یومِ حقِ خودارادیت اور عالمی برادری

5جنوری کو ہر سال مقبوضہ کشمیر ،آزاد کشمیر اور پاکستان بھر کے علاوہ دنیا بھر میں مقیم کشمیری یومِ حق خودارادیت کے طور پر مناتے ہیں اور اس موقع پر دنیا کے انسان دوست حلقوں کی توجہ بھارت کی ریاستی دہشتگردی اور کشمیر پر اس کے نا جائز تسلط کی طرف دلانے کے لئے احتجاجی جلسے جلوس اور ریلیاں منعقد کی جاتی ہیں ۔
اس موقع پر مبصرین نے کہا ہے کہ تقریباً ساری دنیا آگاہ ہے کہ 5 جنوری 1949 کو اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل نے متفقہ قرار داد کے ذریعے بھارت سے کہا تھا کہ وہ کشمیریوں کو اپنے مستقبل کا فیصلہ کرنے کے لئے حقِ خودارادیت کا موقع فراہم کرے۔اس ضمن میں یہ امر بھی قابلِ توجہ ہے کہ کشمیر کا مسئلہ اقوامِ متحدہ میں خود بھارت لے کر گیا تھا اور اس متفقہ قرار دار کے ذریعے اس نے اقوامِ عالم سے عہد کیا تھا کہ وہ کشمیریوں کو رائے شماری کا حق دے گا۔ ابتدائی برسوں میں بھارتی وزیرِ اعظم ’’جواہر لعل نہرو‘‘ اپنے اس وعدے پر کسی حد تک قائم بھی رہے مگر وقت گزرنے کے ساتھ دہلی سرکار اس ضمن میں تمام وعدوں سے منحرف ہو گئی اور اس نے یہ راگ الاپنا شروع کر دیا کہ کشمیر بھارت کاایک اٹوٹ انگ ہے ۔
کشمیر کے بے گناہ مگر غیور عوام نے جب 1988 میں بھارت سے آزادی کی فعال تحریک شروع کی تو قابض بھارتی فوج نے کشمیریوں کے خلاف ریاستی دہشتگردی کا بد ترین سلسلہ شروع کر دیا۔1989 سے لے کر 31 دسمبر 2013 تک 93984 نہتے کشمیری بھارت کی سفاکی کی بھینٹ چڑھ چکے ہیں۔ کشمیر میڈیا سروس کے مطابق دسمبر 2013 میں بھی ایک معصوم بچے سمیت نو کشمیری شہید ہوئے جبکہ 2013 کے سال میں چار خواتین اور بارہ بچوں سمیت 161 معصوم کشمیریوں کوقابض بھارتی فوجیوں نے زندہ رہنے کے بنیادی حق سے محروم کر دیا ۔یہ امر بھی اہم ہے کہ یورپی یونین نے بھارت پر زور دیا ہے کہ وہ مقبوضہ ریاست میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں بند کرے اور اس مسئلے کا کوئی ایسا حل نکالا جائے جو تمام فریقین کے لئے قابلِ قبول ہو۔
کشمیر پریس انٹر نیشنل (KPI) کے مطابق یکم جنوری 2014 کو یورپی یونین کے پرنسپل ایڈوائزر برائے خارجہ امور ’’فیڈرو سرانو‘‘ نے یورپی یونین کے صدر کے حوالے سے ایک بیان میں کہا ہے کہ EU کو مقبوضہ کشمیر کی صورتحال کے بارے میں پورا علم ہے کہ وہاں کیا ہو رہا ہے اور EU کے وفد نے ریاست جموں کشمیر کے دورے کے دوران اس بات کو شدت کے ساتھ محسوس کیا کہ بھارتی پولیس،فوج اور پیراملٹری فورسز انسانی حقوق کی پامالیوں میں ملوث ہیں اور EU چاہتی ہے کہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا یہ سلسلہ فوراً روکا جائے۔EU کے مطابق بھارت کی مرکزی اور ریاستی حکومت کے ساتھ ساتھ سرحد کے دونوں اطراف کی سول سوسائٹی،سفارت کاروں،دانشوروں اور نو جوانوں کے ساتھ EU کا قریبی رابطہ ہے ۔ان حلقوں کو چاہیے کہ وہ ان متاثرہ علاقوں کا دورہ کریں جو گذشتہ 24 برسوں کے دوران بہت متاثر ہوئے ہیں تا کہ وہاں کے نو جوان اور خواتین کو یقین دلائیں کہ آئندہ ان کے ساتھ کسی قسم کی نا انصافی نہیں ہو گی علاوہ ازیں بھارت کو یہ بات یقینی بنانی ہو گی کہ وہ اپنی پولیس ،فورسزاور فوج کو جوابدہ بنانے کے ساتھ ریاست جموں کشمیر میں انسانی حقوق کی پامالیوں کو روکنے کے لئے ٹھوس اقدامات اٹھائے ۔یورپی یونین نے اپنے بیان میں یہ بھی کہا ہے کہ اس کا موقف یہ ہے کہ اس مسئلے کو حل کرنے کیلئے پاکستان اور بھارت کے درمیان بات چیت کا سلسلہ شروع کیا جائے جس میں کشمیریوں کی شمولیت بھی لازمی ہو۔
KPI کے مطابق برطانوی وزیرِ اعظم’’ڈیوڈ کیمرون‘‘ نے کہا ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کو حاصل’’ سپیشل پاورز ایکٹ ‘‘ اور اس قسم کے دوسرے جابرانہ قوانین کو ختم کیا جائے اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا سلسلہ فوری طور پر بند کیا جائے اور اس تنازعہ کو پر امن مذاکرات کے ذریعے حل کیا جائے۔
غیر جانبدار مبصرین نے رائے ظاہر کی ہے کہ یومِ حقِ خودارادیت سے عین پہلے برطانوی وزیرِ اعظم اور یورپی یونین کے بیانات اگرچہ خوش آئند ہیں مگر ضرورت اس امر کی ہے کہ دنیا بھر کے تمام انصاف پسند حلقے تنازعہ کشمیر کو اقوامِ متحدہ کی قرار دادوں کے مطابق حل کرانے میں اپنا ٹھوس کردار زیادہ فعال ڈھنگ سے ادا کریں تا کہ اس دیرینہ تنازے کو کشمیری عوام کی خواہشات کے مطابق حل کیاجا سکے۔

5 جنوری 2014 کو نوائے وقت میں شائع ہوا

( مندرجہ بالا تحریر مصنف کے ذاتی خیالات ہیں جس کے لئے اسلام آباد پالیسی ریسرچ انسٹی ٹیوٹ یا کوئی دوسرا ادارہ ذمہ دار نہیں)

Tags:

About the Author

Post a Reply

Your e-mail address will not be published. Required fields are marked *

Top