ہندو انتہا پسندی کا فروغ اور عالمی بے حسی

بالفرضِ محال اگر پاکستان میں کوئی مذہبی جماعت الیکشن میں جیت جاتی تو دنیا بھر کا میڈیا اور سبھی تجزیہ نگار قیاس کے ایسے ایسے گھوڑے دوڑا رہے ہوتے جنہیں دیکھ اور سن کر یوں لگتا گویا زمین پھٹ گئی ہو یا آسمان گر پڑا ہو۔
اور اس صورتحال میں عالمی امن کو درپیش بے شمار خطرات کی نشان دہی سامنے آ چکی ہوتی مگر اسے عالمی رائے عامہ کی چشم پوشی کہیں یا تجاہلِ عارفانہ کا نام دیا جائے کہ بھارت میں ہندو انتہا پسند جماعت اتنی بھاری اکثریت سے الیکشن جیت کر برسرِاقتدار آ چکی ہے مگر عالمی امن کے ٹھیکیدار حلقوں نے اس حوالے سے ذرا سی بھی تشویش ظاہر کرنے کی زحمت گوارا نہیں کی۔اس صورتحال کو بین الاقوامی موثر قوتوں اور عالمی رائے عامہ کے دوہرے میعاروں کے علاوہ غالباً کوئی بھی نام نہیں دیا جا سکتا ۔
یہ امر بھی قابلِ ذکر ہے کہ ’’آر ایس ایس‘‘ نامی انتہا پسند ہندو تنظیم نے ۱۹۲۵ میں اپنے قیام سے لے کر آج تلک اس موقف کو کبھی راز نہیں رکھا کہ اس کا ہدف برِصغیر جنوبی ایشیاء کو اکھنڈ بھارت میں تبدیل کرنا اور یہاں رام راجیہ قائم کرنا ہے۔اور ’’آر ایس ایس‘‘ کے سیاسی ونگ ’’بی جے پی‘‘ نے بھی خود کو کبھی ہندو انتہا پسندی کے نظریات سے لا تعلق قرار نہیں دیا بلکہ اس کا ہمیشہ سے ہی اعلانیہ موقف رہا ہے کہ بھارت کی تقسیم اور پاکستان کا قیام ایک سیاسی حادثہ تھا جسے قبول نہیں کیا جا سکتا ۔
’’بی جے پی‘‘ اور ’’آر ایس ایس‘‘ کے بعض حلقے تو وقتاً فوقتاً کہتے رہے ہیں کہ حکومت ملنے کی صورت میں غیر ہندوؤں کے سامنے دو ہی راستے ہوں گے یا تو وہ ہندو بن کر رہنا قبول کریں ،دوسری صورت میں پاکستان یا بنگلہ دیش کی طرف کوچ کر جائیں۔حالیہ لوک سبھا الیکشن یعنی سولہویں عام انتخابات میں بھی ۷اپریل ۲۰۱۴ کو ’’بی جے پی‘‘ نے اپنا انتخابی منشور جاری کرتے ہوئے دیگر باتوں کے علاوہ درج ذیل تین نکات کو اپنی انتخابی مہم کی بنیاد بنایا۔
( ۱) ایودھیا میں تاریخی بابری مسجد (جسے ۶دسمبر ۱۹۹۲کو مسمار کر دیا گیا تھا) کی جگہ پر رام مندر تعمیر کیا جائے گا۔
( ۲) مسلمانوں اور دیگر اقلیتوں کے لئے الگ پرسنل لاء ز ختم کر کے پورے بھارت میں مشترکہ سول کوڈ نافذ کیا جائے گا یعنی مسلمانوں کے شادی بیاہ اور وراثتی معاملات سے متعلق اسلامی روایات اور قوانین کو ختم کر کے اکثریتی طبقے کے یعنی ہندو قوانین نافذ کیے جائیں گے۔
( ۳) بھارتی آئین کے آرٹیکل ۳۷۰کو ختم کر کے جموں کشمیر کی خصوصی آئینی حیثیت کر ختم کر دیا جائے گا اور دوسرے عام بھارتی صوبوں کی طرح بھارتی صوبے کا درجہ دے دیا جائے گا۔
’’بی جے پی‘‘حکومت نے ان انتخابی وعدوں کو محض وعدوں تک ہی محدود نہیں رکھا بلکہ حکومت سنبھالنے کے اگلے روز ہی یعنی ۲۷ مئی کو مقبوضہ ریاست کے جموں ریجن سے منتخب ہونے والے مرکزی وزیر’’ جتندر سنگھ‘‘ نے کہا کہ آرٹیکل ۳۷۰ کو ختم کرنے کا عمل شروع کر دیا گیا ہے۔اس کے جواب میں کشمیری قیادت کی طرف سے انتہائی سخت ردِ عمل سامنے آیا ،یہاں تک کہ بھارت نواز کٹھ پتلی وزیرِ اعلیٰ عمر عبداللہ نے واضح کیا کہ ’’ایسی صورت میں مقبوضہ کشمیر کسی بھی طور بھارت کا حصہ نہیں رہے گا۔ ’’پی ڈی پی ‘‘لیڈر محبوبہ مفتی نے بھی اس بھارتی اعلان کی شدید مخالفت کی ۔حریت کانفرنس کے سبھی دھڑے تو پہلے ہی سے بھارت سرکار کے قبضے کو تسلیم نہیں کرتے اس لئے انہوں نے بھی اس نام نہاد الیکشن میں حصہ بھی نہیں لیا تھا۔
دوسری جانب مودی سرکار میں واحد مسلمان اور اقلیتی امور کی وزیر ’’نجمہ ہیبت اللہ‘‘ نے شاہ سے بڑھ کر شاہ کی وفاداری کاثبوت دیتے ہوئے فرمایا کہ وہ بھارتی مسلمانوں کو اقلیت ہی نہیں سمجھتی کیونکہ وہ تعداد میں بہت زیادہ ہیں۔اقلیت تو پارسی وغیرہ ہیں۔
اس قسم کی دلیل پر تبصرہ کرتے غیر جانبدار مبصرین نے کہا ہے کہ مسلم دشمنی پر مبنی ایسی بے سر و پا دلیل مرحوم ابوالکلام آزاد کی نواسی ہی دے سکتی ہیں۔واضح رہے کہ مولانا آزاد نے تحریکِ آزادی میں قیامِ پاکستان کی سخت مخالفت کی تھی اور اسی انعام کے صلے میں ہندو رہنماؤں نے انہیں کانگرس کا صدر بھی مقرر کر دیا تھا۔مگر قائداعظم نے ان سے مذاکرات کرنے سے صاف انکار کر دیا تھا اور کہا تھا کہ کانگرس کے اس ’’شو بوائے‘‘ سے بات چیت کرنے سے بہتر ہے کہ گاندھی اور نہرو سے مذاکرات کر لیے جائیں ۔اور انہوں نے ایسا ہی کیا۔
مبصرین کی رائے ہے کہ عالمی رائے عامہ کو بھارت میں ہندو انتہا پسند سوچ کی اس بھاری جیت پر سنجیدگی سے توجہ دینی چاہیے وگرنہ آنے والے دنوں میں یہ عالمی اور علاقائی امن کے لئے بہت بڑا خطرہ بن سکتا ہے جیسا کہ وکی لیکس کے مطابق دسمبر ۲۰۰۹ میں راہل گاندھی نے بھارت میں متعین امریکی سفیر ’’ٹموتھی رومر ‘‘ سے کہا تھا کہ’’آنے والے دنوں میں زعفرانی ہندو انتہا پسند عالمی امن کے لئے القاعدہ سے بڑا خطرہ ثابت ہوں گے‘‘۔

 

(مندرجہ بالا تحریر مصنف کے ذاتی خیالات ہیں جس کے لئے اسلام آباد پالیسی ریسرچ انسٹی ٹیوٹ یا کوئی بھی دوسرا  ادارہ ذمہ دار نہیں)

Tags:

About the Author

Post a Reply

Your e-mail address will not be published. Required fields are marked *

Top