بھارت بنگلہ دیش سمندری تنازعہ۔۔۔عالمی ثالثی؟

۷جولائی ۲۰۱۴ کو ’’ہیگ‘‘ میں واقع عالمی عدالتِ انصاف نے بھارت اور بنگلہ دیش کے مابین خلیج بنگال کی متنازع سمندری حدود میں ثالثی کا فیصلہ سناتے ہوئے بنگلہ دیش کی سمندری حدود کے ۲۵ ہزار چھ سو دو کلو میٹر میں سے ۱۹۴۶۷ کلومیٹر کا علاقہ بھارت کو دینے کی بابت فیصلہ سنا دیا ہے ۔ظاہر سی بات ہے کہ یہ بنگلہ دیشی عوام کے لئے بہت بڑا دھچکا ہے۔اسی لئے وزیرِ اعظم حسینہ واجد کی حکومت بھرپور کوشش کر رہی ہے کہ بنگلہ دیش کا میڈیا اور عوام اس ضمن میں حقائق سے پوری طرح آگاہ نہ ہو سکیں۔اس صورتحال کا جائزہ لیتے مبصرین نے کہا ہے کہ عوامی لیگ کی رہنما ’’شیخ حسینہ واجد‘‘ کی بھارت نواز پالیسیاں ایسا راز نہیں جس سے کوئی واقف نہ ہو بلکہ ہر ذی شعور بخوبی جانتا ہے کہ عوامی لیگ اور اس کی لیڈر شپ عرصہ دراز سے ایک بھارتی کٹھ پتلی کا کردار ادا کر رہی ہیں اور اپنی اسی سوچ کے تسلسل میں موصوفہ نے ۱۶ مئی ۲۰۱۴ کو نریندر مودی کی کامیابی پر جو تحریری مراسلہ لکھا تھا اس میں مودی کو مبارک باد دیتے ہوئے کہا کہ آپ بنگلہ دیش کو اپنا دوسرا گھر سمجھیں اور غیر ملکی دوروں کے آغاز میں سب سے پہلے ڈھاکا کا دورہ کریں۔یہ الگ بات ہے کہ ۴ مار گزرنے کے باوجود ابھی تک مودی نے موصوفہ کی درخواست قبول نہیں کی۔
اس خط میں مزید یہ لکھا گیا تھاکہ بنگلہ دیش کے قیام میں بھارت نے جوکردار ادا کیا اسے عوامی لیگ کبھی فراموش نہیں کر سکتی اور اس حوالے سے پوری بنگلہ دیشی قوم بھارت کی احسان مند ہے۔
مبصرین نے اس صوتحال پر تبصرہ کرتے کہا تھا کہ اپنے اس خط کے ذریعے حسینہ شیخ نے اس امر کو باقاعدہ تسلیم کر لیا ہے کہ پاکستان کو دولخت کرنے میں بھارت نے کلیدی کردار ادا کیا ۔علاوہ ازیں عوامی لیگ کی قیادت کا مطمع نظر محض یہ ہے کہ کسی بھی قیمت پر دہلی سرکار کی خوشنودی حاصل کی جائے بھلے ہی بنگلہ دیشی عوام کی قومی عزت و غیرت کا سرِ بازار سودا کر دیا جائے۔
اسی ضمن میں غیر جانبدار تجزیہ کاروں نے کہا ہے کہ یہ توقع کرنا کہ آنے والے دنوں میں بھارت اور بنگلہ دیش کے تعلقات قابلِ رشک حد تک خوشگوار ہو جائیں گے محض خوش فہمی کے علاوہ کچھ نہیں۔کیونکہ دونوں ممالک کے مابین نا صرف بہت سے سرحدی تنازعات موجود ہیں بلکہ ’’تیستا دریا ‘‘ کے پانی کی تقسیم کا مسئلہ اتنا پیچیدہ اور متنازعہ ہے جسے حل کر پانا اگر ناممکن نہیں تو انتہائی مشکل ضرور ہے۔واضح رہے کہ دونوں ملک مشترکہ طور پر ۵۴ دریاؤں کا پانی استعمال کرتے ہیں۔اگرچہ ہر دریا کے معاملے میں بھارت اپنے مفادات کے حوالے سے بددیانتی کا مظاہرہ کرتا ہے حالانکہ ۱۹۷۲ میں اس مسئلے کے حل کے لئے جوائنٹ ریور کمیشن(جوائنٹ ریور کمیشن ) تشکیل پایا تھا مگر ۴۲ سال کے طویل عرصے کے دوران محض ایک ۳۰ سالہ معاہدہ تیستا پانی کے مسئلے کے حل کے لئے پایہ تکمیل کو پہنچا۔واضح رہے کہ ہمالیائی ریاست سکم پر بھارت نے ۱۹۷۵ میں ناجائز قبضہ کر لیا تھا۔سکم سے ہی دریائے تیستا شروع ہوتا ہے اور بھارتی صوبے مغربی بنگال کے شمالی حصے سے ہوتا ہوا بنگلہ دیش میں داخل ہو جاتا ہے۔جہاں ۴۵ کلومیٹر پر محیط رقبے کو سیراب کرنے کے بعد دریائے ’’برہما پُتر‘‘ میں شامل ہو جاتا ہے۔اس ضمن میں یہ امر بھی قابلِ ذکر ہے کہ دونوں ملکوں کے مابین ۱۹۸۳ میں عبوری دریائی پانی کی تقسیم کا معاہدہ طے پایا تھا جس کے تحت بھارت نے ۳۹ فیصد پانی لیا جبکہ بنگلہ دیش کو محض ۳۶ فیصد پر ترخا دیا گیا۔البتہ ۲۰۱۱ میں دہلی سرکار نے وعدہ کیا کہ پانی کی تقسیم کے معاہدے پر نظر ثانی کرتے ہوئے اسے دونوں ملکوں کے مابین برابر تقسیم کیا جائے گا۔
اسی پس منظر میں ستمبر ۲۰۱۱ میں سابق بھارتی وزیرِ اعظم ’’منموہن سنگھ‘‘ کے دورہ بنگلہ دیش کے دوران دونوں ملک بظاہر اس امر پر متفق ہو گئے تھے کہ تیستا دریا کے پانی کے تنازعے کو حل کرنے کیلئے ایک معاہدے پر دستخط کر دیئے جائیں اور اس ضمن میں لگ بھگ تمام تفصیلات بھی طے کر لی گئی تھیں۔اور دونوں حکومتوں کی جانب سے باقاعدہ اعلان کیا گیا تھا کہ ستمبر ۲۰۱۱ میں منموہن سنگھ کے اسی دورہ کے دوران معاہدے پر حتمی دستخط بھی ہو جائیں گے۔مگر عین موقع پر مغربی بنگال کی وزیرِ اعلیٰ ممتا بینر جی نے اس معاہدے کو تسلیم کرنے سے صاف انکار کر دیا اور کہا کہ ان کی حکومت اور مغربی بنگال کی عوام کسی بھی صورت میں اس معاہدے کو تسلیم نہیں کرے گی۔
انھوں نے دسمبر ۲۰۱۳ میں بھی صوبائی اسمبلی میں اپنی تقریر کے دوران 3 مرتبہ یہ بات دہرائی
’’مغربی بنگال کے عوام اس معاہدے کو کسی صورت تسلیم نہیں کریں گے‘‘
واضح رہے کہ ممتا بینر جی ترنمول کانگرس نامی پارٹی کی سربراہ ہیں اور گذشتہ تین برس سے مغربی بنگال کی وزیرِ اعلیٰ ہیں۔علاوہ ازیں حالیہ لوک سبھا چناؤ میں ان کی پارٹی نے مغربی بنگال کی ۴۲ لوک سبھا سیٹوں میں سے ۳۴ پر کامیابی حاصل کر کے اپنی مقبولیت واضح کر دی ہے۔بعض تجزیہ کاروں کی رائے ہے کہ ممتا بینر جی نے یہ رویہ دہلی کی مرکزی حکومت کے ایما پر اپنایا ہوا ہے۔لہذا مستقبل قریب میں بھی بھارت بنگلہ دیش تعلقات میں قابلِ رشک حد تک بہتری کے امکانات نہ ہونے کے برابر ہیں البتہ دہلی سرکار عوامی لیگی قیادت کی ملی بھگت سے بنگلہ دیش کے عوام اور سول سوسائٹی کو سبز باغ دکھانے کی ریاکاری پر مبنی اپنی روایتی حکمتِ عملی پر عمل پیرا رہے گی۔ اور یوں غالباً یہ کہا جا سکتا ہے کہ بھارتی حکمران جس طرح اپنے دیگر ہمسایوں کے ساتھ توسیع پسندانہ عزائم پر مبنی پالیسیاں اپنائے ہوئے ہیں اسی روش کے عین مطابق بنگلہ دیشی عوام کو بھی طفل تسلیوں کا اپنا کھیل جاری رکھیں گے۔
بنگلہ دیش کے آبی امور اور بین الاقوامی سمندری قوانین کے ماہرین اے این ایچ اختر حسین،عبدالحئی سکدر،ڈاکٹر شبیر مصطفیٰ خان اور شفیق الرحمٰن سمیت اکثر دانشوروں نے اسے ڈھاکہ سرکار کی بہت بڑی ناکامی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس منفی پیش رفت نے ثابت کر دیا ہے کہ بنگلہ دیش کی حد سے بڑھی بھارت نوازی کے نتیجے میں وہاں کے عوام کو یہ دن دیکھنا نصیب ہوا ہے اور اس کے لئے عوامی لیگ اور اس کی قیادت کو نہ تو بنگلہ دیشی عوام اور نہ ہی تاریخ کبھی معاف کرے گی۔

ستمبر 5 کو روزنامہ اوصاف میں شائع ہوا
(مندرجہ بالا تحریر مصنف کے ذاتی خیالات ہیں جس کے لئے اسلام آباد پالیسی ریسرچ انسٹی ٹیوٹ یا کوئی بھی دوسرا ادارہ ذمہ دار نہیں)

Tags:

About the Author

Post a Reply

Your e-mail address will not be published. Required fields are marked *

Top