!جنگ ستمبر ۔۔۔ بھارتی دعووں کی حقیقت

مشہور امریکی میگزین ’’ ٹائمز ‘‘ کے نمائندہ ’’ لوئیس کرار ‘‘ نے تیئس ستمبر 1965 کے شمارے میں جنگِ ستمبر کے محاذوں کو اپنی آنکھوں نے دیکھ کر لکھا تھا ’’ میں پاک بھارت جنگ کو شاید بھول جاؤں مگر پاک فوج کا جو افسر مجھے محاذ پر لے گیا تھا ، اس کی مسکراہٹ کو کبھی نہیں بھول سکھوں گا ۔ یہ مسکراہٹ مجھے بتا رہی تھی کہ پاکستان جوان کس قدر نڈر اور دلیر ہیں ۔ جوان سے جرنیل تک کو میں نے اس طرح آگ کے ساتھ کھیلتے دیکھا ہے جس طرح گلی میں بچے کانچ کی گولیوں سے کھیلتے ہیں ۔ جو قوم موت کے ساتھ آنکھ مچولی کھیلنا جانتی ہو ، اسے بھلا کون شکست دے سکتا ہے ؟۔ ‘‘
بہرحال ان دنوں وطنِ عزیز میں 1965 کی پاک بھارت جنگ کے دوران دفاعِ وطن کے ضمن میں حاصل ہونے والی کامیابیوں کو یاد کیا جا رہا ہے ۔ ستم ظریفی یہ بھی ہے کہ ہندوستان نے بھی یہ پراپیگنڈہ کر رکھا ہے کہ مذکورہ جنگ میں اسے فتح حاصل ہوئی تھی ۔ حالانکہ زمینی حقائق یہ ہیں کہ جنگِ ستمبر میں افواجِ پاکستان اور قوم کو ایسی بے مثال کامیابیاں ملی تھیں جن سے نئی نسل کا آگاہ کرنا تمام اہلِ وطن کی ذمہ داری ہے ۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ ہندوستان کی اس شکست کا اعتراف خود وہاں کے اعتدال پسند حلقوں نے بھی بڑی وضاحت سے کیا ہے ۔ مثلاً بھارت کی اس وقت کی پارلیمنٹ کے ایک متاز اینگلو انڈین ممبر ’’ مسٹر فرینک انتھونی ‘‘ نے اکیس اپریل 1969 کو لوک سبھا میں بھارتی دروغ گوئی سے پردہ اٹھاتے ہوئے اپنی طویل اور تفصیلی رپورٹ میں کہا کہ ’’ میں نے اپنی سرکاری اور پیشہ ورانہ حیثیت میں جنگِ ستمبر کے ریکارڈ اور اعدادو شمار کا تحقیقی جائزہ لیا ہے جس کے ایسے حقائق سامنے آئے ہیں جو بھارت حکومت نے عوام اور ساری دنیا سے چھپا رکھے تھے ۔‘‘ واضح رہے کہ فرینک انتھونی 1908 میں پیدا ہوئے اور 1993 میں وفات پائی ۔ وہ تقریباً پچاس سال تک بھارتی لوک سبھا کے نامزد رکن رہے ۔ یاد رہے کہ ہندوستانی پارلیمنٹ کے ایوانِ زیریں یعنی لوک سبھا میں کل 545 سیٹیں ہیں جن میں سے 543 پر براہ راست انتخاب ہوتا ہے جبکہ دو سیٹیں بھارت کی اینگلو انڈین کمیونٹی کے لئے ریزرو رکھی گئی ہیں اور ان پر نامزدگی ہوتی ہے ۔ مسٹر انتھونی نامزد رکن تھے ۔
جنگ ستمبر میں پاک فوج نے بھارت کے حکمرانوں اور پاک دشمنوں کے خواب جس طرح میدانِ جنگ کی خاک میں ملائے ، اس کی پاداش میں بھارت سرکار نے اپنی فوج کے کئی بڑے افسروں کو سزائیں دیں اور عام لوگوں کا مورال بلند رکھنے کے لئے چند ایک میں بہادری کے تمغے بھی تقسیم کیے ۔ سزاؤں اور تمغوں کے اس سلسلے میں بھارتی حکمرانوں نے اپنی فطرت کے خصوصی اوصاف اور رسوائے زمانہ ذہنیت کا کھل کر مظاہرہ کیا ۔ بھارتی دعووں کی قلعی کھولنے کے لئے محض لاہور کے محاذ پر ہونے والے حملے کو ہی ٹیسٹ کیس کے طور پر لیا جا سکتا ہے ۔ لاہور فرنٹ ( قصور ، بیدیاں ، برکی ، بھیسن اور مقبول پورہ سائفن ) پر انڈین آرمی کی گیارہویں کور نے حملہ کیا تھا ۔ اس بڑے حملے کا مرکز واہگہ ، باٹا پور اور کچھ دور شمال میں بھینی کے مقام پر تھا ۔ اس کور کا کمانڈر ’’ لیفٹیننٹ جنرل ہر بخش سنگھ ‘‘ تھا ۔ برکی ، بیدیاں اور قصور پر اس کور کے جو حملے تھے ، وہ لاہور کے دفاع کر رہے پاکستانی ڈویژن کو بکھیرنے اور لاہور اور قصور کے دفاعی دستوں کا رابطہ اور باہمی تعاون توڑنے کے لئے کیے گئے تھے ۔ یعنی بھارتیوں کی کوشش یہ تھی کہ پاکستانی دستے لاہور کے بڑے دروازے یعنی باٹا پور اور بھینی پر اپنی دفاعی قوت کو مرکو ز نہ کر سکیں ۔
بھارتی پارلیمنٹ کے رکن فرینک انتھونی نے اپنی رپورٹ میں مزید کہا ’’ ہماری گیارہویں کور کے گیارہ برگیڈیئر نا اہل اور بزدل ثابت ہوئے اور اس کور کی نو پلٹنیں ناکارہ نکلیں ۔ مجھے معلوم ہوا ہے کہ چند ایک ڈویژن کمانڈر ( میجر جنرل ) بھی میدانِ جنگ میں نا لائق ثابت ہوئے ۔ ان میں جنگی صلاحیت نام کو نہیں تھی ۔ نہ ان میں وہ چستی اور چالاکی تھی جو ایک کمانڈر کے لئے لازمی ہوتی ہے ۔ ہمارے بھارتی کمانڈر جنگی چالوں سے اور پلان بنانے کی صلاحیت سے عاری تھے ۔ اپنی اس خامی کو چھپانے کے لئے انہوں نے 1962 کی بھارت چین جنگ میں وزیر دفاع ’’ کرشنا مینن ‘‘ کی طرح لوکل کمانڈروں کی سرگرمیوں میں دخل اندازی شروع کر دیا ۔ اس غلط حرکت کا نتیجہ یہ ہوا کہ مقامی کمانڈر بھی جنگی مقاصد کے حصول میں نا کام ہو گئے ۔ جب وہ اعلیٰ کمانڈروں کی بے جا دخل اندازیوں کی وجہ سے ناکام ہوئے تو اس ناکامی کی تمام تر ذمہ داری ان پر ڈال کر انہیں بزدلی اور جنگی نا اہلیت کا مجرم ٹھہرا دیا گیا ۔ ‘‘
اس سلسلے میں مسٹر انتھونی نے ایک دلچسپ مثال پیش کی ۔ انہوں نے کہا تھا کہ ’’ انڈین آرمی کا ایک ڈویژن پاکستانی آرمی کے ہاتھوں کٹ رہا تھا ۔ یہ لاہور پر حملے کا آخری معرکہ تھا جس میں ’’ بی آر بی ‘‘ کے کنارے ڈوگرئی گاؤں کی گلیاں اور ارد گرد کا علاقہ دونوں فوجوں کے لئے معرکہ کارزار بنا ہوا تھا ۔ بھارتی ڈویژن کمانڈر فرنٹ سے 25 میل دور تھا ۔ مرنے والوں کو کوئی اعزاز نہ دیا گیا ۔ جو کرنل اور برگیڈیئر بہادری سے لڑ کر زندہ رہے ، انہیں اس جرم میں سزائیں دی گئیں کہ وہ ’’ بی آر بی ‘‘کیو ں عبور نہ کر سکے ۔ مگر 25 میل دور بیٹھے ہوئے جنرل کو بہادری کا تمغہ ’’ مہا ویر چکر ‘‘ دیا گیا ۔ اسے شائد ایسے خون ریز معرکے سے دور رہنے کے کمال پر تمغہ دیا گیا ۔ ‘‘
اس ضمن میں یہ امر بھی قابلِ ذکر ہے کہ اس علاقے میں انڈین آرمی کے کور کمانڈر کے ’’ اے ڈی سی ‘‘ ’’ کیپٹن امریندر سنگھ ‘‘ ( جو بھارتی پنجاب کے وزیر اعلیٰ بھی رہے اور جو پٹیالہ کی ریاست کا مہا راجا بھی تھا) نے انکشاف کیا ہے کہ ’’ اس وقت کے انڈین آرمی چیف ’’ جنرل جے این چوہدری ‘‘ نے کور کمارنڈر کو حکم دیا تھا کہ ’’ قصور کھیم کرن سیکٹر کی جانب سے پاک فوج کے بڑھتے ہوئے دباؤ کے پیشِ نظر بھارت فوج کو جنگی حکمتِ عملی کے تحت دریائے بیاس تک پیچھے ہٹا لیا جائے بھلے ہی امرتسر شہر پر پاک فوج کا قبضہ ہو جائے اور پاک فوج کی پیش قدمی کو روکنے کے لئے فیصلہ کن دفاعی لائن کے طور پر دریا ئے بیاس کو استعمال کیا جائے ۔ ‘‘
’’ امریندر سنگھ‘‘ کے بقول اگر مقامی کمانڈر انڈین آرمی چیف کی بات مان لیتے تو یقینی طور پر امرتسر پاکستان کے قبضے میں چلا جاتا ۔ ۔ یہ امر بھی کسی سے پوشیدہ نہیں کہ لاہور سیکٹر میں انڈین آرمی کی پندرہویں انفنٹری ڈویژن کا کمانڈر ’’ میجر جنرل نرنجن پرشاد ‘‘ باٹا پور سے اڑھائی میل شمال کی طرف ’’ بی آر بی ‘‘ سے ایک ہزار گز دور ’’ بھیسن ‘‘ کے قریب اپنے ٹیکٹیکل ہیڈ کوارٹر کی چار جیپیں جن میں اس کی اپنی کمانڈ جیپ بھی تھی، چھوڑ کا بھاگ گیا تھا اور دوسرے ہی دن اس ڈویژن کی کمانڈ جنرل مہندر سنگھ کو دے دی گئی تھی ۔ اطلاع کے مطابق نرنجن پرشاد جنگ کا نقشہ اور پلان بھی اپنی جیپ میں چھوڑ گیا تھا جس سے لاہور کے دفاع کے لئے پاک آرمی نے پورا فائدہ اٹھایا ۔
بہر کیف مندرجہ بالا حقائق سے بخوبی اندازہ ہوتا ہے کہ 1965 کی جنگ میں بھارتی فوج کے دعووں میں کہاں تک صداقت ہے ۔ ؟

اکتیس اگست کو نوائے وقت میں شائع ہوا ۔
( مندرجہ بالا تحریر مصنف کے ذاتی خیالات ہیں جن کے لئے اسلام آباد پالیسی ریسرچ انسٹی ٹیوٹ یا کوئی بھی دوسرا ادارہ ذمہ دار نہیں )

 

Tags:

About the Author

Post a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Top