IPRI – The Islamabad Policy Research Institute

birlikte yaşadığı günden beri kendisine arkadaşları hep ezik sikiş ve süzük gibi lakaplar takılınca dışarıya bile çıkmak porno istemeyen genç adam sürekli evde zaman geçirir Artık dışarıdaki sikiş yaşantıya kendisini adapte edemeyeceğinin farkında olduğundan sex gif dolayı hayatını evin içinde kurmuştur Fakat babası çok hızlı sikiş bir adam olduğundan ve aşırı sosyalleşebilen bir karaktere sahip porno resim oluşundan ötürü öyle bir kadınla evlenmeye karar verir ki evleneceği sikiş kadının ateşi kendisine kadar uzanıyordur Bu kadar seksi porno ve çekici milf üvey anneye sahip olduğu için şanslı olsa da her gece babasıyla sikiş seks yaparken duyduğu seslerden artık rahatsız oluyordu Odalarından sex izle gelen inleme sesleri ve yatağın gümbürtüsünü duymaktan dolayı kusacak sikiş duruma gelmiştir Her gece yaşanan bu ateşli sex dakikalarından dolayı hd porno canı sıkılsa da kendisi kimseyi sikemediği için biraz da olsa kıskanıyordu

ARTICLE

افغان الیکشن اور کرزئی کا ممکنہ مستقبل 

دفترِ خارجہ کے ترجمان نے افغانستان کے ان الزامات کو قطعی بے بنیاد قرار دیا ہے کہ افواجِ پاکستان افغان سرحد کے اندر کسی بھی قسم کی سرگرمیوں میں ملوث ہیں۔واضح رہے کہ کرزئی حکومت نے گذشتہ کافی عرصے سے یہ وطیرہ بنارکھا ہے کہ پاکستان کی بابت ہر قسم کی لغو بیانی کرتی رہے۔مبصرین نے اس ضمن میں رائے ظاہر کرتے کہا ہے کہ یوں تو حامد کرزئی نے دسمبر ۲۰۰۱ میں حکومت سنبھالنے کے بعد سے ہی وطنِ عزیز کے خلاف پراپیگنڈہ کو اپنا فرضِ اولین سمجھ رکھا ہے۔مگر گذشتہ کچھ عرصے سے اس مذموم روش میں کچھ زیادہ ہی شدت آ گئی ہے جیسا کہ موصوف نے ۲۳ مئی کو ہرات میں بھارتی قونصلیٹ پر ہونے والے حملے کے چند لمحوں بعد ہی ’’آئی ایس آئی ‘‘کو موردِ الزام ٹھہرانا شروع کر دیا تھا اور ۲۶ مئی کو بھارتی ٹی وی چینل ’’ہیڈ لائنز ٹو ڈے‘‘ کو خصوصی انٹر ویو دیتے ہوئے اپنی ساری نا اہلیوں کا ملبہ پاکستان کے کندھوں پر ڈالنے کی بھرپور کوشش کی تھی۔
اس موقع پر موصوف اس بات پر بھی خاصے نالاں تھے کہ مودی کی حلف برداری کی تقریب میں بھارتی میڈیا اور عالمی ذرائع ابلاغ وزیرِ اعظم پاکستان کو اتنی زیادہ اہمیت کیوں دے رہے ہیں اور اس موقع پر حامد کرزئی کو درحقیقت کوئی پوچھ بھی نہیں رہا تھا اور وہ
پھرتے ہیں میر خوار،کوئی پوچھتا نہیں
اس عاشقی میں عزتِ سادات بھی گئی
کی تصویر بنے ہوئے تھے۔
اسی وجہ سے موصوف کھسیانی بلی کھمبا نوچے کے مصداق بے سرو پا اور لایعنی گفتگو اور حرکات و سکنات میں مبتلا پائے گئے ۔
ان کی حالیہ جھنجھلاہٹ کی ایک ٹھوس وجہ یہ ہے کہ افغانستان میں صدارتی انتخابات کا دوسرا مرحلہ بھی ۱۴ جون کو مکمل ہو چکا ہے۔اگرچہ اس کے نتائج آنا ابھی باقی ہیں مگر مضبوط ترین سمجھے جانے والے امیدوار ’’ڈاکٹر عبداللہ عبداللہ‘‘ نے کرزئی کے خلاف دھاندلی کے الزامات لگائے ہیں ۔غیر جانبدار مبصرین نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ صدر کرزئی کے اس طرزِ عمل کے نتیجے میں افغانستان کے صدارتی انتخابات کے نتائج بڑی حد تک متنازع ہو سکتے ہیں۔جس کی وجہ سے یہ بد قسمت خطہ نئی خانہ جنگی کی آماجگاہ بن سکتا ہے ۔اور اگر ایسا ہوتا ہے تو اس کے لئے کرزئی اور ان کے غیر ملکی آقاؤں خصوصاً بھارت اور امریکی روش کے علاوہ کسی دوسرے عنصر کو ذمہ دار قرار نہیں دیا جا سکتا ۔
اس صورتحال کا بنیادی سبب یہ ہے کہ جنابِ کرزئی صدارت کا عہدہ جاتے دیکھ کر عجیب سے ذہنی کیفیت میں مبتلاہوچکے ہیں کیونکہ تقریباً تیرہ سال تک بر سرِ اقتدار رہنے کے بعد حکومت سے علیحدگی ان کے لئے ایک ڈراؤنا خواب بن چکی ہے اور ان کی خواہش ہے کہ مستقبل قریب میں افغانستان میں مظبوط اور مستحکم حکومت قائم نہ ہو سکے اور بھلے ہی عبداللہ عبداللہ جیتے یا پھر قرعہ فال اشرف غنی کے نام نکلے مگر حامد کرزئی نئے صدر کے مشیرِ اعلیٰ کے طور پر کام کرتے رہیں بلکہ نیا حکمران مکمل طور پر ان کا محتاج رہے وہ محض کٹھ پتلی کا کردار ادا کرے جس کی ڈوریاں جناب کرزئی کے دستِ مبارک میں ہوں۔

اپنے انہی عزائم کی تکمیل کی خاطر موصوف ان دنوں اپنی ساری توانائیاں صرف کر رہے ہیں جس کی وجہ سے مستقبل قریب میں افغانستان میں سیاسی استحکام ناممکن نہیں تو انتہائی دشوار ہو نے کے خدشات حقیقی شکل اختیار کرتے نظر آ رہے ہیں جس کی وجہ سے خظے کے ممالک خصوصاً پاکستان کے اندر تشویش پایا جانا فطری امر ہے۔
اس تناظر میں یہ امر بھی قابلِ ذکر ہے کہ اس مرحلے پر امریکہ اور بھارت بھی موصوف کو زیادہ اہمیت دینے پر آمادہ نظر نہیں آتے جس کی وجہ سے ذہنی کیفیت خاصی عجیب رخ اختیار کر چکی ہے ۔اس وقت گویا اس وقت وہ اپنے سائے سے بھی بد گمان نظر آتے ہے مگر شاید اس ابدی سچائی کو فراموش کر بیٹھے کہ جو فرد یا گروہ اپنی قوم کے ساتھ مخلص نہیں ہوتا تو اس کے غیر ملکی آقا بھی اپنا مقصد نکل جانے کے بعد دودھ میں سے مکھی کی طرح نکال پھینکتے ہیں اور پھر ان کا رویہ گویا کچھ اس طرح کا ہو جاتا ہے
مطلب نکل گیا ہے تو پہچانتے نہیں
یوں جا رہے ہیں جیسے ہمیں جانتے نہیں

چھبیس جون کو ڈیلی پاکستان اور نوائے وقت  میں شائع ہوا

(مندرجہ بالا تحریر مصنف کے ذاتی خیالات ہیں جس کے لئے اسلام آباد پالیسی ریسرچ انسٹی ٹیوٹ یا کوئی بھی دوسرا ادارہ ذمہ دار نہیں)

 

RELATED
ARTICLES.

Scroll to Top

Search for Journals, publications, articles and more.

Subscribe to Our newsletter