بھارت کہاں آن پہنچا ۔۔۔؟؟

بھارت کہاں جا رہا ہے ؟ یہ جاننے سے پہلے ذرا رک کر دیکھ لینا چاہئے وہ کہاں آن پہنچا ہے ۔ مقبوضہ جموں کشمیر کے کٹھوعہ میں عصمت دری کے معاملے میں بھارتی معاشرے نے اپنا نقاب خود ہی اتار پھینکا ہے۔ وہاں خواتین کو برابر کے حقوق حاصل ہیں اور بیٹیوں کی پرواہ کی جاتی ہے ، یہ ڈھونگ بھی سب کے سامنے آگیا ہے۔ کٹھوعہ میں آٹھ سال کی بچی کی عصمت دری کے بارے میں ہی سن لیں گے تو آپ کو اس بات کا یقین ہو جائے گا کہ بھارتی اس وقت ایک مردہ وقت میں جینے کا بھرم پال رہے ہیں۔یہی نہیں اس اجتماعی بے حرمتی کے معاملے میں کٹھ پتلی انتظامیہ کی پولیس جب چارج شیٹ دائر کرنے پہنچی تو تھانے کا گھیراؤ کر لیا گیا اور اس قبیح فعل کے مرتکب مجرموں کو بچانے کیلئے جس طرح جے شری رام کے نعرے لگے، یہ سن لیں گے تو حقیقت خود ہی روزِ روشن کی طرح عیاں ہو جائے گی۔ کیا یہ ایک اتفاق ہے کہ بھارتی صوبے یوپی کے ’’اناؤ ‘‘میں عصمت دری کے ملزم ممبر صوبائی اسمبلی ’’کلدیپ سنگھ سینگر ‘‘نے بھی کہا تھا کہ الزام تو بھگوان رام پر بھی لگا تھا۔جو لوگ جے شری رام کے نعرے لگاتے ہیں، مندروں میں نہیں ریلیوں میں، وہی بتا سکتے ہیں کہ اب جے شری رام کے نعرے اور کہاں کہاں لگنے باقی ہیں۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ رام کے نام پر جمع ہو جانے والوں پر بھارت کے دیگر مذہبی رہنما بھی اعتراض نہیں کرتے ۔ نام نہاد سیکولرازم کے دعویدار بھارت میں لوگوں کو کیوں لگتا ہے کہ جے شری رام کا نام لینے سے یا نعرے لگا دینے سے وہ سزا سے بچ جائیں گے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ انھیں یقین ہے کہ آر ایس ایس (راشٹریے سویم سیوک سنگھ) اور سافٹ ہندوتوا کی دعویدار کانگرس کے بھارت میں ہندوؤں کو اقلیتوں کے ،خصوصاً مسلمانوں کے خلاف گھناؤنے سے گھناؤنے جرم کے ارتکاب پر بھی قانون کی طرف سے استثنیٰ حاصل ہے ۔پھر چاہے وہ بابری مسجد کا انہدام ہو، سمجھوتہ ایکسپریس میں سو سے زائد پاکستانیوں کی شہادت یا پھر مقبوضہ جموں کشمیر میں بھارتی قابض فوج کی ختم نہ ہونے والی بربریت و درندگی۔
بھارت میں قانون کے نظام کو تباہ کرنے کیلئے ’’جے شری رام ‘‘کا استعمال ہی کافی ہے ۔ اس صورتحال کا جائزہ لیتے ایک ہندو دانشور ’’رویش کمار‘‘ نے کہا کہ بھارت میں ہر جگہ ایک بپھرا ہوا ’’ہجوم ‘‘کھڑا ہے۔ اس کے صبر کا پیمانہ لبریز ہونے کو ہے، جو سیلِ رواں کی طرح خش و خشاک کو بہا لے جائے گا۔ وہ کچھ بھی کر سکتا ہے۔اگر بھارتی حکمران اس ہجوم کے حوالے سے اب بھی محتاط نہیں ہوں گے تو ایک دن یہ ہجوم ان کو بھی روند ڈالے گا۔
یاد رہے کہ کٹھوعہ میں 8 سال کی ’’آصفہ بانو‘‘ کی مندر میں تین بار بے حرمتی کی گئی ۔اس کے بعد مجرم نے پوجا پاٹھ بھی کی۔ اس تمام عرصے کے دوران کئی روز تک بچی کو بیہوشی کی دوا دے کر رکھا گیا۔ اس کے بعد عصمت دری ہوتی رہی اور پھر گلا گھونٹ دیا گیا۔وہ مر گئی لیکن زندہ رہنے کا کوئی امکان نہ بچے، اس لیے اس کے سر کو کئی بار پتھر سے کچلا گیا ۔حالانکہ وہ معصوم روح تو اسی دن اسی لمحے مرگئی تھی جب ان درندہ صفت ہندو جنونیوں نے اس پاک روح سے زندہ رہنے کا حق ہمیشہ ہمیشہ کے لئے چھین لیا ۔ ۔۔۔ وہ مر گئی۔ بیہوشی کی دوا دینے، بے حرمتی کرنے کے بعد گلا گھونٹ دینے اور سر پر پتھر مارنے کے بعد وہ معصوم بچی مر گئی۔ یاد رہے کہ اس کی جان لینے سے ذرا پہلے ایک ہندو کہتا ہے کہ ابھی رکو، وہ ایک اور بار عصمت دری کا خواہاں ہے۔ مبینہ چارج شیٹ میں یہ سب لکھا ہوا ہے۔
یہ امر انتہائی اہم ہے کہ 10 جنوری کو یہ بچی کٹھوعہ کے ہیرا نگر سے اغوا کر لی جاتی ہے ۔17 جنوری کو جنگل میں اس کی لاش ملتی ہے اور یہ کہانی 11 اپریل کو منظر عام پر آئی کیونکہ 10 اپریل کو (مقبوضہ )جموں کشمیر پولیس اس معاملے میں 11 صفحات کی چارج شیٹ فائل کرنے پہنچی تو اسے گھیرنے کے لئے شہر کا ایک بڑ ا ہجوم راستے میں تن کر کھڑا ہو گیا ۔وہی ہجوم جو مقبوضہ کشمیر اور بھارت کے طول و عرض میں ایک لاوے کی صورت میں پک رہا ہے۔ یاد رہے کہ اس کیس کو رفع دفع کرنے کے لئے اس پولیس اہلکار کو ڈیڑھ لاکھ کی رشوت دی گئی جسے معلوم تھا کہ بچی کہاں مقید رکھی گئی تھی۔کٹھوعہ میں فضا انتہائی کشیدہ ہو گئی ۔ قابلِ ذکر ہے کہ اجتماعی بے حرمتی کے مرتکب درندے کی حمایت میں ایک ہندو اتحاد پلیٹ فارم بن گیا۔اس پلیٹ فارم کو کٹھ پتلی محبوبہ مفتی سرکار کے دو وزراء اور بی جے پی ممبر اسمبلی لال سنگھ اور چندر پرکاش گنگا کی کھلی حمایت مل رہی ہے۔ جب معاملہ بین الاقوامی میڈیا کی زینت بنا اور خود بھارت کے اندر انسان دوست حلقوں کی جانب سے بربریت کی اس انتہا پر شدید ردعمل سامنے آیا تو بالآخر مودی کو خاموشی توڑنی پڑی اور موصوف نے اس کی برائے نام سی مذمت کی اور حالات پر قابو پانے کے لئے ان دونوں وزراء سے استعفیٰ لینے کا ڈھونگ رچایا گیا۔ کٹھوعہ میں ’’ہندو ایکتا منچ ‘‘نے مجرمان کے حق میں کئی جلسے مظاہرے کیے تو یوپی میں پوری بی جے پی اور یوگی حکومت ممبر اسمبلی کلدیپ سنگھ سینگر کے دفاع میں نظر آرہی ہے۔
واضح رہے کہ یہ سب کچھ کسی وقتی اشتعال کا نتیجہ نہیں بلکہ آر ایس ایس کی جانب سے جاری مستقل اشتعال انگیزی کے عمل کی ایک کڑی ہے ۔ تبھی تو گذشتہ برس 24 مئی کو انڈین آرمی چیف جنرل بپن راوت نے بھارتی فوج کے میجر لیتل گگوئی کو بہادری کا خصوصی ایوارڈ دیا اور کہا کہ اس کی طرح باقی فوجی بھی تحریک آزادی کشمیر کے خلاف اسی رویے کا مظاہرہ کریں۔ یاد رہے کہ میجر گگوئی نے ایک معصوم کشمیری کو اپنی جیپ کے آگے باندھ کر پوری وادی میں چکر لگائے تھے ۔ تحریک آزادی کشمیر کے خلاف اس قدم کو جنرل راوت کی جانب سے بہادری کی ایک علامت کے طور پر پیش کیا گیا۔ ماہرین کے مطابق انسانی حقوق کی اس بدترین پامالی پر شرمندہ ہونے کی بجائے بھارتی آرمی چیف نے اسے فوجیوں کا مورال بڑھانے کا ایک ’’نسخہ‘‘قرار دیا۔ علاوہ ازیں بی جے پی دہلی کے ترجمان ’’تیجندر پال بگا‘‘اور کئی دیگر بی جے پی رہنما آن لائن پورٹل پر ایک شرٹ بیچ رہے ہیں جن پر چھپے پرنٹ کے مطابق انڈین آرمی کی جیپ کے آگے ایک کشمیری نوجوان بندھا ہے اور اس جیپ کے نیچے انتہائی اشتعال انگیز اور ناقابلِ اشاعت الفاظ تحریر ہیں۔ شاید اس سب پہ صرف یہی کہا جا سکتا ہے
رام بنا تھا،کشن بنا تھا، بنا تھا میں بھگوان
ایک جنم یہ ایسا آیا، بن نہ سکا انسان

سترہ اپریل کو روزنامہ پاکستان میں شائع ہوا
(مندرجہ بالا تحریر مصنف کے ذاتی خیالا ت ہیں جن کے لئے اسلام آباد پالیسی ریسرچ انسٹی ٹیوٹ یا کوئی بھی دوسرا ادارہ ذمہ دار نہیں)

 

Tags:

About the Author

Post a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Top