باپو جی مندر ، خسرہ نمبر 74 میں رہائش پذیر ہیں اور انتہائی بے بسی کی زندگی بسر کر رہے ہیں ۔ انھوں نے اخبار ’’ نوجیوتی ‘‘ کی خاتون نمائندہ ’’ڈاکٹر مدھو بینرجی ‘‘ سے گفتگو کے دوران کہا کہ پاکستان میں وہ کہیں بہتر اور باوقار زندگی بسر کر رہے تھے مگر ان کی ایک بھول نے ان کا مستقبل تباہ کر کے رکھ دیا ۔ورلڈ ہندو نیوز میں اس ہندی تحریر کا ترجمہ ’’ آنند مہتا ‘‘ نے جلی حروف میں شائع کیا ۔
مندرجہ بالا حقائق اس امر کے شاہد ہیں کہ پاکستان میں اجتماعی طور پر اقلیتوں خصوصاً ہندو برادری کے ضمن میں پاکستانی کے چند حلقوں اور بھارتی میڈیا میں جو کچھ کہا جا رہا ہے وہ محض مبالغہ آرائی پر مبنی ہے اور حقیقت سے اس کا دور کا بھی کوئی واسطہ نہیں ۔

سولہ نومبر کو نوائے وقت میں شائع ہوا ۔

 

(مندرجہ بالا تحریر مصنف کے ذاتی خیالات ہیں جس کے لئے اسلام آباد پالیسی ریسرچ انسٹی ٹیوٹ یا کوئی بھی دوسرا ادارہ ذمہ دار نہیں )

RELATED
ARTICLES.

Scroll to Top

Search for Journals, publications, articles and more.

Subscribe to Our newsletter