ہندو مسلم فسادات کا اندیشہ ؟

ہندوستانی حکمران اگرچہ جمہوریت اور سیکولر ازم کے دعوے کرتے نہیں تھکتے مگر آئے روز کسی نہ کسی شکل میں دہلی سرکار کا اصل چہرہ دنیا کے سامنے بے نقاب ہوتا رہتا ہے ۔یہ الگ بحث ہے کہ موثر عالمی قوتیں اپنے سطحی مفادات کی خاطر بھارتst کی اس سفاکانہ روش کی خاطر خواہ ڈھنگ سے مذمت نہیں کرتیں ۔ اسی سلسلے کی تازہ کڑی کے طور پر یکم دسمبر کو بھارت کی مرکزی وزیر برائے فوڈ پروسیسنگ انڈسٹریز ’’ نرنجن جیوتی ‘‘ نے ہرزہ سرائی کے تمام ریکارڈ توڑتے ہوئے کہا کہ بھارت میں بسنے والے تمام لوگ یا تو ’’ رام زادے ‘‘ ہیں یا پھر ’’ ۔ ۔۔۔ زادے ‘‘ ۔ ظاہر سی بات ہے ایسی گالی تو بالعموم بدترین دشمن کو بھی نہیں دی جاتی ۔ اسی وجہ سے 4 روز سے بھارتی پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں میں ہنگامہ برپا ہے ۔ اپوزیشن کا مطالبہ ہے کہ اس کو بر طرف کیا جائے جبکہ مودی حکومت کا کہنا ہے کہ چونکہ موصوفہ نے اپنے الفاظ پر افسوس ظاہر کیا ہے اس لئے مزید کاروائی کی ضرورت نہیں ۔دوسری طرف انسان دوست قانونی اور سیاسی بھارتی حلقے مطالبہ کر رہے ہیں کہ اس خاتون مگر جنونی ہندو وزیر کے خلاف تعزایرات ہند کی دفعہ 153 کے تحت مقدمہ درج کر کے گرفتار کیا جائے کیونکہ وہ ناقابل ضمانت جرم کی مرتکب ہوئی ہے ۔
یاد رہے کہ یہ خاتون نما بد زبان شخصیت یو پی کے ضلع فتح پور سے لوک سبھا کی رکن منتخب ہوئی اور ابھی گذشتہ ماہ اسے مرکزی وزیر بنایا گیا تھا ۔ اس نے یکم دسمبر کو دہلی کے صوبائی انتخابات میں ایک جلسے سے خطاب کرتے ہوئے لوگوں سے کہا
’’ آپ کو طے کرنا ہے کہ دہلی میں سرکار رام زادوں کی بنے گی یا ۔۔۔۔ زادوں کی ۔ ‘‘
اکثر مبصرین نے کہا ہے کہ شاید ایسے ہی بھارتی حکمرانوں کی بابت کہا گیا ہے کہ
رام بنا تھا ، کشن بنا تھا ، بنا تھا میں بھگوان
ایک جنم یہ ایسا آیا ،بن نہ سکا انسان
اس سے پہلے جب 26 مئی کو مودی نے وزارتِ عظمیٰ کا حلف اٹھایا اور 11 جون کو پارلیمنٹ میں انھوں نے بھارتی مسلمانوں کو یقین دلایا تھا کہ ان کے ساتھ کسی قسم کا امتیازی سلوک نہیں روا رکھا جائے گا ۔ تب مودی کی اس یقین دہانی کو بھارت کے اندر st 2اور عالمی سطح پر ایک خوش آئند پیش رفت قرار دیا گیا تھا ۔ مگر ابھی ان کے الفاظ کی باز گشت بھی ختم نہیں ہوئی تھی کہ ’’ بی جے پی ‘‘ اور ان کے اتحادی VHP کے لیڈروں نے ہندوستانی مسلمانوں کے خلاف ایسی زبان کا استعمال شروع کر دیا جس کا تصور بھی کوئی نارمل معاشرہ نہیں کر سکتا ۔
پہلے تو ’’ آر ایس ایس ‘‘ سربراہ ’’ موہن بھگوت ‘‘ نے فرمایا کہ 500 سال بعد بڑی مشکل سے ملک میں ’’ ہندو راج ‘‘ قائم ہوا ہے لہذا ہندوؤں کی سب محرومیوں کو دور کیا جائے گا ۔ پھر VHP کے کنوینیئر ’’ اشوک سنگھل ’’ نے اٹھارہ جولائی 2014 کو مدھیہ پردیش کے شہر ’’ اندور ‘‘ اور بھوپال میں تقریر کرتے کہا کہ اگر بھارتی مسلمانوں نے ہندوؤں کی خوشنودی کا خیال نہ کیا تو ان کا وجود بحثیت مجموعی ختم کر دیا جائے گا ۔
موصوف نے ہندوؤں کے جذبات کے ’’ احترام ‘‘ کا طریقہ بتاتے کہا کہ فوری طور پر مسلمان ’’ ایودھیا ‘‘ کی بابری مسجد ، متھرا کی جامع مسجد اور بنارس کی عالمگیری مسجد سے دست بردار ہو جائیں تا کہ ان تینوں مسجدوں کی جگہ بالترتیب رام مندر ، کرشن مندر اور شیو بھگوان کا مندر بنایا جا سکے ۔ موصوف نے یہ بھی کہا کہ اگرچہ بھارت کی ہزاروں مسجدیں مندروں کو مسمار کر کے بنائی گئی ہیں لیکن ہندو فی الحال باقی ہزاروں مساجد کی بابت کوئی دعویٰ پیش نہیں کریں گے ۔
اشوک سنگھل کا یہ بھی کہنا تھا کہ لوک سبھا انتخابات کے نتائج اس امر کے مظہر ہیں کہ ہندو اکٹھے ہو کر با آسانی چناؤ جیت سکتے ہیں لہذا مسلمانوں کو کسی خوش فہمی میں نہیں رہنا چاہیے اور ہندو جذبات کا احترام کرتے ہوئے فوراً سر تسلیم خم کر دیں وگرنہ ان کا جو حشر ہو گا وہ زمانہ دیکھے گا ۔
اس کے دو روز بعد یعنی 20 جولائی کو VHP کے سربراہ ’’ پروین تگوڑیا ‘‘ نے گجرات صوبے کے شہر ’’ بھاؤ نگر ‘‘ میں کہا کہ ہندوؤں کو چاہئے کہ اپنے علاقوں میں کسی مسلمان کو نہ تو کوئی جائیداد خریدنے دیں اور نہ ہی مکان یا دکان کرائے پر دیں اور ان کا مکمل معاشرتی ، سماجی اور اقتصادی بائیکاٹ کر دیں ۔
اس موقع پر تگوڑیا نے براہ راست مسلمانوں سے مخاطب ہوتے کہا تھا کہ شاید وہ صوبہ گجرات میں ہوا اپنا حشر بھول گئے ہیں کیونکہ اس بات کو تو 12 سال کا عرصہ گزر گیا ہے مگر امید ہے کہ وہ ’’ مظفر نگر ‘‘ اتر پردیش میں میں ہونے والے واقعات کو نہیں بھولے ہوں گے ۔ کیونکہ یہ تو ستمبر اکتوبر 2013 میں وقوع پذیر ہوئے تھے ۔ اگر انھیں یہ واقعات یا د ہیں تو اپنی اوقات میں رہیں وگرنہ ان کے ساتھ جو کچھ ہو گا وہ دنیا دیکھے گی ۔
مبصرین کے مطابق اس سے زیادہ اشتعال انگیزی اور کیا ہو سکتی ہے مگر نہ تو دہلی سرکار نے اور نہ ہی مدھیہ پردیش کے ’ بی جے ؂پی ‘‘ کے وزیر اعلیٰ ’’ شیو راج چوہان ‘‘ اور نہ گجرات کی وزیر اعلیٰ ’’ آنندی بھین ‘‘ نے ’’ نرنجن جیوتی ‘‘ سمیت ان شر انگیزوں کے خلاف کوئی مقدمہ درج کیا ہے اور نہ ہی کوئی گرفتاری عمل میں آئی ہے ۔
ایسے میں ماہرین نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ آنے والے دنوں میں بھارت کے طول و عرض میں سرکاری سر پرستی میں مسلمانوں کی نسل کشی کا گھناؤنا سلسلہ شروع ہو سکتا ہے جس کے نتیجے میں بڑے پیمانے پر مسلم کش فسادات کا لا متناہی سلسلہ شروع ہر سکتا ہے جس کی وجہ سے نہ صرف بھارت بلکہ پورے خطے میں عدم استحکام جیسی صورتحال پیدا ہونے کا حقیقی اندیشہ موجود ہے ۔

بارہ دسمبر کو روزنامہ پاکستان میں شائع ہوا ۔
(مندرجہ بالا تحریر مصنف کے ذاتی خیالات ہیں جس کے لئے اسلام آباد پالیسی ریسرچ انسٹی ٹیوٹ یا کوئی بھی دوسرا ادارہ ذمہ دار نہیں )

Tags:

About the Author

Post a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Top