IPRI – The Islamabad Policy Research Institute

birlikte yaşadığı günden beri kendisine arkadaşları hep ezik sikiş ve süzük gibi lakaplar takılınca dışarıya bile çıkmak porno istemeyen genç adam sürekli evde zaman geçirir Artık dışarıdaki sikiş yaşantıya kendisini adapte edemeyeceğinin farkında olduğundan sex gif dolayı hayatını evin içinde kurmuştur Fakat babası çok hızlı sikiş bir adam olduğundan ve aşırı sosyalleşebilen bir karaktere sahip porno resim oluşundan ötürü öyle bir kadınla evlenmeye karar verir ki evleneceği sikiş kadının ateşi kendisine kadar uzanıyordur Bu kadar seksi porno ve çekici milf üvey anneye sahip olduğu için şanslı olsa da her gece babasıyla sikiş seks yaparken duyduğu seslerden artık rahatsız oluyordu Odalarından sex izle gelen inleme sesleri ve yatağın gümbürtüsünü duymaktan dolayı kusacak sikiş duruma gelmiştir Her gece yaşanan bu ateşli sex dakikalarından dolayı hd porno canı sıkılsa da kendisi kimseyi sikemediği için biraz da olsa kıskanıyordu

ARTICLE

بھارت ۔۔۔ دوسری بڑی ’’اکثریت‘‘ کا احوال 

ہندوستان کے سابق سیکرٹری خارجہ آنجہانی رس گوترا نے 2000میں پاکستان کے وفاقی دارالحکومت میں اسلام آباد پالیسی ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کے زیراہتمام منعقدہ ایک سیمینار میں خطاب کرتے ہوئے فرمایا تھا کہ وہ مسلمانوں کو ہندوستان کی سب سے بڑی اقلیت کے بجائے دوسری بڑی ’’اکثریت‘‘ قرار دیتے ہیں۔ غیر جانبدار مبصرین نے موصوف کے ان الفاظ کو ادھوری سچائی قرار دیتے کہا کہ عددی لحاظ سے تو ان کی یہ بات کسی حد تک سچ ہو سکتی ہے مگر زمینی حقائق پر سرسری سی بھی نگاہ دوڑائیں تو یہ امر روز روشن کی طرح عیاں ہو جاتا ہے کہ بھارتی مسلمان عجب مخمصے کا شکار ہیں مثلاً چند روز قبل علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے سابق وائس چانسلر اور انڈین آرمی کے ریٹائرڈ لیفٹیننٹ جنرل ضمیر الدین شاہ نے اپنی کتاب ’’ دی سرکاری مسلمان‘‘ میں بھارتی مسلمانوں کی حالت زار کا خاطر خواہ ڈھنگ سے احاطہ کیا ہے۔ یاد رہے کہ ضمیر الدین شاہ، بالی وڈ کے مشہور اداکار نصیرالدین شاہ کے سگے بھائی ہیں۔
مبصرین کے مطابق بھارتی مسلمانوں کے ضمن میں بی جے پی اور کانگرس دونوں ’’ہندوتوا‘‘ کا استعمال کر رہے ہیں، فرق صرف اتنا ہے کہ بی جے پی اور آر ایس ایس اس سلسلے میں ’’ہارڈ لائنرز‘‘ ہیں جبکہ کانگرس ’’سافٹ ہندوتوا‘‘ کی پالیسی پر عمل پیرا ہے۔ مسلمانوں سے گریز اور ہندوؤں کو بی جے پی میں جانے سے روکنے کیلئے سافٹ ہندوتوا ایک ایسی پارٹی نے طویل عرصے سے اپنا رکھا ہے جس کی جڑیں 28تا31دسمبر 1885 بمبئی میں منعقد ایک ایسے تاریخی اجلاس میں پائی جاتی ہیں۔ جس میں بدرالدین طیب جی اور رحمت اللہ ایم سیانی جیسی نمایاں مسلم شخصیات نے شرکت کی تھیں اورجس جماعت کے 133سالہ دور میں کل 88 قومی اجلاس کی صدارت کرنے والوں میں بدرالدین طیب جی 1887میں ، 1896میں رحمت اللہ ایم سیانی ، سید حسن امام 1918، حکیم اجمل خاں 1921، مولانا محمد علی جوہر 1923، ڈاکٹر مختاراحمد انصاری1927 اور مولانا ابوالکلام آزاد 1923 اور 1940-46 جیسی اس وقت کی نمایاں مسلم ہستیاں شامل رہی ہیں۔ یہ ایک علیحدہ موضوع ہے کہ ان تمام مسلم افراد کو انڈین نیشنل کانگریس کی صدارت کے مواقع آزادی سے قبل ہی ملے اورآزادی کے بعد کانگریس کا صدر کوئی مسلمان نہیں بن سکا یا نہیں بنایا جا سکا۔جہاں تک پالیسی کی بات ہے، کانگرس نے اس کے بعد بھی مسلمانوں کو ایکسپلائٹ کر کے ان کو بطور ایک ووٹ بینک استعمال کرنے کا سلسلہ جاری رکھا ۔اسی ضمن میں مسلمانوں کی صحیح صورتحال جاننے کیلئے سچرکمیٹی کی خصوصی رپورٹ اور خصوصی وزارت برائے اقلیتی امور کی تشکیل شامل تھی۔ علاوہ ازیں مختلف اوقات میں ڈاکٹر ذاکر حسین، فخرالدین علی احمد اور ڈاکٹر عبدالکلام کو بھارت کی صدارت جیسے عہدے پر بھی فائز کیا گیا تا کہ بھارتی مسلمانوں کے دلوں میں کانگرس کے لئے ایک نرم گوشہ بہرحال موجود رہے۔ۂ مگر گذشتہ کچھ عرصے سے واضح طور پر محسوس ہوتا ہے کہ بی جے پی کے بقول ’’مسلم دوست‘‘ (بظاہر) پارٹی کانگرس بھی سافٹ ہندوتوا کی پالیسی کے متعلق ایک واضح طرزعمل رکھتی ہے ۔سبھی جانتے ہیں کہ چند ماہ قبل 11جولائی 2018کو کانگرس کے صدرراہل گاندھی نے اپنی رہائش گاہ پر تقریباً ایک درجن مسلم قائدین سے ملاقات کرکے مسلمانوں میں اپنی ہمدردیاں پیدا کرنے کی سعی چاہی ۔ ان قائدین نے کانگریس کے صدر سے برملا اس بات کا اظہار کیا کہ بھارتی مسلمانوں میں عدم تحفظ کا احساس بہت زیادہ بڑھ چکا ہے ۔اس پرراہل گاندھی نے تسلی دیتے ہوئے روایتی جملے بولے کہ کسی کے بھی خلاف ناانصافی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ راہل گاندھی نے اپنے سافٹ ہندوتوا سے ان کی توجہ ہٹا کر بی جے پی اور آر ایس ایس کی انتہا پسندی کی طرف مبذول کراتے کہا کہ بی جے پی کا ایجنڈا معاشرے میں تقسیم در تقسیم ہے۔ انھوں نے کہا کہ بی جے پی جوکچھ کررہی ہے اوراس کے دور میں دلتوں اورمسلمانوں کی لنچنگ جس طرح ایک معمولی بات بن چکی ہے، اس کی وجہ سے کانگرس ہی کسی قدر مسلمانوں کی حامی ہے۔
عام فہم بات ہے کہ کانگریس کے صدر کی مسلم وفد سے یہ ملاقات 2019کے لوک سبھا چناؤ کے تناظر میں ہوئی کیونکہ راہل گاندھی اپنے مسلم ووٹ بینک کو بھی سمیٹا چاہتے تھے ۔ واضح رہے کہ سینئرکانگریس لیڈر سلمان خورشید اور جے این یوکی پروفیسر زویا حسن سمیت نمایاں مسلم سماجی شخصیات شرکاء میں شامل تھیں، مگر حسب معمول بھارتی ذرائع ابلاغ نے آسمان سر پر اٹھا لیا اور ’’ کانگریس ایک مسلم پارٹی ‘‘ کی سرخیاں چلائی گئیں اور بھارتی مسلمانوں کے خلاف ایک طوفان کھڑا کیا گیا۔ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی سے لے کر بھارتی وزیردفاع نرملا سیتارمن اوربی جے پی ترجمان انل بالانی تک نے گوہر افشانی کی کہ ’’کانگرس ایک ہندومخالف اور مسلم دوست پارٹی ہے جس کا مقصد بھارتی اقلیتوں کو ’’راضی کرنا ‘‘ ہے۔
اس پر فوراً کانگریس نے بھی یوٹرن لیا اور صرف دفاعی پوزیشن ہی اختیار نہیں کی بلکہ مسلمانوں کے خلاف بیانات دے کر اپنی ’’مسلم دشمنی ‘‘ ثابت کرنے کی سعی چاہی، اور انڈین گجرات اورکرناٹک کی طرح ’’سافٹ ہندوتوا‘‘ کی پالیسی پر پھر سے گامزن ہوگئی۔ پھر راہل گاندھی نے ان ضروری اورجائز وعدوں کا بھی لحاظ نہیں رکھا جن کا انہوں نے مسلم وفد سے کم از کم وعدہ کیا تھا۔
سنجیدہ حلقوں کے مطابق دراصل کانگریس کا مسلمانوں سے یہ برتاؤ کوئی نئی بات نہیں یا یہ مسلم وفد سے 11 جولائی 2018 کی ملاقات سے ہی شروع نہیں ہوا بلکہ اس کی ایک طویل تاریخ ہے۔ ماہرین کے مطابق اس کی دو وجوہات ہیں۔ایک تو یہ کہ کانگریس مسلم ووٹ بینک کو اپنا حق سمجھتی ہے ۔ کانگرس کا ماننا ہے کہ بی جے پی اور کانگرس کے مقابلے میں مسلمانوں کے پاس کوئی اور متبادل ہے ہی نہیں ، لہٰذا ان پر توجہ دینے کی کوئی ضرورت ہی نہیں ہے۔ دوسرا یہ ہے کہ انتہا پسند ہندو معاشرے میں اگر مسلمانوں کی حمایت کا کوئی بیان بھولے بسرے سے دے ہی دیا جائے تو اس کا الٹا اثر ہوتا ہے، بھارتی ذرائع ابلاغ آسمان سر پر اٹھا لیتے ہیں اور ہندو جنون انتہا پر پہنچ جاتا ہے جس کا پورا فائدہ بی جے پی کو انتخابات میں مل سکتاہے۔ در حقیقت یہی وہ ذہنیت ہے جس کی وجہ سے بھارتی مسلمان آج بھی دوسرے ہی نہیں بلکہ تیسرے درجے کے شہری کے طور پر زندگی گزار رہے ہیں۔ اس کا اثر لوک سبھا اور ودھان سبھا (صوبائی اسمبلی) کے انتخابات میں ٹکٹ کی تقسیم کے دوران بھی پڑتا ہے اوراس کا مظاہرہ بھارتی ریاست گجرات اورکرناٹک کے اسمبلی انتخابات میں بھی ہو چکا ہے ۔یاد رہے کہ بی جے پی نے اترپردیش کی 403 رکنی اسمبلی کے انتخابات میں ایک بھی مسلمان کو ٹکٹ نہیں دیا تھا۔
یوں بھارت کی دوسری سب سے بڑی اکثریت اورسب سے بڑی اقلیت جو 2011 کی بھارتی مردم شماری کی روشنی میں 14.2فیصد تھی، بری طرح استحصال کا شکار ہے اور بھارتی سیاست، معیشت اورمعاشرت میں یہ تیزی سے بے اختیار ہو رہی ہے اور یہ سلسلہ ہنوذ جاری ہے۔
دوسری طرف آرایس ایس کھلم کھلا یہ کہہ رہی ہے کہ یہ دیش (بھارت) ہندوؤں کا ہے اور غیر ہندوؤں کے لئے اس میں کوئی جگہ نہیں ۔ اور کانگریس بھی مکمل روپ سے سافٹ ہندوتوا کی پالیسی پر عمل پیرا ہے جس کے مطابق انتخابات کے دوران مسلم آبادیوں سے دور رہنا ، کٹر ہندو ذہنیت کے بیانات دینا اورٹکٹوں کی تقسیم میں مسلمانوں کو مکمل سائیڈ لائن کرنا ہی کامیابی کی ضمانت ہے۔ ایسے میں بھارتی مسلمانوں میں اضطراب پایا جاتا ہے اور انھیں سمجھ نہیں آتا کہ وہ کریں تو کیا کریں۔
ایسے میں 11 دسمبر کو پانچ بھارتی ریاستوں کے انتخابات کے نتائج آئیں گے جن میں مدھیہ پردیش بھی شامل ہے، وہاں کانگریس کی نقل و حرکت کو دیکھیں تواندازہ ہوتاہے کہ وہ کسی بھی مسجد، درگاہ یا مسلم آبادی کے کسی فنکشن میں جانے سے مکمل گریزاں ہے جبکہ مندروں میں حاضریاں دی جاتی ہیں۔
یہ تلخ حقیقت کسی سے مخفی نہیں ہے کہ مدھیہ پردیش میں کانگریس کی جانب سے تمام پنچایتوں میں گؤ شالاؤں کے قیام کے اعلانات کئے گئے اوربڑے جوش وخروش سے راہل گاندھی کو ’’شیوبھکت‘‘ اور ’’ہنومان بھکت‘‘ قراردیاگیا۔ یہ سب کرتے ہوئے کانگرسی لیڈروں نے اعلانیہ کہاکہ بی جے پی کا ہندوازم پرکاپی رائٹ نہیں ہے،یہ ان کا بھی مذہب ہے اور وہ اس پر بھرپور طریقے سے عمل پیرا ہیں ۔ راہل گاندھی کے جلسوں میں ’’ہر ہر مہادیو‘‘ کی صدائیں بھی معمول سے سننے کو ملتی ہیں۔
عجیب بات تو یہ بھی ہے کہ کانگریس ہندوؤں کے مذہبی جذبات کو ابھارنے میں یہ بھی ثابت کرنا چاہتی ہے کہ وہ بی جے پی سے کسی بھی صورت میں کم نہیں ہے۔ان سب باتوں سے اگرکانگریس یہ سمجھتی ہے کہ اس سے ہندوتوا کی طرف مائل ہندوؤں کو اپنی جانب مائل کر پائے گی اور کٹر ہندو ووٹ بینک کا ایک حلقہ اس کے حق میں آجائے گا تو سوال یہ ہے کہ کیا واقعی ایسا ممکن ہے؟ بھارتی ریاست مدھیہ پردیش میں گذشتہ ڈیڑھ ماہ سے جتنی انتخابی میٹنگیں ہوئی ہیں، اس لحاظ سے کانگرس اوربی جے پی کی میٹنگوں میں کوئی فرق نہیں ہے کہ دونوں میں انتہاپسند ہندو علامتیں اور نشانات پائے جاتے ہیں اور انھیں دیکھ کر یہ محسوس ہوتا ہے کہ دھرم یعنی مذہب کو بھارتی سیاست میں دوسری تمام چیزوں سے زیادہ اہمیت حاصل ہو چکی ہے۔
مسلم اقلیت کی مجموعی صورتحال کیاہے، یہ کسی سے مخفی نہیں ہے ، پہلے گوپال سنگھ مائنارٹی پینل اور بعد میں سچر کمیٹی کی رپورٹ کے بعد صاف پتہ چلتا ہے کہ بھارتی مسلمانوں کی حالت اچھوت ہندوؤں سے بھی بدتر ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ مسلم مخالف پالیسی محض بی جے پی یا کانگریس کی ہی نہیں بلکہ اس بدلتے ہوئے رجحان کا اثر بھارت کی دیگر سیاسی پارٹیوں پربھی پڑرہاہے اور وہ بھی بھارتی مسلمانوں کے تئیں گریز اور کسی حد تک جارحیت کا رویہ اختیار کرنے لگی ہیں۔ ایسے میں عالمی برادری بھارت اور مقبوضہ کشمیر میں جاری انسانی حقوق کی پامالیوں کی طرف توجہ نہ دے تو غالباً اس پر بجا طور پر تشویش ظاہر کی جانی چاہیے۔

گیارہ اور بارہ نومبر 2018 کو روزنامہ نوائے وقت میں دو قسطوں میں شائع ہوا۔
( مندرجہ بالا تحریر مصنف کے ذاتی خیالات ہیں جن کے لئے اسلام آباد پالیسی ریسرچ انسٹی ٹیوٹ یا کوئی بھی دوسرا ادارہ ذمہ دار نہیں )

 

RELATED
ARTICLES.

Scroll to Top

Search for Journals, publications, articles and more.

Subscribe to Our newsletter