IPRI – The Islamabad Policy Research Institute

birlikte yaşadığı günden beri kendisine arkadaşları hep ezik sikiş ve süzük gibi lakaplar takılınca dışarıya bile çıkmak porno istemeyen genç adam sürekli evde zaman geçirir Artık dışarıdaki sikiş yaşantıya kendisini adapte edemeyeceğinin farkında olduğundan sex gif dolayı hayatını evin içinde kurmuştur Fakat babası çok hızlı sikiş bir adam olduğundan ve aşırı sosyalleşebilen bir karaktere sahip porno resim oluşundan ötürü öyle bir kadınla evlenmeye karar verir ki evleneceği sikiş kadının ateşi kendisine kadar uzanıyordur Bu kadar seksi porno ve çekici milf üvey anneye sahip olduğu için şanslı olsa da her gece babasıyla sikiş seks yaparken duyduğu seslerden artık rahatsız oluyordu Odalarından sex izle gelen inleme sesleri ve yatağın gümbürtüsünü duymaktan dolayı kusacak sikiş duruma gelmiştir Her gece yaşanan bu ateşli sex dakikalarından dolayı hd porno canı sıkılsa da kendisi kimseyi sikemediği için biraz da olsa kıskanıyordu

ARTICLE

بی جے پی کا انتخابی منشور اور عالمی ذمہ داری

بھارتی لوک سبھا کے انتخابات کے لئے ووٹنگ کا عمل جاری ہے ۔اسی دوران 7 اپریل کو بی جے پی نے اپنا انتخابی منشور جاری کیا۔منشورکمیٹی کے سربراہ ڈاکٹر مرلی منوہر جوشی تھے،اس منشور میں دیگر باتوں کے علاوہ یہ بھی کہا گیا ہے کہ حکومت ملنے کی صورت میں شہیدبابری مسجد کی جگہ پر رام مندر کی تعمیر کا راستہ بھارتی آئین کی حدود میں رہ کر تلاش کیا جائے گا۔اور مقبوضہ جموں کشمیر کے حوالے سے بھارتی آئین کے آرٹیکل 370 کے خاتمے کی جانب پیش رفت کی جائے گی۔علاوہ ازیں ’’مشترکہ سول کوڈ‘‘ کا نفاذ عمل میں لایا جائے گا۔
مندرجہ بالا نکات ہندو انتہا پسند حلقوں کا دیرینہ مطالبہ رہے ہیں۔بی جے پی کے اندورونی حلقوں کے مطابق نریندر مودی رام مندر کی تعمیر کا معاملہ اس منشور میں شامل کرنے کے حامی نہیں تھے مگر مرلی منوہر جوشی اور RSS کے اصرار پر یہ بات منشور میں شامل کی گئی۔
غیر جانبدار مبصرین نے کہا ہے کہ 2013 میں’’ 7 تا9 جون‘‘ کو بھارتی صوبے ’’گوا‘‘ کی راجدھانی ’’پانجی‘‘ میں بی جے پی نے اپنے اجلاس میں مودی کو انتخابی مہم کا انچارج اور پھر ستمبر میں اپنا وزارتِ عظمیٰ کا امیدوار نامزد کیا تھا حالانکہ یہ کوئی راز کی بات نہیں کہ موصوف کے دامن پر 2002 کے گجرات مسلم کش فسادات کے دوران ہزاروں مسلمانوں کے خونِ ناحق کے دھبے اتنے واضح ہیں کہ خود بھارت اور بیرونی دنیا کے اکثر حلقے بھی ایک سے زائد مرتبہ اسے تسلیم کر چکے ہیں۔اور اسی بنیاد پر امریکہ نے مودی کو ویزہ دینے سے انکار کیا تھا۔یکم مئی 2013 کو بھی امریکی ادارے ’’انٹر نیشنل کمیشن فار ریلجس فریڈم‘‘ نے امریکی حکومت کو اپنی تحریری رپورٹ پیش کی کہ چونکہ مودی ہزاروں مسلمانوں کے قتلِ عام میں ملوث پائے گئے ہیں لہذا انھیں آئندہ بھی امریکہ میں داخلے کے لئے ویزہ جاری نہ کیا جائے۔
خود بھارت کے کئی تحقیقاتی کمیشن مثلاً ’’یو سی بینر جی کمیشن‘‘،’’شاہ کمیشن‘‘ اور انسانی حقوق کا بھارتی نیشنل کمیشن اور اس کے سابق سربراہ جسٹس ورما بھی مودی کو ملزم ٹھہراچکے ہیں۔ایسے میں ایسی شخصیت کو وزیرِ اعظم کے منصب کے لئے نامز د کرنا بخوبی ظاہر کرتا ہے کہ بھارت میں مسلمانوں اور دیگر اقلیتوں کے خلاف نفرت عوامی سطح پر خاصی جگہ بنا چکی ہے اور 25 اگست 2010 کو اس وقت کے وزیرِ داخلہ چدم برم نے صوبائی پولیس سربراہوں کے اجلاس میں زعفرانی دہشتگردی کے فروغ کے جس خطرے کا انکشاف کیا تھا وہ خطرہ اب بڑھ کر تن آور درخت کی شکل اختیار کر گیا ہے۔
یاد رہے کہ وکی لیکس کے مطابق دسمبر 2009 میں راہل گاندھی نے دہلی میں متعین امریکی سفیر ’’ٹموتھی رومر‘‘ سے کہا تھا کہ ہندو دہشتگرد گروہ آنے والے دنوں میں عالمی امن کے لئے القائدہ سے بڑا خطرہ ثابت ہو سکتے ہیں۔
اس صورتحال کا جائزہ لیتے مبصرین نے کہا ہے کہ بھارت کے تمام تر جمہوری اور سیکولر دعووں کے باوجود کم از کم تین مرتبہ بی جے پی جیسی جماعت ووٹ کے ذریعے بھارت میں مرکزی حکومت بنانے میں کامیاب ہو چکی ہے اور 19 مارچ 1998 میں برسرِ اقتدار آنے کے محض 50 دن کے اندر یعنی 11 اور 13 مئی کو ایٹمی دھماکے کر کے یہ بھارتی شدت پسند گروہ اپنی جارحانہ ذہنیت کا اظہار کر چکا ہے ۔یہ ایک الگ موضوع ہے کہ اس روش کے جواب میں پاکستان کو بھی اپنی ایٹمی قوت کا اعلانیہ مظاہرہ کر کے خطے میں طاقت کے توازن کو درست کرنا پڑا ۔
بظاہر شواہد ایسے ہیں کہ مودی کی قیادت میں بی جے پی چوتھی مرتبہ بھی حکومت بنانے میں کامیاب ہو سکتی ہے ایسے میں ضرورت اس امر کی ہے کہ امریکہ اور دیگر موثر عالمی قوتیں زیادہ فعال کردار ادا کرتے ہوئے ایسی شخصیات کو محض ویزہ نہ دینے کی باتوں تک محدود نہ رہیں بلکہ انسانی جرائم میں ملوث ہونے کے سنگین الزامات کے تحت خصوصی انٹر نیشنل ٹربیونل قائم کرکے وہ ’’سربیا ‘‘کے ’’ملازو وچ‘‘ کی مانند ایسے افراد کو عالمی سطح پر قانون کے کٹہرے میں کھڑا کر کے قرار واقعی سزا دیں۔
یہی وہ واحد راستہ ہے جس کے ذریعے دہشتگردی کے خلاف جاری عالمی لڑائی کو اس کے منطقی انجام تک پہنچایا جا سکتا ہے۔اس فہرست میں مقبوضہ کشمیر،فلسطین،عراق،افغانستان اور دنیا کے دیگر حصوں میں انسانیت پر مظالم ڈھانے والوں کو بھی شامل کیا جانا چاہیے ۔خواہش کی جانی چاہیے کہ اس سلسلے کا آغاز مودی جیسی شخصیات سے کیا جائے گا وگرنہ دنیا بھر میں مذہبی انتہا پسندی کا ناقابلِ رشک رجحان مزید فروغ پر سکتاہے۔

(مندرجہ بالا تحریر مصنف کے ذاتی خیالات ہیں جس کے لئے اسلام آباد پالیسی ریسرچ انسٹی ٹیوٹ یا کوئی بھی دوسرا ادارہ ذمہ دار نہیں)

RELATED
ARTICLES.

Scroll to Top

Search for Journals, publications, articles and more.

Subscribe to Our newsletter