بھارت کی جارحانہ روش اور مقبوضہ کشمیر

16دسمبر 1971  کو مشرقی پاکستان کی علیحدگی کا سانحہ پیش آیا۔ اس حوالے سے بھارت نے جو کردار ادا کیا وہ کسی سے مخفی نہیں۔ اکثر مبصرین کے مطابق سرحد پار دہشتگردی کی اس سے بڑی مثال تاریخ میں شائد ڈھونڈنے سے بھی نہ مل سکے مگر ستم ظریفی یہ ہے کہ آئے روز بھارتی حکمران پاکستان اور دیگر ہمسایہ ملکوں کو سرحد پار دہشتگردی کی سر پرستی کا مرتکب قرار دیتے نہیں تکھتے۔ حالیہ چند ہفتوں میں بھارتی صدر” پرنب مکر جی”،وزیرِ اعظم “منموہن سنگھ”، وزیرِ دفاع “انٹونی” اور وزیرِ داخلہ “شوشیل کمار شندے” سے لے کر انڈین آرمی چیف”جنرل بکرم سنگھ” تک سبھی نے نہ صرف پاکستان کے خلاف بے سرو پا الزام تراشی کی ہے بلکہ دھمکی بھری غیر سفارتی زبان  استعمال کی ہے گویا “وہی قتل بھی کرے ہے،،وہی لے ثواب الٹا” والی صورتحال بنی ہوئی ہے۔

اس پس منظر میں مبصرین نے رائے ظاہر کی ہے کہ جنوبی ایشیا کی یہ بد قسمتی ہے کہ خطے کے سب سے بڑے ملک بھارت کی قیادت قول و فعل کے بدترین تضاد کا شکار ہے۔ یوں بھی ہندوستان کی جغرافیائی حدود سبھی سارک ملکوں پاکستان، بنگلہ دیش،سری لنکا،نیپال، بھوٹان اور مالدیپ کے ساتھ ملتی ہیں اور دہلی سرکار کی ہمیشہ سے یہ خواہش رہی ہے کہ سبھی پڑوسی ملک اسے اپنا بڑا بھائی ہی نہیں بلکہ علاقے کا چوہدری تسلیم کریں اور ان کے اور بھارت کے مابین آقا اور غلام والا رشتہ ہو۔

بھارت کی اس خواہش کے سبب تمام ہمسایہ ملکوں کے ساتھ اس کے روابط کسی نہ کسی وقت انتہائی کشیدہ رہے اور ابھی بھی اچھے ہمسایوں والے تعلقات کا قیام محض ایک خواب ہے۔ بھارت کی بالادستی کی اس خواہش کی راہ میں اس کی دانست میں سب سے بڑی رکاوٹ پاکستان ہے حالانکہ پاکستانی عوام اور حکومت کی ہمیشہ سے یہ خواہش اور کوشش رہی ہے کہ سبھی پڑوسی ملکوں کے مابین باہمی تعلقات برابری اور دوسروں کے اندرونی معاملات میں عدم مداخت کے بین الااقوامی اصولوں پر مبنی ہوں

مگر ایک جانب بھارت نے بلوچستان اور پاکستان کے دیگر علاقوں میں لسانی،گروہی اور فرقہ وارانہ تشدد کی آگ بھڑکا رکھی ہے تو دوسری طرف مقبوضہ کشمیر میں ریاستی دہشتگردی کا بازار گرم کر رکھا ہے۔

پاکستان کا اس حوالے سے موقف یہ ہے کہ دہلی سرکار اقوامَ متحدہ کے وضع کردہ ضوابطوں کی پابندی کرے اور جنوبی ایشیا میں جاری دہشتگردی کی اصل وجہ یعنی جموں کشمیر پر اپنا غاصبانہ تسلط ختم کر کے مثبت اور تعمیری طرزِ عمل اپنائے اور اس حوالے سے سلامتی کونسل کی منظور کردہ قراردادوں کے عین مطابق کشمیری عوام کو اپنے مستقبل کا فیصلہ خود کرنے کا حق دے۔

یہ امر بھی قابلِ توجہ ہے کہ پاکستان نے کبھی یہ نہیں کہا کہ کشمیر کو پاکستان کے حوالے کر دیا جائے بلکہ پاکستانی عوام اور حکومتوں کا تو ہمیشہ سے یہ موقف رہا ہے کہ اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کے مطابق کشمیریوں کی رائے معلوم کر لی جائے کہ وہ اپنا مستقبل کیسا چاہتے ہیں مگر دہلی کا بالا دست طبقہ چونکہ بخوبی جانتا ہے کہ کشمیری عوام ہر قیمت پر بھارت سے نجات کے خواہاں ہیں اسی وجہ سے بھارت سلامتی کونسل کی قراردادوں کو نہیں مان رہا اور امریکہ سمیت عالمی برادری کے اکثر حلقے سب کچھ جانتے ہوئے بھی چشم پوشی کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔ ایسٹ تیمور،جنوبی سوڈان،لیبیا،عراق اور شام کی بابت تو سلامتی کونسل کی قراردادوں کے نام پر ہر قسم کا سخت رویہ روا رکھا جاتا ہے مگر بھارتی حکمرانوں سے ان کے دوہرِےمعیار کی بابت کوئی باز پرس نہیں ہوتی۔

چند روز پہلے بی جے پی کے وزارتِ عظمیٰ کے امیدوار نریندر مودی نے یکم دسمبر2013 کو جموں میں تقریر کرتے کہا کہ ریاست جموں کشمیر کے عوام  تمام تر قدرتی وسائل کی دولت سے مالا مال ہونے کے باوجود دہلی کی مرکزی سرکار کے سامنے بھکاری ریاست کی مانند کشکول اٹھائے پھرتے ہیں۔ مقبوضہ کشمیر کے نام نہاد وزیرِ اعلیٰ عمر عبداللہ نے مودی سے مطالبہ کیا ہے کہ مقبوضہ کشمیر کو بھیک مانگنے والی ریاست قرار دینے کے اپنے الفاظ واپس لیں۔

مبصرین نے کہا ہے کہ اگرچہ مودی نے یہ سب کچھ کشمیریوں کی ہمدردی کے نقطہِ نظر سے نہیں کہا لیکن اس امر نے مقبوضہ کشمیر اور اس کے رہنے والوں کی کسمپرسی کو پوری طرح اجاگر کر دیا ہے اور دہلی سرکار کی نام نہاد فراخ دلی کو ایک بار پھر بے نقاب کر دیا ہے۔امید ہے پاکستان سمیت دنیا بھر کی سول سوسائٹی  اس جانب پوری سنجیدگی سے توجہ دے گی۔

Tags:

About the Author

Post a Reply

Your e-mail address will not be published. Required fields are marked *

Top