بھارتی عدم برداشت ،کشمیر اور عالمی امن

 13 جنوری کو بھارتی آرمی چیف نے کہا ہے کہ جموں کشمیر (مقبوضہ ) میں انڈین آ رمی کو حاصل خصوصی اختیارات ختم کرنے کا ابھی مناسب وقت نہیں آیا۔ جنرل بکرم سنگھ نے اس موقع پرفخریہ انداز میں فرمایا کہ گذشتہ مہینوں میں بھارتی فوج نے پاک آرمی کے 10 سے زیادہ افراد کو شہید کیا ۔ اس ضمن میں انھوں نے 23 دسمبر کے جیو ٹی وی کی نیوز رپورٹ کا حوالہ بھی دیا۔ اس کے علاوہ بھی انڈین آرمی چیف نے 13 جنوری کی اس پریس کانفرنس میں پاکستان ا چین کی افواج کے حوالے سے خاصی جارحانہ زبان استعمال کی ۔
اخباری اطلاعات کے مطابق پاک فوج کے ترجمان نے بھارتی فوجی سربراہ کی باتوں کو حقائق کے منافی اور اشتعال انگیزی پر مبنی قرار دیتے کہا کہ ایسی روش سے پرہیز کیا جانا چاہیے۔ غیر جانبدار مبصرین نے بھی کہا ہے کہ ابھی 24 دسمبر 2013 کودونوں ممالک کے ڈی جی ایم اوز کی میٹنگ کے بعد جاری ہونے والے مشترکہ اعلامیہ کی سیاہی بھی خشک نہیں ہوئی کہ بھارت کی عسکری قیادت کی جانب سے روایتی ہٹ دھرمی کا مظاہرہ شروع کر دیا گیا ہے جس سے بھارت کی عدم برداشت پر مبنی ذہنیت کی عکاسی ہوتی ہے۔
اس پس منظر میں مبصرین نے کہا ہے کہ عام آدمی پارٹی (AAP) نے جب گذشتہ ماہ دہلی صوبائی اسمبلی کے حالیہ انتخابات میں کامیابی حاصل کر کے دہلی میں حکومت بنائی تو اس وقت غیر جانبدار تجزیہ کاروں میں یہ رائے تقویت حاصل کر رہی تھی کہ بھارتی معاشرے میں غالباً تعمیری اور مثبت ذہنیت فروغ پا رہی ہے مگر AAP کے اہم رہنما اور بھارتی قانون دان ’’پرشانت بھوشن‘‘ نے جب یہ بیان دیا کہ مقبوضہ جموں کشمیر میں تعینات بھارتی فوج کو حاصل بغیر وارنٹ گرفتاری وغیرہ کے جابرانہ قانون (AFSPA)ختم کر دیے جائیں اور مقبوضہ کشمیر کے عوام سے اس حوالے سے اجتماعی رائے حاصل کرنے کے لئے ریفرنڈم کرایا جائے اور اگر کشمیری عوام کی اکثریت قابض بھارتی فوج کی تعیناتی اور کالے قوانین کے خلاف رائے ظاہر کرے توAFPSA ختم کر دیا جائے۔
؂پرشانت بھوشن کی اس تجویز پر بھارت کے طول و عرض میں گویا ایک ہنگامہ برپا ہو گیا اور دہلی میں واقع AAP کے ہیڈ کوارٹر میں 8 جنوری 2014 کو بہت سے جنونی ہندوؤں نے توڑ پھوڑ کی اور AAP کے کارکنوں کو تشدد کا نشانہ بنایا۔ ان تشدد کرنے والوں کا تعلق ’’ہندو رکھشا دل‘‘ یعنی ہندوؤں کی محافظ جماعت سے بتایا جاتا ہے۔
اس کے علاوہ کانگریس کے ترجمان ’’سنجے جھا‘‘ اور مرکزی خاتون لیڈر’’امبیکاسونی‘‘ سمیت بہت سے دوسرے کانگرسی رہنماؤں اور کارکنوں نے ’’پرشانت بھوشن‘‘ پر شدید تنقید کی ۔ BJP کے جنرل سیکرٹری اور مرکزی رہنما ’’ارون جیتلی‘‘ اور بہت سے دوسروں نے بھی بھوشن پر سخت نکتہ چینی کی یہاں تک کہ دہلی کے وزیرِ اعلیٰ ’’اروند کیجریوال‘‘نے بھی بھوشن کے بیان سے لا تعلقی ظاہر کر دی ۔واضح رہے کہ ’’پرشانت بھوشن‘‘ نہ صرف خود بھارت کے چوٹی کے قانون دانوں میں سے ایک ہیں بلکہ ان کے والد ’’شانتی بھوشن‘‘ بھی ماضی میں ’’مرار جی ڈیسائی‘‘ کی حکومت میں بھارت کے مرکزی وزیرِ قانون رہے ہیں ۔ اور یہ باپ بیٹا اپنے انسان دوستی کے نظریات کی وجہ سے مخالفین میں بھی احترام کی نظروں سے دیکھے جاتے ہیں۔
حالیہ بیان سے پہلے پرشانت بھوشن نے اکتوبر 2011 میں واضح الفاظ میں کہا تھا کہ مقبوضہ کشمیر میں استصوابِ رائے کے لئے ریفرنڈم کرانا جانا چاہیے اور اگر کشمیریوں کی اکثریت بھارت کے خلاف رائے دے تو کشمیر کو آزاد کر دیا جائے۔
ان کے اس بیان پر بھی شدید تنقید ہوئی تھی اور 17 اکتوبر 2011 کو انھیں دہلی عدالت کے احاطہ میں ’’تیجندر بگّا‘‘ نام کے ہندو انتہا پسند اور اس کے ساتھیوں نے جسمانی تشدد کا نشانہ بنایا تھا۔ ان حملہ آوروں کا تعلق ’’بجرنگ دل‘‘ اور ’’شری رام سینا‘‘ سے بتایا گیا۔
مبصرین نے کہا ہے کہ مقبوضہ ریاست میں عوام کی رائے جاننے کے لیے ’’رائے شماری‘‘ کی تجویز پر ہندوستان کے طول و عرض میں جو ہنگامہ برپا ہوا ہے اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ بھارتی معاشرت اور سیاست میں سچ سننے اور برداشت کرنے کی صلاحیت کس قدر زوال پذیر ہے اور بھارت کی یہی عدمِ برداشت اور انتہا پسندی کی روش ہندوانہ دہشتگردی کے دائرے میں داخل ہو چکی ہے جس پر دنیا بھر کے امن پسند حلقوں کو تشویش ظاہر کرنی چاہیے اور اس کے سدِ باب کے لیے بروقت حکمتِ عملی طے کی جائے کیونکہ وکی لیکس کے مطابق دسمبر 2010 میں ’’ راہل گاندھی‘‘ نے دہلی میں متعین امریکی سفیر ’’ٹموتھی رومر‘‘ سے کہا تھا کہ یہ زعفرانی دہشتگردی آگے چل کر عالمی امن کے لیے ’’القائدہ‘‘ سے بڑا خطرہ ثابت ہو سکتی ہے۔
1998 میں نوبل انعام حاص کرنے والے بھارتی ماہرِ اقتصادیا ت اور دانشور ’’ڈاکٹر امرت سین‘‘ نے گذشتہ دنوں وزارت عظمیٰ کے لئے نریندر مودی کی نامزدگی پر تنقید کرتے کہا تھا کہ وہ ایسی صورتحال میں بھارت کی شہریت ترک کرنے کو ترجیح دیں گے ۔ انھوں نے اپنی ایک کتاب میں خدشہ ظاہر کیا ہے کہ آنے والے برسوں میں بھارتی ریاست اعلانیہ طور پر سیکولر ازم اور جمہوریت کے مسلمہ اصولوں سے پوری طرح دستبردار ہو سکتی ہے۔اس پس منظر میں توقع کی جانے چاہیے کہ عالمی رائے عامہ ان بھارتی تضادات کی طرف سنجیدہ توجہ دے گی۔)مندرجہ بالا تحریر مصنف کے ذاتی خیالات ہیں جس کے لئے اسلام آباد پالیسی ریسرچ انسٹی ٹیوٹ یا کوئی بھی دوسرا ادارہ ذمہ دار نہیں)

Tags:

About the Author

Post a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Top